Tech Solution PSR

Tech Solution PSR Tech Solution PSR

With Wood Maters Guild – I just got recognised as one of their top fans! 🎉
03/09/2026

With Wood Maters Guild – I just got recognised as one of their top fans! 🎉

Public Insights
03/09/2026

Public Insights

01/09/2026

Genral info

01/09/2026
01/09/2026

Mantar. Jo galti sy bola jata hy.

01/09/2026

Info

مسلمان میاں بیوی سائنسدان انسانیت کی سب سے بڑی امید: کیا دنیا کینسر سے ہمیشہ کے لیے پاک ہونے والی ہے؟  جس میاں بیوی نے ک...
30/08/2026

مسلمان میاں بیوی سائنسدان انسانیت کی سب سے بڑی امید: کیا دنیا کینسر سے ہمیشہ کے لیے پاک ہونے والی ہے؟
جس میاں بیوی نے کورونا کی ہولناک وبا کے دوران ریکارڈ وقت میں دنیا کی پہلی کامیاب ترین 'فائزر ویکسین' بنا کر کروڑوں انسانوں کو نئی زندگی دی، وہ اب کینسر کے مکمل خاتمے کے بالکل قریب پہنچ چکے ہیں۔ جی ہاں! ہم بات کر رہے ہیں جرمنی میں مقیم عظیم ترک سائنسدان ڈاکٹر اوغر شاہین اور ڈاکٹر اوزلم توریجی کی۔ جو اس آیت کی جیتی جاگتی تفسیر ہیں کہ جس نے ایک انسان کی جان بچائی اس نے پوری انسانیت کو بچالیا۔

کھرب پتی بننے کی آفر ٹھکرا دی—صرف انسانیت کی خاطر!
اس پوسٹ کو لکھنے اور شیئر کرنے کا سب سے بڑا مقصد ان کی بے مثال قربانی کو دنیا کے سامنے لانا ہے۔ ذرا سوچیے:پیٹنٹ (Patent) کا کھیل اور اربوں ڈالر: کینسر کا علاج دنیا کا مہنگا ترین علاج ہے۔ اگر یہ دونوں سائنسدان چاہتے، تو اپنی اس انقلابی mRNA تکنیک اور ریسرچ کو اپنے نام پر سخت ترین قوانین کے ساتھ 'پیٹنٹ' کروا لیتے۔ وہ دنیا کی سب سے مہنگی فارماسیوٹیکل کمپنیوں سے اپنی مرضی کی رائلٹی اور قیمت وصول کر سکتے تھے۔دنیا کے امیر ترین انسان بن سکتے تھے: اگر وہ اپنے فارمولے کو تجارتی راز بنا لیتے، تو آج وہ دنیا کے امیر ترین ارب پتیوں کی فہرست میں سب سے اوپر ہوتے۔

ان دونوں کا واحد عزم یہ ہے کہ یہ ویکسین دنیا کے ہر غریب اور امیر انسان تک یکساں اور انتہائی سستی قیمت پر پہنچے۔ وہ اپنے علم کو چند امیر ملکوں یا امیر لوگوں تک محدود نہیں رکھنا چاہتے، بلکہ ان کا ہدف دنیا کے پسماندہ ترین علاقوں میں رہنے والے لاکھوں مریضوں کی زندگیاں بچانا ہے۔

یہ کینسر ویکسین کیسے کام کرے گی؟یہ کوئی روایتی علاج یا زہریلی کیموتھراپی نہیں ہے، بلکہ ایک معجزاتی تکنیک ہے: مدافعتی نظام کو ٹریننگ: یہ mRNA تکنیک انسانی جسم کے اپنے دفاعی نظام (Immune System) کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ کینسر کے چھپے ہوئے خلیات (Cells) کو خود پہچانے اور انہیں جڑ سے اکھاڑ پھینکے۔

ہر مریض کے کینسر کا ٹیومر الگ ہوتا ہے۔ یہ جوڑی اب آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کی مدد سے ایسی ادویات پر کام کر رہی ہے جو ہر مریض کے کینسر کے حساب سے چند دنوں میں خاص طور پر تیار کی جا سکیں گی۔

اربوں ڈالر کی کمپنی بنانے کے بعد بھی اس میاں بیوی کی سادگی کا یہ عالم ہے کہ آج بھی وہ کرائے کے اپارٹمنٹ میں رہتے ہیں، ان کے پاس ذاتی گاڑی نہیں ہے اور وہ روزانہ سائیکل پر اپنی لیبارٹری جاتے ہیں۔ ان کے پاس ٹی وی تک نہیں ہے کیونکہ وہ اپنا ایک ایک سیکنڈ انسانیت کی بقا کی ریسرچ میں صرف کرنا چاہتے ہیں۔

