Novel world

Novel world a platform of novel reader �

Last episode  💕 💖 💕 دھنک  ازقلم  رابعہ خان"میں نے خود کو تکلیف پہنچائی ہے لالہ۔ میں نے اپنے ساتھ زیادتی کر دی ہے۔ میں نے...
14/04/2026

Last episode 💕 💖 💕
دھنک ازقلم رابعہ خان
"میں نے خود کو تکلیف پہنچائی ہے لالہ۔ میں نے اپنے ساتھ زیادتی کر دی ہے۔ میں نے کسی اور پر رحم کرتے ہوئے خود کو بے رحمی سے روند ڈالا ہے لالہ۔۔ میں کیا کروں۔۔ یہ قربانیاں اتنی بھاری کیوں ہوتی ہیں؟ مجھے لگ رہا ہے میں بہت بڑے بوجھ تلے ہوں۔ مجھے لگ رہا ہے میں ٹھیک سے اب اپنے قدموں پر کھڑی نہیں ہو پاؤں گی۔ میں نے خود کو بہت زخمی کر لیا ہے لالہ۔۔"
گیارہ سالہ لالہ رخ اب تک اسفند سے کہہ رہی تھی کہ وہ تکلیف میں ہے۔ اسفند نے وہی کیا جو کئی سال پہلے کیا تھا۔۔
اس نے اسے کندھوں سے تھاما اور پھر ہلکے سے جھٹکے سے اپنی جانب متوجہ کیا۔
"قربانیاں بہت وزنی ہوتی ہیں رخ۔ ہمارے پٹھانوں میں کہتے ہیں کہ یا تو قربانی دے کر سہنے کی ہمت رکھو یا پھر قربانی دو ہی نہ۔۔ میرا دوست جب قتل ہوا تھا ناں تو اس نے بھی اپنے گھر والوں کے تحفظ اور خوشیوں کے لیے قربانی دی تھی۔ اس قربانی کا وزن زندگی بھر اس کے گھر والوں پر رہے گا۔ اگر تم میں ہمت نہیں تھی تو تمہیں یہ قربانی نہیں دینی چاہیے تھی اور اگر۔۔"
وہ لمحے بھر کو دھیمی سرد آواز میں بولتے بولتے ٹھہرا رہا تھا۔ لالہ رخ کے آنسو اپنی جگہ ہی ساکت ہو گئے تھے۔ وہ خوفزدہ ہوئی اسفند کے اگلے بے رحم الفاظ کا انتظار کر رہی تھی۔
"اگر تم نے یہ قربانی دینے کا فیصلہ کر ہی لیا ہے تو اس کا بوجھ بھی برداشت کرو۔ مجھے پتا ہے تم یہ کر لو گی۔۔"
اس نے اگلے ہی لمحے اس کے کندھوں سے ہاتھ ہٹائے تھے۔۔
"رولو ابھی جتنا بھی رونا ہے تمہیں۔۔ جتنے بھی آنسو جمع ہیں بہالو انہیں ایک ساتھ ہی۔۔ لیکن پھر اس کے بعد میں تمہیں اپنے فیصلوں پر پچھتا کر زندگی گزارتے ہوئے نہ دیکھوں۔۔"
وہ اگلے ہی پل پلٹا تھا اور دروازہ کھولتا باہر کی جانب بڑھ گیا تھا۔ وہ خالی خالی سی کھڑی رہ گئی تھی۔ وہ ارسل نہیں تھا کہ آگے بڑھ کر اس کے آنسو صاف کرتا یا اس سے پوچھتا کہ وہ کیوں رو رہی ہے۔ اس نے کئی سالوں تک اس کی تربیت کی تھی۔ جبھی تو وہ جانتا تھا کہ جو کچھ بھی ہو گا رخ اسے سہہ لے گی۔۔
تاریکی میں ڈوبے کمرے میں کھڑی۔۔ خود بھی اسی تاریکی کا حصہ لگتی لالہ رخ میں اگلے ہی پل بہت ہمت بھر گئی تھی۔ رگوں میں خون یکدم تیزی سے گردش کرنے لگا تھا۔ اس نے پلٹ کر ڈریسنگ روم کا دروازہ کھولا اور پھر واش بیسن پر جھک کر پانی کے چند چھینٹے خود کے چہرے پر مارے۔۔ گہرے گہرے سانس لے کر خود کو نارمل کیا۔ وہ ٹھیک نہیں تھی۔۔ لیکن اسے پتا تھا کہ وہ جلد ہی ٹھیک ہو جائے گی۔۔ روشنی تلے بھیگتی، ایک لڑکی اپنا سنہری عکس سامنے لگے آئینے میں خاموشی سے تک رہی تھی۔
رات کے اسی پہر، شہر کے دوسری جانب۔۔ ارسل بہت آہستگی سے تہہ خانے کے زینوں کو عبور کرتا قدم قدم اتر رہا تھا۔۔
اس نے آگے بڑھ کر لائٹ بورڈ پر ہاتھ مارا تو تاریک تہہ خانہ روشنیوں سے جگمگا اٹھا تھا۔ اس نے ایک نگاہ پچھو کی آخری پینٹنگ پر ڈالی تھی۔۔ پھر اس کے ساتھ چھوٹے سے اسٹول پر رکھی لالہ رخ کی پینٹنگ کو دیکھا تو دھیرے سے مسکرا دیا۔۔
اس کی پینٹنگ بھرپور طریقے سے اس کی لا ابالی اور جذباتی طبیعت کی عکاسی کر رہی تھی۔ وہ آہستہ سے پنجوں کے بل، عین اس پینٹنگ کے سامنے بیٹھا تھا۔ اگلے ہی لمحے اس کے سامنے لالہ رخ کا عکس لہرایا۔۔ آج دوپہر ہی تو وہ اس سے باہر لاؤنج میں ٹکرائی تھی۔۔ اور جو وہ اسے دیکھ کر ٹھہر گیا تھا۔ اس کے رخساروں پر جا بجا رنگ لگا ہوا تھا۔۔ پاگل لڑکی۔۔ اندازہ ہی نہیں تھا اسے کہ وہ خود کس قدر رنگین سی تھی۔ اس کی خالی سی زندگی کو رنگوں سے آشنا کروا گئی تھی۔۔
وہ اٹھا اور پھر اوپر کی جانب بڑھ گیا۔ تہہ خانہ آج پھپھو کی خوشبو کے علاوہ لالہ رخ کی خوشبو سے بھی مہک رہا تھا۔ وہ زینے چڑھتا اپنے کمرے میں چلا آیا تو لمحے بھر کو وہیں دروازے میں رک بھی گیا۔۔ یہ کمرہ اسے کبھی اتنا خالی نہیں لگا تھا۔۔ آج اس کمرے کی ساری چمک ماند تھی۔۔ کھڑکی سے جھانکتی چاندنی۔۔ بھی اداس تھی۔۔ چلتی ہوا کے جھکڑ بھی کوئی سرگوشی نہیں کر رہے تھے۔ اس نے بیڈ پر نگاہ ڈالی۔۔ شادی کی پہلی رات کسی واضح یاد کی طرح لہرائی تھی۔۔ کیسے وہ اس سے لڑ رہی تھی۔۔ جانے کب وہ اس سے لڑتے لڑتے۔۔ اس کے لیے لڑنے لگ گئی تھی۔۔
وہ آہستہ سے چلتا ہوا آگے آیا اور پھر اپنے صوفے پر ہی دراز ہو گیا۔ پھر بازو آنکھوں پر رکھ لیا۔۔ اسے لالہ رخ کے اس پہر بہت یاد آئی تھی۔۔ میمنہ ہماری جھانسی کی رانی کو پسند کرنے لگا تھا۔۔ اگر جو اسے پتا چل جاتا کہ وہ صرف اسے پسند نہیں کرتا تھا۔۔ بلکہ۔۔ بلکہ وہ تو۔۔ لیکن پھر اگر اس پر اتنی جلدی ادراک ہونے لگتے تو وہ ہمارا میمنہ کیسے رہتا بھلا۔۔؟ وقت نے اس کے لیے اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔۔ لیکن جلد یا بدیر اسے اس فیصلے سے آگاہی دے ہی دی جانی تھی۔۔ !
