05/08/2026
سعودی حکومت کا یہ فیصلہ کہ پاکستان سمیت 4 ممالک کے عمرہ زائرین کے لیے روزانہ 20 ریال کا فوڈ واؤچر لازمی قرار دیا جائے، ایک انتہائی زبردست اور بروقت اقدام ہے! 👌🇸🇦
ہمارے پاکستان میں اکثر لوگ صرف یہی سوچتے ہیں کہ "4 لاکھ کا عمرہ پیکج بن گیا، بس اب ہم نے چلے جانا ہے!" لیکن یہاں آنے کے بعد کے روزمرہ اور سفری اخراجات کو کوئی بھی کاؤنٹ (Count) نہیں کرتا۔
حقیقت یہ ہے کہ حرم شریف کے پاس کھانے پینے سے لے کر دیگر تمام چیزیں کافی مہنگی ہوتی ہیں۔ حرم کے پاس ایک ٹائم کا کھانا یا بریانی ہی تقریباً 20 سے 22 ریال کی ملتی ہے، ناشتہ 10 سے 15 ریال کا ہوتا ہے اور رات کا کھانا بھی اتنا ہی۔ اگر ایک انسان ایمانداری سے تین وقت کی صحیح خوراک رکھے تو روزانہ کا 50 سے 60 ریال صرف کھانے پر لگتا ہے۔ اس کے علاوہ کوئی جائے نماز لینی ہو، بیمار ہو کر دوائی لینی پڑ جائے، تو روزانہ کا خرچہ آرام سے ہو جاتا ہے۔
پھر سفری اخراجات کا بھی کوئی حساب نہیں رکھتا۔ ٹور پیکج میں صرف مکہ اور مدینہ کی چند مخصوص زیارتیں ہی شامل ہوتی ہیں۔ لیکن اگر آپ نے طائف جانا ہے، غارِ ثور یا غارِ حرا جانا ہے، یا مکہ میں رہتے ہوئے اضافی عمرے کرنے ہیں تو احرام باندھنے کے لیے مسجدِ عائشہ (تنعیم) جانا پڑتا ہے، اور صرف وہاں آنے جانے کا مشوار (ٹیکسی کا کرایہ) ہی 50 ریال لگ جاتا ہے۔
پچھلے دنوں میرے ایک واقف کار رکشہ ڈرائیور بھائی کا مسجد کی قرعہ اندازی سے عمرے کا ٹکٹ نکلا۔ وہ بے چارے غریب تھے، ویزا اور ٹکٹ مل گیا تو چلے آئے، لیکن یہاں آ کر ان کی حالت دیکھی نہیں جاتی تھی۔ شاپنگ تو بہت دور کی بات ہے، کھانا کھانے تک کے پیسے نہیں تھے۔ ویزا 20 دن کا تھا، اور وہ دعا کر رہے تھے کہ کاش یہ 10 دن کا ہوتا اور جلدی واپس چلے جائیں۔ بدقسمتی سے فلائٹس میں مسئلہ بنا تو وہ یہاں پھنس کر رہ گئے۔ حالات یہ تھے کہ کبھی سبیلوں سے کھانا لے کر کھایا، کبھی کہیں اور لائنوں میں لگے رہے۔ انسان کا دل خون کے آنسو روتا ہے یہ سب دیکھ کر!
کچھ لوگ اس فیصلے پر بلا وجہ تنقید کر رہے ہیں کہ شاید یہ 20 ریال سعودی حکومت کی جیب میں جائیں گے۔ ایسا بالکل بھی نہیں ہے! یہ آپ کے پیسے ہیں اور آپ ہی کے کھانے پینے پر خرچ ہوں گے، اس میں سعودی حکومت کو کوئی مالی فائدہ نہیں ہے۔ ہر بات میں سے منفی پہلو (Negative points) ڈھونڈنا بند کریں۔
اگر سعودی حکومت نے پیسے ہی کمانے ہوں تو ان کے پاس کمانے کے اور ہزاروں مواقع موجود ہیں، لیکن الحمدللہ! اللہ تعالی نے سعودی حکومت کو اتنا پیسہ اور طاقت دی ہے کہ وہ یہ تمام تر اخراجات خود بہترین طریقے سے مینج کرتے ہیں۔ اس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ آپ کو پوری مملکت کی کسی بھی مسجد میں یا حرم شریف کے اندر کبھی چندے کے ڈبے نظر نہیں آئیں گے۔
آپ اچھے سے جانتے ہیں کہ یہی حرم اگر خدا نخواستہ ہمارے ہاں پاکستان میں ہوتا تو ، زمزم بھی پانی کی طرح بک رہا ہوتا، اور جگہ جگہ چارجز لگے ہوتے! جبکہ یہاں آپ حرم شریف پہنچ جائیں تو نہ عمرہ کرنے کا کوئی چارج ہے، نہ زمزم کا، نہ 24 گھنٹے چلنے والے اے سی اور سہولیات کا۔
عمرہ ایک نفلی عبادت ہے، جن کے پاس زادِ راہ پورا نہیں ہے، ان پر یہ فرض یا واجب نہیں ہے۔ کمیٹیاں ڈال کر یا ادھار لے کر صرف ویزا پورا کر لینا عقلمندی نہیں۔ 4 لاکھ کے ویزے اور ٹکٹ کے بعد پاکستان میں پاسپورٹ بنوانا، ایئرپورٹ کا سفر، اور یہاں سعودیہ آ کر کھانے پینے و زیارتوں کے اضافی اخراجات کے لیے بھی کم از کم اتنا ہی بجٹ ذہن میں ہونا چاہیے۔ جن کے رشتہ دار یا دوست یہاں موجود ہیں جو انہیں سنبھال سکتے ہیں، ان کا معاملہ مختلف ہے، لیکن جو بغیر کسی جان پہچان اور بغیر کسی بجٹ کے آ جاتے ہیں، وہ یہاں آ کر پریشان ہوتے ہیں۔
اس لیے سعودی حکومت کا یہ فیصلہ بہت بہترین ہے کہ پہلے سے کھانے پینے کے واؤچرز شامل ہوں تاکہ کم از کم کوئی زائر یہاں آ کر بھوکا نہ رہے اور نہ ہی سبیلوں کی لائنوں میں دھکے کھائے۔ خدارا! بیت اللہ کی زیارت کا شوق اپنی جگہ، لیکن آنے سے پہلے اپنے اخراجات اور زادِ راہ کا صحیح اندازہ ضرور لگایا کریں۔🇸🇦🇵🇰