MyVision

MyVision Short Courses, tuition and vu education available

04/07/2023
Subscribe my channel
04/07/2023

Subscribe my channel

21/06/2023

آپ کے اندر اگر درج ذیل عادات میں سے کوئی ایک بھی ہے تو فوراً سے پہلے بدل لیں ورنہ یہ آپ کے بچوں کی تربیت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔

1- اگر آپ کا بچہ کوئی کام کرنے سے پہلے آپ کی نگاہوں سے چُھپ جاتا ہے تو یہ علامت ہے اس بات کی کہ آپ بارعب بننے کے چکر میں اسے اپنے سے دور کر رہے ہیں۔

2- اگر آپ کا بچہ ضرورت سے زیادہ شرمیلا اور سہما ہوا رہتا ہے تو علامت ہے کہ آپ اُسے ضرورت سے زیادہ باتیں سمجھانے لگے ہیں اس کی معصوم شرارتوں سے لطف لینے کے بجائے آپ اسے وقت سے پہلے بڑا دیکھنا چاہتے ہیں۔

3- اگر کوئی بچہ اپنے کھلونوں کی بجائے دُوسروں کے کھلونوں سے کھیلتا ہے۔۔۔
تو یہ علامت ہے کہ آپ اُن کی چوائس کا احترام نہیں کرتے اور اُنہیں وہ کھلونے خرید کر دے رہے ہیں جو اُنہیں پسند نہیں ہیں۔

4- اگر آپ محسوس کریں کہ آپ کے بچے میں دُوسرے بچوں کے متعلق حسد پیدا ہو رہا ہے تو خاطر امکان ہے کہ آپ اُس کا موازنہ دوسرے بچوں سے کر رہے ہیں اور اکثر اُسے یہ بتا رہے ہیں کہ فلاں بچہ بہت اچھا بچہ ہے اور آپ بالکل نکمے ہو۔

5- اگر آپ کا بچہ بدتمیزی پر اُتر آیا ہے اور کسی بات کو خاطر میں نہیں لا رہا تو یہ نشانی ہے کہ اُس کے اردگرد آپ یا کوئی اور بڑے ایسا ہی عمل کر رہے ہیں یا حد سے زیادہ لاڈ پیار دے رہے ہیں جس کی وجہ سے وہ کسی کو خاطر میں نہیں لاتا۔

6- اگر بچے میں چڑاچڑا پن پیدا ہو رہا ہے تو یہ نشانی ہے کہ اُسے پُوری توجہ نہیں مل رہی، خاص طور پر ایسا اُس وقت ہوتا ہے جب ماں اور باپ اُس سے کم عُمر بہن اور بھائیوں کی طرف زیادہ توجہ کر رہے ہوں اور اُسے لگ رہا ہو کہ اُسے بالکل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

7- اگر آپ کو پتہ چلے کے آپ کا بچہ آپ سے جھوٹ بولتا ہے تو یہ نشانی ہے کہ آپ نے اُسے اُس کی غلطیوں پر ضرورت سے زیادہ ڈانٹ رہے ہیں۔

8- اگر آپ کے بچے میں قوت فیصلہ کم ہورہی ہے اور وہ آپ سے کوئی بات کرنے سے جھجھک رہا ہے تو یہ علامت ہے اس بات کی کہ آپ اسے دوسرے بچوں کے سامنے ڈانٹ رہے ہیں۔ یاد رکھیں بچے کو دُوسرے بچوں کے سامنے چاہے وہ اُس کے بہن بھائی اور کزن ہی ہوں ہرگز مت ڈانٹیں، وگرنہ یہ بچوں کی قوت فیصلہ کو کمزور کر دے گا۔

9- اگر آپ کے بچے میں باغیانہ نفسیات پیدا ہورہی ہیں تو یہ علامت ہے اس بات کی کہ آپ کبھی بھی اس کے احساسات کا خیال نہیں کرتے، ہر وقت اپنا فیصلہ اس پر تھوپنے کی کوشش کررہے ہیں۔ یاد رکھیں اگر ایسا ہے تو آپ والد نہیں ہیں بلکہ برے ڈکٹیٹر ہیں اور ایک وقت تک رہے گا بہت جلد آپ اسے اپنے مد مقابل پائیں گے۔

