14/04/2026
Last episode 💕 💖 💕
دھنک ازقلم رابعہ خان
"میں نے خود کو تکلیف پہنچائی ہے لالہ۔ میں نے اپنے ساتھ زیادتی کر دی ہے۔ میں نے کسی اور پر رحم کرتے ہوئے خود کو بے رحمی سے روند ڈالا ہے لالہ۔۔ میں کیا کروں۔۔ یہ قربانیاں اتنی بھاری کیوں ہوتی ہیں؟ مجھے لگ رہا ہے میں بہت بڑے بوجھ تلے ہوں۔ مجھے لگ رہا ہے میں ٹھیک سے اب اپنے قدموں پر کھڑی نہیں ہو پاؤں گی۔ میں نے خود کو بہت زخمی کر لیا ہے لالہ۔۔"
گیارہ سالہ لالہ رخ اب تک اسفند سے کہہ رہی تھی کہ وہ تکلیف میں ہے۔ اسفند نے وہی کیا جو کئی سال پہلے کیا تھا۔۔
اس نے اسے کندھوں سے تھاما اور پھر ہلکے سے جھٹکے سے اپنی جانب متوجہ کیا۔
"قربانیاں بہت وزنی ہوتی ہیں رخ۔ ہمارے پٹھانوں میں کہتے ہیں کہ یا تو قربانی دے کر سہنے کی ہمت رکھو یا پھر قربانی دو ہی نہ۔۔ میرا دوست جب قتل ہوا تھا ناں تو اس نے بھی اپنے گھر والوں کے تحفظ اور خوشیوں کے لیے قربانی دی تھی۔ اس قربانی کا وزن زندگی بھر اس کے گھر والوں پر رہے گا۔ اگر تم میں ہمت نہیں تھی تو تمہیں یہ قربانی نہیں دینی چاہیے تھی اور اگر۔۔"
وہ لمحے بھر کو دھیمی سرد آواز میں بولتے بولتے ٹھہرا رہا تھا۔ لالہ رخ کے آنسو اپنی جگہ ہی ساکت ہو گئے تھے۔ وہ خوفزدہ ہوئی اسفند کے اگلے بے رحم الفاظ کا انتظار کر رہی تھی۔
"اگر تم نے یہ قربانی دینے کا فیصلہ کر ہی لیا ہے تو اس کا بوجھ بھی برداشت کرو۔ مجھے پتا ہے تم یہ کر لو گی۔۔"
اس نے اگلے ہی لمحے اس کے کندھوں سے ہاتھ ہٹائے تھے۔۔
"رولو ابھی جتنا بھی رونا ہے تمہیں۔۔ جتنے بھی آنسو جمع ہیں بہالو انہیں ایک ساتھ ہی۔۔ لیکن پھر اس کے بعد میں تمہیں اپنے فیصلوں پر پچھتا کر زندگی گزارتے ہوئے نہ دیکھوں۔۔"
وہ اگلے ہی پل پلٹا تھا اور دروازہ کھولتا باہر کی جانب بڑھ گیا تھا۔ وہ خالی خالی سی کھڑی رہ گئی تھی۔ وہ ارسل نہیں تھا کہ آگے بڑھ کر اس کے آنسو صاف کرتا یا اس سے پوچھتا کہ وہ کیوں رو رہی ہے۔ اس نے کئی سالوں تک اس کی تربیت کی تھی۔ جبھی تو وہ جانتا تھا کہ جو کچھ بھی ہو گا رخ اسے سہہ لے گی۔۔
تاریکی میں ڈوبے کمرے میں کھڑی۔۔ خود بھی اسی تاریکی کا حصہ لگتی لالہ رخ میں اگلے ہی پل بہت ہمت بھر گئی تھی۔ رگوں میں خون یکدم تیزی سے گردش کرنے لگا تھا۔ اس نے پلٹ کر ڈریسنگ روم کا دروازہ کھولا اور پھر واش بیسن پر جھک کر پانی کے چند چھینٹے خود کے چہرے پر مارے۔۔ گہرے گہرے سانس لے کر خود کو نارمل کیا۔ وہ ٹھیک نہیں تھی۔۔ لیکن اسے پتا تھا کہ وہ جلد ہی ٹھیک ہو جائے گی۔۔ روشنی تلے بھیگتی، ایک لڑکی اپنا سنہری عکس سامنے لگے آئینے میں خاموشی سے تک رہی تھی۔
رات کے اسی پہر، شہر کے دوسری جانب۔۔ ارسل بہت آہستگی سے تہہ خانے کے زینوں کو عبور کرتا قدم قدم اتر رہا تھا۔۔
اس نے آگے بڑھ کر لائٹ بورڈ پر ہاتھ مارا تو تاریک تہہ خانہ روشنیوں سے جگمگا اٹھا تھا۔ اس نے ایک نگاہ پچھو کی آخری پینٹنگ پر ڈالی تھی۔۔ پھر اس کے ساتھ چھوٹے سے اسٹول پر رکھی لالہ رخ کی پینٹنگ کو دیکھا تو دھیرے سے مسکرا دیا۔۔
