Muhammad Zahid-1

  • Home
  • Muhammad Zahid-1

Muhammad Zahid-1 Entertain your Life and be happy ��

03/01/2026

*‏لوگ مسجد نبویﷺ جیسے مقدس مقام پر بھی جھگڑنے سے باز نہیں آتے، ایک نوجوان نے بزرگ شہری کو دبوچے رکھا، بعد میں گارڈز نے آ کر چھڑایا، بزرگ تو پاکستانی لگ رہے ہیں۔۔!!*

30/12/2025

کراچی سہراب گوٹھ میں ماں اور تین بچےچھت سےلٹکے ہوئے پائے گئے افغان فیملی کے ساتھ ہوئے اس ثانیے کی کوئی تفصیل سامنے نہیں آئی ابھی سندھ پولیس تحقیقات کر رہی ہے۔۔۔۔۔💫✨

07/12/2025

ملتان گھنٹہ گھر چوک پر ڈکیتی کی واردات کی ویڈیو وائرل

10/09/2025

جلال پور پیروالا میں سیلاب متاثرین کی کشتی الٹ گئی، ریسکیو اہلکاروں نے بروقت کارروائی کرکے متاثرین کو محفوظ کرلیا، ویلڈن ریسکیو 1122

10/09/2025

لاھور اقبال ٹاؤن مون مارکیٹ کے ساتھ گندے نالے پہ دودھ والوں کی گاڑیاں روک کر خالص کیمیکل سے بنا خالص دودھ جو کہ لاھور کے مختلف پوش علاقوں اور کوئیٹہ چائے کیفے وغیرہ پہ سپلائی ھونا تھا ۔۔۔گندے پانی کا رنگ سفید کر دیا ۔۔۔۔
فوڈ اتھارٹی کی کاروائی ۔۔۔۔



قازقستان میں ایک ایسی پراسرار بیماری پائی جاتی ہے۔ جس نے دو گائوں ہجرت کرنے پہ مجبور کر دیے۔اک نامعلوم طاقت جو تمام لوگو...
07/09/2025

قازقستان میں ایک ایسی پراسرار بیماری پائی جاتی ہے۔
جس نے دو گائوں ہجرت کرنے پہ مجبور کر دیے۔

اک نامعلوم طاقت جو تمام لوگوں کو کنٹرول کر لیتی ہے۔

قازقستان کے شمال میں اک طویل میدانی علاقہ ہے۔
جہاں درخت بہت کم ہیں۔
مگر زمین زیادہ تر خشک گھاس سے بھری ہوئی ہے۔
سردیوں میں دو گائوں برف کی موٹی تہہ میں دب جاتے ہیں۔

پہلا گائوں کلاچی جہاں 600 کے قریب لوگ رہتے تھے۔
ان میں اکثر روسی اور جرمن خاندان آباد ہیں۔

جب کہ دوسرا گائوں کرانسو ہے جو “گھوسٹ ٹائون” بھی کہلاتا ہے۔
جہاں کبھی 6ہزار کی آبادی گھٹ کر صرف130 بچ گی ہے۔

ان دونوں میں ایسا کیا ہوا کہ لوگ بھاگ کھڑے ہوئے؟

یہ سچی کہانی سال 2013ء میں شروع ہوتی ہے۔

جب گائوں والے اچانک دن کے وقت سو گے۔
ایسے سوئے جیسے نشہ آور دوائیوں کا استعمال کیا ہو۔
اور کئی کئی گھنٹوں تک سوئے رہے۔
دو دن، پانچ دن اور کچھ تو پورے ہفتے نیند کے خمار میں رہے۔

اب اس میں اک شاکنگ پہلو یہ تھا کہ یہ نیند عام نہیں تھی۔
بلکہ اچانک سبھی کو نیند کا دورہ پڑتا تھا۔

★کوئی کھڑے کھڑے سو جاتا تھا۔
★کوئی سائیکل چلاتے ہوئے اچانک بے ہوش ہوکرگرتا ۔
★سکول کے بچے کلاس کے دوران یکدم نیند میں چلے جاتے۔
★کوئی کھانا کھانے کے دوران ہی نیند کی وادی میں کھو جاتا۔

