01/08/2025
جمہور کا قافلہ، اداروں کے جنگل میں گم"
✍️ تحریر: سیف فاروقی
پاکستان کی تاریخ ایک مسلسل جدوجہد کی داستان ہے، جس کا مرکزی موضوع ہمیشہ جمہوریت، انصاف اور خودمختاری رہا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے، یہ جدوجہد عام آدمی کے حق حکمرانی کے لیے کم اور طاقتور اشرافیہ اور اداروں کے مفادات کے تحفظ کے لیے زیادہ رہی ہے۔ ہماری جمہوریت کا اصل چہرہ اکثر آئینی دفاتر اور سیاستدانوں کی زبان پر تو آتا ہے مگر عملی طور پر عوام کو اس کا حصہ نہیں مل پاتا۔ 2024 کے انتخابات اس حقیقت کو واضح کر گئے کہ پاکستان میں الیکشن ایک مقدس عمل کے بجائے سیاسی سازشوں کا حصہ بن چکے ہیں۔ عوام نے جس پارٹی کو بھرپور مینڈیٹ دیا، اس کے حق میں عوامی ووٹ کو ادارہ جاتی مداخلت اور سیاسی انجینئرنگ کے ذریعے متاثر کیا گیا، اور حقیقی نمائندوں کو باہری دائرے میں رکھا گیا۔ اس عمل نے جمہوریت کے تقدس کو شدید دھچکا پہنچایا اور عوام کے دلوں میں مایوسی کی دیوار کھڑی کر دی۔
اداروں کی کارکردگی بھی اس صورتحال کو بہتر بنانے کے بجائے مزید پیچیدہ کر رہی ہے۔ عدلیہ، جو انصاف کی ضمانت ہے، بعض اوقات سیاسی دباؤ اور اثر و رسوخ کے سامنے جھک جاتی ہے۔ احتسابی ادارے جیسے نیب اور ایف آئی اے، جنہیں کرپشن کے خلاف موثر کردار ادا کرنا چاہیے، ان کی کارکردگی اکثر سیاسی مفادات کے تابع رہتی ہے، جس سے عوام کا اعتماد مجروح ہوتا ہے۔۔
کرپشن کی وبا نے پاکستان کے ہر شعبے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ نہ صرف سیاستدان بلکہ انتظامی محکمے، تعلیمی ادارے، اور یہاں تک کہ انصاف کے ادارے بھی کرپشن کی زد میں ہیں۔ ہر حکومت احتساب کا نعرہ بلند کرتی ہے مگر عمل میں وہ صرف سیاسی مخالفین تک محدود رہتا ہے۔ جب احتساب انتقام میں بدل جائے تو یہ نظام سے عوام کا اعتماد ختم کر دیتا ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری، اور تعلیم کی عدم دستیابی نے عوام کو ایک ایسی دلدل میں دھکیل دیا ہے جہاں سے نکلنا آسان نہیں۔
تاہم، امید کی کرن نوجوان نسل میں نمایاں ہے۔ سوشل میڈیا کی طاقت نے عوام کو نہ صرف معلومات دی ہیں بلکہ انہیں ایک پلیٹ فارم بھی فراہم کیا ہے جہاں وہ اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھا سکتے ہیں۔ نوجوان اب خاموش تماشائی نہیں بلکہ تبدیلی کے محرک بن چکے ہیں۔ وہ جمہوریت کو صرف ووٹ دینے کا عمل نہیں بلکہ ایک ایسا نظام سمجھتے ہیں جہاں شفافیت، احتساب، اور انصاف کی حکمرانی ہو۔
پاکستان کا قافلہ جمہور کا اگرچہ اداروں کے پیچیدہ جنگل میں گم ہے، مگر یہ جنگل اتنا بھی گہرا نہیں کہ روشنی کی کرن اس میں داخل نہ ہو سکے۔ عوام کا شعور، نوجوانوں کی بیداری، اور آزاد میڈیا کا بڑھتا ہوا کردار وہ عوامل ہیں جو اس نظام کو تبدیل کر سکتے ہیں۔ بشرطیکہ یہ طاقتیں متحد ہو کر اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کریں، تب ہی پاکستان کی حقیقی جمہوریت کا خواب پورا ہو سکے گا، اور یہ ملک اپنے قیام کے مقصد کے قریب پہنچ سکے گا۔
Syestem
politics