اس کی پینٹنگ بھرپور طریقے سے اس کی لا ابالی اور جذباتی طبیعت کی عکاسی کر رہی تھی۔ وہ آہستہ سے پنجوں کے بل، عین اس پینٹنگ کے سامنے بیٹھا تھا۔ اگلے ہی لمحے اس کے سامنے لالہ رخ کا عکس لہرایا۔۔ آج دوپہر ہی تو وہ اس سے باہر لاؤنج میں ٹکرائی تھی۔۔ اور جو وہ اسے دیکھ کر ٹھہر گیا تھا۔ اس کے رخساروں پر جا بجا رنگ لگا ہوا تھا۔۔ پاگل لڑکی۔۔ اندازہ ہی نہیں تھا اسے کہ وہ خود کس قدر رنگین سی تھی۔ اس کی خالی سی زندگی کو رنگوں سے آشنا کروا گئی تھی۔۔
وہ اٹھا اور پھر اوپر کی جانب بڑھ گیا۔ تہہ خانہ آج پھپھو کی خوشبو کے علاوہ لالہ رخ کی خوشبو سے بھی مہک رہا تھا۔ وہ زینے چڑھتا اپنے کمرے میں چلا آیا تو لمحے بھر کو وہیں دروازے میں رک بھی گیا۔۔ یہ کمرہ اسے کبھی اتنا خالی نہیں لگا تھا۔۔ آج اس کمرے کی ساری چمک ماند تھی۔۔ کھڑکی سے جھانکتی چاندنی۔۔ بھی اداس تھی۔۔ چلتی ہوا کے جھکڑ بھی کوئی سرگوشی نہیں کر رہے تھے۔ اس نے بیڈ پر نگاہ ڈالی۔۔ شادی کی پہلی رات کسی واضح یاد کی طرح لہرائی تھی۔۔ کیسے وہ اس سے لڑ رہی تھی۔۔ جانے کب وہ اس سے لڑتے لڑتے۔۔ اس کے لیے لڑنے لگ گئی تھی۔۔
وہ آہستہ سے چلتا ہوا آگے آیا اور پھر اپنے صوفے پر ہی دراز ہو گیا۔ پھر بازو آنکھوں پر رکھ لیا۔۔ اسے لالہ رخ کے اس پہر بہت یاد آئی تھی۔۔ میمنہ ہماری جھانسی کی رانی کو پسند کرنے لگا تھا۔۔ اگر جو اسے پتا چل جاتا کہ وہ صرف اسے پسند نہیں کرتا تھا۔۔ بلکہ۔۔ بلکہ وہ تو۔۔ لیکن پھر اگر اس پر اتنی جلدی ادراک ہونے لگتے تو وہ ہمارا میمنہ کیسے رہتا بھلا۔۔؟ وقت نے اس کے لیے اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔۔ لیکن جلد یا بدیر اسے اس فیصلے سے آگاہی دے ہی دی جانی تھی۔۔ !
شیشے میں عکس دیکھتی لڑکی اور یاد کے لہراتے اوراق میں کھوتا لڑکا۔۔ دونوں ہی اپنی جگہ درست تھے۔۔ دونوں ہی۔۔ اپنی جگہ۔۔ ثابت تھے۔۔ کیا ہوا جو ایک مضبوط اور دوسرا کمزور تھا۔۔ ؟ کیا تمہیں نہیں لگتا کہ ان کا ساتھ جوڑا ہی اسی لیے گیا تھا کہ وہ کمزوری اور مضبوطی کے ہر تقاضے پر پورا اترا کرتے تھے۔۔ ؟۔۔ سوچو۔۔ شاید تمہیں جواب مل جائے۔
اگلی صبح خان ہاؤس پر پوری آب و تاب کے ساتھ چمکتی دمکتی اتر رہی تھی۔ مہمانوں کی آمد آمد تھی۔ گھر میں قہقہوں اور اشتہا انگیز کھانوں کی خوشبو ہر سو بکھری رہنے لگی تھی۔ کچھ لوگ گھر کو زرد قمقموں سے سجا رہے تھے، کئی گز نائیک ساتھ لاؤنج میں براجمان ایک دوسرے پر جملے کستے ہنس رہے تھے، زینوں پر کھڑی فاطمہ، لالہ رخ سے سب کے کپڑے استری کروانے کو کہہ رہی تھیں۔۔ زینوں کے دوسری جانب سے رامش، گل کے پیچھے بھاگ رہا تھا۔ اس نے یقیناً اس کے وہ گلابی رنگ کا بھالو چرا لیا تھا اور اب رامش وہ بھالو کسی حال میں اس سے واپس لینا چاہتا تھا۔۔
رامین کو اب کمرے سے نکلنے کی اجازت نہیں تھی۔۔ اور شکر تھا خدا کا کہ اسفند اپنے خطرناک ارادوں سے باز تھا۔۔ نہیں تو کسی کی مجال تھی کہ اس سرپھرے کو روک سکے۔۔ فرقان نے اسے سخت سی تنبیہ بھی کی تھی جس پر وہ پہروں دل کھول کر ہنسا تھا۔۔ ایک تو یہ فرقان لالہ بھی نا۔۔ بس فرقان لالہ ہی تھے۔۔ انہیں اپنی روایات کی پاسداری کا بہت خیال رہتا تھا۔ وہ رکھ رکھاؤ والے سخت قسم کے پٹھان واقع ہوئے تھے۔۔ لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں تھا کہ ان روایات کی جڑیں تک ہلا دینے والا بھائی قدرت نے ان کی قسمت میں لکھ دیا تھا۔۔ جو کام نہیں کرنے والا ہوتا تھا وہی اسفند کو کرنا تھا۔۔ ! ان کا بس چلتا تو اسے شادی ہو جانے تک گھر سے باہر ہی نکال دیتے لیکن ہت ہاہ۔۔ ! ماموں اور فاطمہ مامی کی موجودگی میں ایسا کچھ بھی ممکن نہیں تھا۔۔
