Sultan Fateh

Sultan Fateh We provide Islamic Information and History
(1)

زندگی بدلنے کے لیے صرف دو عادتیں اپنا لیجیےزندگی میں بڑی تبدیلی کے لیے بڑے اقدامات نہیں بلکہ چند منٹ کی سچی عبادت کافی ہ...
06/08/2026

زندگی بدلنے کے لیے صرف دو عادتیں اپنا لیجیے

زندگی میں بڑی تبدیلی کے لیے بڑے اقدامات نہیں بلکہ چند منٹ کی سچی عبادت کافی ہوتی ہے۔

پہلی عادت: فجر کے بعد دعا
فجر کے بعد 2 منٹ اللہ سے نیکی، تقویٰ، گناہوں سے حفاظت اور برکت کی دعا کریں۔

دوسری عادت: سونے سے پہلے محاسبۂ نفس
دن کا جائزہ لیں: کیا نیکی یا گناہ ہوا؟ زبان، نظر اور دل کا حساب لیں، اور سچے دل سے توبہ کر کے سو جائیں۔

40 دن یہ معمول اپنائیں، ان شاء اللہ دل اور زندگی میں واضح تبدیلی محسوس ہوگی۔

قرآن و سنت کی مزید اصلاحی تحریروں کے لیے سلطان فاتح پیج کو فالو کریں۔

اللہ ہمیں عمل کی توفیق دے۔ آمین۔

اس پیغام کو دوسروں تک پہنچائیں۔

04/08/2026

*ایک سبق آموز واقعہ...!*✍️

خلیفہ ہارون رشید ایک بار حج کرنے گئے، ان کے ہمراہ بغداد کے حاجیوں کا ایک قافلہ تھا۔ واپسی کے وقت کوفہ میں ہارون رشید کا گزر ایک ایسی جگہ سے ہوا جہاں حضرت بہلول دانا (مجذوب) کو بچے پریشان کر رہے تھے۔ خلیفہ کی سواری نزدیک پہنچی تو بچے دیکھ کر بھاگ گئے اور گلیوں میں چھپ گئے۔ ہارون رشید ایک شاندار اونٹنی پر ہودج میں سوار تھے، شاہی کروفر اردگرد تھا اور ہودج پر پردہ پڑا ہوا تھا۔ حضرت بہلول نے دیکھا تو بلند آواز سے پکارا:

یا امیر المومنین! یا امیر المومنین!

ہارون رشید نے ہودج کا پردہ ہٹایا اور کہا: لبیک یا بہلول! لبیک یا بہلول!

حضرت بہلول: اے امیر المومنین! ہم سے ایمن بن نائل نے قدامہ بن عبداللہ عامری سے روایت کیا۔ قدامہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منیٰ میں ایک ایسے اونٹ پر سوار دیکھا جس پر بوسیدہ سا کجاوہ تھا، اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کے باعث نہ لوگوں میں "ہٹو بچو" تھی، نہ مار دھاڑ۔ لہٰذا اے امیر المومنین! آپ کے لیے تواضع اور انکساری، تکبر اور برتری جتانے سے بہتر ہے۔

خلیفہ ہارون رشید یہ سن کر رونے لگا، اس کے آنسوؤں کے قطرے زمین پر گرے اور عرض کیا: اے بہلول! مجھے کچھ نصیحت فرمائیے۔ انہوں نے دو شعر سنائے جن کا مفہوم ہے:

نعمتِ دہر پہ اے دوست نہ ہرگز اترا،
عمر بھی ایک دیا ہے کہ جو بجھ جائے گا۔
لے کے میت جو چلا گورِ غریباں آج،
بس اسی طرح تجھے کل کوئی پہنچائے گا۔

یہ سن کر خلیفہ اور رونے لگا اور کچھ مزید کہنے کی درخواست کی۔

حضرت بہلول: امیر المومنین! جسے اللہ تعالیٰ مال و دولت اور حسن و جمال سے نوازے، اور وہ اپنی دولت راہِ مولا میں خرچ کرے اور حسن و جمال کو حرام سے بچائے، دفترِ مولا میں اس کا نام ابرار کی فہرست میں لکھا جائے گا۔

خلیفہ: آپ نے نہایت قیمتی بات فرمائی اور انعام کے لائق کلام کیا۔

حضرت بہلول: اپنا انعامی مال اسی کو واپس کر دو جس سے لیا ہے، مجھے ضرورت نہیں۔

خلیفہ: اگر آپ کے ذمے کوئی قرض ہو تو میں ادا کر دوں؟

حضرت بہلول: دین سے دین کی ادائیگی کیا ہوگی؟ آپ حق داروں کا حق انہیں دیں اور نفس کا حق ادا کریں۔

خلیفہ: اگر قبول کیجیے تو کچھ وظیفہ مقرر کر دوں؟

حضرت بہلول: (آسمان کی جانب سر اٹھاتے ہوئے) امیر المومنین! ہم اور آپ دونوں اللہ ہی کے بندے ہیں، پھر یہ کیسے ممکن کہ اللہ تعالیٰ آپ کو یاد رکھے اور مجھے فراموش کر جائے۔

ہارون رشید نے یہ سن کر محمل کا پردہ گرا دیا اور سواری آگے روانہ کی۔ اس واقعے کو حضرت عبداللہ بن مہران رحمۃ اللہ علیہ نے روایت کیا ہے۔
(روض الریاحین)

31/07/2026

_*وہ کیسی تدفین تھی*_

یہ ایک باکردار بہن *امانی* کی زندگی کے بارے میں ہے....