10- اگر آپ ذہنی تناؤ کی حالت میں رہتے ہیں اور اپنی پریشانی اور غصے کو بچوں پر نکالنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں تو آپ خود کو تنہا کر رہے ہیں۔ ایسے بچے والدین سے دُور ہوتے جاتے ہیں وہ والدین پر بھروسا کرنا چھوڑ دیتے ہیں اور اُن کی باتوں کو اہمیت نہیں دیتے، ایسے بچے بڑے ہوکر منشیات کی طرف راغب ہوسکتے ہیں اور صحیح اور غلط کام کی پہچان کھو سکتے ہیں۔

اللہ کریم سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اچھے والدین بننے اور اپنے بچوں کی اچھی تربیت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین۔ بشکریہ

20/06/2023

لا محدود


مارٹینا ناوراٹیلووا سے ایک بار پوچھا گیا کہ "آپ 43 سال کی عمر میں بھی اپنی توجہ، جسم اور تیز کھیل کو کیسے برقرار رکھتی ہیں؟"
اس نے عاجزانہ جواب دیا، "گیند نہیں جانتی کہ میری عمر کتنی ہے"

۔ آپ کو اپنے آپ کو روکنے سے روکنے کی ضرورت ہے. زندگی کا ہر کھیل دراصل 6 انچ زمین پر کھیلا جاتا ہے یعنی آپ کے دونوں کانوں کے درمیان کی جگہ۔

ہم بنگلوں، مکانوں یا فلیٹس میں نہیں رہتے۔ ہم اپنے دماغ میں رہتے ہیں جو کہ ایک لامحدود علاقہ ہے۔ زندگی میں غیر معمولی کام کرنے کے مواقع لا محدود ہیں اور اگر ہم اپنی سوچ کو محدود نہ کریں تو ہم بھی کمال حاصل کرسکتے ہیں ۔

