17/02/2026
👌 قرآن میں "چھ دنوں" (ستۃ أیام) کا ذکر
کئی جگہ آیا ہے، جیسے سورۃ یونس (10:3)، سورۃ اعراف (7:54)، سورۃ فصلت (41:9-12)، اور دیگر سورتوں میں۔
اللہ جب چاہتا ہے تو وہ کچھ ہو جاتا ہے وقت درکار نہیں لگتا تو یہاں چھ دن کیوں درکار ہوئے اور یہ چھ دن کیا ہیں اور کیوں ضرورت پڑی چھ دن کی؟ حقیقت میں کیا مطلب ہے؟
یہ چھ دن کون سے ہیں اور یوم کا مطلب دن ہی ہوتا ہے یا اور کچھ؟
جب سورج، چاند، ستارے کچھ بھی نہیں تھے یہ کائنات نہیں تھی اور بننے کے پروسیس میں تھی تو اس وقت دن کا بیان کس تصور کو پیش کرتا ہے؟
1. "کن فیکون" اور "ستۃ أیام" کا تعلق
"کن فیکون" قرآن میں اللہ کی قدرتِ کاملہ کو ظاہر کرنے کے لیے آتا ہے: جب وہ کسی چیز کے وجود کا فیصلہ کرتا ہے، تو کوئی رکاوٹ نہیں رہتی۔ یہ اللہ کی طاقت کی صفت ہے۔
"چھ دن" تخلیق کا ذکر اس کی حکمت، تدریج اور نظام کو ظاہر کرتا ہے، تاکہ ہم سمجھ سکیں کہ کائنات ایک منظم مرحلہ وار پروسس کے تحت بنی ہے، نہ کہ حادثاتی طور پر۔
➝ یعنی اللہ چاہتا تو ایک لمحے میں سب کچھ بنا دیتا، لیکن چھ دنوں کا ذکر ہمیں نظامِ تخلیق، ترتیب اور وقت کے تصور کی طرف متوجہ کرنے کے لیے ہے۔
2. یہ "دن" کون سے ہیں؟
قرآن کے "یوم" (دن) کو ہمیں لازماً انسانی کیلنڈر یا سورج و زمین کے حساب سے محدود نہیں سمجھنا چاہیے۔ اس وقت نہ سورج تھا، نہ زمین گھوم رہی تھی، تو ظاہر ہے یہ دن ہمارے "24 گھنٹے والے دن" نہیں تھے۔
سورۃ الحج (22:47):
> وَإِنَّ يَوْمًا عِندَ رَبِّكَ كَأَلْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّونَ
(تمہارے شمار کے ہزار سال کے برابر ایک دن ہے اللہ کے نزدیک
سورۃ المعارج (70:4):
> فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ
(ایک دن جو پچاس ہزار سال کے برابر ہے)
➝ اس سے واضح ہے کہ "یوم" = ایک دور (period, stage, phase) ہے۔
3. پھر "چھ دن" کا مطلب کیا ہوا؟
"چھ دن" کو اکثر مفسرین نے یوں سمجھا ہے:
یہ چھ بڑے مراحلِ تخلیق تھے، جیسے کائنات کی ابتدائی تخلیق (Big Bang)، آسمان و زمین کی جداکاری، کہکشاؤں و ستاروں کی بناوٹ، زمین کی ترتیب، پانی اور نباتات کا وجود، اور آخر میں حیوانات و انسان کی تخلیق۔
یہ چھ دن ہمیں بتاتے ہیں کہ تخلیق کا عمل تدریجی تھا، مگر مکمل طور پر اللہ کے ارادے کے مطابق۔
یہاں "دن" سے مراد کائناتی مراحل، وقت کے ادوار ہیں، جو اللہ کے علم میں ہیں، ہماری گھڑی یا سورج کے حساب سے نہیں۔
یہ "دن" اس کائناتی وقت (cosmic time) یا تخلیقی مرحلوں کے لیے استعارہ ہیں، نہ کہ موجودہ کیلنڈر والے۔
👌۔ یہ سوال ہمیشہ سے مفسرین، اہلِ علم اور سائنس کے محققین کے لیے غور کا موضوع رہا ہے کہ "سماوات" اور "ارض" سے مراد کیا ہے، اور سات آسمان یا سات زمینیں کس مفہوم میں ہیں۔
آئیے اس کو قرآن و سنت اور عقل/سائنس کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں:
1. قرآن کا بیان
قرآن میں اکثر جگہ آتا ہے:
"خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ"
یعنی "آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا"۔
اور سورۃ الطلاق (65:12) میں ہے:
> اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ وَمِنَ الأَرْضِ مِثْلَهُنَّ
(اللہ نے سات آسمان بنائے اور زمین میں بھی اُن جیسی [چیزیں/طبقات])
➝ یہاں "سات آسمان" کا ذکر تو بالکل واضح ہے، اور ساتھ ہی "زمین کی مثل" کہا گیا ہے، لیکن زمینوں کو کھلی طرح "سات زمین" نہیں کہا بلکہ "مِثلَہُنَّ" (ان جیسی) کہا ہے۔
2. "سماوات" کا مطلب
"سماء" عربی میں اوپر کی ہر چیز کے لیے بولا جاتا ہے، خواہ وہ بادل ہوں، فضا ہو یا پوری کائنات۔
مفسرین کا موقف: سات آسمان الگ الگ طبقات یا نظام ہیں۔
سائنسی زاویہ:
یہ آسمان کائنات کے فلکیاتی طبقات ہو سکتے ہیں، جیسے کہکشائیں، کونیاتی پرتیں (cosmic layers)، یا آسمانی قوانین کے بڑے بڑے دائرے۔
