13/07/2026
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں:ہمارے علاقے میں درگاہ کی زیارت پر بعض لوگ اپنی منت یا نذر و نیاز پوری کرنے کے لیے جانور لے کر آتے ہیں۔ بعد میں اوقاف کے ذمہ داران یا مجاور حضرات ان جانوروں کی بولی لگا کر انہیں لوگوں کے ہاتھ فروخت کر دیتے ہیں۔
اب دریافت طلب مسئلہ یہ ہے کہ:اگر کوئی شخص ان جانوروں کو خرید کر عید الاضحی میں قربانی کرے تو کیا اس کی قربانی درست اور شرعاً ادا ہو جائے گی؟
نیز اگر کسی شخص نے درگاہ یا زیارت سے ایسا جانور خریدا ہو تو اس جانور کے خریدنے اور استعمال کرنے کا شرعی حکم کیا ہے؟
برائے کرم قرآن و سنت اور فقہ کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔
والسلام