شیشے میں عکس دیکھتی لڑکی اور یاد کے لہراتے اوراق میں کھوتا لڑکا۔۔ دونوں ہی اپنی جگہ درست تھے۔۔ دونوں ہی۔۔ اپنی جگہ۔۔ ثابت تھے۔۔ کیا ہوا جو ایک مضبوط اور دوسرا کمزور تھا۔۔ ؟ کیا تمہیں نہیں لگتا کہ ان کا ساتھ جوڑا ہی اسی لیے گیا تھا کہ وہ کمزوری اور مضبوطی کے ہر تقاضے پر پورا اترا کرتے تھے۔۔ ؟۔۔ سوچو۔۔ شاید تمہیں جواب مل جائے۔
اگلی صبح خان ہاؤس پر پوری آب و تاب کے ساتھ چمکتی دمکتی اتر رہی تھی۔ مہمانوں کی آمد آمد تھی۔ گھر میں قہقہوں اور اشتہا انگیز کھانوں کی خوشبو ہر سو بکھری رہنے لگی تھی۔ کچھ لوگ گھر کو زرد قمقموں سے سجا رہے تھے، کئی گز نائیک ساتھ لاؤنج میں براجمان ایک دوسرے پر جملے کستے ہنس رہے تھے، زینوں پر کھڑی فاطمہ، لالہ رخ سے سب کے کپڑے استری کروانے کو کہہ رہی تھیں۔۔ زینوں کے دوسری جانب سے رامش، گل کے پیچھے بھاگ رہا تھا۔ اس نے یقیناً اس کے وہ گلابی رنگ کا بھالو چرا لیا تھا اور اب رامش وہ بھالو کسی حال میں اس سے واپس لینا چاہتا تھا۔۔
رامین کو اب کمرے سے نکلنے کی اجازت نہیں تھی۔۔ اور شکر تھا خدا کا کہ اسفند اپنے خطرناک ارادوں سے باز تھا۔۔ نہیں تو کسی کی مجال تھی کہ اس سرپھرے کو روک سکے۔۔ فرقان نے اسے سخت سی تنبیہ بھی کی تھی جس پر وہ پہروں دل کھول کر ہنسا تھا۔۔ ایک تو یہ فرقان لالہ بھی نا۔۔ بس فرقان لالہ ہی تھے۔۔ انہیں اپنی روایات کی پاسداری کا بہت خیال رہتا تھا۔ وہ رکھ رکھاؤ والے سخت قسم کے پٹھان واقع ہوئے تھے۔۔ لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں تھا کہ ان روایات کی جڑیں تک ہلا دینے والا بھائی قدرت نے ان کی قسمت میں لکھ دیا تھا۔۔ جو کام نہیں کرنے والا ہوتا تھا وہی اسفند کو کرنا تھا۔۔ ! ان کا بس چلتا تو اسے شادی ہو جانے تک گھر سے باہر ہی نکال دیتے لیکن ہت ہاہ۔۔ ! ماموں اور فاطمہ مامی کی موجودگی میں ایسا کچھ بھی ممکن نہیں تھا۔۔
سرد سی خوبصورت شام گھر آئی تو سب ہی اپنی اپنی تیاریوں میں مصروف ہو گئے۔ آج مہندی تھی۔۔ کل بارات اور پھر پرسوں ولیمہ۔۔ گھر کی دیواروں پر لٹکائی گئیں زرد روشنیاں روشن کر دی گئیں۔ ہر شے پر سونے کا عکس چڑھا معلوم ہوتا تھا۔۔
لان میں مہندی کا انتظام کیا گیا تھا۔ لالہ رخ، گل، فاطمہ اور رامین نے زرد رنگ ہی کے جوڑے زیب تن کر رکھے تھے۔ فاطمہ شنیل کا کڑھائی والا جوڑا پہنے، بالوں کو نفیس جوڑے میں قید کیے، کانوں میں ڈائمنڈ کے ٹاپس ڈالے خاصی باوقار اور خوبصورت لگ رہی تھیں۔ رامین کے زرد فراک کے ساتھ گلابی چوڑی دار پجامہ تھا۔ لالہ رخ اور گل کا فراک بھی اسی طرز کا تھا لیکن ان کے پجاموں اور دوپٹوں کے رنگ فرق تھے۔۔ بالوں کو چوٹی میں گوندھے، میک اپ اور جیولری پہنے وہ دونوں بہت پیاری لگ رہی تھیں۔۔
مردوں نے خاص طور پر سفید کرتا زیب تن کر رکھا تھا۔ اس کے سسرالی بھی وقت پر چلے آئے تو وہ بھی ان کی جانب چلی آئی۔۔ دادی اسے ساتھ لگا کر پیار کر رہی تھیں، سمیرا اس کی بلائیں لیتی اسے نظرِ بد سے حفاظت کی دعا دے رہی تھیں اور رمشہ اسے بہت پرجوش سی گلے لگا رہی تھی۔ اس نے دروازے کی جانب نگاہ ڈالی لیکن جواب ندارد۔۔ ارسل افگن تو شادی میں آیا ہی نہیں تھا۔ اسے جانے کیوں مایوسی ہوئی۔۔ تین دن ہو گئے تھے میمنہ کو دیکھے اور اب وہ اسے بہت یاد آ رہا تھا۔۔
"ارسل نہیں آئے رمشہ۔۔ ؟ "
"جی بھابھی۔۔ وہ بھائی کہہ رہے تھے کہ آفس کا کچھ اہم کام تھا تو وہ مہندی میں نہیں آ سکتے۔۔ ان کی جگہ بابا آ سکتے تھے تو پھر ہم بابا کے ساتھ ہی آ گئے۔ وہ شاید کل آئیں۔۔ بارات میں۔۔ "
اس نے بمشکل مسکرا کر سمجھتے ہوئے سر اثبات میں ہلایا اور رمشہ کو لیے اسٹیج کی جانب بڑھ گئی۔ پیچھے کرسیوں پر دادی اور سمیرا کے ساتھ فاطمہ بیٹھیں باتیں کر رہی تھیں۔ ساتھ ساتھ وہ خاندان کی عورتوں سے بھی لالہ رخ کی ساس اور دادی ساس کو متعارف کروا رہی تھیں۔۔۔
اسفند اور رامین کو اسٹیج پر لا کر ساتھ بٹھایا گیا تو ہر جانب گویا روشنیاں اتر آئیں۔ اسفند بھرپور طریقے سے مسکرا رہا تھا اور ساتھ بیٹھی رامین، لالہ رخ کے کسی جملے پر ہنس رہی تھی۔ اسفند کو صرف ایک ہی فکر دے سکتی تھی اور وہ تھی رُخ۔۔۔ اور ابھی وہ اسے فکر دے بھی رہی تھا۔۔۔ کزنز آس پاس گھیرا بنائے کھڑے ہنس رہے تھے۔۔۔ فرقان لالہ بھی رسم کرنے اسٹیج پر چڑھے تو اس کی باتوں پر قہقہہ لگا کر ہنسے بغیر نہ رہ سکے۔۔۔
وہ ہنساتی رہی۔۔۔ ہنستی رہی۔۔۔ دل مزید بوجھ تلے دبتا رہا۔۔۔
رات کو اپنے کمرے میں سنگھار آئینے کے سامنے براجمان وہ خالی خالی نگاہوں سے خود کا عکس تک رہی تھی۔۔۔ کیوں نہیں آیا تھا ارسل؟ کیا وہ اس کا سامنا کرنے سے کترا رہا تھا۔۔۔ کیا وہ اسے جواب دینے سے پہلو تہی کر رہا تھا۔۔۔ کیا وہ اس سے اتنا بیزار تھا کہ اس کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتا تھا!
