Grace Computer & Security System

Grace Computer & Security System PC Repair Maintenance
Hardware and Software service
Software Development House
System Analyst.Biometric Door lock,Biometric Sttendance System ,CCTV SYSTEM

23/11/2023

پُلوں کے مختلف ڈیزائن
تحریر: قدیر قریشی
نومبر 13، 2023
اس گرافک میں پلوں کے مختلف ڈیزائن دکھائے گئے ہیں اور یہ بھی دکھایا گیا ہے کہ ان پر سب سے زیادہ وزن کس حصے کو برداشت کرنا پڑتا ہے (جو نیچے کی طرف رخ کیے تیر سے ظاہر کیا گیا ہے)، زمین اس وزن کا بوجھ کس مقام پر سہار رہی ہوتی ہے (جسے اوپر کی طرف رخ کیے تیر سے ظاہر کیا گیا ہے) اور پل کا ڈیزائن پل کے وزن کو زیادہ سٹریس کے مقام سے اس مقام تک کیسے منتقل کرتا ہے جہاں زمین اس وزن کو سہار رہی ہے-
پہلے ڈیزائن میں دو مقامات پر پل سب سے زیادہ وزن برداشت کر رہا ہے- اس مقام سے سٹریس کو لوہے کے گرڈرز کی مدد سے ان مقامات کی طرف منتقل کیا جا رہا ہے جہاں پر پل کے گرڈرز زمین میں نصب ہیں - دریا کے بیچ میں پل کے گرڈرز زمین میں منسلک ہیں (ان مقامات کو کالم کہا جاتا ہے)- بڑے پلوں میں کئی کالم ہو سکتے ہیں- اس کے علاوہ دریا کے دونوں کناروں پر بھی پل کے گرڈرز زمین کے ساتھ منسلک ہیں- ایسے ڈیزائن کے پل کو Cantilever Bridge کہا جاتا ہے
دوسرے ڈیزائن میں دریا میں کوئی کالم نہیں ہے- لیکن دریا کے دونوں کناروں پر (یا کناروں کے پاس دریا کے پانی میں) بہت اونچے کالم نصب ہیں جو پل کا تمام کا تمام وزن سہارے ہوئے ہیں- اس صورت میں پل کا درمیانی حصہ معلق ہے جو آسانی سے ٹوٹ سکتا ہے- اسے سہارا دینے کے لیے دریا کے کناروں پر بنائے گئے کالمز کو بہت اونچا بنایا جاتا ہے اور ان کے درمیان انتہائی موٹے لوہے کے تار باندھے جاتے ہیں- پھر ان موٹے تاروں سے جگہ جگہ پل کے افقی سٹرکچر کو باندھا جاتا ہے- ان موٹے تاروں کو آپ ایک قوس کی شکل میں دیکھ سکتے ہیں- گویا تمام کا تمام پل لوہے کے ان موٹے تاروں سے لٹک رہا ہے اور یہ موٹا تار پول کے تمام وزن کو دریا کے کنارے نصب کالمز کے ذریعے زمین پر منتقل کر رہا ہے- اسی وجہ سے اسے Suspension Bridge یعنی لٹکتا ہوا پل کہا جاتا ہے
تیسرے ڈیزائن میں بھی دریا کے درمیان کوئی کالم نہیں ہے- دریا کے دونوں کناروں پر کالم کے بجائے بہت مضبوط بنیادیں بنائی جاتی ہیں جس پر ہولے کی ایک انتہائی مضبوط محراب بنائی جاتی ہے- پل کا وزن لوہے کے کالمز کے ذریعے اس محراب پر ڈالا جاتا ہے اور یہ محراب پل کے وزن کو دریا کے کناروں پر موجود محراب کی بنیادوں کے ذریعے زمین پر منتقل کرتی ہے- ایسے پل کو Arch Bridge کہا جاتا ہے
چوتھے ڈیزائن میں دریا کے کناروں پر یا کناروں کے پاس دریا کے پانی میں دو انتہائی مضبوط اور اونچے کالم بنائے جاتے ہیں- ان کالمز سے پل کے مختلف حصوں کو لوہے کی تاروں کے ساتھ باندھا جاتا ہے- اس طرح یہ تاریں پل کے وزن کو دونوں کالمز پر منتقل کرتی ہیں اور کالم اس وزن کو زمین پر منتقل کرتے ہیں- ایسے پل کو Cable-Stayed Bridge کہا جاتا ہے- اس قسم کے پل اور سسپنشن برج میں فرق یہ ہے کہ سسپنشن برج میں ایک افقی کیبل (جو پل کے وزن کی وجہ سے قوس کی شکل میں لٹکی ہوتی ہے) پل کا سارا وزن سہارتی ہے جبکہ کیبل سٹیڈ برج کے ڈیزائن میں کوئی افقی کیبل نہیں ہوتے بلکہ پل کے مختلف حصوں کو براہ راست کالمز کے ساتھ تاروں کے ذریعے منسلک کیا ہوتا ہے

