23/11/2025
امید کا چراغ جلائے رکھو، یہ طوفان گزر جائے گا!
اے میرے پیارے بھائیو اور بہنو!
جب رات سب سے زیادہ گہری ہوتی ہے، تو سمجھ لو کہ فجر قریب ہے۔
یہ مشکل وقت ہے، یہ دل شکستہ کرنے والا وقت ہے، لیکن یاد رکھو:
“مشکلوں کے پہاڑ بھی ایک دن راستہ دیتے ہیں جب دل میں اللہ پر یقین ہو اور پاؤں حرکت میں ہوں۔”
شبانہ محمود نے نومبر 2025 میں جو نئے امیگریشن قوانین کا اعلان کیا ہے، اس نے لاکھوں طلبہ، سکلڈ ورکرز اور پناہ گزینوں کے دل دہلا کر رکھ دیے ہیں۔ خوف ہے، بے چینی ہے، نیند اڑی ہوئی ہے، خواب ٹوٹتے نظر آ رہے ہیں۔
لوگ کہتے ہیں: “اب سب ختم ہو گیا۔”
لوگ کہتے ہیں: “واپس چلے جاؤ۔”
لوگ کہتے ہیں: “تم یہاں نہیں ٹھہر سکتے۔”
لیکن سنو!
وہی لوگ جو آج سب سے زیادہ خوش ہیں، وہی کل سب سے زیادہ روئیں گے۔
وہ پاکستانی، بنگلہ دیشی، انڈین، کرد، عرب، افغانی جو برسوں پہلے آئے، اب برطانوی پاسپورٹ تھامے بیٹھے ہیں، وہی آج سب سے زیادہ زور زور سے کہہ رہے ہیں: “دروازے بند کر دو!”
کیوں؟
کیونکہ انہیں ڈر ہے کہ کوئی نیا آیا تو ان کی چمک دمک کم نہ ہو جائے۔
کردوں کا ایک پرانا کہاوت ہے:
“مہمان کو نیا مہمان پسند نہیں آتا، اور میزبان کو دونوں میں سے کوئی بھی پسند نہیں۔”
یہ حسد ہے، یہ خود غرضی ہے، یہ انسانیت کا قتل ہے۔
لیکن یاد رکھو:
یہ قوانین ہمیشہ نہیں رہیں گے۔
ہائی کورٹ میں پہلے بھی ایسے ظالمانہ قوانین ٹوٹے ہیں، اور انشاءاللہ بہت جلد یہ بھی ٹوٹیں گے۔
یورپی کنونشن آن ہیومن رائٹس، یو این ریفیوجی کنونشن، برطانیہ کا اپنا قانون… یہ سب ہمارے ساتھ ہیں۔
وہ جانتے ہیں کہ یہ قوانین انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ اسی لیے وہ خوفزدہ ہیں۔ اسی لیے وہ زہر اگل رہے ہیں۔
اے میرے بھائی، میری بہن!
مت ڈرو۔
مت رکو۔
اپنی فائلیں مکمل کرو، اپنے وکلاء سے رابطے رکھو، اپنے کیس مضبوط کرو۔
وہ جتنا تمہیں دکھی دیکھنا چاہتے ہیں، تم اتنے ہی پرامید اور پرجوش رہو۔
ان کی نفرت کو اپنی محنت سے جواب دو۔
ان کے طنز کو اپنی مسکراہٹ سے جواب دو۔
چند باتیں دل پر لکھ لو:
• “جو اللہ کے بھروسے پر نڈھال ہو جائے، اسے کوئی گرا نہیں سکتا۔”
• “اندھیرے جتنا بھی گہرا ہو، ایک چھوٹی سی موم بتی اسے شکست دے سکتی ہے۔ تم وہ موم بتی بنو۔”
• “وہ جو تمہیں روکنا چاہتے ہیں، دراصل تمہاری طاقت سے ڈرتے ہیں۔”
• “یہ وقت گزرے گا، لیکن تمہاری ہمت کی کہانیاں نسلوں تک سنائی جائیں گی۔”
میں ایمان سے کہتا ہوں:
بہت جلد، انشاءاللہ، ایک خوبصورت اعلان سنائی دے گا۔
وہ اعلان جو لاکھوں دلوں کو سکون دے گا۔
وہ اعلان جو بتائے گا کہ انسانیت ابھی زندہ ہے۔
بس صبر کرو، محنت جاری رکھو، اور دعا مانگتے رہو۔
اللہ تم سب کا حامی و ناصر ہو۔
یہ طوفان گزر جائے گا، اور ہم سب ساحل پر کھڑے مسکراتے ہوئے ملیں گے، انشاءاللہ۔