بہت سے سوال اس کا دل زخمی کرتے جا رہے تھے۔ کیا کیا سوچا تھا اس نے کہ اسفند لالہ کی شادی میں کتنا خوش ہو گی وہ۔۔۔ لیکن اب۔۔۔
اس نے گہرا سانس لے کر سر نفی میں ہلایا تھا۔ جو انسان سوچے ویسا تو کبھی ہوا ہی نہیں کرتا تھا۔۔۔ ہمیشہ اس کے برعکس ہی قدرت کچھ طے کیئے رکھتی تھی۔ اس نے سنگھار آئینے کے سامنے اٹھ کر اپنے ماتھے پر لگا ٹیکا اتار کر سامنے رکھ دیا تھا۔ اب وہ آہستہ آہستہ اپنی جیولری اتار کر رکھتی جا رہی تھی۔۔۔
اگلے دن بارات تھی تو ماحول میں اور بھی رش بڑھ گیا تھا مہمانوں کا۔۔۔ شور، ہنگامہ۔۔۔ گھر میں دوڑتے ہوئے بچے۔۔۔ ہنستے ہوئے، چل پھر کر کھاتے ہوئے لوگ۔۔۔ وہ بلاشبہ شادی کا گھر ہی لگ رہا تھا۔ اب بارات چونکہ انہی کے گھر سے جانی تھی تو انہیں ہال کے لیے جلدی نکلنا تھا۔ سر شام ہی ایک ہنگامہ مچ گیا تھا۔۔۔ رامین تو گل کے ساتھ مغرب میں ہی پارلر جا چکی تھی۔ اس نے فاطمہ کے ساتھ رہ کر مہمانوں کو سنبھالنا تھا۔ سو وہ نہیں گئی۔۔۔
"امی میرا کرتا کہاں گیا۔۔۔؟"
رامش اوپر ریلنگ سے جھانک کر چیخا تھا۔
"وہیں کمرے میں استری کر کے لٹکایا ہے میں نے۔۔۔ دھیان سے دیکھو۔۔۔"
نیچے سے فاطمہ کی مصروف سی آواز سنائی دی تھی۔۔۔
"لالے میرا ویسٹ کوٹ کدھر رکھا ہے تم نے۔۔۔؟"
مہمانوں کے رش میں اسفند کی دبی دبی آواز سے سنائی دی تھی۔ وہ جلدی سے آگے بڑھی اور اسے اسکا ویسٹ کوٹ ڈھونڈ کر دیا۔ اب جنید کے جوتے نہیں مل رہے تھے۔
"ہزار دفعہ کہا ہے کہ وقت پر چیزیں سنبھال کر رکھا کرو لیکن مجال ہے جو تم سنبھال لو کچھ۔۔۔ اب اتنے رش میں کیا ملے گا تمہیں۔۔۔"
فاطمہ نے جھنجھلا کر جنید کو گھر کا تھا۔ وہ سب مہمانوں کے سامنے بنتی درگت پر روہانسا ہو گیا تھا۔ لالہ رخ نے گہرا سانس لیا اور پھر اسکے جوتے ڈھونڈنے میں جت گئی۔۔۔ آہستہ آہستہ سب اپنی تیاریاں مکمل کر کے ہال کے لیے نکلنے لگے۔ فاطمہ اور افغان کو بھی بھیج دیا تھا اس نے۔۔۔ ارمغان تایا اور فرقان لالہ بس اپنی گاڑی میں نکلنے ہی والے تھے۔۔۔ اسفند بھی اپنی گاڑی کی جانب بڑھ رہا تھا۔۔۔
"تم کب تیار ہو گی لالہ رخ؟ دیر ہو جائے گی"
اس نے اپنے کپڑے تو پہن لیے تھے لیکن ابھی چہرہ ویسے ہی سادہ تھا اور بال کھلے ہو کر کمر پر گرے ہوئے تھے۔
"آپ جائیں لالہ۔۔۔ میں ڈرائیور کے ساتھ آ جاؤں گی۔۔۔ آپ کو دیر ہو رہی ہے۔۔۔ میں بس تھوڑی دیر میں آتی ہوں تیار ہو کر۔۔۔"
اسفند نے اس کی بات سن کر سر ہلایا تھا۔ پھر اپنی سجی ہوئی گاڑی نکال لے گیا۔ آج تو بارات بھی ایک ہی گھر سے تھی اور رخصتی بھی۔۔۔ اسی لیے انہیں کوئی پریشانی نہیں تھی کیونکہ لڑکے اور لڑکی والے تو وہ خود ہی تھے۔۔۔
رُخ بھی جلدی سے زینے چڑھتی اپنے کمرے میں چلی آئی۔ اس نے آج گہرے مہرون رنگ کا فراک زیب تن کر رکھا تھا۔ فراک کا گلا اس کی گردن تک بند تھا۔ گردن تک بند گلے پر سنہرے موتیوں سے سجی کڑھائی جگمگا رہی تھی۔ چوڑی دار سنہری ہی پجامہ پہنے وہ جلدی جلدی میک اپ کر رہی تھی۔۔۔ پھر سب سے آخر میں مسکارے کو بہت احتیاط سے سیاہ پلکوں پر سجانے لگی۔۔۔ اس کا سنہرا کامدار دوپٹہ بیڈ پر سلیقے سے رکھا ہوا تھا اور اب وہ بالوں کو آگے کیے ان میں تیزی سے برش چلا رہی تھی۔۔۔
اس نے ایک بھاری جھمکا اٹھا کر کان میں ڈالا لیکن جیسے ہی ہاتھ بڑھا کر دوسرا جھمکا اچکنا چاہا تو سنگھار آئینے سے انگلیاں ٹکرا گئیں۔۔۔ وہ ادھر ادھر دیکھنے لگی۔۔۔ ابھی تو یہیں تھا۔۔۔ اس نے بالوں کو ایک طرف ڈالا ہوا تھا اور اپنا جھمکا زمین پر ڈھونڈتی وہ کمرے سے باہر چلی آئی تھی۔۔۔
گھر مہمانوں سے خالی ہو چکا تھا اور اب ہر جانب خاموشی پھیل گئی تھی۔۔۔ وہ واپس کمرے کی جانب پلٹی۔۔۔ خالی کان کی لو اب تک ہاتھ سے تھام رکھی تھی۔۔۔ یکایک وہ کمرے کا دروازہ بند کرتی جیسے ہی مڑنے لگی کسی نے اپنا جوتا دروازے میں اٹکایا تو وہ یکدم پیچھے ہٹی۔۔۔ لو کو چھوتا ہاتھ دروازے کی جانب بڑھا لیکن کوئی پہلے ہی اسے کھول کر اندر داخل ہو رہا تھا۔۔۔
"کیا یہ ڈھونڈ رہی ہیں آپ۔۔۔؟"
سفید کرتا شلوار میں ملبوس، سیاہ ویسٹ کوٹ پہنے، بالوں کو پیچھے کی جانب جمائے، بھوری آنکھوں سے مسکراتا ہوا وہ اسی سے مخاطب تھا۔ اسکی آنکھیں حیرت سے پھیلی تھیں۔۔۔ اسے ارسل کو یہاں اس وقت دیکھنے کی امید نہیں تھی۔۔۔
"آپ یہاں کیا کر رہے ہیں۔۔۔؟"
اس نے اگلے ہی پل جلدی سے اپنا رخ موڑا تھا۔ پھر بیڈ پر رکھا دوپٹہ اٹھا کر کندھے پر ڈالنے لگی۔ چہرہ سنجیدہ بنا لیا۔۔۔ وہ مسکراتا ہوا آگے بڑھ آیا تھا۔۔۔ پھر انگلیوں میں تھاما جھمکا اسکی نگاہوں کے سامنے کیا۔۔۔
"یہ لوٹانے آیا ہوں۔۔۔"
"ادھر دیں مجھے۔۔۔"
اس نے جھمکا لینے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو ارسل نے اپنا ہاتھ سر کے اوپر بلند کر لیا۔ وہ ایڑیاں اونچی کیئے جھمکا لینے کی سعی میں اسکے قریب چلی آئی تھی۔
"یہ مذاق کا وقت نہیں ہے ارسل۔ میرا جھمکا مجھے واپس دیں۔۔۔"
اس نے دانت کچکچائے تھے۔ وہ محظوظ ہوا۔ پھر اسکی آنکھوں میں جھانکا۔۔۔
"اور اگر میں واپس نہ کروں تو۔۔۔؟"
"تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا پھر۔۔۔"
"تمہیں اب بھی لگتا ہے کہ تم سے برا کوئی ہو گا۔۔۔؟"
اس نے بہت حیرت سے پوچھا تھا۔ لالہ رخ جو اسکے سینے پر ہاتھ رکھے، اونچی ہوئی جھمکالے رہی تھی یکدم ٹھہری۔۔۔ قہر آلود نگاہوں سے اسے گھورا۔۔۔
"آپ ہیں ناں۔ کسی اور کی کیا ضرورت بھلا۔۔؟ "
"میں برا ہوں۔۔؟ "
اس کے ایسے پوچھنے پر وہ ایک پل کو پگھلی تھی۔ بھوری معصوم آنکھیں اس پر جمائے وہ استفسار کر رہا تھا۔ اسے اگلے ہی پل اندازہ ہوا کہ وہ اس کے قریب کھڑی ہے۔ یکدم اس کی ایڑیاں توازن قائم نہ رکھ سکیں اور اس سے پہلے کہ وہ زمین بوس ہو جاتی۔۔ ارسل نے اس کے غیر متوازن ہوتے وجود کو جلدی سے تھاما تھا۔۔
" دیکھو۔۔ گرنے سے بچا لیتا ہوں تمہیں۔۔ اب بھی برا ہوں کیا۔۔؟ "
مسکراہٹ دبا کر تپاتے ہوئے پوچھا تو اس نے اسے اگلے لمحے خود سے دور ہٹایا تھا۔ وہ ہنستا ہوا پیچھے ہٹا۔۔ اس نے غصے میں پہنا جھمکا بھی اتارنے کے لیے ہاتھ اونچے کیے تو وہ جلدی سے قریب چلا آیا۔ تابعداری سے ہتھیلی اس کے سامنے پھیلائی۔۔ اس کی کشادہ ہتھیلی پر لالہ رخ کا جھمکا پڑا تھا۔ اس نے آہستہ سے ہاتھ نیچے کیے اور پھر سنگھار آئینے میں نظر آتے اس کے عکس کو خفگی سے دیکھا۔۔ جیسے ہی ہاتھ بڑھا کر جھمکا لینا چاہا تو وہ مٹھی بند کر گیا۔
