Cresset Gaming

Cresset Gaming (1)باہمی معاشرتی یگانگت (2) گلوبل ولج کا قیام (3) عصری اور فقری تقاضوں سے اگاہی (4) قُربتوں کا قیام (5) حالت و واقعات سے آگاہی (6) محبتوں اور رواداری

30/12/2022
https://www.fiverr.com/share/69N1Bq
28/12/2022

https://www.fiverr.com/share/69N1Bq

For only $5, Muneeb99m will design an awesome mascot vector cartoon logo. | Are you looking for a Mascot Gaming Logo Design for your Sports Team, Clan, Twitch channel, YouTube channel, Community, eSports Gaming logo, business, brand, etc.So, | Fiverr

03/11/2022

جاہل معاشرے میں علم اور دلیل ہار جاتے ہیں اور جہالت کی طاقت جیت جاتی ہے، جاہل کا ضمیر جب فیصلہ کرتا ہے تو قانون خداوندی اور ملکی قوانین کی دھجیاں نہ صرف بکھیر کے رکھ دی جاتی ہیں بلکہ ادھیڑ کر رکھ دی جاتی ہیں، اختلاف رائے کوئی نئ چیز نہیں، یہ تو صحابہ اکرام کے درمیان بھی موجود تھا، لیکن اختلاف رائے پر کسی کی جان کے درپہ ہونا نہ صرف غیر مہذب معاشرے کے جہلا نہ عمل کی دلالت ہے بلکہ معاشرتی رواداری اور فہم وفراست سے عاری ہونے کی بین دلیل بھی ہے، افسوس کہ پاکستان کی تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے جیسے لیاقت علی خاں کا اندھا قتل،مس فاطمہ جناح کا قتل، گورنر پنجاب سلمان تاثیر کا قتل اور اب یہ عمران خان کو قتل کرنے کی کوشش، اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم معاشرتی طور پر ابھی ڈارون کے نظریے سے ہی نہیں گزر پائے، افسوس، کب ہم لوگ بردبار اور معتدل معاشرے کی تشکیل کی بنیاد رکھ کر ترقی یافتہ معاشروں کی تقلیلد کر سکیں گے
ہمارا معاشرہ جہالت کی اس نہج پر چل نکلا ہے کہ ہم اختلاف رائے برداشت ہی نہیں کرپاتے، بلکہ کسی کی عزت، جان اور مال کو نقصان پہنچا کردلی راحت محسوس کرتے ہیں، ایسی راحت جو کسی کو دکھ دے کر حاصل ہو، وہ راحت نہیں بلکہ درندوں کے سکون حاصل کرنے کا زریعہ ہوتا ہے، ہمارا معاشرہ ابھی جنگل کا معاشرہ ہے اور اس میں جاہل درندے ہیں، جب تک ان کو عبرت ناک سزاوں کے خاردار پنجروں سے نہ گزارا گیا، یہ لوگ انسان نہیں بن سکیں گے، عجب معاشرہ ہے، کہیں، مزہب کے نام پر درندگی، کہیں، سیاست کے نام پر درندگی اور کہیں عورت اور دولت کے حصول پر درندگی، یہاں تو ہے ہی درندگی،،،، انسانیت کہاں تلاش کریں،،،،، افسوس صد افسوس
(رانا محمد رمضان)