ڈاکٹر اوزلم توریجی کا کہنا ہے: "ہمارا مقصد پیسہ کمانا کبھی تھا ہی نہیں۔ ہمارا مقصد یہ دیکھنا ہے کہ ہماری بنائی ہوئی دوا سے کتنے لوگ ہسپتالوں سے ہنستے کھیلتے اپنے گھروں کو لوٹتے ہیں۔"اللہ پاک ان دونوں سچے انسان دوست سائنسدانوں کو لمبی عمر، صحت اور ان کے اس عظیم مشن میں کامل کامیابی عطا فرمائے آمین۔

میجر ضیاء الدین عباسی ۱۹۲۸ ء میں الہ آباد میں مولوی حسین محی الدین عباسی کے گھر پیدا ہوئے ۔ قیام پاکستان کے بعد وہ اپنے ...
30/08/2026

میجر ضیاء الدین عباسی ۱۹۲۸ ء میں الہ آباد میں مولوی حسین محی الدین عباسی کے گھر پیدا ہوئے ۔ قیام پاکستان کے بعد وہ اپنے خاندان کے ہمراہ ہجرت کرکے کراچی چلے آئے اور ناظم آباد کے علاقے میں رہائش پذیر ہوئے ، انہوں نے تعلیم کراچی میں حاصل کی پاکستان آرمی میں کمیشن حاصل کرکے افسر بھرتی ہوئے اور کوئٹہ انفنٹری اسکول کے انسٹرکٹر مقرر ہوئے ۔ ۲ ؎ستمبر کو سیالکوٹ بارڈر پر بھارتی فوج نے پیش قدمی شروع کردی تھی جس پر انہیں سیالکوٹ بارڈر پر تعینات کیا گیا میجر ضیاء الدین عباسی کے ٹینک کو دشمن کی توپ کا گولہ لگا جس سے وہ شہید ہوگئے۔ مگر میجر صاحب کے صرف 30 ٹینکوں نے دشمن کے 600 ٹینک تباہ کردیئے تھے صدر ایوب خان کی طرف سے میجر عباسی شہید کے والد اپنے شہید بیٹے کو بعد از شہادت ملنے والا ستارہ جرات وصول کر رہے تھے تو ایوب خان نے ان سے ان کی کوئی خواہش پوچھی، تو انہوں نے عمرہ کی خواہش کا اظہار کیا جسے ایوب خان نے فورا قبول کر لیا 1965ء کی جنگ ختم ہونے کے چند ماہ بعد مدینہ منورہ میں میجر کے والد روضہ رسول صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم کی طرف دیکھتے ہوئے رو رہے تھے تو خادم مسجد نبوی وہاں آئے اور وہاں بیٹھے ہوئے لوگوں سے پوچھا کہ آپ میں سے کوئی ‫‏پاکستان‬ سے تعلق رکھتا ہے؟ میجر عباسی شہید کے والد نے خادم مسجد نبوی کے استفسار ہر کہا کہ وہ پاکستان سے آئے ہیں۔ خدام مسجد نبوی صلی اللہ علیہ و سلم نے ان سے پوچھا کہ پاکستانی فوج کے میجر ضیاء الدین عباسی شہید کا نام آپ نے سنا ہے، ان کا آپ جانتے ہیں؟ اس پر شہید کے والد نے حیرت سے کہا کہ وہ ہی اس شہید کے والد ہیں یہ سنتے ہی خوشی اور مسرت سے لبریز خادم خاص نے آگے بڑھ کر زور سے انہیں گلے لگا لیا اور ان کے بوسے لیتے ہوئے کہا کہ آپ یہیں رکیں، میں کچھ دیر بعد آتا ہوں۔ شہید میجر عباسی کے والد کو اپنے گھر لے گئے جہاں انہیں بڑی عزت اور احترام کے ساتھ اپنے اہل و عیال کے ساتھ کھانا کھلایا میجر عباسی شہید کے والید بہت حیران تھے کہ یا الٰہی یہ کیا ماجرا ہے؟ میں تو انہیں جانتا تک نہیں بلکہ زندگی میں پہلی بار میرا سعودی عرب آنا ہوا ہے اسی شش و پنج میں تھے کہ خادم خاص روضہ رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کے ہاتھوں کے ایک بار پھر بوسے لیے اور شہید عباسی کے والد کی حیرانگی دور کرتے ہوئے کہنے لگے کہ جب پاکستان اور ہندوستان کی جنگ ہو رہی تھی تو 11 ستمبر کی رات میں نے خواب میں رسول کو دیکھا کہ وہ اپنے صحابہ کے ساتھ بیٹھے ہوئے ہیں کچھ لمحوں بعد حضرت ‫‏علی‬ اپنے ہاتھوں میں ایک لاشہ اٹھائے وہاں تشریف لاتے ہیں اور ان کا جنازہ رسول ﷺ اور صحابہ نے ادا کیا

Address

Ameen Center Shop No 05, Infront Of Alfalfa Bank Kochehry Road
Pasrur
51480

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Tech Solution PSR posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category