20/06/2023

آئیں دیکھیں ہم تعلیمی زوال میں کہاں تک پہنچے

پاکستان میں جہاں بجلی، پانی اور گیس کا بحران ہے وہاں ایک بہت بڑا مسئلہ ہمارا نظام ِ تعلیم بھی ہے ۔ ہم ایک عرصہ سے ایسے گھسے پٹے تعلیمی نظام کو لے کر چل رہے ہیں جو ہمارے بچوں کو رٹا لگانا سکھا رہا ہے جس کی وجہ سے ان کی تخلیقی صلاحیتیں ختم ہو گئی ہیں ۔ یہ وہ عوامل ہیں جن کی وجہ سے آج ہمارے بچے صرف لکیر کے فقیر بن چکے ہیں ۔ ہمیں اپنے تعلیمی نظام کو رٹا سسٹم سے پاک کرنے کے علاوہ اپنے نصاب کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہوگا اور بچوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیے اپنے تعلیمی نظام کو مکمل طور پر بدلنا ہوگا۔ اس بات میں کسی شک و شبہے کی گنجائش نہیں کہ ہماری نئی نسل بہت باصلاحیت ہے مگر افسوس اس بات کا ہے کہ ان صلاحیتوں سے خاطر خواہ فائدہ نہیں اٹھایا جا رہا ۔ دراصل ان کی صلاحیتوں سے فائد اٹھانے کے لیے وسائل کی کمی کے علاوہ مناسب منصوبہ بندی کا بھی فقدان ہے۔ ہمارے ملک میں بہت کم نوجوان ایسے ہیں جنہوں نے خود کچھ نیا تخلیق کیا ہے یا کوئی نئی تھیوری پیش کی ہے ۔ اس کی بڑی وجہ یہی ہے کہ ہم اپنی سولہ سالہ تعلیم میں رٹالگانے کے سوا کچھ بھی نہیں سیکھتے ۔ مجھے نہیں لگتا کہ ہمارے ملک میں ایسا کوئی نظام موجود ہے جس کے تحت نصاب کو وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جاتا ہو۔ جہاں ہم ملکی تعمیروترقی کے خواب دیکھتے ہیں وہیں ہمیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ ہم ان خوابوں کی تعبیر کیلئے کیا کوششیں کررہے ہیں ۔
ایک طرف جہاں نصاب میں جدت لانے کی ضرورت ہے وہیں پر اس نصاب کو پڑھانے کیلئے طریقہِ تدریس میں بھی انقلابی بہتری ضروری ہے۔ اساتذہ کو بھی جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کیلئے مناسب تربیت دی جانی چاہیے۔ ہمارے موجودہ نصاب میں اس طرح کا موادشامل ہے جس کو پڑھنے کے بعد ہم یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ ہمیں کیا سیکھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مثلا انٹر میڈیٹ کے نصاب میں شامل مسٹر چپس کا مضمون جس کو پڑھنے کے بعد بندہ یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ اس مضمون کو پڑھائے جانے کا مقصد کیا ہے۔ میری رائے کے مطابق ہمیں اپنے تعلیمی نظام سے رٹا سسٹم کو ختم کر دینا چاہیے جو ہمارے بچوں کی قدرتی صلاحیتوں کو تباہ کررہا ہے ۔ ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں شامل ہونے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے نصاب میں تھیوری کی پچیدگیوں کو نکال کر معلوماتی اور تخلیقی مضامین شامل کریں تا کہ ہماری آنے والی نسل اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر دوسروں پر انحصار کرنے کی بجائے خود نئی ایجادات کرسکیں۔
یہ تمام خواب اس وقت تک شرمندہ ِ تعبیر نہیں ہوسکتے جب تک ہم ایسے سیاسی و عوامی نمائندوں کا انتخاب نہیں کرتے جن کی ترجیحات میں تعلیم کو اولیت حاصل ہو اور جو اس قوم کا درد سمجھتے ہوئے چھوٹے موٹے مسائل پر توجہ دینے کی بجائے مستقبل کا سوچیں اور پاکستان کی آنے والی نسلوں کو معیار ی تعلیم کا تحفہ دینے کیلئے جامع عملی اقدامات کریں۔ آج ہمیں اپنے ووٹ کی طاقت کو پہچاننا ہوگا اور اپنا ووٹ تعلیمی نظام کی بہتری کیلئے مختص کرنا ہوگا ورنہ تاریخ ہمیں کبھی بھی معاف نہیں کرے گی ۔

20/06/2023

If you know how to speak
Become public speaker

If you know how to write
Become web blogger

If you know how to paint
Become web designer

If you are good at math
Become programmer

If are good at making strategies
Become digital marketer

If you have good communications
Become vocal artist

If you know nothing
Sell courses.

Aisha

19/06/2023

بے جا سوچ بچار
✍️ روبینہ یاسمین

الجبرا کی ٹیچر نے ایک بہت مختصر سا پرابلم تختہ سیاہ پر لکھا۔ سارے طالب علم ذہین تھے سمجھ گئے کہ ٹیچر کوئی آسان سا سوال تو نہیں پوچھیں گی۔ ہر ایک نے اپنے اپنے طریقے سے اپنی توجیہہ نکال کر اس آسان ترین سوال کو مشکل ترین طریقے سے حل کیا۔ صفحے کے صفحے کالے کر دئے ۔

جب سب اپنی سوچ کے گھوڑے دوڑا چکے تو ٹیچر نے دو سطروں میں پرابلم حل کر دیا۔
پوری کلاس حیرت سے ٹیچر کا حل دیکھتے ہوئے کہنے لگی ، ہم تو سمجھے آپ اتنا آسان سوال نہیں پوچھ سکتیں ضرور کوئی مشکل بات ہو گی جو ہمیں سارے فارمولے لگا کر ہی حل کرنی ہے۔

زندگی میں بھی بہت سی باتیں بہت آسان اور بغیر کسی ہیر پھیر کے ہوتی ہیں۔ ہم خود کو بہت ہوشیار سمجھتے ہوئے سیدھی سادھی بات کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش میں ہر چیز کو شک کی نگاہ سے دیکھنے لگتے ہیں۔ اعتبار نہیں کرتے ، نیت پر سوال اٹھاتے ہیں۔

