19/03/2026
اے آئی اور ڈیجیٹل ثقافت :اے آئی کے دور میں اصل طاقت ٹیکنالوجی نہیں بلکہ ذوق بن چکا ہے
مصنوعی ذہانت نے دنیا کو تیزی سے بدل دیا ہے، مگر اس تبدیلی کے درمیان ایک نیا لفظ خاموشی سے ابھرا ہے جو ٹیکنالوجی سے زیادہ انسان سے جڑا ہوا ہے۔ یہ لفظ ہے “ذوق”۔ آج کی سلیکون ویلی میں جہاں پہلے “جدت” اور “انقلاب” جیسے الفاظ گونجتے تھے، اب بات اس پر ہو رہی ہے کہ اصل فرق کون پیدا کرے گا، اور جواب دیا جا رہا ہے کہ وہ فرق ٹیکنالوجی نہیں بلکہ انسان کا ذوق پیدا کرے گا۔
اہلِ ٹیک کی رائے میں اب وہ زمانہ آ رہا ہے جہاں ہر کوئی اے آئی کے ذریعے کچھ بھی بنا سکتا ہے۔ کوڈ لکھنا، ایپ تیار کرنا، ڈیزائن بنانا، یہ سب پہلے کے مقابلے میں کہیں آسان ہو چکا ہے۔ ایسے میں اصل سوال یہ نہیں رہا کہ “آپ کیا بنا سکتے ہیں” بلکہ یہ ہے کہ “آپ کیا بنانا چاہتے ہیں”۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ذوق کی اہمیت سامنے آتی ہے۔
کبھی یہ سمجھا جاتا تھا کہ مہارت اور ٹیکنیکل علم ہی کامیابی کی کنجی ہیں، مگر اب منظر بدل رہا ہے۔ اگر ہر شخص کے پاس وہی ٹولز ہوں، وہی اے آئی، اور وہی طاقت، تو پھر کامیابی اس بات پر منحصر ہوگی کہ کون بہتر انتخاب کرتا ہے، کون بہتر چیز تخلیق کرتا ہے، اور کون لوگوں کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہی ذوق ہے، اور یہی اب اصل برتری بن رہا ہے۔
مگر اس کہانی کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے جو کم نظر آتا ہے۔ بڑی ٹیک کمپنیاں اس لفظ کو ایک نئے انداز میں استعمال کر رہی ہیں۔ وہ یہ تاثر دے رہی ہیں کہ ان کے اے آئی ٹولز نہ صرف طاقتور ہیں بلکہ تخلیقی بھی ہیں، انسانی بھی ہیں، اور ذوق رکھنے والے بھی ہیں۔ اشتہارات میں انسانی لمحات دکھائے جا رہے ہیں، جیسے لکھنا، سوچنا، کھیلنا، مگر پسِ منظر میں وہی مشین موجود ہے جو ہر چیز کو خودکار بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔
یہ تضاد دلچسپ بھی ہے اور فکر انگیز بھی۔ ایک طرف اے آئی کو اس انداز میں پیش کیا جا رہا ہے جیسے وہ انسانی تخلیق کا ساتھی ہو، اور دوسری طرف وہی ٹیکنالوجی انسان کے بہت سے کاموں کو خود انجام دینے کی صلاحیت حاصل کر رہی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے “ذوق” کو ایک خوبصورت پردے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ ایک پیچیدہ حقیقت کو نرم انداز میں پیش کیا جا سکے۔
حقیقت یہ ہے کہ ذوق صرف دیکھنے یا جاننے کا نام نہیں بلکہ محسوس کرنے کا نام ہے۔ خوبصورتی کو سمجھنا ایک بات ہے، مگر اس سے متاثر ہونا ایک بالکل مختلف تجربہ ہے۔ یہی وہ پہلو ہے جو انسان کو مشین سے الگ کرتا ہے۔ آج تک کوئی اے آئی ایسا نہیں جو واقعی کسی خیال، فن یا حسن کو محسوس کر سکے۔
اسی لیے یہ سوال ابھی بھی باقی ہے کہ اگر سب کچھ اے آئی کر سکتا ہے تو پھر انسان کی اصل اہمیت کیا رہ جائے گی۔ شاید جواب یہی ہے کہ ٹیکنالوجی جتنی بھی آگے بڑھ جائے، ذوق، احساس اور انتخاب کی طاقت اب بھی انسان کے پاس ہی رہے گی۔
یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے۔
ماخذ: Kyle Chayka کی تحریر اور تجزیہ برائے اے آئی اور ڈیجیٹل ثقافت: نیویارکر
, , , , , ,