سرد سی خوبصورت شام گھر آئی تو سب ہی اپنی اپنی تیاریوں میں مصروف ہو گئے۔ آج مہندی تھی۔۔ کل بارات اور پھر پرسوں ولیمہ۔۔ گھر کی دیواروں پر لٹکائی گئیں زرد روشنیاں روشن کر دی گئیں۔ ہر شے پر سونے کا عکس چڑھا معلوم ہوتا تھا۔۔
لان میں مہندی کا انتظام کیا گیا تھا۔ لالہ رخ، گل، فاطمہ اور رامین نے زرد رنگ ہی کے جوڑے زیب تن کر رکھے تھے۔ فاطمہ شنیل کا کڑھائی والا جوڑا پہنے، بالوں کو نفیس جوڑے میں قید کیے، کانوں میں ڈائمنڈ کے ٹاپس ڈالے خاصی باوقار اور خوبصورت لگ رہی تھیں۔ رامین کے زرد فراک کے ساتھ گلابی چوڑی دار پجامہ تھا۔ لالہ رخ اور گل کا فراک بھی اسی طرز کا تھا لیکن ان کے پجاموں اور دوپٹوں کے رنگ فرق تھے۔۔ بالوں کو چوٹی میں گوندھے، میک اپ اور جیولری پہنے وہ دونوں بہت پیاری لگ رہی تھیں۔۔
مردوں نے خاص طور پر سفید کرتا زیب تن کر رکھا تھا۔ اس کے سسرالی بھی وقت پر چلے آئے تو وہ بھی ان کی جانب چلی آئی۔۔ دادی اسے ساتھ لگا کر پیار کر رہی تھیں، سمیرا اس کی بلائیں لیتی اسے نظرِ بد سے حفاظت کی دعا دے رہی تھیں اور رمشہ اسے بہت پرجوش سی گلے لگا رہی تھی۔ اس نے دروازے کی جانب نگاہ ڈالی لیکن جواب ندارد۔۔ ارسل افگن تو شادی میں آیا ہی نہیں تھا۔ اسے جانے کیوں مایوسی ہوئی۔۔ تین دن ہو گئے تھے میمنہ کو دیکھے اور اب وہ اسے بہت یاد آ رہا تھا۔۔
"ارسل نہیں آئے رمشہ۔۔ ؟ "
"جی بھابھی۔۔ وہ بھائی کہہ رہے تھے کہ آفس کا کچھ اہم کام تھا تو وہ مہندی میں نہیں آ سکتے۔۔ ان کی جگہ بابا آ سکتے تھے تو پھر ہم بابا کے ساتھ ہی آ گئے۔ وہ شاید کل آئیں۔۔ بارات میں۔۔ "
اس نے بمشکل مسکرا کر سمجھتے ہوئے سر اثبات میں ہلایا اور رمشہ کو لیے اسٹیج کی جانب بڑھ گئی۔ پیچھے کرسیوں پر دادی اور سمیرا کے ساتھ فاطمہ بیٹھیں باتیں کر رہی تھیں۔ ساتھ ساتھ وہ خاندان کی عورتوں سے بھی لالہ رخ کی ساس اور دادی ساس کو متعارف کروا رہی تھیں۔۔۔
اسفند اور رامین کو اسٹیج پر لا کر ساتھ بٹھایا گیا تو ہر جانب گویا روشنیاں اتر آئیں۔ اسفند بھرپور طریقے سے مسکرا رہا تھا اور ساتھ بیٹھی رامین، لالہ رخ کے کسی جملے پر ہنس رہی تھی۔ اسفند کو صرف ایک ہی فکر دے سکتی تھی اور وہ تھی رُخ۔۔۔ اور ابھی وہ اسے فکر دے بھی رہی تھا۔۔۔ کزنز آس پاس گھیرا بنائے کھڑے ہنس رہے تھے۔۔۔ فرقان لالہ بھی رسم کرنے اسٹیج پر چڑھے تو اس کی باتوں پر قہقہہ لگا کر ہنسے بغیر نہ رہ سکے۔۔۔
وہ ہنساتی رہی۔۔۔ ہنستی رہی۔۔۔ دل مزید بوجھ تلے دبتا رہا۔۔۔
رات کو اپنے کمرے میں سنگھار آئینے کے سامنے براجمان وہ خالی خالی نگاہوں سے خود کا عکس تک رہی تھی۔۔۔ کیوں نہیں آیا تھا ارسل؟ کیا وہ اس کا سامنا کرنے سے کترا رہا تھا۔۔۔ کیا وہ اسے جواب دینے سے پہلو تہی کر رہا تھا۔۔۔ کیا وہ اس سے اتنا بیزار تھا کہ اس کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتا تھا!