17/10/2022

58 گ ب میں ہونے والے قتل،،،،،،،، یوں تو جرائم کی نوعیّت اور کیفیّت ہر دور میں مختلف رہی ہے لیکن موجودہ راءج الوقت جرائم کی ماں رشوت َتانی اور دہشت گردی ہے، رشوت ستانی تو میرے معاشرے کا جزولاینفک بن چکا ہے، دلال منتظر نظر آتے ہیں کہ کب کوئی واقعہ پیش آئے اور ان گدھوں کو مردار نوچنے کا موقع ملے، کسی غریب کا گدھا بھی چوری ہو جائے تو مقامی دلالوں کی چاندی ہوجاتی ہے لیکن کبھی کسی غریب آدمی کی داد رسی نہیں ہوسکی، غریب سہما ہوا ہے، غریب دبا ہوا ہے،غریب سسک رہا ہے لیکن لوٹ مار کا بازار گرم ہے ،دکانیں لوٹی جارہی ہیں ،مویشی چوری ہورہے ہیں ،لوگوں کے گھروں پر دہشت گردانہ حملے جاری ہیں لیکن قانون اور انصاف کا ضمیر جامد ساکت اور بے حس ہے،جنگل کا قانون یعنی جس کی لاٹھی اُس کی بھینس کا قانون جاری و ساری ہے جیسا کہ سب اہل دیہہ جانتے ہیں کہ 1947 سے لیکر اب تک اس گاٗوں میں 21قتل ہوچکے ہیں لیکن کسی بھی قتل کا نتیجہ خیز فیصلہ نہیں ہوسکا، تو پھر باقی ہونے والی نا انصافیوں او ر زیاتیوں کا ازالہ کیسے ممکن ہے،قتل ہونے والے افراد کے نام بلترتیب، سال درج ذیل ہیں : ۔ (1)نواب دین رحمانی 1957
(2) فتح محمد کمبوہ خالد ٹاور والے کے والد 1960
(3) اسماعیل لوہار (اصغر ٹریولز جڑانوالہ کا چچا) 1972
(4) محمد صدیق ہوشیار پوریہ (سرور عُرف شبو رکشے والے کا والد) ۔ 1972
(5) افتخار راجپوریہ 1976 (6)شہاب الدین لوہار (پولی لوہار کا والد) 1977 (7)رانا حبیب الرحمان 1978 (8) امانت علی عُرف مانتی (تیلی،ملک) 1985 (9) رفیق عُرف پھیکا (تیلی،ملک) 1990
(10) ڈاکٹر عبدالقیوم 2001
(11)محمد قمر راجپوریہ 2015 (12)محمد نوید موچی (ٹیلر ماسٹر) 2016
(13) محمدجاوید عُرف جیدی کھوکھر ولد محمد رفیق کھوکھر2016
ٓ (14) محمد ایوب ولد خوشید احمد ڈلے والا 2018
علاوہ ازیں غیرت کے نام پر قتل ہونے والے تین لڑکیاں
(15) ایک لڑکی 1992
(16) ایک لڑکی 2009
(17) ایک لڑکی 2011
میری اہل علم دانش سے درخواست ہے کہ ذرا سوچیں اور پھر سوچیں اگر سوچ کی چنگاری زندہ ہوگئ تو حالات میں تبدیلی ضرور آئیگی ۔ اللہ کا شکر ہے کہ استحصالی طبقوں میں تبدیلی ضرور آئی ہے اور طاقت کے محور بھی تبدیل ہوئے ہیں لیکن ابھی بہت کچھ بدلنا باقی ہے،
اسی گاءوں کے لُوگ جو گردو نواح میں قتل ہوئے زرا ان کے نام اور اعداد و شمار بھی سنیے
(18) ۔ غلام مصطفےٰ ہوشیار پوریہ 2010
(19) سلیم راجپوریہ 2014
(20)شاکا عرف اشفاق راجپوریہ 2015
(21) شہباز سلطانی ولد کلی آرائیں 2016
اس گاوں کے تاریخی تناظر میں، میں گاوں کے پڑھے لکھے ارباب سے مخاطب ہوں کہ نبی پاک کا فرمان ہے کہ ایک انسان کا قتل گویا پوری انسانیت کا قتل ہے، کیا ہم اس ناانصافی قتل و غارت گری اور جہالت کے ماحول سے نکل کر ایک مہذب معاشرے کی تشکیل کا احسن قدم اٹھا سکتے ہیں؟

Address

Faisalabad
37250

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Cresset Gaming posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share