"جواب دینے آیا ہوں تمہیں۔ کیا کچھ وقت مل سکتا ہے مجھے۔۔؟ "
اس کے کان کے قریب بہت ہلکی سی سرگوشی ابھری تھی۔ رخ کا دل کہیں اندر ڈوب کر ابھرا۔۔ یہ دل تو بہت پہلے سے خوفزدہ تھا۔۔ اندر جڑ پکڑتے خوف نے جیسے ہی اس کی سیاہ آنکھوں کو چھوا تو ارسل نے شرارت کا ہر ارادہ ترک کر دیا۔۔
"م۔۔ مجھے آپ کا ہر جواب قبول ہو گا۔۔ "
اس نے گردن جھکا کر خود کو کہتے سنا تھا۔ وہ مسکرایا۔۔ پھر مٹھی میں بند جھمکا انگلیوں میں تھاما۔۔ اس کی گردن پر گھر آئے بال پرے ہٹائے۔۔ کان کی لو ہلکے سے تھامی اور جھمکا اس میں ڈال کر مسکراہٹ دباتا پیچھے ہٹ گیا۔ لالہ رخ سانس روکے دیکھ رہی تھی اس کے عکس کو سنگھار آئینے میں۔۔ وہ کوئی چھوٹا بچہ تھا جس کی شریر سی خواہش پر وہ اسے کسی بڑے کی طرح خفا ہو کر دیکھ رہی تھی۔۔
"یہ کیا طریقہ ہے! کیوں تنگ کر رہے ہیں آپ مجھے؟ آزاد تو کر دیا ہے میں نے آپ کو، آپ کے ہر فیصلے میں! پھر اب کیا مصیبت آ گئی ہے کہ آپ میرا پیچھا نہیں چھوڑ رہے! دیکھیں۔ مسٹر ارسل افگن۔۔ میں آمنہ نہیں ہوں جو چپ چاپ آپ کو کسی کا بھی ہوتا ہوا دیکھ لوں گی۔ میں نے جو فیصلہ کیا ہے خود پر بہت ضبط کر کے کیا ہے لیکن آپ کا یہ بچکانہ رویہ میری سمجھ سے اب باہر ہوتا جا رہا ہے۔۔ ابھی کہ ابھی میرے سامنے سے چلے جائیں نہیں تو میں اپنا ارادہ بدل لوں گی اور چھین لوں گی آپ کو ہر انسان سے۔۔ جائیں ابھی کہ ابھی آپ اور ایک بات اور، مجھے انڈرایسٹیمیٹ مت کیجئے گا کیونکہ آپ ابھی مجھے جانتے نہیں ہیں "
"میں آپ کے ساتھ رہنا چاہتا ہوں رخ۔۔ "
اور وہ جو طیش میں ابلتی تیزی سے بولتی جا رہی تھی یکدم ساکت ہوئی۔ آنکھیں پوری کھول کر ارسل کو دیکھا۔۔ مسکارے سے بھیگی آنکھیں اگلے ہی پل بھیگنے لگی تھیں۔۔
"کیا کہا آپ نے؟ "
اس نے بے یقینی سے بس یہی پوچھا تھا۔ وہ تھک کر مسکراتا ہوا اس کی جانب بڑھ آیا۔۔ اور اس دفعہ وہ پیچھے نہیں ہٹی تھی۔۔ وہ اس لمحے کو کسی سحر کی مانند اگلے ہی پل بکھر کر غائب ہوتا نہیں دیکھنا چاہتی تھی۔۔
"میں چاہتا ہوں آپ مجھ پر قابض رہیں۔ میں چاہتا ہوں جھانسی کی رانی اپنے میمنے کو کسی بھی دوسرے کے حوالے نہ کرے۔ کیونکہ دوسرے اسے ویسا نہیں سمجھتے جیسا یہ لڑکی سمجھتی ہے۔۔ "
وہ چند پل بنا پلکیں جھپکائے اسے دیکھتی رہی تھی اور جیسے ہی اس کی سیاہ آنکھوں میں آنسوؤں کی نمی تیرنے لگی تو ارسل گھبرا گیا۔۔ جلدی سے ہاتھ اٹھا کر اسے رونے سے روکا۔۔
"کیوں اتنی اچھی تیاری کا بیڑہ غرق کرنے پر تلی ہوئی ہو۔۔؟ پہلے ہی مجھے سوچ سوچ کر ہول اٹھ رہے ہیں کہ اس ڈھائی کلو کے میک اپ کو لگانے میں تمہیں کتنا عرصہ لگا ہو گا۔۔ اب اسے بھی خراب کر کے بھوت بن کر شادی میں جانے کا ارادہ ہے تمہارا؟ دیکھو مجھے تو کوئی مسئلہ نہیں تمہارے پھیلے ہوئے مضحکہ خیز مسکارے سے لیکن لوگ کیا کہیں گے؟ میں تو تمہارے اجڑے، گھونسلے جیسے بالوں اور حلقوں میں ملفوف آنکھوں کے ساتھ بھی جا سکتا ہوں۔۔ "
وہ جو رونے کی بھرپور تیاری کر رہی تھی یکدم ہی ہنس دی۔ پھر چہرہ اٹھا کر بمشکل آنسو گرنے سے روکے۔ گہرے گہرے سانس لے کر اندر اٹھتے بھونچال کو قابو کرنا چاہا لیکن اسے رونا آئے جا رہا تھا۔
"زہر لگتے ہیں آپ مجھے ارسل۔۔ زہر۔۔! "
"بالکل۔۔ اسی زہر کے لیے کیسے کیسے معرکے سر کیے ہیں تم نے۔۔ نہیں؟ "
اس کی اس چوٹ پر لالہ رخ نے اس کے کندھے پر بھرپور دھپ رسید کی تھی۔ نازک میمنہ بلبلایا تھا۔
"آپ اپنی ان دہشت گردیوں سے باز آ جائیں۔۔ شوہر کا درجہ دیں مجھے۔۔ "
وہ اب ہنستی جا رہی تھی۔۔ گردن پیچھے پھینک کر۔ پھر انگلی کے پوروں سے پلکوں پر ٹھہرے آنسوؤں کو بمشکل صاف کرتی ارسل کی جانب دیکھنے لگی۔ وہ بھی آسودگی سے مسکراتا ہوا اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔
"میں ڈر گئی تھی۔۔ "
"جانتا ہوں۔۔ "
اس نے اس کے چہرے پر گھر آئی لٹ کان کے پیچھے اڑسی تو وہ نم آنکھوں سے مسکرا دی۔
"مجھے لگا میں کھو دونگی آپ کو۔۔ "
"مجھے بھی یہی لگا تھا۔۔ "
وہ دونوں اب دھیمی سی سرگوشی میں اعتراف کرتے جا رہے تھے۔ انا کی ساری دیواریں پگھل کر درمیان سے گرتی جا رہی تھیں۔ گھٹن کم ہونے لگی تھی۔۔ سانس کھل کر آ رہا تھا۔۔
"میں آپ کو کھونا نہیں چاہتی تھی۔۔ "
اور بہت ضبط کے باوجود بھی ایک آنسو ٹوٹ ہی گیا تھا اس کی آنکھ سے۔ آواز بھرا گئی تھی۔۔ ارسل نے انگوٹھے سے اس کا آنسو صاف کیا۔ پھر دونوں ہاتھوں سے اس کا چہرہ تھاما۔۔ اپنا ماتھا اس کے ماتھے کے ساتھ ٹکا دیا۔ دونوں آنکھیں موندے بالکل چپ ہوئے کھڑے تھے اب کہ۔۔ ان کی خاموشی ہر لفظ پر بھاری ہونے لگی تھی۔۔
"مجھے لگا تھا آپ مجھے چھوڑ دیں گے۔۔ "
اس نے آنکھیں کھول کر ارسل کو دیکھا تھا۔ وہ بھی نم آنکھیں لیے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔ ماتھے اب تک ایک ساتھ ٹکے ہوئے تھے۔۔
"تم نے مجھے باندھ دیا تھا رخ۔۔ تمہیں کیسے چھوڑ سکتا تھا میں۔۔؟ "
"آپ وعدہ کریں آئندہ مجھے چھوڑ کر جانے کی بات کبھی نہیں کریں گے۔۔ "
اس نے اس پگھلتے لمحے میں اس سے وعدہ مانگ لیا تھا۔ بھلا وہ انکار کیسے کر سکتا تھا۔۔ مسکرا کر سر اثبات میں ہلایا۔۔
"میں تمہیں کہانی سناؤں گا۔۔ شیر اور اس عجیب الخلقت انسان کی۔۔ "
اب وہ دونوں ہی نم آنکھوں کے ساتھ ہنس رہے تھے۔ ماتھے سے ماتھا ٹکائے۔۔ آسودگی سے سمٹے ہوئے۔
"اور میں آپکے لئے ہر اس ہاتھ سے لڑوں گی جو ظلم کے لئے آپکی جانب بڑھے گا۔ میں آپکی حفاظت کروں گی ارسل۔۔"
سنہری قمقموں سے سجے گھر میں جیسے ہر جانب پریاں اتر آئی تھیں۔ وہ پریاں اپنے ساتھ آنے والی ساعتوں کی خوشبو بھی چرا لائی تھیں۔۔ وہ دونوں بھی گزرتے وقت سے بے نیاز ایک دوسرے سے ساتھ نبھانے کے وعدے کر رہے تھے۔۔
"لالہ رخ۔۔ اگر ہم نے اور دیر کی ناں تو اسفند لالہ گھر ہی آجائیں گے اور تمہیں تو کچھ نہیں لیکن وہ مجھے ضرور جان سے مار دیں گے۔۔"
وہ ہنستی ہوئی اس سے الگ ہوئی تھی۔ پھر اس نے پلٹ کر اپنا چہرہ سنگھار آئینے میں دیکھا تو دنگ رہ گئی۔ اسکا چہرہ گلنار ہوا جا رہا تھا۔۔ یا اللہ۔۔ وہ کب سے ایسی لگ رہی تھی۔۔
"جی آپ کب سے سیب جیسے گالوں والی پٹھانی لگ رہی ہیں۔۔ اب چلیں جلدی۔۔ ویسے میں سوچ رہا تھا کہ ہمیں اپنی شادی دوبارہ کرنی چاہیئے نہیں؟ پچھلی میں تو اتنی لڑائیاں ہوئی ہیں کہ الامان!!"