بہت سے سوال اس کا دل زخمی کرتے جا رہے تھے۔ کیا کیا سوچا تھا اس نے کہ اسفند لالہ کی شادی میں کتنا خوش ہو گی وہ۔۔۔ لیکن اب۔۔۔
اس نے گہرا سانس لے کر سر نفی میں ہلایا تھا۔ جو انسان سوچے ویسا تو کبھی ہوا ہی نہیں کرتا تھا۔۔۔ ہمیشہ اس کے برعکس ہی قدرت کچھ طے کیئے رکھتی تھی۔ اس نے سنگھار آئینے کے سامنے اٹھ کر اپنے ماتھے پر لگا ٹیکا اتار کر سامنے رکھ دیا تھا۔ اب وہ آہستہ آہستہ اپنی جیولری اتار کر رکھتی جا رہی تھی۔۔۔
اگلے دن بارات تھی تو ماحول میں اور بھی رش بڑھ گیا تھا مہمانوں کا۔۔۔ شور، ہنگامہ۔۔۔ گھر میں دوڑتے ہوئے بچے۔۔۔ ہنستے ہوئے، چل پھر کر کھاتے ہوئے لوگ۔۔۔ وہ بلاشبہ شادی کا گھر ہی لگ رہا تھا۔ اب بارات چونکہ انہی کے گھر سے جانی تھی تو انہیں ہال کے لیے جلدی نکلنا تھا۔ سر شام ہی ایک ہنگامہ مچ گیا تھا۔۔۔ رامین تو گل کے ساتھ مغرب میں ہی پارلر جا چکی تھی۔ اس نے فاطمہ کے ساتھ رہ کر مہمانوں کو سنبھالنا تھا۔ سو وہ نہیں گئی۔۔۔
"امی میرا کرتا کہاں گیا۔۔۔؟"
رامش اوپر ریلنگ سے جھانک کر چیخا تھا۔
"وہیں کمرے میں استری کر کے لٹکایا ہے میں نے۔۔۔ دھیان سے دیکھو۔۔۔"
نیچے سے فاطمہ کی مصروف سی آواز سنائی دی تھی۔۔۔
"لالے میرا ویسٹ کوٹ کدھر رکھا ہے تم نے۔۔۔؟"
مہمانوں کے رش میں اسفند کی دبی دبی آواز سے سنائی دی تھی۔ وہ جلدی سے آگے بڑھی اور اسے اسکا ویسٹ کوٹ ڈھونڈ کر دیا۔ اب جنید کے جوتے نہیں مل رہے تھے۔
"ہزار دفعہ کہا ہے کہ وقت پر چیزیں سنبھال کر رکھا کرو لیکن مجال ہے جو تم سنبھال لو کچھ۔۔۔ اب اتنے رش میں کیا ملے گا تمہیں۔۔۔"
فاطمہ نے جھنجھلا کر جنید کو گھر کا تھا۔ وہ سب مہمانوں کے سامنے بنتی درگت پر روہانسا ہو گیا تھا۔ لالہ رخ نے گہرا سانس لیا اور پھر اسکے جوتے ڈھونڈنے میں جت گئی۔۔۔ آہستہ آہستہ سب اپنی تیاریاں مکمل کر کے ہال کے لیے نکلنے لگے۔ فاطمہ اور افغان کو بھی بھیج دیا تھا اس نے۔۔۔ ارمغان تایا اور فرقان لالہ بس اپنی گاڑی میں نکلنے ہی والے تھے۔۔۔ اسفند بھی اپنی گاڑی کی جانب بڑھ رہا تھا۔۔۔
"تم کب تیار ہو گی لالہ رخ؟ دیر ہو جائے گی"
اس نے اپنے کپڑے تو پہن لیے تھے لیکن ابھی چہرہ ویسے ہی سادہ تھا اور بال کھلے ہو کر کمر پر گرے ہوئے تھے۔
"آپ جائیں لالہ۔۔۔ میں ڈرائیور کے ساتھ آ جاؤں گی۔۔۔ آپ کو دیر ہو رہی ہے۔۔۔ میں بس تھوڑی دیر میں آتی ہوں تیار ہو کر۔۔۔"
اسفند نے اس کی بات سن کر سر ہلایا تھا۔ پھر اپنی سجی ہوئی گاڑی نکال لے گیا۔ آج تو بارات بھی ایک ہی گھر سے تھی اور رخصتی بھی۔۔۔ اسی لیے انہیں کوئی پریشانی نہیں تھی کیونکہ لڑکے اور لڑکی والے تو وہ خود ہی تھے۔۔۔
