26/03/2025
آج کل فیس بک پر مونیٹائزیشن کا بہت چرچا ہے۔
پاکستان میں یہ دیکھا گیا ہے کہ جن کے پیجز مونیٹائز ہو جاتے ہیں، انہیں زیادہ تر Stars کے ذریعے ہی آمدنی ہوتی ہے، یعنی آپ کے ناظرین یا فالوورز آپ کو اسٹارز کے طور پر گفٹ کرتے ہیں۔ لیکن ان اسٹارز کو خریدنے کے لیے کریڈٹ کارڈز کی ضرورت ہوتی ہے، جو یہاں زیادہ تر لوگوں کے پاس نہیں ہوتے۔ اس لیے یہ ایک "ہومیوپیتھک" قسم کی مونیٹائزیشن ہے، جس کا نہ کوئی خاص فائدہ ہے اور نہ نقصان۔
فیس بک کا اسٹارز پروگرام پاکستانی صارفین کے لیے دستیاب ہے، جس کے تحت ناظرین مواد تخلیق کاروں کو اسٹارز بھیج کر ان کی مالی معاونت کر سکتے ہیں۔ ہر 100 اسٹارز کے بدلے مواد تخلیق کار کو تقریباً ایک ڈالر ملتا ہے۔ تاہم، اسٹارز خریدنے کے لیے کریڈٹ کارڈز یا دیگر آن لائن پیمنٹ میتھڈز کی ضرورت ہوتی ہے، جو پاکستان میں محدود پیمانے پر دستیاب ہیں۔
کچھ لوگ VPN کے ذریعے بیرونِ ملک کا پراکسی استعمال کر کے اپنے اکاؤنٹس چلاتے ہیں، مگر فیس بک کا سسٹم ایسے اکاؤنٹس کو شناخت کرکے بند کر دیتا ہے۔ فیس بک کو چاہیے کہ مونیٹائزیشن کے نام پر مؤثر ٹولز فراہم کرے، جیسے پرفارمنس بیسڈ مونیٹائزیشن یا ان-اسٹریم ایڈز، تاکہ کانٹینٹ کریئیٹرز کو حقیقی فائدہ حاصل ہو۔
مارچ 2025 میں، فیس بک نے اپنی مونیٹائزیشن پالیسی میں تبدیلیاں کی ہیں، جن کے تحت پاکستانی بینک اکاؤنٹس اور ٹیکس تفصیلات کو مونیٹائزیشن کے لیے نااہل قرار دیا گیا ہے۔ اب مواد تخلیق کاروں کو اپنی مالیاتی تفصیلات ایسے ممالک کے بینک اکاؤنٹس سے منسلک کرنا ہوں گی جو فیس بک کی اہل ممالک کی فہرست میں شامل ہیں، جیسے کہ امریکہ، برطانیہ، بھارت، متحدہ عرب امارات وغیرہ۔
پاکستانی مواد تخلیق کاروں کے لیے ان-اسٹریم ایڈز جیسے مونیٹائزیشن ٹولز تک رسائی محدود ہے، جس کی وجہ سے وہ مؤثر طریقے سے آمدنی حاصل نہیں کر پاتے۔ فیس بک کو چاہیے کہ وہ پاکستانی صارفین کے لیے بھی مؤثر مونیٹائزیشن ٹولز مہیا کرے تاکہ وہ اپنی محنت کا مناسب معاوضہ حاصل کر سکیں۔
مجموعی طور پر، فیس بک کی موجودہ مونیٹائزیشن پالیسیوں کی وجہ سے پاکستانی مواد تخلیق کاروں کو مشکلات کا سامنا ہے، اور انہیں مؤثر مونیٹائزیشن ٹولز کی فراہمی کی ضرورت ہے تاکہ وہ اپنی محنت کا مناسب معاوضہ حاصل کر سکیں۔
البتہ کچھ پیجز ایسے بھی ہیں جو لوگوں کو سبز باغ دکھاتے ہیں کہ "ہم یہ کروا دیں گے، وہ کروا دیں گے"، لیکن درحقیقت وہ سب صرف اپنے ویوز بڑھانے کے لیے کرتے ہیں۔