10/02/2024
یومِ سیاہ، ۹ فروری
میرے دل، میرے مسافر
ہوا پھر سے حکم سادر
کہ وطن بدر ہوں ہم تم
دے گلی گلی صدائیں
کریں رخ نگر نگر، کا
کہ سراغ کوئی پائے
کسی یارِ نامہ بر کا
ہر اک اجنبی سے پوچھیں
جو پتا تھا اپنے گھر کا
سرِ کوہِ نشانائےں
ہمیں دن سے رات کرنا
کبھی اس سے بات کرنا
کبھی اُس سے بات کرنا
تمہیں کیا کہوں کہ کیا ہے
شبِ غم بُری بلا ہے
ہمیں یہ بھی تھا غنیمت
جو کوئی شمار ہوتا
ہمیں کیا بُرا تھا مرنا
اگر ایک بار ہوتا!