رُخ بھی جلدی سے زینے چڑھتی اپنے کمرے میں چلی آئی۔ اس نے آج گہرے مہرون رنگ کا فراک زیب تن کر رکھا تھا۔ فراک کا گلا اس کی گردن تک بند تھا۔ گردن تک بند گلے پر سنہرے موتیوں سے سجی کڑھائی جگمگا رہی تھی۔ چوڑی دار سنہری ہی پجامہ پہنے وہ جلدی جلدی میک اپ کر رہی تھی۔۔۔ پھر سب سے آخر میں مسکارے کو بہت احتیاط سے سیاہ پلکوں پر سجانے لگی۔۔۔ اس کا سنہرا کامدار دوپٹہ بیڈ پر سلیقے سے رکھا ہوا تھا اور اب وہ بالوں کو آگے کیے ان میں تیزی سے برش چلا رہی تھی۔۔۔
اس نے ایک بھاری جھمکا اٹھا کر کان میں ڈالا لیکن جیسے ہی ہاتھ بڑھا کر دوسرا جھمکا اچکنا چاہا تو سنگھار آئینے سے انگلیاں ٹکرا گئیں۔۔۔ وہ ادھر ادھر دیکھنے لگی۔۔۔ ابھی تو یہیں تھا۔۔۔ اس نے بالوں کو ایک طرف ڈالا ہوا تھا اور اپنا جھمکا زمین پر ڈھونڈتی وہ کمرے سے باہر چلی آئی تھی۔۔۔
گھر مہمانوں سے خالی ہو چکا تھا اور اب ہر جانب خاموشی پھیل گئی تھی۔۔۔ وہ واپس کمرے کی جانب پلٹی۔۔۔ خالی کان کی لو اب تک ہاتھ سے تھام رکھی تھی۔۔۔ یکایک وہ کمرے کا دروازہ بند کرتی جیسے ہی مڑنے لگی کسی نے اپنا جوتا دروازے میں اٹکایا تو وہ یکدم پیچھے ہٹی۔۔۔ لو کو چھوتا ہاتھ دروازے کی جانب بڑھا لیکن کوئی پہلے ہی اسے کھول کر اندر داخل ہو رہا تھا۔۔۔
"کیا یہ ڈھونڈ رہی ہیں آپ۔۔۔؟"
سفید کرتا شلوار میں ملبوس، سیاہ ویسٹ کوٹ پہنے، بالوں کو پیچھے کی جانب جمائے، بھوری آنکھوں سے مسکراتا ہوا وہ اسی سے مخاطب تھا۔ اسکی آنکھیں حیرت سے پھیلی تھیں۔۔۔ اسے ارسل کو یہاں اس وقت دیکھنے کی امید نہیں تھی۔۔۔
"آپ یہاں کیا کر رہے ہیں۔۔۔؟"
اس نے اگلے ہی پل جلدی سے اپنا رخ موڑا تھا۔ پھر بیڈ پر رکھا دوپٹہ اٹھا کر کندھے پر ڈالنے لگی۔ چہرہ سنجیدہ بنا لیا۔۔۔ وہ مسکراتا ہوا آگے بڑھ آیا تھا۔۔۔ پھر انگلیوں میں تھاما جھمکا اسکی نگاہوں کے سامنے کیا۔۔۔
"یہ لوٹانے آیا ہوں۔۔۔"
"ادھر دیں مجھے۔۔۔"
اس نے جھمکا لینے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو ارسل نے اپنا ہاتھ سر کے اوپر بلند کر لیا۔ وہ ایڑیاں اونچی کیئے جھمکا لینے کی سعی میں اسکے قریب چلی آئی تھی۔
"یہ مذاق کا وقت نہیں ہے ارسل۔ میرا جھمکا مجھے واپس دیں۔۔۔"
اس نے دانت کچکچائے تھے۔ وہ محظوظ ہوا۔ پھر اسکی آنکھوں میں جھانکا۔۔۔
"اور اگر میں واپس نہ کروں تو۔۔۔؟"
"تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا پھر۔۔۔"
"تمہیں اب بھی لگتا ہے کہ تم سے برا کوئی ہو گا۔۔۔؟"
اس نے بہت حیرت سے پوچھا تھا۔ لالہ رخ جو اسکے سینے پر ہاتھ رکھے، اونچی ہوئی جھمکالے رہی تھی یکدم ٹھہری۔۔۔ قہر آلود نگاہوں سے اسے گھورا۔۔۔
"آپ ہیں ناں۔ کسی اور کی کیا ضرورت بھلا۔۔؟ "
"میں برا ہوں۔۔؟ "
اس کے ایسے پوچھنے پر وہ ایک پل کو پگھلی تھی۔ بھوری معصوم آنکھیں اس پر جمائے وہ استفسار کر رہا تھا۔ اسے اگلے ہی پل اندازہ ہوا کہ وہ اس کے قریب کھڑی ہے۔ یکدم اس کی ایڑیاں توازن قائم نہ رکھ سکیں اور اس سے پہلے کہ وہ زمین بوس ہو جاتی۔۔ ارسل نے اس کے غیر متوازن ہوتے وجود کو جلدی سے تھاما تھا۔۔
