23/04/2026
سہاگ رات کا زہر: جب نیم حکیمی جنازہ بن جائے
19 اپریل کو چوک اعظم کے وارڈ نمبر 7 میں شہنائیاں گونج رہی تھیں۔ محمد عمران چوہان الیکٹریشن، دولہا بنے بیٹھے تھے۔ 20 اپریل کو ولیمہ تھا۔ اسی دن جنازہ اٹھ گیا۔
وجہ؟ ایک پڑیا۔ ایک کیپسول۔ ایک "کشتہ" جو نیم حکیم نے طاقت کے نام پر پکڑایا تھا۔
سہاگ رات کو نئی زندگی کی شروعات سمجھا جاتا ہے۔ عمران کے لیے وہ زندگی کی آخری رات بن گئی۔ مقامی پنسار سٹور سے لیا گیا کشتہ پیٹ میں جاتے ہی زہر بن گیا۔ گردے بند، جسم نیلا، ہسپتال کے ڈاکٹر سر پکڑ کر رہ گئے۔ بھرپور کوشش کے باوجود 24 گھنٹے میں سانس کی ڈور ٹوٹ گئی۔
یہ کوئی حادثہ نہیں تھا۔ یہ قتل تھا — جہالت کا، لالچ کا، اور ہمارے سماجی دباؤ کا۔
کشتہ: سونا یا سیسہ؟
اصل کشتہ یونانی و آیورویدک طب کا پیچیدہ ترین عمل ہے۔ دھات کو 40 دن آگ میں جلانا، مصفیٰ کرنا، بار بار کشتہ کرنا، پھر لیبارٹری ٹیسٹ۔ مقصد: دھات کو جسمانی نظام کے لیے قابلِ ہضم بنانا۔
نیم حکیم کیا کرتا ہے؟ بازار سے 10 روپے کا سنکھیا، ہڑتال، یا پارہ لایا، توے پر 2 گھنٹے جلایا، راکھ کو کیپسول میں بھرا، اوپر "شاہی طاقت کورس" کا لیبل لگا دیا۔ اندر سیسہ، پارہ، آرسینک ویسے کا ویسا موجود۔ ایک خوراک میں 500 گنا زہریلی مقدار۔
جدید میڈیکل سائنس اسے Acute Heavy Metal Poisoning کہتی ہے۔ گردے پہلے گھنٹے میں جواب دے جاتے ہیں۔ جگر گلنا شروع ہو جاتا ہے۔ دل کی دھڑکن بے ترتیب۔ موت خاموشی سے، تکلیف سے، آتی ہے۔
قاتل کون؟ صرف نیم حکیم نہیں
1 وہ دوست جس نے شادی سے پہلے ہنستے ہوئے کہا: "کچھ لے لینا یار، پہلی رات ہے"۔
2. وہ پنسار جس نے 200 روپے کے لیے زہر کا کیپسول بیچ دیا اور پوچھا تک نہیں کہ کس مرض کے لیے ہے۔
3. وہ معاشرہجس نے مرد کو سکھایا کہ بستر مردانگی کا میدانِ جنگ ہے، اور کمزوری موت سے بدتر ہے۔
4. جس کا ڈرگ انسپکٹر صرف میڈیکل سٹور کا رجسٹر چیک کرتا ہے، پنسار کی الماریاں کھولنے کی زحمت نہیں کرتا۔ ڈرگ ایکٹ 1976 موجود ہے، سزا 10 سال ہے، مگر پرچہ کبھی کٹتا نہیں۔
ہر سال کتنے عمران
پنجاب کے ہسپتالوں کے ایم ایل او ریکارڈ اٹھا لیں۔ ہر مہینے 2–3 نوجوان دولہا "نامعلوم زہر خورانی" سے مرتے ہیں۔ والدین شرم سے پوسٹ مارٹم نہیں کراتے۔ "دل کا دورہ" لکھوا کر دفنا دیتے ہیں۔ اس لیے نیم حکیم بچ جاتا ہے، اگلا شکار ڈھونڈنے کے لیے۔
حل کیا ہے؟ تین گولی، تین کام
قانون کی گولی*: ڈی سی لیہ اس پنسار سٹور کو فوراً سیل کرے۔ نیم حکیم پر دفعہ 322 قتلِ خطا نہیں، دفعہ 302 قتلِ عمد کا پرچہ دے۔ کیونکہ زہر جان کر دینا غلطی نہیں، ارادہ ہے۔
شعور کی گولی نکاح کے خطبے میں مولوی صاحب یہ جملہ شامل کریں: "بیٹا، اگر جسمانی مسئلہ ہے تو یورالوجسٹ کے پاس جاؤ۔ کشتہ قبر ہے، علاج نہیں"۔ شرم تب ٹوٹے گی جب مسجد سے آواز آئے گی۔
: پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن پنسار سٹورز کے لیے قانون بنائے۔ کوئی بھی "کشتہ" بغیر ڈرگ ٹیسٹنگ لیب کی رپورٹ کے نہ بکے۔ خلاف ورزی پر 5 سال قید، ضمانت نہیں۔
*
عمران کی ماں نے ایک دن میں دو جوڑے کپڑے نکالے — ایک سہرے والا، ایک کفن والا۔ اس کے گھر کی دیواریں اب بھی مہندی کی خوشبو اور بین کی چیخ کے درمیان پھنس کر رہ گئی ہیں۔
جب تک ہم "مردانگی" کا معیار بستر سے ناپیں گے، اور "طاقت" پنسار کی پڑیا میں ڈھونڈیں گے، تب تک ہر ولیمے کے بعد کوئی نہ کوئی جنازہ اٹھتا رہے گا۔
کشتے بند کرو۔ نیم حکیم بند کرو۔ یا پھر جنازے گنتے رہو۔
,
, ,