لوگ چہ مگوئیاں کرنے لگے کہ آخر ایسا کیا ہورہا ہے؟
کیا کسی نے ہم پہ جادو کیا ہے یا آسمان سے کوئی عذاب اترا ہے۔

گارڈین نیوز کے مطابق جب بھی انہیں نیند کا دورہ پڑتا تھا۔
اس سے زرا دیر پہلے آسمان پہ پرندے اچانک سے بہت سا شور مچاتے تھے۔
ایک دور دراز سرد علاقے میں رات کو پرندوں کا شور کرنا عجیب ہوتا ہے۔

کیا وہ کوئی وارننگ دے رہے تھے یا کیا تھا؟

مگر اگلے ہی دن بہت سارے لوگ بے ہوش ہوجاتے تھے۔
پھر جاگنے کے بعد الگ مسائل کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔

مثلا:
★کسی کی یاداشت غائب ہوجاتی تھی۔
★کسی کو خوابوں میں بستر پہ سانپ نظر آتے تھے۔
★بہت سارے بچوں کا پَروں والے گھوڑے بھی نظر آتے۔
★کسی کو متلی اور سرکا شدید درد بھی ہوجاتا تھا۔
★ پراسرار جگہوں کے خواب دیکھے جو اجنبی تھیں۔

قازق حکومت نے اپنی میڈیکل ٹیم کے ذریعے سبھی کے ٹیسٹ لیے۔
دماغی سکین سے لے کر خون اور جسموں کا معائنہ کیا گیا۔

مگر سب نارمل اور صحت مند نظر آرہے تھے۔
اب اس پہ طرفہ تماشا کہ بلی اور دیگر جانوروں کو بھی یہ بیماری لگی۔

ابھی تک اس نیند کی آسیب زدہ بیماری کے متعلق درج ذیل تھیوریز ہیں:
1): وہاں کے بزرگوں کے مطابق پرندوں کا شور بتاتا ہے۔
اس جگہ کسی بڑی بلا کا سایہ ہے۔
جو ہم سب کو کنٹرول کر لیتی ہے۔

2): سائنسدان اسے Toxic gases سے لنک بناتے ہیں۔
یا یورینم کی پرانی کانوں سے آنے والی گیس ان لوگوں کو متاثر کر رہی ہے۔

اگر سائنسی تھیوری کو مان لیا جائے مگر ابھی تک ثبوت نا کافی ہیں۔
اگر کسی آسیب کا سایہ مان لیا جائے تو کسی کی جان کیوں نہیں گی؟

کچھ مقامیوں کا یہ بھی کہنا ہے۔
جب پرندے ایک رات پہلے بہت شور کرتے ہیں۔
تو وہ اڑتے ہوئے اپنی ڈاریکشن کو بھی بدلتے ہیں۔
یوں لگتا ہے جیسے وہ مزحمت کر رہے ہوں۔
اور وہ "روحوں کے میسجز" لاتے ہیں۔
(ممکن ہے کہ ان روحوں کو کنٹرول کر کے "کہیں اور یوز" کیا جارہا ہو؟)

شاید اسی سبب وہ ہمیں ہوشیار رہنے کی پری وارننگ دے رہے ہوں۔

آج تک Mystery of Sleeping Towns نیند کی وجہ سے مشہور ہے۔
اور اس کی وجوہات پہ سائنسی و غیر سائنسی ثبوت کمزور ہیں۔

ہاں ایک بات یقین ہے کہ یہ بیماری موجود بھی ہے۔

اور ہر سال کچھ ہی کیسسز رپورٹ ہوتے ہیں۔
کیوں کہ دونوں گائوں خالی کروائے جاچکے ہیں۔

آپ کے خیال میں اس نیند کی بیماری کے پیچھے کیا وجہ ہوسکتی ہے؟
کیا آپ اس گائوں میں ایک رات بسر کرنا چاہیں گے؟