" دیکھو۔۔ گرنے سے بچا لیتا ہوں تمہیں۔۔ اب بھی برا ہوں کیا۔۔؟ "
مسکراہٹ دبا کر تپاتے ہوئے پوچھا تو اس نے اسے اگلے لمحے خود سے دور ہٹایا تھا۔ وہ ہنستا ہوا پیچھے ہٹا۔۔ اس نے غصے میں پہنا جھمکا بھی اتارنے کے لیے ہاتھ اونچے کیے تو وہ جلدی سے قریب چلا آیا۔ تابعداری سے ہتھیلی اس کے سامنے پھیلائی۔۔ اس کی کشادہ ہتھیلی پر لالہ رخ کا جھمکا پڑا تھا۔ اس نے آہستہ سے ہاتھ نیچے کیے اور پھر سنگھار آئینے میں نظر آتے اس کے عکس کو خفگی سے دیکھا۔۔ جیسے ہی ہاتھ بڑھا کر جھمکا لینا چاہا تو وہ مٹھی بند کر گیا۔
"جواب دینے آیا ہوں تمہیں۔ کیا کچھ وقت مل سکتا ہے مجھے۔۔؟ "
اس کے کان کے قریب بہت ہلکی سی سرگوشی ابھری تھی۔ رخ کا دل کہیں اندر ڈوب کر ابھرا۔۔ یہ دل تو بہت پہلے سے خوفزدہ تھا۔۔ اندر جڑ پکڑتے خوف نے جیسے ہی اس کی سیاہ آنکھوں کو چھوا تو ارسل نے شرارت کا ہر ارادہ ترک کر دیا۔۔
"م۔۔ مجھے آپ کا ہر جواب قبول ہو گا۔۔ "
اس نے گردن جھکا کر خود کو کہتے سنا تھا۔ وہ مسکرایا۔۔ پھر مٹھی میں بند جھمکا انگلیوں میں تھاما۔۔ اس کی گردن پر گھر آئے بال پرے ہٹائے۔۔ کان کی لو ہلکے سے تھامی اور جھمکا اس میں ڈال کر مسکراہٹ دباتا پیچھے ہٹ گیا۔ لالہ رخ سانس روکے دیکھ رہی تھی اس کے عکس کو سنگھار آئینے میں۔۔ وہ کوئی چھوٹا بچہ تھا جس کی شریر سی خواہش پر وہ اسے کسی بڑے کی طرح خفا ہو کر دیکھ رہی تھی۔۔
"یہ کیا طریقہ ہے! کیوں تنگ کر رہے ہیں آپ مجھے؟ آزاد تو کر دیا ہے میں نے آپ کو، آپ کے ہر فیصلے میں! پھر اب کیا مصیبت آ گئی ہے کہ آپ میرا پیچھا نہیں چھوڑ رہے! دیکھیں۔ مسٹر ارسل افگن۔۔ میں آمنہ نہیں ہوں جو چپ چاپ آپ کو کسی کا بھی ہوتا ہوا دیکھ لوں گی۔ میں نے جو فیصلہ کیا ہے خود پر بہت ضبط کر کے کیا ہے لیکن آپ کا یہ بچکانہ رویہ میری سمجھ سے اب باہر ہوتا جا رہا ہے۔۔ ابھی کہ ابھی میرے سامنے سے چلے جائیں نہیں تو میں اپنا ارادہ بدل لوں گی اور چھین لوں گی آپ کو ہر انسان سے۔۔ جائیں ابھی کہ ابھی آپ اور ایک بات اور، مجھے انڈرایسٹیمیٹ مت کیجئے گا کیونکہ آپ ابھی مجھے جانتے نہیں ہیں "
"میں آپ کے ساتھ رہنا چاہتا ہوں رخ۔۔ "
اور وہ جو طیش میں ابلتی تیزی سے بولتی جا رہی تھی یکدم ساکت ہوئی۔ آنکھیں پوری کھول کر ارسل کو دیکھا۔۔ مسکارے سے بھیگی آنکھیں اگلے ہی پل بھیگنے لگی تھیں۔۔
"کیا کہا آپ نے؟ "
اس نے بے یقینی سے بس یہی پوچھا تھا۔ وہ تھک کر مسکراتا ہوا اس کی جانب بڑھ آیا۔۔ اور اس دفعہ وہ پیچھے نہیں ہٹی تھی۔۔ وہ اس لمحے کو کسی سحر کی مانند اگلے ہی پل بکھر کر غائب ہوتا نہیں دیکھنا چاہتی تھی۔۔
"میں چاہتا ہوں آپ مجھ پر قابض رہیں۔ میں چاہتا ہوں جھانسی کی رانی اپنے میمنے کو کسی بھی دوسرے کے حوالے نہ کرے۔ کیونکہ دوسرے اسے ویسا نہیں سمجھتے جیسا یہ لڑکی سمجھتی ہے۔۔ "
