10/08/2026
یہ کہانی 30 اگست 2012 سے شروع ہوتی ہے۔
اس دن مصر کے پہلے منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی تہران گئے۔ اسلامی انقلاب کے بعد یہ کسی مصری صدر کا پہلا ایران دورہ تھا۔
تہران میں مرسی کا شاندار استقبال ہوا۔ انہوں نے وہاں کھل کر بولا، مصر اور ایران کو قریب لانے کی بات کی۔
کہتے ہیں اسی دورے نے سارا کھیل بدل دیا۔
تل ابیب میں خطرے کی گھنٹی بج گئی۔ اسرائیل میں پینک پھیل گیا۔ سوچ یہ تھی کہ اگر مصر جیسا بڑا عرب ملک اور ایران جیسا طاقتور اسلامی ملک آپس میں دوست بن گئے تو یہ اسرائیل کے لیے تباہی ہوگی۔ یہ دوستی اسرائیل برداشت نہیں کر سکتا تھا۔
اسرائیل کا ایک پرانا طریقہ ہے۔ فیصلہ وہ خود کرتا ہے، نافذ امریکہ سے کرواتا ہے، اور پیسہ عربوں سے لگواتا ہے۔ اس بار بھی یہی ہوا۔
امریکہ نے اپنے تعلقات استعمال کیے۔ مصری فوج کو گرین سگنل دیا گیا۔ اور فیلڈ مارشل عبدالفتاح السیسی نے میدان سنبھال لیا۔
3 جولائی 2013 کو مرسی کی منتخب حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا۔ ایک منتخب صدر کو گرفتار کر کے پنجرے میں بند کر دیا گیا۔
اس کے فوراً بعد کیا ہوا؟
سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے سیسی پر ڈالروں کی بارش کر دی۔ تقریباً 40 ارب ڈالرز کی امداد۔ اس پیسے سے مصر کی ڈگمگاتی معیشت کو سہارا دیا گیا، تاکہ سیسی کا نیا رجیم مضبوط لگے اور اس کی مقبولیت بڑھے۔
اور محمد مرسی؟
انہیں 6 سال تک پنجرے میں رکھا گیا۔ عدالتوں میں پنجرے میں بند کر کے پیش کیا جاتا، بیمار رکھا گیا، دوائیں نہیں دی گئیں۔ یہاں تک کہ 17 جون 2019 کو عدالت میں ہی وہ شہید ہو گئے۔
دراصل انہیں اسی تہران دورے کی سزا دی گئی تھی۔ بلکل ایسے ہی جیسے عمران خان کو روس دورے کی سزا دی جا رہی ہے۔ سارے کا سارا مصری ماڈل کاپی پیسٹ ہے۔