12/12/2024
پیش نگاہ رکھتا ہے تصویر یار کو
ہر غم پہ فوقیت ہے غم انتظار کو
رکھ کر نظر کے سامنے تصویریار کو
بہلا رہا ہوں میں دل امیدوار کو
اک حال پر قرار نہیں روز گار کو
دیکھا خزاں سے ہم نے بدلتے بہار کو
یوں تو نظر کے سامنے کچھ بھی نہیں مگر
دل سے لگائے بیٹھا ہوں تصویر یار کو
خود اپنی مستیوں میں ہوئی جارہی ہے گم
اپنا بھی ہوش ہے نگہ ہوشیار کو
وجہ سکون خاطر بیتاب ہے نہادؔ
دینا نہ اپنے ہاتھ سے دامان یار کو