"اور آپکو لگتا ہے کہ اس دوبارہ والی شادی کے بعد لڑائیاں نہیں ہوا کریں گی۔۔؟"
لالہ رخ نے محظوظ ہو کر پوچھا تھا۔ ارسل نے خوفزدہ نگاہوں سے اسے دیکھا۔۔
"کیا میں اپنا فیصلہ واپس لے سکتا ہوں۔۔؟"
لیکن وہ اسکے سوال پر اسے ہاتھ سے پکڑے باہر کی جانب لا رہی تھی۔ ساتھ ہنس بھی رہی تھی۔ خاموش پڑے گھر میں اسکے زندگی سے بھرپور قہقہے گونجنے لگے تھے۔۔
"اب آپ کسی بھی فیصلے کو واپس لینے کا حق کھو چکے ہیں ارسل جی۔۔"
وہ اسے چڑا رہی تھی۔ ارسل نے خفا بھوری آنکھوں سے اسے دیکھا تھا۔۔
"میرے پاس میری یونیورسٹی میں پڑھتی لڑکیوں کے نمبر اب تک موجود ہیں۔۔"
وہ اب دور ہوتے جا رہے تھے۔ انکی باتیں سرگوشی کی صورت سنائی دینے لگی تھیں۔ لالہ رخ اسے اب انگلی اٹھا کر چلتے ہوئے دھمکا رہی تھی اور وہ مسکراہٹ دبائے اسکی دھمکی سن رہا تھا۔ اسے اب یہ دھمکیاں ساری زندگی ہی سنتے رہنی تھیں۔۔
مہرون رنگ کے فراک میں ملبوس، سیاہ بالوں والی لڑکی اور اونچا سا پیارا لڑکا۔۔ ایک دوسرے کے ساتھ دور سے دیکھنے پر بھی بہت مکمل۔۔ بہت اچھے لگتے تھے۔ انکی کہانی کا آغاز ہوا چاہتا تھا۔ انکی سنہری، پیاری اور کیوٹ سی کہانی کا آغاز۔۔ جس کا ایک کردار چنگیز خان کے لشکر کا آخری سپاہی تھا۔۔ تو دوسرا۔۔ اپنے قلعے میں رہتا ایک معصوم سا ڈرپوک شہزادہ۔۔ قدرت نے کیا خوبصورت بنائی سے کام لیا تھا انکی جوڑی میں۔۔
وقت کی دھول ہوتی صدیوں میں جو گزر گیا تھا اور گزرنا باقی تھا۔ سب کچھ ایک کھلی کتاب میں درج تھا۔ بس اس کتاب کے ہر صفحے کے پلٹتے ہی زندگی پلٹ جایا کرتی تھی۔۔ جیسے ارسل اور لالہ رخ کی پلٹ گئی تھی۔ ایک دوسرے کے ساتھ سے۔۔!!
I hope ap KO ye ending pasand aai ho gi. Mazeed stories k liey jury rahiey Novel world k Saath.

2nd last Episode 💞 وہ جھک کر ہنستی ہوئی ڈھٹائی سے نفی بھی کر رہی تھی۔ لالہ رخ ایک بار پھر سے پینٹنگ سے سامنے آکھڑی ہوئی ...
13/04/2026

2nd last Episode 💞
وہ جھک کر ہنستی ہوئی ڈھٹائی سے نفی بھی کر رہی تھی۔ لالہ رخ ایک بار پھر سے پینٹنگ سے سامنے آکھڑی ہوئی تھی۔
"بس ایک بات بتا دیں۔۔۔ یہ بنایا کیا ہے آپ نے۔۔"
وہ اپنی نم آنکھیں صاف کرتی سیدھی ہوئی تو اس نے خفا خفا نگاہوں سے اسے دیکھا۔ وہ جلدی سے اپنا برش رکھ کر اس کے قریب آئی تھی۔۔
"اچھا بتائیں تو کیا ہے یہ۔۔؟"
"یہ ایک قلم ہے جو کہ کسی انسان کے ہاتھ میں ہے۔۔۔ اور وہ کاغذ پر کچھ لکھ رہا ہے۔۔۔ پھر دوسری طرف ایک بلی بھی کھڑی ہے اپنے پنجے اٹھائے۔۔ اس انسان پر جھپٹنے کے لیے تیار۔۔ لیکن جو میں نے ایک طرف کلاشن کوف بنائی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ آدمی اس بلی کے کسی بھی حملے پر اسے ہلاک کر دینے کا ارادہ رکھتا ہے۔۔"
رمشہ آنکھیں پھاڑے اس کی وضاحت سن رہی تھی اور پھر جیسے ہی رخ ایک بار پھر سے پینٹنگ کے سامنے سے ہٹی تو وہ ایک بار پھر ہنس دی۔ آگے بڑھ کر بغور اس قلم تھامے ہاتھ کو دیکھا۔۔ وہ ہاتھ تو نہیں البتہ ایسا لگ رہا تھا گویا سانپ پتا کھا رہا ہو۔ اور دوسری جانب اس نے بلی بنائی تھی۔۔ اللہ کی پناہ تھی اس کی بلی سے۔۔ وہ بلی کے علاوہ باقی سب کچھ لگ رہی تھی۔۔ ایک اور تکونے پر اس نے کلاشن بنائی تھی جو ان دونوں کارناموں سے قدرے بہتر تھی۔۔ شاید اسی لیے نے کہ اس کی طبیعت بھی ایسی ہی تھی۔۔ جنگجوؤں کی مانند۔۔
وہ ایک بار پھر سے ہنستی ہوئی پیچھے ہوئی تو لالہ رخ نے آگے بڑھ کر سبز رنگ اپنی انگلی پر لگایا اور پھر اس کے رخسار پر رنگ لگاتی پیچھے ہوئی۔۔ شرارت سے اس کی سیاہ آنکھیں چمک رہی تھیں۔۔ رمشہ نے بھی جواباً اس کے رخسار پر رنگ سے بھریں تینوں انگلیاں پھیریں تو وہ ہنستی ہوئی باہر کی جانب بھاگی۔۔ رمشہ اس کے پیچھے پیچھے تھی۔۔ رنگوں سے بھری تھالی ہاتھ میں لیئے۔۔
"نہیں۔۔ نہیں۔ اچھا رکو۔۔ پلیز۔۔"
وہ ہنستی ہوئی اسے بمشکل خود سے دور کرتی آگے کی جانب بھاگی ہی تھی کہ لاؤنج میں سامنے سے آتے ارسل سے بری طرح ٹکرا کر پیچھے کو گری۔۔ رمشہ بھی اس کے عین پیچھے ہی تھی۔۔ اس کے ٹکراتے ہی وہ بھی توازن قائم نہ رکھنے پر گری تھی۔۔ ارسل نے بوکھلا کر اسے ہاتھ دیا۔ وہ ابھی ابھی آفس سے کوئی فائل لینے گھر پر آیا تھا کہ اس آفتاد سے ٹکرا گیا۔۔
لالہ رخ نے چہرہ اٹھا کر اسے دیکھا تھا۔ وہ ٹھہر سا گیا۔۔ اس کی ناک، رخسار، انگلیوں پر جا بجا رنگ لگا ہوا تھا۔ لالہ رخ نے خوفزدہ ہو کر ارسل کے کپڑوں کو دیکھا تھا۔ وہاں رنگ لگ گیا تھا۔۔
"کیا ہوا۔۔؟ اٹھو۔۔"
اس نے ہاتھ بڑھا رکھا تھا۔ رخ نے اگلے ہی پل اس کا ہاتھ تھاما اور اٹھ کھڑی ہوئی۔ رمشہ بھی اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔
"بھائی آپ کے کپڑے خراب ہو گئے ہیں۔۔"
رمشہ کے بتانے پر اس نے گردن جھکا کر اپنے سوٹ کو دیکھا اور پھر کراہ کر لالہ رخ کی جانب دیکھا تھا۔
"یہ کیا کیا دیکھو تم نے! اور ایسی بھی کیا مصیبت آئی تھی جو بھاگ رہی تھیں تم۔۔؟ حالات دیکھو کیا کر رکھی ہے اپنی تم نے۔۔ منہ دھو جا کر۔۔"
وہ اپنے دل میں ابھرتی بے چینی کو اسے ڈانٹ کر خاموش کروا رہا تھا۔ پھر اوپر کی جانب بڑھا تو وہ بھی رمشہ کی جانب خاموش نگاہوں سے دیکھتی اوپر کی جانب بڑھ گئی تھی۔ ارسل اب ٹائی کی ناٹ ڈھیلی کرتا، سفید شرٹ کے کف کھول رہا تھا۔ پھر آستینیں اوپر کی جانب چڑھا کر بغور اسے دیکھا۔ وہ اب ڈریسنگ روم کے اندر جا رہی تھی۔۔ پھر تھوڑی دیر بعد منہ دھو کر باہر چلی آئی۔۔ اب ارسل نے اٹھ کر کپڑے تبدیل کیے اور باہر چلا آیا۔۔ بالوں میں برش چلاتے ہوئے اسے دیکھا۔۔
"کیا جو تم نے مجھ سے کہا تھا وہ اب بھی ویلڈ ہے۔۔؟"
وہ چونگی۔۔ اس کی جانب دیکھا۔۔ پھر آہستہ سے اثبات میں سر ہلایا۔۔
"ٹھیک ہے پھر لالہ رخ۔۔ میں کل تک تمہیں اپنے فیصلے سے آگاہ کر دوں گا۔ بس آج کا دن تمہارے انتظار کا آخری دن ہے۔۔"
اس نے سنجیدگی سے کہا اور پھر اگلے ہی پل۔۔ فائل ہاتھ میں لیے باہر کی جانب بڑھ گیا۔ لالہ رخ خالی خالی سی کھڑی رہ گئی تھی۔ اسے پتا تھا کہ ارسل کا فیصلہ کبھی بھی اس کے حق میں نہیں ہونے والا تھا۔ وہ کبھی اس کے لیے درست تھی ہی نہیں۔۔ وہ اس کے جوڑ کی تھی ہی نہیں۔ دو آنسو لڑھک کر اس کے رخسار پر پھسلے تو اس نے ہاتھ کی پشت سے انہیں رگڑ دیا۔ اسی لمحے اس کا فون بجا تھا۔۔