23/11/2023



Naegleria infections, caused by the amoeba Naegleria fowleri, are rare but severe. It enters the body through the nose, usually from contaminated water, and travels to the brain, causing a rare brain infection called primary amebic meningoencephalitis (PAM).
Causes:
Naegleria fowleri thrives in warm freshwater environments like lakes and hot springs. Infections occur when contaminated water enters the nose, providing the amoeba access to the brain.
Symptoms:
Early symptoms resemble those of bacterial meningitis, including headache, fever, nausea, and a stiff neck. As the infection progresses, symptoms may include confusion, seizures, and hallucinations.
Treatment:
Prompt medical attention is crucial. Antifungal medications and other treatments may be used, but the infection is often fatal. Prevention involves avoiding activities in warm freshwater where the amoeba may be present, using nose clips or holding the nose shut when engaging in water activities, and using sterile or boiled water for nasal irrigation or when using a Neti pot.

23/11/2023

گاجر
گاجر میں کیلشیم، پوٹاشیم، وٹامن اے، وٹامن بی، وٹامن E ، فائبر اور پروٹین کے علاوہ بہت سے قدرتی اجزاء پائے جاتے ہے اس میں قدرتی طور پہ اینٹی آکیڈینٹس ہوتا ہے جو کینسر کے خلاف قوت مدافعت پیدا کرتا ہے کینسر کے جراثیم ختم کرتی ہے اس کے اندر جراثیم مارنے کی صلاحیت بہت زیادہ ہوتی ہے اس لئے پرانے زمانے میں لوگ پیٹ کے کیڑے مارنے کیلئے گاجر کو استعمال کرتے تھے
گاجر کو غریب کا سیب کہا جاتا ہے۔
اس کی افادیت سیب کے برابر ہے گاجر بینائی کیلئے مفید ہے
دماغی کام کرنے والوں کیلئے بہترین تحفہ ہے
اس کے جوس کا باقاعدہ استعمال دانت، بال، ناخن اور ہڈیوں کے لیے انتہائی مفید ہے روزانہ گاجر کا جوس پینے سے نہ صرف آپکا جگر صحت مند رہے گا بلکہ اس کے اندر کینسر کی رسولیوں کو ختم کرنے کی صلاحیت بھی موجود ہے اس کا جوس گردوں اور لبلبے کو طاقت دیتا ہے قوت مدافعت بڑھا کے بیماری کے خلاف لڑنے میں بہت مددگار ہے اس کو کھانے سے قبض نہیں ہوتی خون میں کولیسٹرول اور شوگر کے لیول کو کنٹرول رکھتی ہے اس میں تمام سبزیوں سے زیادہ غذائیت ہے یرقان سے نجات دیتی ہے
خون پیدا کرتی ہے رنگ نکھارتی ہے
پیشاب کی جلن اور بدبو کو ختم کرتی ہے دل کی دھڑکن،ہائی بلڈ پریشر، معدہ کی گیس، تیزابیت میں گاجر بے حد مفید ہے۔
کچی گاجر کو بطور سلاد کھانے سے فائبر کی اچھی مقدار حاصل ہوتی ہے
ہمارے ہاں اسے بطور سلاد ۔سالن۔حلوہ۔مربع۔جوس۔اور کیک میں شامل کر کے کھایا جاتا ہے بہتر ہے بازاری جوس کی بجاۓ گاجر کا جوس پیٸں اور صحت برقرار رکھیں
احتیاط
دھو کر کھائیں پیٹ میں مروڑ پیدا کرتی یے ہلکا سا نمک لگا کر کھائیں
کھانوں کے درمیانی وقفہ میں کھائیں یا نہار منہ کھاٸیں دوپہر کے کھانے ساتھ بطور سلاد کھاٸیں ۔
ابھی اس کا موسم ہے اس سے بھرپور فاٸدہ اٹھاٸیں ۔
آپ کو سب سے زیادہ گاجر کیسے پسند ہے۔؟ جوس میں۔ سالن میں۔حلوے میں۔سلاد میں۔کیک میں۔؟ ضرور بتاٸیں