وہ چند پل بنا پلکیں جھپکائے اسے دیکھتی رہی تھی اور جیسے ہی اس کی سیاہ آنکھوں میں آنسوؤں کی نمی تیرنے لگی تو ارسل گھبرا گیا۔۔ جلدی سے ہاتھ اٹھا کر اسے رونے سے روکا۔۔
"کیوں اتنی اچھی تیاری کا بیڑہ غرق کرنے پر تلی ہوئی ہو۔۔؟ پہلے ہی مجھے سوچ سوچ کر ہول اٹھ رہے ہیں کہ اس ڈھائی کلو کے میک اپ کو لگانے میں تمہیں کتنا عرصہ لگا ہو گا۔۔ اب اسے بھی خراب کر کے بھوت بن کر شادی میں جانے کا ارادہ ہے تمہارا؟ دیکھو مجھے تو کوئی مسئلہ نہیں تمہارے پھیلے ہوئے مضحکہ خیز مسکارے سے لیکن لوگ کیا کہیں گے؟ میں تو تمہارے اجڑے، گھونسلے جیسے بالوں اور حلقوں میں ملفوف آنکھوں کے ساتھ بھی جا سکتا ہوں۔۔ "
وہ جو رونے کی بھرپور تیاری کر رہی تھی یکدم ہی ہنس دی۔ پھر چہرہ اٹھا کر بمشکل آنسو گرنے سے روکے۔ گہرے گہرے سانس لے کر اندر اٹھتے بھونچال کو قابو کرنا چاہا لیکن اسے رونا آئے جا رہا تھا۔
"زہر لگتے ہیں آپ مجھے ارسل۔۔ زہر۔۔! "
"بالکل۔۔ اسی زہر کے لیے کیسے کیسے معرکے سر کیے ہیں تم نے۔۔ نہیں؟ "
اس کی اس چوٹ پر لالہ رخ نے اس کے کندھے پر بھرپور دھپ رسید کی تھی۔ نازک میمنہ بلبلایا تھا۔
"آپ اپنی ان دہشت گردیوں سے باز آ جائیں۔۔ شوہر کا درجہ دیں مجھے۔۔ "
وہ اب ہنستی جا رہی تھی۔۔ گردن پیچھے پھینک کر۔ پھر انگلی کے پوروں سے پلکوں پر ٹھہرے آنسوؤں کو بمشکل صاف کرتی ارسل کی جانب دیکھنے لگی۔ وہ بھی آسودگی سے مسکراتا ہوا اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔
"میں ڈر گئی تھی۔۔ "
"جانتا ہوں۔۔ "
اس نے اس کے چہرے پر گھر آئی لٹ کان کے پیچھے اڑسی تو وہ نم آنکھوں سے مسکرا دی۔
"مجھے لگا میں کھو دونگی آپ کو۔۔ "
"مجھے بھی یہی لگا تھا۔۔ "
وہ دونوں اب دھیمی سی سرگوشی میں اعتراف کرتے جا رہے تھے۔ انا کی ساری دیواریں پگھل کر درمیان سے گرتی جا رہی تھیں۔ گھٹن کم ہونے لگی تھی۔۔ سانس کھل کر آ رہا تھا۔۔
"میں آپ کو کھونا نہیں چاہتی تھی۔۔ "
اور بہت ضبط کے باوجود بھی ایک آنسو ٹوٹ ہی گیا تھا اس کی آنکھ سے۔ آواز بھرا گئی تھی۔۔ ارسل نے انگوٹھے سے اس کا آنسو صاف کیا۔ پھر دونوں ہاتھوں سے اس کا چہرہ تھاما۔۔ اپنا ماتھا اس کے ماتھے کے ساتھ ٹکا دیا۔ دونوں آنکھیں موندے بالکل چپ ہوئے کھڑے تھے اب کہ۔۔ ان کی خاموشی ہر لفظ پر بھاری ہونے لگی تھی۔۔
"مجھے لگا تھا آپ مجھے چھوڑ دیں گے۔۔ "
اس نے آنکھیں کھول کر ارسل کو دیکھا تھا۔ وہ بھی نم آنکھیں لیے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔ ماتھے اب تک ایک ساتھ ٹکے ہوئے تھے۔۔
"تم نے مجھے باندھ دیا تھا رخ۔۔ تمہیں کیسے چھوڑ سکتا تھا میں۔۔؟ "
"آپ وعدہ کریں آئندہ مجھے چھوڑ کر جانے کی بات کبھی نہیں کریں گے۔۔ "
اس نے اس پگھلتے لمحے میں اس سے وعدہ مانگ لیا تھا۔ بھلا وہ انکار کیسے کر سکتا تھا۔۔ مسکرا کر سر اثبات میں ہلایا۔۔
"میں تمہیں کہانی سناؤں گا۔۔ شیر اور اس عجیب الخلقت انسان کی۔۔ "