اس نے سائیڈ ٹیبل پر رکھا فون اٹھا کر کان سے لگایا۔۔ پھر مسکرائی۔۔
"کیسے ہیں لالہ؟"
"میں ٹھیک ہوں لالے۔۔ تم کہاں گم ہو۔۔؟ کب آ رہی ہو گھر پر۔۔؟ اب تو سب مہمان بھی آنا شروع ہو گئے ہیں۔۔"
اس کے چہرے پر اداس سی مسکراہٹ آ ٹھہری تھی۔ اگر اب آئی نا لالہ تو شاید واپس نہ جاؤں اپنے گھر۔۔ اس نے دل میں سوچا تھا پھر چہکی۔۔
"آ جاؤں گی بھائی۔۔ اب ایسی بھی کیا جلدی ہے آپ کو میرے آنے کی۔۔؟ ویسے تو بڑا لڑتے رہتے ہیں مجھ سے۔۔"
اسفند شاید دوسری جانب ہنسا تھا۔
"میں وہ لڑائی ہی تو مس کر رہا ہوں پاگل۔۔ آ جاؤ جلدی۔ کوئی لڑنے والا ہی نہیں۔۔ رامین سے تو بحث کرنا ہی بیکار ہے۔۔ اسے تو ایک سے دوسری بات کرتے ہوئے صدی لگ جاتی ہے۔۔ رہے فرقان لالہ تو ان کے اپنے اتنے مسئلے ہیں کہ وہ مجھ سے ایک دو کام کی بات ہی کر لیں بہت ہے ان کی صحت کے لیے۔۔ اب آخر میں تم ہی بچتی ہو ناں۔۔ تو میں تمہی سے کہوں گا۔۔"
وہ اس کی عجیب و غریب منطق سن کر ہنس پڑی تھی۔ لیکن یہ عجیب سی ہنسی تھی کہ جس میں اس کے رخسار تیزی سے بھیگتے جا رہے تھے۔
"لالہ۔۔ کیا آپ مجھے لینے آ جائیں گے آج۔۔؟"
"ہاں ہاں کیوں نہیں۔۔ کب آؤں بتاؤ۔۔"
"آ۔۔ آج شام تک لالہ۔۔ میں انتظار کروں گی۔۔"
اب کہ دوسری جانب موجود اسفند چونکا تھا۔
"لالہ رخ۔۔ سب ٹھیک ہے ناں۔۔؟ ارسل تو ٹھیک ہے ناں تمہارے ساتھ؟"
اس کے استفسار پر وہ جلدی سے بولی تھی۔۔
"جی لالہ۔۔ بس میری تھوڑی طبیعت ٹھیک نہیں ہے آج کل شاید اسی لیے آواز ایسی لگ رہی ہے۔ آپ شام تک آ جائیے گا میں ویٹ کروں گی۔۔"
ایک سانس میں کہہ کر اس نے فون کان سے ہٹا کر گہرا سانس لیا تھا۔ اس سے پہلے کہ اسفند اس سے کوئی اور بات پوچھ کر اسے لاجواب کر دیتا۔۔ بہتر یہی تھا کہ وہ جلدی سے بات ختم کر دیتی۔۔ اور جو اسے بہتر لگا تھا اس نے وہی کیا تھا۔ دوسری جانب اب ارسل اپنی گاڑی کا دروازہ بند کرتا گلاس ڈور سے سجے ریسٹورنٹ کی جانب بڑھ رہا تھا۔ اسی ریسٹورنٹ کی جانب۔۔ جس میں وہ ہمیشہ آمنہ سے ملا کرتا تھا۔ آج وہ اس سے ایک بار پھر سے ملنے جا رہا تھا۔۔ انجام سے بے غرض ہو کر۔۔
وہ جو ٹھہر جائیں۔۔
قائم رہتے ہیں صدیوں۔۔
کہ وقت بھی اکثر۔۔
کبھی پیچھے کی جانب پلٹتا ہے۔۔
چاہے پھر وہ روشن صبح کی مانند ٹھنڈا ہو۔۔
یا۔۔
رات کے تنہا سیاہ پہر سا کڑوا۔۔
وہ پلٹ آتا ہے۔۔
انہیں دکھی ساعتوں کے ساتھ۔۔
کہ جنہیں بھلانے میں بھی۔۔
صدیوں کا سا۔۔
سمے لگتا ہے۔۔
ارسل نے اپنے مدھم اٹھتے قدموں کے ساتھ درمیانی راستہ عبور کیا تھا۔ پھر وہ اس چمکتے گلاس ڈور سے سجے ریستوران کا دروازہ دھکیلتا اندر داخل ہوا۔ سب بہت دھیرج سے اپنے مدار میں سفر کر رہا تھا۔ دروازے کے اوپر لگی گھنٹی لمحے بھر کو پائل کی کھنکھار کی مانند کھنکی تھی۔ کرسی پر براجمان، اپنی پشت دروازے کی جانب کیے، آمنہ نے ایک پل کو پلٹ کر دیکھا۔
ارسل افگن کا وجیہہ چہرہ سنجیدگی کی گہری چھاپ کے زیر اثر لگتا تھا۔ اس نے کبھی اسے اس قدر سنجیدہ اور ٹھہرا ہوا نہیں دیکھا تھا۔
وہ قدم قدم چلتا آگے بڑھ آیا۔ پھر کوٹ کا ایک بٹن کھولتا اس کے عین سامنے آ بیٹھا۔ گلاس ڈور کے پار پگھلتی اداس سی شام کا عکس جگمگا رہا تھا۔ اس کی بھوری آنکھوں میں بھی ایسی ہی ایک شام ٹھہر گئی تھی۔ خاموش، اداس اور پر سکون۔۔ !
لالہ رخ نے سامان سمیٹ کر کمرے سے باہر نکلتے ہوئے ایک۔۔ بس ایک لمحے کو پلٹ کر اس کمرے کی جانب دیکھا تھا۔ گزرے ایام بھیگتی آنکھوں کے پار دھواں دھواں ہونے لگے تھے۔ یادوں کا کڑوا دھواں نگاہوں میں جلن سی برپا کرنے لگا تھا۔
اس نے اپنی نگاہ الماری کی جانب پھیری جہاں وہ کبھی کھڑی ارسل کو دھمکا رہی تھی۔ اس کی اگلی نگاہ بالکنی کے کھلے دروازے کی جانب تھی۔ جہاں وہ رو رہی تھی تو وہ اس کے پیچھے آیا تھا۔۔ اس سے اگلی نگاہ۔۔ بیڈ پر پھیلی تھی۔ جہاں وہ اس کے آنسو اپنی نرمی سے سمیٹ رہا تھا۔ یاد کا ایک ایک ورق کھلتا جا رہا تھا۔ نگاہوں کے سامنے تحلیل ہوتا جا رہا تھا۔
اب وہ اسے تکیہ سے مار رہی تھی۔۔ وہ بھی جواباً اپنا بچاؤ کرتا اسے خود سے دور کر رہا تھا۔
لالہ رخ بھیگی آنکھیں لیے مسکرا دی تھی۔
اگلا منظر بہت تکلیف دہ تھا۔ جب وہ اسے اپنی جانب پوری قوت سے تھام کر گھما رہا تھا۔ وہ اس کے قریب تھا۔ اس کی سنجیدگی کے پہر میں ڈھلیں بھوری آنکھیں یاد آئیں تو سانس لینا دشوار سا ہو گیا۔
وہ اس سے محبت کرتی تھی۔ وہ اسے چاہنے لگی تھی۔ وہ اس سے دور رہنے کا سوچ کر ہی ٹوٹنے لگی تھی۔ پہاڑ سی مضبوط چٹان کی مانند لالہ رخ۔۔ اس پہر۔۔ دروازے کے وسط میں کھڑی۔۔ پگھل رہی تھی۔۔ اس کی ذات سے رستے آنسو آنکھوں کے راستے باہر کو قطرہ قطرہ بہنے لگے تھے۔۔
اس نے اپنا چہرہ آستین سے رگڑا اور جلدی سے باہر نکلی۔ گزرے لمحات اب تک بول رہے تھے۔۔ اگر وہ انہیں مزید دیکھتی تو شاید یہاں سے جا نہیں پاتی۔ وہ خود غرض ہو جاتی۔ وہ صرف اپنا سوچنے لگتی۔۔ اور فی الحال وہ صرف ارسل کا سوچنا چاہتی تھی۔ اس کی خوشی آمنہ تھی۔ وہ اسے اس کی خوشی لوٹانا چاہتی تھی۔
اس نے اپنی ہچکیوں پر بہت مشکل سے قابو رکھتے ہوئے زینے عبور کیے تھے۔ بار بار منظر دھندلانے لگتا تھا۔ گلابی سارنگ مزید گلابی ہونے لگتا تھا۔
آگے بڑھ کر رمشہ، دادی اور سمیرا سے ملتے اس کا دل بھر آیا تھا لیکن وہ نہیں روئی۔۔ وہ کیسے رو سکتی تھی۔۔ ؟ وہ لالہ رخ تھی ناں۔۔ وہ کسی کے سامنے کیسے رو دیتی بھلا۔۔ مضبوطی بھی کبھی کبھی انسان کو کس قدر کمزور کر دیتی ہے۔۔ اس کا اندر بھی ٹوٹ کر بکھرنے لگا تھا۔
اسے خود پر حیرت بھی ہوئی تھی۔ اپنے حق کے لیے لڑتے لڑتے وہ اس جنگ سے خاموشی کے ساتھ علیحدگی اختیار کر رہی تھی۔ اس نے کبھی کسی محاذ سے پیٹھ نہیں پھیری تھی لیکن آج۔۔ اس گھر سے قدم باہر کی جانب بڑھاتے ہوئے اسے سمجھ آ گیا تھا کہ۔۔ محبت انسان سے بڑے بڑے محاذ پر، بڑی بڑی قربانیاں مانگ لیا کرتی ہے۔ اس کے سامنے سر جھکاتے ہی بنتی ہے۔۔ اس کے سامنے اپنا وجود روند کر ہی فتح نصیب ہوتی ہے۔۔
کیا عجب ہے کہ سب کچھ ہار کر جیت مقدر میں لکھ دی جاتی ہے !