07/09/2025
07/09/2025

*🚨 دریائےچناب ہیڈمحمد والا اور شیر شاہ کے درمیان سیلاب کی صورتحال جہاز سے رپورٹ۔۔۔۔*







جب پہلی بار انسان نے ایٹم بم کا دھماکہ کیا تو ایسا لگا جیسے زمین نے اپنے ہی وجود کے خلاف بغاوت کر دی ہو۔ مگر انسان کی جس...
07/09/2025

جب پہلی بار انسان نے ایٹم بم کا دھماکہ کیا تو ایسا لگا جیسے زمین نے اپنے ہی وجود کے خلاف بغاوت کر دی ہو۔ مگر انسان کی جستجو وہیں نہیں رکی۔ جلد ہی انسان نے ایٹمی طاقت کا ایک ایسا روپ دریافت کر لیا جو عام ایٹم بم سے کئی گنا زیادہ ہولناک تھا — ہائیڈروجن بم۔ اسے بعض اوقات تھرمونیوکلئیر بم بھی کہا جاتا ہے، اور اگر سادہ الفاظ میں بیان کریں تو یہ وہ ہتھیار ہے جو سورج اور ستاروں کی توانائی کو زمین پر اتارنے کی کوشش ہے۔

ہائیڈروجن بم کا اصول بالکل مختلف ہے۔ عام ایٹم بم میں بھاری ایٹم، جیسے یورینیم یا پلوٹونیم کو توڑ کر توانائی حاصل کی جاتی ہے، مگر ہائیڈروجن بم میں ہلکے عناصر کو آپس میں جوڑ کر ناقابلِ تصور توانائی پیدا کی جاتی ہے۔ یہ عمل نیوکلیئر فیوژن کہلاتا ہے، وہی عمل جو سورج میں کروڑوں سالوں سے جاری ہے اور جس کی بدولت زمین پر روشنی اور زندگی قائم ہے۔ ہائیڈروجن بم میں چھوٹے ایٹم — جیسے ڈیوٹیریم اور ٹرائٹیریم — ایک دوسرے میں مدغم ہو کر ایک نیا عنصر پیدا کرتے ہیں، اور اس عمل میں جو توانائی خارج ہوتی ہے وہ ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں ٹن روایتی دھماکہ خیز مواد کے برابر ہو سکتی ہے۔

مگر اس بم کو بنانے کا عمل کوئی آسان کام نہیں تھا۔ فیزیکل طور پر، ہائیڈروجن بم دو بنیادی حصوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ پہلے ایک عام ایٹمی بم کا دھماکہ کیا جاتا ہے تاکہ اتنی زیادہ گرمی اور دباؤ پیدا ہو جو فیوژن عمل شروع کر سکے۔ پھر یہ شدید حالات ہلکے ایٹموں کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ آپس میں جڑ کر ایک تباہ کن دھماکہ کریں۔ یہی وجہ ہے کہ ہائیڈروجن بم، عام ایٹمی بم کے مقابلے میں ہزاروں گنا زیادہ طاقتور ہوتا ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اگر عام ایٹم بم کسی شہر کو تباہ کر سکتا ہے تو ہائیڈروجن بم پورے ملک کا نقشہ بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

دنیا میں ہائیڈروجن بم بنانے کی دوڑ دوسری عالمی جنگ کے فوراً بعد شروع ہوئی۔ امریکہ نے 1952 میں پہلا کامیاب ہائیڈروجن بم تجربہ کیا، جسے "آئیوی مائیک" کہا جاتا ہے۔ یہ تجربہ مارشل آئی لینڈز کے ایک دور دراز جزیرے پر کیا گیا تھا اور اس کا دھماکہ اتنا شدید تھا کہ پورا جزیرہ ہی نقشے سے مٹ گیا۔ سوویت یونین نے 1953 میں اپنا جواب دیا، اور 1961 میں انہوں نے "Tsar Bomba" کا دھماکہ کیا — ایک ایسا دھماکہ جس کی شدت آج تک انسانیت کی تاریخ کا سب سے بڑا نیوکلیئر دھماکہ ہے۔ اس دھماکے کا بادل ساٹھ کلومیٹر کی بلندی تک اٹھا اور اس کی روشنی ہزاروں کلومیٹر دور سے دیکھی گئی۔