ملزم کو صفائی کا موقع دئے بغیر مجرم بنا دیتے ہیں۔ کسی کا کوئی عمل سوالیہ لگے بھی تو اسے شک کا فائدہ دے دیں ۔ جرم کرنے سے پہلے سزا نہ دیں۔ ہماری سوچ جس کو مانسٹر دکھا رہی ہوتی ہے ہو سکتا ہے وہ ایک چھوٹا سا بونا ہو ۔

سادہ سی چیزوں کو اپنی بے جا غیر ضروری سوچوں سے پیچیدہ نہ بنائیں۔

15/06/2023

میرا ایک سوال ہے والدین سے اور سکول کی انتظامیہ سے کہ
" کیوں استاد کو یہ کہہ کر کلاس روم میں بھیجا جاتا ہے کہ آپکو بچے کو سزا دینے سرزنش کرنے یا سختی کرنے کی اجازت نہیں؟
کیا ایک ڈاکٹر کو بھی یہ کہا جاتا ہے کہ اس مریض کا علاج کر دیں لیکن آپ کو انجکشن لگانے اور سرجری کرنے کی اجازت نہیں ہے
یا ایک لوہار کو یہ کہا جاتا ہے کہ اس لوہے کو كندن بنا دو لیکن آگ میں تپانے کی اجازت نہیں
یا ایک بڑھئی کو یہ کہا جاتا کہ اس لکڑی سے سامان تیار کردو لیکن اس پر آرا چلانے کی اجازت نہیں
یا ایک مالی کو باغ سجانے کے لیۓ قینچہ چلانے کی اجازت نہیں دی جاتی ۔۔
تو پھر والدین استاد کی سزا سرزنش یا سختی پر اتنا واویلا کیوں مچاتے ہیں؟؟ سب جانتے ہیں کہ تعلیم و تربیت میں بھی استاد جہاں ضروری سمجھتا ہے بچے کی اصلاح کے لیے سختی کرتا ہے سزا دیتا ہے۔ اللہ پاک نے انسان کی فطرت ہی ایسی بنائی ہے کہ وہ غلطی کرتا ہے اور غلطی سے ہی سیکھتا ہے اللہ پاک نے بھی اس عمل کے لیۓ سزا جزا کا تصور ہی رکھا ہے انسان کو بتا دیا گیا ہے کہ غلطی کرے گا تو سزا کا حقدار ٹہرے گا تو پھر ہم کیسے اپنے بچوں کو یہ سکھا سکتے ہیں کہ وہ غلطی کریں گے اور انہیں کچھ نہیں کہا جاۓ گا ۔
یہ سراسر والدین کی غلطی ہے جو اپنے بچوں کی تربیت اس طریقے سے کر رہے ہیں اور سکول انتظامیہ کو پریشان کرتے ہیں۔ والدین کو اس کے بہت سنگین نتائج بھگتنے ہوں گے جب ان کے بچے اچھی تعلیم و تربیت سے محروم رہ جائیں گے
میری اس پوسٹ کا مقصد هرگز یہ نہیں ہے کہ استاد کو بچوں کو سخت جسمانی سزا دینے کی اجازت ہے استاد کو بھی چاہیے کہ وہ صرف بچے کو اصلاحی سزا دے۔ سزا تعلیم کے عمل میں بالکل نہ دی جاۓ صرف تربیت کے حوالے سے ہی اصلاح کی جاۓ۔
شکریہ

12/06/2023
The Vision egc Computer courses and tution classesAdmission open Contact # 03099903429Thevision.egc@gmail.com
12/06/2023

The Vision egc
Computer courses and tution classes
Admission open
Contact # 03099903429
[email protected]

12/06/2023
10/06/2023

For only $100, Theash786 will creat html and css work. | We will design a creative and unique webpages.I can create any page be it homepage for a new website, inner page, designing a landing page, | Fiverr

Address

Hasilpur
Hasilpur
63100

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when MyVision posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to MyVision:

Share