08/09/2025
میں راولپنڈی سے ہوں اور حال ہی میں موت کے کنویں سے باہر نکلا ہوں- آج آپ کے ساتھ اپنی کہانی شیئر کر رہا ہوں تا کہ دوسرے لوگ اس کنویں میں گرنے سے محفوظ رہیں اور میری طرح نقصان نا اٹھائیں۔
چند سال قبل کاروبار میں خسارے کی وجہ سے تقریباً 40 لاکھ کا مقروض ہو چکا تھا- اس دلدل سے نکلنے کےلیے بہت ہاتھ پاؤں مارے مگر کوئی کنارا ہاتھ نہ آ سکا- آخر تنگ آ کر باہر جانے کا فیصلہ کیا-
ایک کاروباری دوست نے بتایا کہ فلاں شخص کے پاس ویزے آئے ہوئے ہیں اس سے ملاقات کی تو معلوم ہوا کہ کمبوڈیا کے ویزے ہیں ٹیلی کام کمپنی کی جاب ہو گی اور تنخواہ لاکھوں میں ہے-
اس شخص نے ہر طرح سے تسلی دی- میں نے پیمنٹ دے دی اور ایک ہفتے کے اندر اندر ویزا اور ٹکٹ آ گئی۔
لاہور ائیرپورٹ پر پہنچا تو ایجنٹ کی کال آ گئی کہ آپ انتظار کریں آپ کو ہمارا نمائندہ ہے وہ کلیئر کروائے گا میں نے کہا جب ڈاکومنٹس پورے ہیں تو پھر ایسا کیا مسئلہ ہے تو اس نے کہا کہ نہیں آپ پہلی دفعہ جا رہے ہیں- ہم نہیں چاہتے کہ کوئی مسئلہ بنے-
خیر ہمارا گروپ چیک ان کیلئے گیا تو امیگریشن کے دوران ایک بندے نے روک لیا کہ آپ لوگ سارے سائیڈ پر ہو جائیں- ابھی وہ ہمارے پاسپورٹ چیک کر ہی رہا تھا کہ ایک دوسرا اہلکار آگیا اور اسے کہا کہ ان کو میں دیکھتا ہوں آپ جائیں- اس شخص نے ہمیں لاؤنج میں بھیج دیا اور کہا کہ آپ کلیئر ہیں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔
جب ہم کمبوڈیا پہنچے تو ائیرپورٹ سے نکلتے ہی وہاں موجود ایجنٹ آیا ہوا تھا جس نے ہم سے پاسپورٹ لے لیا اور ہمیں اپنی رہائش پر لے گیا-
یہ ایک کمپاؤنڈ نما عمارت تھی جس میں کئی کمرے تھے- ہر کمرے میں پچیس پچیس لڑکے ٹھونسے ہوئے تھے جو کئی ماہ سے وہاں قید تھے-
یہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ ہمارے ساتھ فراڈ ہو گیا ہے-
یہ فراڈی ایجنٹ پورے پاکستان میں پھیلے ہوئے ہیں- کمبوڈیا میں ان کے ایجنٹس موجود ہیں- ان کا طریقہ کار یہ ہے کہ پاکستان سے بندے منگوا کر ان کو آگے Scam کمپنیوں میں بیچ دیتے ہیں-
چونکہ میں مقروض تھا اور ادھار لے کر یہاں تک پہنچا تھا تو واپسی میرے لیے موت کے برابر تھی- چنانچہ فیصلہ کیا کہ واپس جانے کی بجائے حالات کی سختی برداشت کروں گا اور جو بلا سر پہ آئی برداشت کروں گا-
رات چڑھتی تو مختلف کمپنیوں کی گاڑیاں آتیں- انسانی منڈی سج جاتی اور بولی لگا کر لڑکوں کو بیچا جاتا-
مجھے 2000 ڈالر میں ایک کمپنی کو بیچا گیا- یہ کمپنی 18 گھنٹے مجھ سے کام لیتی- ڈانٹ ڈپٹ ، گالم گلوچ دماغی ٹارچر جسمانی تشدّد ، الیکٹرک شاک، اس کے علاوہ تھا-
تین ماہ میں ہمّت جواب دے گئی- آخر یہ کمپنی چھوڑنے اور واپس پاکستان آنے کا فیصلہ کیا لیکن جب پاکستان میں اپنے ایجنٹ سے بات کی تو اس نے بلاک کر دیا-
کمبوڈین ایجنٹ سے بات کی تو اس نے 3500 ڈالر کے تاوان کا مطالبہ رکھ دیا- بالاخر پاکستان میں اپنے کزنز اور دوستوں کو حالات بتائے اور منت ترلہ کیا- خدا ان کا بھلا کرے کہ انہوں نے مل جل کر تاوان کی رقم جمع کی تب جا کر اس اذیّت سے رہائی ملی- مجھے پاسپورٹ واپس ملا اور میں ٹکٹ کروا کے واپس پاکستان آ گیا-
میرے ہوتے ہوئے کمپنی میں دو لڑکوں نے خودکشی کی- حالات ہی ایسے تھے کہ زندگی جہنم اور موت جنت معلوم ہوتی تھی-
قرض اتار کر اپنی فیملی کو سپورٹ کرنے والا خواب تو بکھر ہی گیا، لیکن جو ذہنی طور پہ بکھرا ہوں شاید ہی کبھی سنبھل پاؤں-
آپ کے ساتھ یہ کہانی شیئر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ آج بھی پاکستان میں کمبوڈین ویزے دھڑا دھڑ بک رہے ہیں شاید کوئی شخص میری کہانی پڑھ کر موت کے اس اندھے کنویں میں گرنے سے بچ جائے-
اس وقت 10 ہزار سے زائد پاکستانی کمبوڈیا میں پھنسے ہوئے ہیں- یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ایجنٹوں نے دھوکہ دے کر فیک کمپنیوں کے ہاتھ بیچا اور آج بھی دھڑلے سے بیچ رہے ہیں-
#کاپی
دھیان کریں لوگ اپنے پیسوں کے چکر میں انسانوں کو کسی کے بھی رحم و کرم پر چھوڑ دیتے ہیں