برطانیہ، فرانس، اور چین نے بھی جلد ہی ہائیڈروجن بم بنانے کی صلاحیت حاصل کر لی۔ بعد میں بھارت نے 1998 میں اپنے پوکھران ٹیسٹ میں ایک تھرمونیوکلئیر ڈیوائس کا تجربہ کیا، حالانکہ اس پر دنیا بھر میں کچھ شبہات کا اظہار بھی کیا گیا۔ پاکستان نے اسی سال اپنے کامیاب ایٹمی تجربات کیے، مگر اب تک کوئی سرکاری طور پر یہ دعویٰ نہیں کیا کہ پاکستان کے پاس مکمل ہائیڈروجن بم ہے۔ شمالی کوریا نے 2016 میں اعلان کیا کہ اس نے ہائیڈروجن بم کا تجربہ کیا ہے، مگر بہت سے ماہرین اب بھی اس دعوے پر سوال اٹھاتے ہیں۔

ہائیڈروجن بم صرف ایک ہتھیار نہیں، یہ ایک فلسفہ ہے: طاقت کی انتہا، تباہی کی معراج۔ یہ اتنا مہلک ہے کہ اس کے استعمال کے بعد زمین پر کئی برسوں تک "نیوکلیئر ونٹر" آ سکتا ہے — ایک ایسا دور جب آسمان دھوئیں سے ڈھک جائے گا، سورج کی روشنی زمین تک نہیں پہنچے گی، درجہ حرارت گر جائے گا اور زندگی کا بیشتر حصہ فنا ہو جائے گا۔ اس بم کی تباہی کا عالم یہ ہے کہ اگر چند درجن ہائیڈروجن بم پھٹ جائیں تو انسانی تہذیب کا وجود ہی خطرے میں پڑ سکتا ہے۔

شاید اسی خوف نے دنیا کی بڑی طاقتوں کو مجبور کیا کہ وہ نیوکلیئر ہتھیاروں کے پھیلاؤ پر قابو پانے کے لیے معاہدے کریں۔ مگر ہائیڈروجن بم کی موجودگی اب بھی اس دنیا پر ایک ایسا سیاہ سایہ ہے جو کبھی بھی حرکت میں آ سکتا ہے، اگر انسان نے ہوش سے کام نہ لیا۔ آج جب ہم ستاروں کی کھوج میں ہیں، مریخ پر بستیاں بسانے کے خواب دیکھتے ہیں، تو یہ ہتھیار ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ ہم نے اپنے ہی سیارے کو تباہ کرنے کا اختیار بھی اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔

شاید یہی ہائیڈروجن بم کی سب سے بڑی کہانی ہے — طاقت کی معراج، اور فنا کا دہانہ۔
منقول
🙏❤️🙏

۔۔

06/09/2025

اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ
كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَإِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ
اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ
كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَإِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ۔۔۔۔


05/09/2025

*⭕دریائے ستلج کل سیلابی ریلا کے مناظر ہیں جن کو دیکھ کر آبدیدہ ہو جائیں گے ۔۔۔-*

*دریائے ستلج الرٹ، 4 ستمبر:-*
*گنڈا سنگھ والا میں بہاؤ 335,591-* *کیوسک، غیر معمولی بلند ہے۔ بھارتی ڈیمز پونگ 98%، بھاکرا 96% بھرنے کیوجہ سے پانی کے اخراج سے سیلابی صورتحال بڑھ رہی ہے۔ سلیمانکی میں ہائی فلڈ-* *(132,000 کیوسک) اور اسلام میں درمیانی سے ہائی فلڈ (95,700 کیوسک) کا خطرہ ہے-*

Address


Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Muhammad Zahid-1 posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

  • Want your business to be the top-listed Computer & Electronics Service?

Share