23/11/2023

زمین پر کتنے جانداروں کی انواع ہیں؟
تحریر: ڈاکٹر حفیظ الحسن
جانوروں کے تحفظ کے بین الاقوامی ادارے انٹرنیشںل یونین فار کنزرویشن آف نیچر(ICUN) زمین پر موجود جانوروں اور پودوں کی انواع کا ریکارڈ رکھتی ہے اور ہر سال سائنسدانوں کی طرف سے نئی انواع کے جانداروں کی دریافت کو اس ریکارڈ میں شامل کرتی رہتی ہے۔
اس تنظیم کے ریکارڈ کے مطابق 2021 تک انسانی معلومات کے مطابق دریافت شدہ تعداد میں زمین پر 17 سے 21 لاکھ کے قریب جانداروں کی انواع موجود ہیں۔ جانوروں کے اعتبار سے ان میں تقریباً دس لاکھ حشرات الارض کی انواع ہیں، جبکہ پرندوں کی انواع 11 ہزار کے قریب ہیں۔ ایسے ہی 11 ہزار ریپٹایلز(سانپ، چھپکلی، کچھوے وغیرہ) کی انواع جو خشکی اور سمندر دونوں میں رہ سکتے ہیں۔ایمفیبینز (مینڈک وغیرہ) کی انواع 8 ہزار کے قریب جبکہ 6 ہزار کے قریب ممالیہ جانوروں کی انواع موجود ہیں۔ ایسے ہی مچھلیوں کی انواع 36 ہزار سے زائد ہیں۔
تاہم یہ تعداد اصل تعداد سے کہیں کم ہو سکتی ہے کیونکہ ہم ہرنوع کے جاندار میں ارتقاء کے عمل کو ٹریک نہیں کر سکتے اور کئی جاندار ارتقاء کے عمل سے ہوتے ہوئے مختلف انواع میں تبدیل ہو چکے ہونگے جنکا ہمیں مکمل علم یا اندازہ نہیں۔ ہر سال اس تعداد میں تقریباً 13 ہزار نئی انواع کا اضافہ ہوتا رہتا ہے۔
سائنس میں نوع سے مراد جانداروں کا وہ گروہ ہے جو ایک دوسرے کے ساتھ جینیاتی طور پر اس قدر مشابہت رکھتا ہو کہ انکی نسل افزائش کے عمل سے آگے سے آگے بڑھ سکے۔
مثال کے طور پر گدھا ایک الگ نوع ہے اور بکرا الگ۔ (تاہم لاہور میں کڑاہی میں اسکا پتہ نہیں چلتا). ایسے ہی سانپ الگ نوع ہے اور چھپکلی الگ وغیرہ وغیرہ ۔
ماحولیاتی آلودگی اور جنگلات کے کٹاؤ اور شہروں کے پھیلاؤ کے باعث اب کئی جانوروں کی نسلیں معدوم ہو رہی ہیں ۔ سائنسدانوں کے بنائے گئے کمپوٹر ماڈلز کے مطابق ہر روز جانوروں اور پودوں کی 150 سے 200 انواع معدوم ہو رہی ہیں۔
زمین پر اب تک چھ ایسے دور آ چکے ہیں جب زمین پر موجود جانداروں میں انواع کا 75 فیصد حصہ نہایت کم عرصے میں معدوم ہو جائے۔ کم عرصے سے مراد تقریباً 28 لاکھ سال کے دوران, جی زمین کی عمر اور اس پر موجود اربوں سال سے موجود زندگی کے اعتبار سے یہ عرصہ نہایت قلیل ہے۔ اس دور کو ماس ایکٹنشن ایونٹ کہتے ہیں اور اس وقت ہم چھٹے ایسے دور سے گزر رہے ہیں۔ اس سے قبل پانچواں ایسا دور آج سے لگ بھگ 6.6 کروڑ سال پہلے آیا جب زمین ہر ایک بڑے شہابِ ثاقب کے گرنے سے ڈائناسورز اور دیگر کئی جانوروں اور پودوں کی نسل تباہ ہو گئی۔

23/11/2023

دولت کی سب سے اچھی قسم اولاد ہے۔

23/11/2023

This is a cool effect. Read the caption and flip the phone to see before and after.

28/11/2020

Address

Hasilpur

Opening Hours

10:00 - 20:00

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Grace Computer & Security System posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Grace Computer & Security System:

Share