Notes By Waqar

Notes By Waqar Making life simple کچھ خیالات اور چند سوالات اور کچھ نہیں۔

10/04/2026

دوست مایوس نہ ہو
سلسلے بنتے بگڑتے ہی رہے ہیں اکثر

تیری پلکوں پہ یہ اشکوں کے ستارے کیسے
تجھ کو غم ہے تری محبوب تجھے مل نہ سکی

اور جو زیست تراشی تھی ترے خوابوں نے
جب پڑی چوٹ حقائق کی تو وہ ٹوٹ گئی

تجھ کو معلوم ہے میں نے بھی محبت کی تھی
اور انجام محبت بھی ہے معلوم تجھے

تجھ سے پہلے بھی بجھے ہیں یہاں لاکھوں ہی چراغ
تیری ناکامی نئی بات نہیں دوست میرے

کس نے پائی ہے غم زیست کی تلخی سے نجات
چار و ناچار یہ زہراب سبھی پیتے ہیں

جاں لٹا دینے کے فرسودہ فسانوں پہ نہ جا
کون مرتا ہے محبت میں سبھی جیتے ہیں

وقت ہر زخم کو ہر غم کو مٹا دیتا ہے
وقت کے ساتھ یہ صدمہ بھی گزر جائے گا

اور یہ باتیں جو دہرائی ہیں میں نے اس وقت
تو بھی اک روز انہی باتوں کو دہرائے گا

دوست مایوس نہ ہو!
سلسلے بنتے بگڑتے ہی رہے ہیں اکثر

09/04/2026

مے خانوں کی رونق ہیں کبھی خانقہوں کی
اپنا لی ہوس والوں نے جو رسم چلی ہے

دلدارئ واعظ کو ہمیں باقی ہیں ورنہ
اب شہر میں ہر رند خرابات ولی ہے

02/04/2026

ذرّو!
اپنے سوزِدروں سے چمکو اور خورشید بنو
قطرو!
اپنے عزمِ جواں سے پھیلو اور طوفاں بنو
ذرّو! قطرو!
ایک نئے مضمون کی اب تمہید بنو
ذرّو! قطرو!
ایک نئی محفل کا اب سامان بنو
ذرّہ — مردہ خاک نہیں ہے، اس میں اب کچھ اور بھی ہے
علم نے اب یہ فاش کیا ہے
ذرّہ قوت کا پیکر ہے
دنیا نے اب جان لیا لے
ذرٗہ طاقت کا مظہر ہے
ایک جہاں میں شور بپا ہے
برق کا ذرّے میں عنصر ہے
ذرّہ — مردہ خاک نہیں ہے، اس میں اب کچھ اور بھی ہے
محض فسردہ خاک نہیں ہے، اس میں اب کچھ اور بھی ہے
قطرہ — ظاہر میں بیرنگ ہے، باطن میں بے آب نہیں
قطرہ، جب چاہے گردوں پر
بادل بن کر چھا سکتا ہے
ننھا سا پانی کا یہ پیکر
طوفاں بن کر آسکتا ہے
ادلہ بن جائے تو اکثر
بنیادوں کو ڈھاسکتا ہے
قطرہ — ظاہر میں بیرنگ ہے، باطن میں بے آب نہیں
ہاں یہ فقط ایک قطرہ ہے، جینے کو اگر بیتاب نہیں
ناگا ساکی پر جو گرا تھا، وہ کیا تھا؟ — اک ذرّہ تھا!
آج طوفاں اک "خطرہ" ہے، کل یہ فقط اک قطرہ تھا!
بیسودوکمزور نہ جانو
اپنی ہستی کو پہچانو
ذرّہ!
اپنے سوزِدروں سے چمکو اور خورشید بنو
قطرو!
اپنے عزمِ جواں سے پھیلو اور طوفاں بنو
ذرّو! قطرو!
ایک نئے مضمون کی اب تمہید بنو
ذرّو! قطرو!
ایک نئی محفل کا اب سامان بنو

02/04/2026

قرض نگاہ یار ادا کر چکے ہیں ہم
سب کچھ نثار راہ وفا کر چکے ہیں ہم

کچھ امتحان دست جفا کر چکے ہیں ہم
کچھ ان کی دسترس کا پتا کر چکے ہیں ہم

اب احتیاط کی کوئی صورت نہیں رہی
قاتل سے رسم و راہ سوا کر چکے ہیں ہم

دیکھیں ہے کون کون ضرورت نہیں رہی
کوئے ستم میں سب کو خفا کر چکے ہیں ہم

اب اپنا اختیار ہے چاہے جہاں چلیں
رہبر سے اپنی راہ جدا کر چکے ہیں ہم

ان کی نظر میں کیا کریں پھیکا ہے اب بھی رنگ
جتنا لہو تھا صرف قبا کر چکے ہیں ہم

کچھ اپنے دل کی خو کا بھی شکرانہ چاہیے
سو بار ان کی خو کا گلا کر چکے ہیں ہم

14/03/2026

Let's keep life simple. The beauty and ugliest thing about life is that you have to live it.

Watch the full video on my YouTube channel. Link is in first comment.

#خواہش #زندگی

12/03/2026

Aaj ka insaan ek khamosh daur mein jee raha hai.
Sab bhaag rahe hain… lekin aksar kisi ko khud bhi nahi pata kyun bhaag rahe hain.

More money — زیادہ پیسہ
More status — زیادہ عزت اور مقام
More followers — زیادہ لوگ
More things — زیادہ چیزیں

Humein bachpan se sikhaya jata hai ke aur pao… aur hasil karo… aur aage niklo.

Magar koi yeh nahi batata ke yeh daur kab rukni hai.

Dheere dheere yeh “more / زیادہ” ki soch insaan ko andar se bechain kar deti hai.

Nayi cheez le lo… khushi bas kuch din.
Naya goal achieve kar lo… foran agla target saamne.

Aur phir aik waqt aata hai jab insaan ke paas sab kuch hota hai…
magar sukoon nahi hota.

دل تھکا ہوا ہوتا ہے۔
دماغ ہر وقت مصروف ہوتا ہے۔
اور انسان خود سے ہی دور ہوتا جاتا ہے۔

Kabhi kabhi zindagi ki asli samajh aur zyada paane mein nahi hoti…

Balke is baat ko samajhne mein hoti hai ke:

“Kab kaafi… waqai kaafi hota hai.”
کب انسان کو رک جانا چاہیے۔

Saadi zindagi.
Meaningful kaam.
Sachay rishte.
Aur ek pur-sukoon dil.

Yahi asal daulat hai.

Shayad zindagi ka sab se gehra sawal yeh nahi:

“Main aur zyada kaise hasil karun?”

Balke yeh hai:

“Kya jo mere paas hai… woh ek achi zindagi ke liye kaafi hai?”

Kabhi is sawal par sach mein ruk kar sochiye.

#خواہش #زندگی

Coming SoonWhy chasing more will destroy our peace ✌️
11/03/2026

Coming Soon

Why chasing more will destroy our peace ✌️

10/03/2026

Life is simple, desires bring the complexity.
How to make life simple and easy!
,زندگی بہت ہلکی ہے، سادا بوجھ خواہشات کا ہوتا ہے۔
#زندگی #خواہش

06/03/2026

You are the average of your company. You complain or grow, depending on the people you spend time with.

06/03/2026

You are the average of your company. You complain or grow, depending on the people you spend time with.

rightperson

Address

Karachi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Notes By Waqar posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share