کچھ نے کہا یہ سات بڑے کونیاتی زون ہیں۔
کچھ نے کہا یہ فضا کے سات حصے ہیں (atmosphere layers: troposphere, stratosphere, mesosphere وغیرہ)، لیکن یہ قرآن کے وسیع مفہوم سے محدود معلوم ہوتا ہے۔
➝ زیادہ قوی بات یہ ہے کہ "سات آسمان" = کائنات کی سات بڑی سطحیں/مراحل/نظام ہیں، جنہیں صرف اللہ ہی بہتر جانتا ہے، اور انسان آہستہ آہستہ دریافت کرتا ہے۔
3. "ارض" اور "سات زمینیں"
حدیث (بخاری و مسلم): "جو ظلم کرے ایک بالشت زمین کا، قیامت کے دن اسے سات زمینوں تک دھنسا دیا جائے گا۔"
➝ اس سے "سات زمینوں" کا تصور آتا ہے۔
مفسرین کی آراء:
کچھ کہتے ہیں "سات زمینیں" = زمین کے اندر کے طبقات (layers) ہیں (crust, mantle, outer core, inner core وغیرہ)۔
کچھ نے کہا "سات زمینیں" = مختلف علاقے یا خطے۔
کچھ نے کہا یہ ہماری زمین جیسے دیگر سیارے ہیں (جیسے آج ہمیں exoplanets کا علم ہے)۔
➝ مطلب یہ کہ قرآن نے "سات زمینوں" کو vague رکھا، تاکہ ہر دور میں انسان اپنے علم کے حساب سے اس کو سمجھ سکے۔
4. مرحلے اور سسٹم کا تصور
کوئی "مَیٹر" (material) بنایا گیا اور پھر اس کے "فیزز" (stages) بنے، یہ بالکل قرآن کے ساتھ میل کھاتی ہے۔
"سماوات" = کائناتی layers یا systems
"ارض" = وہ بنیاد (base, habitat) جہاں زندگی کی practical system سازی ہوئی۔
5. خلاصہ
"سماوات" = اوپر کے سات بڑے نظام/طبقات (صرف فضا نہیں بلکہ cosmic structure)۔
"ارض" = صرف یہ زمین نہیں بلکہ زمین کی سات سطحیں یا پھر زمین جیسے دوسرے طبقات/سیارے۔
قرآن نے ان کو بیان کیا مگر "ڈیٹیل سائنس" کے ساتھ نہیں، تاکہ ہر دور میں انسان غور و فکر کرے اور اپنے علم سے اللہ کی تخلیق کو پہچانے۔
✨ دوسرے لفظوں میں:
قرآن "سات آسمان اور زمین" کو ایک جامع، نظامی فریم ورک کے طور پر پیش کرتا ہے، نہ کہ صرف ظاہری فضا اور مٹی کے گولے کے طور پر۔
قرآن کا اسلوب یہی ہے کہ کائناتی تخلیق (macro creation) اور انسانی تخلیق (micro creation) کو ایک ہی اصول اور نظامِ تدریج میں بیان کرتا ہے۔
1. کائنات کی تخلیق = چھ مراحل
قرآن میں آتا ہے کہ اللہ نے "السماوات والارض" کو ستۃ أیام (چھ دن/مراحل) میں بنایا۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ پوری کائنات، اس کا مادہ (ارض) اور اس کے مختلف نظام (سماوات)، سب ایک تدریجی عمل سے گزرے۔
یہ "کن فیکون" سے متصادم نہیں، بلکہ اس کی تفصیل اور حکمت کو ظاہر کرتا ہے۔
2. انسان کی تخلیق = چھ مراحل قرآن
ماں کے پیٹ میں انسان کے وجود کو بھی تدریجی اور مرحلہ وار بیان کرتا ہے:
نطفہ (drop of fluid)
علقہ (clinging clot)
مضغہ (chewed-like lump)
عظام (bones)
لحم (flesh covering)
نشأةً أخرى (a new creation / روح پھونکنا)
➝ یہ سب مراحل مل کر انسان کی تکمیل کرتے ہیں۔ (سورۃ المؤمنون 23:12-14)
3. قرآن کا اشارہ
سورۃ فاطر (35:11): "اللہ نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا، پھر نطفے سے، پھر جوڑا جوڑا بنایا" → تدریج۔
سورۃ نوح (71:14): "اس نے تمہیں مراحل میں بنایا" (وَقَدْ خَلَقَكُمْ أَطْوَارًا)۔
➝ بالکل وہی اصول جو پوری کائنات پر چلتا ہے، وہی انسان پر بھی۔
4. مماثلت (Analogy)
کائنات:
Base = ارض (مادہ)
Systems = سماوات
Completion = 6 مراحل میں کائنات کی تخلیق
انسان:
Base = نطفہ
Systems = مختلف جسمانی و حیاتیاتی مراحل
Completion = 6 مراحل میں انسان کی تخلیق
5. خلاصہ:
اللہ کا طریقہ تخلیق = تدریج (stages)
کائنات اور انسان دونوں کو ایک ہی اصول پر بنایا گیا → stages (چھ) میں۔
یہی وجہ ہے کہ قرآن بار بار کہتا ہے: "کیا وہ تمہاری تخلیق اور پہلی تخلیق (کائنات) کو یاد نہیں کرتے؟"
➝ یعنی انسان اپنے وجود کو دیکھے تو پوری کائنات کی تخلیق سمجھ سکتا ہے۔
✨ دوسرے لفظوں میں:
انسان = کائنات کا آئینہ
انسانی تخلیق کے چھ مراحل = کائنات کی تخلیق کے چھ مراحل ۔
faheemullah