اب وہ دونوں ہی نم آنکھوں کے ساتھ ہنس رہے تھے۔ ماتھے سے ماتھا ٹکائے۔۔ آسودگی سے سمٹے ہوئے۔
"اور میں آپکے لئے ہر اس ہاتھ سے لڑوں گی جو ظلم کے لئے آپکی جانب بڑھے گا۔ میں آپکی حفاظت کروں گی ارسل۔۔"
سنہری قمقموں سے سجے گھر میں جیسے ہر جانب پریاں اتر آئی تھیں۔ وہ پریاں اپنے ساتھ آنے والی ساعتوں کی خوشبو بھی چرا لائی تھیں۔۔ وہ دونوں بھی گزرتے وقت سے بے نیاز ایک دوسرے سے ساتھ نبھانے کے وعدے کر رہے تھے۔۔
"لالہ رخ۔۔ اگر ہم نے اور دیر کی ناں تو اسفند لالہ گھر ہی آجائیں گے اور تمہیں تو کچھ نہیں لیکن وہ مجھے ضرور جان سے مار دیں گے۔۔"
وہ ہنستی ہوئی اس سے الگ ہوئی تھی۔ پھر اس نے پلٹ کر اپنا چہرہ سنگھار آئینے میں دیکھا تو دنگ رہ گئی۔ اسکا چہرہ گلنار ہوا جا رہا تھا۔۔ یا اللہ۔۔ وہ کب سے ایسی لگ رہی تھی۔۔
"جی آپ کب سے سیب جیسے گالوں والی پٹھانی لگ رہی ہیں۔۔ اب چلیں جلدی۔۔ ویسے میں سوچ رہا تھا کہ ہمیں اپنی شادی دوبارہ کرنی چاہیئے نہیں؟ پچھلی میں تو اتنی لڑائیاں ہوئی ہیں کہ الامان!!"
"اور آپکو لگتا ہے کہ اس دوبارہ والی شادی کے بعد لڑائیاں نہیں ہوا کریں گی۔۔؟"
لالہ رخ نے محظوظ ہو کر پوچھا تھا۔ ارسل نے خوفزدہ نگاہوں سے اسے دیکھا۔۔
"کیا میں اپنا فیصلہ واپس لے سکتا ہوں۔۔؟"
لیکن وہ اسکے سوال پر اسے ہاتھ سے پکڑے باہر کی جانب لا رہی تھی۔ ساتھ ہنس بھی رہی تھی۔ خاموش پڑے گھر میں اسکے زندگی سے بھرپور قہقہے گونجنے لگے تھے۔۔
"اب آپ کسی بھی فیصلے کو واپس لینے کا حق کھو چکے ہیں ارسل جی۔۔"
وہ اسے چڑا رہی تھی۔ ارسل نے خفا بھوری آنکھوں سے اسے دیکھا تھا۔۔
"میرے پاس میری یونیورسٹی میں پڑھتی لڑکیوں کے نمبر اب تک موجود ہیں۔۔"
وہ اب دور ہوتے جا رہے تھے۔ انکی باتیں سرگوشی کی صورت سنائی دینے لگی تھیں۔ لالہ رخ اسے اب انگلی اٹھا کر چلتے ہوئے دھمکا رہی تھی اور وہ مسکراہٹ دبائے اسکی دھمکی سن رہا تھا۔ اسے اب یہ دھمکیاں ساری زندگی ہی سنتے رہنی تھیں۔۔
مہرون رنگ کے فراک میں ملبوس، سیاہ بالوں والی لڑکی اور اونچا سا پیارا لڑکا۔۔ ایک دوسرے کے ساتھ دور سے دیکھنے پر بھی بہت مکمل۔۔ بہت اچھے لگتے تھے۔ انکی کہانی کا آغاز ہوا چاہتا تھا۔ انکی سنہری، پیاری اور کیوٹ سی کہانی کا آغاز۔۔ جس کا ایک کردار چنگیز خان کے لشکر کا آخری سپاہی تھا۔۔ تو دوسرا۔۔ اپنے قلعے میں رہتا ایک معصوم سا ڈرپوک شہزادہ۔۔ قدرت نے کیا خوبصورت بنائی سے کام لیا تھا انکی جوڑی میں۔۔
وقت کی دھول ہوتی صدیوں میں جو گزر گیا تھا اور گزرنا باقی تھا۔ سب کچھ ایک کھلی کتاب میں درج تھا۔ بس اس کتاب کے ہر صفحے کے پلٹتے ہی زندگی پلٹ جایا کرتی تھی۔۔ جیسے ارسل اور لالہ رخ کی پلٹ گئی تھی۔ ایک دوسرے کے ساتھ سے۔۔!!
I hope ap KO ye ending pasand aai ho gi. Mazeed stories k liey jury rahiey Novel world k Saath.