اسفند کے برابر میں بیٹھے اس نے چہرہ پوری طرح سے کھڑکی کی جانب پھیر رکھا تھا۔ اسفند نے بھی اس کا خاموش تاثر دیکھا تو کوئی بات کرنا مناسب نہ سمجھا۔ وہ اسے سمجھتا تھا۔ وہ اس جیسی تھی۔ تکلیف میں زبان سے اف تک نہیں نکالا کرتی تھی۔ ٹوٹتے وجود کے ساتھ دوسروں کو تورونے کے لیے کندھا دے سکتی تھی لیکن خود کے آنسوؤں کے لیے۔۔ وہ کبھی کسی کے کندھے کا انتظار نہیں کیا کرتی تھی۔ کیا ظالم لڑکی تھی۔۔ !
اس نے خشک آنکھیں، پیچھے کی جانب بھاگتے ہوئے راستوں پر جما رکھی تھیں اور اب سب کچھ رات کی سیاہی میں ڈھلتا جا رہا تھا۔ سب کچھ۔۔ !
ارسل، آمنہ کے عین سامنے خاموشی سے براجمان تھا۔ پھر اس نے چہرہ اٹھا کر اسے دیکھا۔۔ خوبصورت آنکھوں کی چمک آج بھی اس کی آنکھوں کو خیرہ کر رہی تھی۔۔ لیکن وہ ان کی جانب متوجہ نہیں تھا۔ وہ تو کہیں پیچھے دیکھ رہا تھا۔ بھیگی سیاہ آنکھیں۔۔ ضبط سے گلابی پڑتی سیاہ آنکھیں۔۔ مسکراتی ہوئی شرارت سے جگمگاتی سیاہ آنکھیں۔۔
"اس نے مجھے کہا کہ وہ میرے فیصلوں میں مجھے آزاد کرتی ہے۔ اس نے مجھے کہا کہ وہ مجھ سے جینے کا حق چھین کر میری گنہگار نہیں بننا چاہتی۔۔ اس نے کہا کہ وہ مجھے خوش دیکھنا چاہتی ہے۔۔ "
اس نے سانس لینے کے لیے وقفہ لیا تھا۔ آمنہ اسے ہی تک رہی تھی۔ اور وہ جانتی تھی کہ آج ارسل پچھلے ارسل سے خاصہ مختلف تھا۔ زخمی اور ٹوٹا ہوا۔
"اس نے مجھے کہا کہ جو آپ نہیں کر سکے وہ میں آپ کے لیے کرنا چاہتی ہوں اور جانتی ہو آمنہ۔۔ مجھے لگا میں اسے اب کبھی نہیں چھوڑ سکوں گا۔۔ "
آمنہ کے گلے میں گلٹی ابھر کر معدوم ہوئی تھی۔ اس کے حلق میں بہت سے آنسو جمع ہوئے لیکن وہ آنکھوں سے نہ ٹپکے۔ وہ خود پر بہت سے بندھ باندھ کر آئی تھی۔ وہ ایسے خود کو بہنے نہیں دے سکتی تھی۔
ارسل یونہی گلابی آنکھیں لیے، دکھتے گلے کے ساتھ بولتا جا رہا تھا۔
"بچپن میں جب میں چھوٹا تھا تب مجھے اندھیرے سے بہت خوف آتا تھا۔ اب بھی آتا ہے۔ اس وقت بھی پھپھو میرا گال تھپک کر کہتی تھیں کہ جو سیاہ راستہ تم عبور نہیں کر سکتے، اس راستے پر تمہارا ہاتھ تھام کر میں چلوں گی۔ میں تمہاری سیاہی میں روشنی بنوں گی لیکن وہ میری کسی بھی سیاہی کا حصہ بننے سے پہلے ہی چلی گئیں۔۔ "
آمنہ کی آنکھیں حیرت سے پھیلیں۔ ارسل نے اسے پہلے کبھی اپنے بارے میں یوں آگاہ نہیں کیا تھا۔ اسے یہ تک نہیں پتا تھا کہ اس کی کوئی پھپھو بھی تھیں جو مر چکی ہیں۔ اس نے کبھی اپنی کمزوریوں کو اس کے سامنے یوں کھول کر نہیں رکھا تھا۔ لیکن آج۔۔ وہ بہت سکون سے اسے یہ سب بتا رہا تھا۔
"میں کبھی تمہارے سامنے اپنی کمزوریاں بیان نہیں کر سکا آمنہ۔ میں شرمندہ تھا۔۔ خود پر۔۔ اپنی بزدلی پر۔۔ اپنی ڈرپوک طبیعت پر۔ میں عام مردوں کی طرح نہیں ہوں۔ مجھے ڈر لگتا ہے۔ میں جلدی ڈر جاتا ہوں۔ میں با آسانی رو بھی جاتا ہوں۔ مجھ سے غصے میں ٹھیک سے بات تک نہیں کی جاتی۔ لیکن میں تمہیں یہ سب نہیں بتا سکا۔ میں تمہیں اپنے ٹوٹے حصے نہیں دکھا سکا کیونکہ میں خوفزدہ تھا کہ تم۔۔ تم مجھے چھوڑ دو گی۔ اور شاید تم ایسا ہی کرتیں۔۔ "
اس نے گلاس ڈور پر جمی آنکھوں کو آمنہ کی جانب پھیرا۔ وہ سانس روکے اسے ہی سن رہی تھی۔ ارسل ہلکا سا مسکرایا۔۔
"میں تمہیں قصوروار نہیں ٹھہرا رہا آمنہ۔ میں تمہیں حقیقت بتا رہا ہوں۔ تم جلد یا بدیر مجھ سے بیزار ہو کر مجھے چھوڑ دیتیں کیونکہ مرد کی ایسی کمزوری کسی بھی معاشرے میں قابل قبول نہیں ہے۔۔ میں خود جانتا ہوں اپنے آپکو۔۔ میں نے ایک لمبے عرصے تک تہہ خانوں میں چھپ کر روتے ہوئے راتیں گزاری ہیں۔۔ صرف اسی لئے تاکہ میری یہ کمزوری کسی پر عیاں نہ ہوجائے۔۔ لیکن لالہ رخ نے۔۔"
وہ ٹھہرا تھا۔۔ نگاہوں کے سامنے ایک منظر سا لہرا آیا۔ کھلے بالوں اور دوپٹے سے بے نیاز پریشان سی لڑکی اسے دوڑ کر گلے لگا رہی تھی۔ اسکی خوبیوں اور خامیوں سمیت سمیٹ رہی تھی۔۔
"اس نے مجھے عار نہیں دلائی آمنہ۔ اس نے مجھے قبول کر لیا۔ اس نے میری کمزوریوں کا احترام کیا۔ اس نے میرے عیب لوگوں کے سامنے بے عیب کر دئیے۔ اس نے مجھے کندھادیا۔۔ میرے لئے لوگوں سے جھگڑے مول لی لئے۔۔ جو مجھے کرنا چاہئے تھا وہ کرتی رہی۔ وہ بہت مضبوط ہے۔۔ میں کبھی کبھی حیران رہ جاتا ہوں کہ کوئی اتنا مضبوط کیسے ہوسکتا ہے۔۔ لیکن دیکھو ناں آمنہ۔۔ میں اسکی اتنی خوبیوں کے بعد بھی تمہارے سامنے بیٹھا ہوں۔۔ تمہیں یہ باور کروانے کے میرے دل سے تم آج بھی نہیں نکل سکی ہو۔۔"
آمنہ کی آنکھ سے ایک آنسو ٹوٹ کر رخسار پر لڑھکا تھا۔ ارسل مسکرایا۔۔
"میں نے اس سے کہا کہ مجھے کچھ وقت دے تاکہ میں اسے جواب دے سکوں۔ لیکن میرے پاس تو اسے دینے کے لئے کوئی جواب ہی نہیں ہے آمنہ! جو انسان آپکے لئے محض قربانیاں دیتا آیا ہو اس انسان کی ایک التجا کو آپ انکار کر دو تو زیادتی نہ ہوئی۔۔"
اس نے بھی اپنی آنکھیں رگڑی تھیں۔ لالہ رخ نے قسم کھا رکھی تھی اسے ہر دفعہ رلانے کی۔۔
"اب میں سوچتا ہوں کہ بہت اچھا ہوا جو ہم کسی رشتے میں نہ بندھے۔ تم مجھ سے بہت بہتر ڈیزرو کرتی ہو۔ میرے جیسے کمزور اور بزدل شخص کا ساتھ تمہارے لئے زیادتی ثابت ہوتا۔۔ میں آج ہمارے اس تعلق کی آخری ڈور بھی کاٹنے آیا ہوں۔۔ میں آج اس اندیکھی سی ڈور کو ختم کرنے آیا ہوں۔ اس رشتے سے آزاد ہونے آیا ہوں جو کبھی رشتہ بنا ہی نہیں تھا۔۔ ہاں ٹھیک ہے میں اس سے محبت نہیں کرتا۔۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ میں اسکے بغیر نہیں رہ سکتا۔۔ کیونکہ وہ مجھے اپنا عادی کر گئی ہے۔۔ اور جانتی ہو آمنہ۔۔"
اس نے مسکراتی نگاہیں اس پر نرمی سے جمائی تھیں۔۔
"عادتیں محبت سے زیادہ جان لیوا ثابت ہوتی ہیں۔۔"
چند پل ہر جانب گہری خاموشی تحلیل ہو کر فضا کو مزید سرد کر گئی تھی۔ وہ یک ٹک ایک دوسرے کی نگاہوں میں دیکھتے رہے۔ اگلا کوئی بھی لفظ ادا کیے بغیر۔۔ گزرے ایام کی بہت گداز چاپ محسوس کرتے۔۔ پھر آمنہ ہلکا سا مسکرائی۔۔ نم آنکھوں سے اسے دیکھا۔۔
"آپ بہت اچھے ہیں ارسل۔ آپکو اندازہ نہیں کہ آپ اس نرم دنیا کے لئے کتنے زیادہ معصوم ہیں۔"
وہ اسکی بات پر چونکا تھا۔۔ لالہ رخ نے بھی کبھی اسے یہی کہا تھا۔
"میں آپکی صاف گوئی کی قدر کرتی ہوں ارسل۔ میں آپکی محبت اور عزت کی ہمیشہ قدردان رہونگی اور ہاں۔۔ لالہ رخ سے کہنا کہ آمنہ اسکی بہت شکر گزار ہے۔ آپکا خیال رکھنے کے لئے میں ایک دفعہ اس سے مل کر اسکا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں۔۔ آپ اور وہ ساتھ بہت اچھے لگتے ہیں۔۔ میں صدا دعا گو رہونگی ارسل کہ آپ دونوں ایک ساتھ سلامت رہو۔۔ ایک دوسرے کا لباس رہو۔۔ میں دعا کرونگی۔۔ کیونکہ جو دوسروں کے حق میں دعائیں کرتے ہیں، وہی دعائیں انکے حق میں پہلے قبول ہوتی ہیں۔"
وہ آہستہ سے اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔۔ ارسل کا دل دکھنے لگا۔ اسکی آنکھوں میں جمع ہوتے آنسوؤں کو وہ بخوبی محسوس کر سکتا تھا۔ وہ پلٹی لیکن ٹھہر گئی۔۔ ایک پل کو چہرہ اسکی جانب پھیرا۔۔ اداس آنکھیں اگلے ہی پل مسکرائی تھیں۔۔ یہ اختتام تھا ناں۔۔ یہ انت تھا انکی کہانی کا۔۔
"آپکو پتا نہیں ہے کہ آپ لالہ رخ سے کتنی محبت کرتے ہیں۔ اس حقیقت کو جھٹلانا چھوڑ دیں اور مان لیں کہ آپ اسے چاہتے ہیں۔۔ شاید پھر آپکے لئے سب کچھ اور بھی آسان ہو جائے۔۔ اللہ حافظ۔۔ چلتی ہوں۔۔"
اور پھر وہ اسکی جانب ایک آخری نگاہ ڈالے بغیر باہر کی جانب بڑھ گئی تھی۔ جانتی تھی کہ وہ مزید رکی تو خود پر قابو نہیں رکھ پائے گی۔ ارسل بھی اسے جاتا ہوا دیکھتا رہا۔۔ اور پھر آہستہ سے اپنی جگہ سے اٹھ کر باہر کی جانب بڑھ گیا۔ گلاس ڈور سے سجا ریستوران اب کہ مدھم زرد قمقموں سے جگمگا رہا تھا۔۔ انکی محبت کا امین۔۔ گلاس ڈور ریستورینٹ۔۔!
وہ گھر چلی آئی تب بھی خاموش ہی رہی۔ سب اس سے اسکے سسرالیوں کے بارے میں استفسار کر رہے تھے اور وہ محض ہاں ہوں میں سر ہلاتی سب کو جوابات دے رہی تھی۔ لیکن جب گھر والے اسکے بہت خاموش سے رویے کو محسوس کرنے لگے تو طرح طرح کے سوالات پھر شروع ہو گئے۔ وہ ایسی نہیں تھی۔۔
گھر میں داخل ہوتی تو بقول فرقان کے یوں لگتا تھا گویا "زلزلہ آگیا ہو"۔۔ وہ ایسی ہی تو تھی۔ زندگی سے بھرپور تباہ کاریاں کرتی ہوئی، قہقہے لگا کر سرمئی ماحول کو رنگوں سے سجا کر گزرتی ہوئی۔ اب ایسی کسی لڑکی کا کھنچا کھنچا سا رویہ دیکھ کر تو سوالات بنتے ہی تھے۔۔ اسفند نے ہی اسے ہاتھ سے پکڑا اور اپنے پیچھے کیا۔ وہ خود کو اتنا بے بس اور کمزور محسوس کر رہی تھی کہ آرام سے اسکے پیچھے ہوگئی۔
"حد کرتے ہیں آپ لوگ بھی۔ وہ ابھی تھکی ہوئی آئی ہے اپنے گھر سے اور آپ لوگوں نے بوچھاڑ کر دی ہے سوالات کی! ابھی کچھ آرام کرے گی تو خود ہی ٹھیک ہو جائے گی۔۔ میں لے جا رہا ہوں اسے کوئی میرے پیچھے نہ آئے اور شور تو بالکل بھی نہیں ہونا چاہئے۔۔"
اس نے اگلے ہی پل اسکا ہاتھ تھاما اور پھر اسے لئے اپنے ساتھ زینے چڑھتا اوپر کی جانب بڑھ گیا۔ کمرے میں آتے ہی اس نے لالہ رخ کا ستا ہوا تھکا سا چہرہ بغور دیکھا تھا۔ وہ بھی خاموشی سے گردن جھکائے کھڑی رہی۔
"بتاؤ گی یا نہیں۔۔؟"
اسفند نے ہولے سے پوچھا تھا۔ لالہ رخ نے ضبط کے باعث دکھتے گلے سے بمشکل تھوک نگلا تھا۔ پھر چہرہ اٹھا کر اسے دیکھا جو فکرمندی سے سر جھکائے اسکے چہرے کو جانچ رہا تھا۔ وہ نم آنکھوں سے مسکرا دی تھی۔۔ یوں لگا ماہ و سال پیچھے کی جانب بہنے لگے ہوں۔۔ دس سالہ زخمی لالہ رخ اسکے سامنے گردن جھکا کر بالکل یونہی کھڑی ہوئی تھی۔ اور وہ تب بھی تو اسے سب کے سوالات سے یونہی اپنی ڈھال تلے بچا لایا تھا۔ اسفند کہاں بدلا تھا۔۔! اسفند تو وہی تھا۔۔
"ٹھیک ہوں میں۔۔"
اس نے کہا تو محض اتنا ہی۔۔ وہ اسے چند پل دیکھتا رہا۔۔
"تمہیں خود کے ساتھ بات کرنے کی ضرورت ہے لالے۔۔"
اسفند کی نرم آواز ایک بار پھر سے اسکے آس پاس گونجی تھی۔ اس نے یکدم بازو آنکھوں پر رکھا اور پھر رو پڑی۔۔ اسفند چپ چاپ اسے دیکھتا رہا۔۔
"لالہ۔۔ مجھ۔۔ مجھے بہت تکلیف ہو رہی ہے۔۔"
اسے لگا اب اگر اس نے مزید خود پر ضبط کیا تو وہ سانس تک نہیں لے پائے گی۔ اسفند نے نرمی سے اسکا بازو آنکھوں سے ہٹایا تھا۔
"کیوں ہو رہی ہے تکلیف؟ بتاؤ مجھے۔۔"
وہ بہت سنجیدہ تھا۔ کس نے ہمت کی تھی اس کی لالے کو تکلیف پہنچانے کی۔۔
Don't forget to like and share the post and follow my page for upcoming episodes 💞

Address

Islamabad
47040

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Novel world posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share