امانی ایک مرکز کی ڈائریکٹر تھیں جہاں قرآن مجید حفظ کروایا جاتا تھا۔ وہ اپنی تمام محفلوں کو، چاہے وہ گھر کی ہوں، کام کی ہوں، یا کسی بھی قسم کی ملاقات، ایک آیتِ کریمہ پر روک کر قرآن کا درس، یا قرآن کا کوئی معجزہ بیان کر کے شروع کرتی تھیں۔

شعبان کے آخری مہینے میں انہیں فالج کا دورہ پڑا۔
اس کے بعد انہیں ہسپتال داخل کروا دیا گیا۔

ان کی سہیلی بتاتی ہیں کہ جب انہیں مشینوں اور فیڈر سے کچھ راحت ملتی تو وہ ایک کمرے میں جاتیں اور اپنے کمرے میں قرآن کا درس دینے کے لیے بلاتیں۔ اور اگر وہ مشینوں سے لگی ہوتیں تو کمرے کے اندر والے فون سے دوسرے کمروں والوں کو اپنے قرآن کے درس کے لیے دعوت دیتیں۔

امانی قرآن کی حافظہ تھیں۔
ایک دن ان کی سہیلی نے ان کا حال پوچھنے کے لیے فون کیا تو امانی نے ان سے ایک درخواست کی...
کہنے لگیں: "میں چاہتی ہوں کہ تم میرا قرآن سنو تاکہ میں دہرا لوں۔"
انہیں ڈر تھا کہ بیماری کی وجہ سے ان کا انتقال نہ ہو جائے۔

سہیلی نے کہا "ٹھیک ہے فکر نہ کرو، میں روز تمہیں کال کروں گی اور سنوں گی۔"
امانی نے کہا: "نہیں، نہیں، نہیں۔
میں چاہتی ہوں کہ تم میرے ساتھ ہسپتال میں رہو اور میرے قریب رہو تاکہ مجھے قرآن کی مجلس کا احساس ہو اور میں اس کا ماحول محسوس کروں۔"

سہیلی نے ان کی بات مان لی، اور وہ دوپہر سے لے کر نمازِ عشاء تک ان کے پاس آ کر بیٹھتیں اور ان کا قرآن دہراتیں۔

پھر رمضان آ گیا۔
ڈاکٹروں نے انہیں روزہ رکھنے سے منع کر دیا۔
لیکن انہوں نے ضد کی اور کہا، "نہیں، اللہ کی قسم! میں رمضان کے روزے رکھوں گی۔"
ڈاکٹروں نے کہا: "تم مر جاؤ گی!!"

رمضان کے دوسرے دن ان کا انتقال ہو گیا۔
انتقال کے وقت ان کی سہیلی ان کے پاس تھی۔
امانی کی سہیلی کہتی ہیں،
امانی نے جب جان دینا شروع کی تو ان کی زبان پر یہ آیت جاری تھی:
*"وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِّلَّهِ"*
_ترجمہ: اور جو لوگ ایمان والے ہیں وہ اللہ سے سب سے زیادہ محبت کرتے ہیں۔_
سورہ البقرہ: 165

سہیلی کہتی ہیں، امانی کی آواز بلند سے بلند تر ہوتی گئی جب وہ اس آیت کو دہراتی رہیں،،
انہوں نے اپنی آواز کی انتہا تک پہنچ کر یہ آیت دہرائی:
*"وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِّلَّهِ"*
پھر آہستہ آہستہ ان کی آواز دھیمی ہونے لگی، اور وہ ابھی تک یہی آیت دہرا رہی تھیں۔
یہاں تک کہ وہ فوت ہو گئیں،
وہ قرآن کو اپنے ہاتھ میں پکڑے ہوئے دنیا سے رخصت ہوئیں۔

*لا الہ الا اللہ*

یہ کیسی موت ہے، اور یہ کیسا انجام ہے؟
*سبحان اللہ*

امانی کو غسل دینے کے لیے غسل خانے لے جایا گیا۔
غسل دینے والی عورت نے ان کے ہاتھ سے قرآن چھڑوانے کی کوشش کی، لیکن وہ نہ کر سکی۔

شیخ خالد الشہری رحمہ اللہ کو بلایا گیا۔ جو انہیں جانتے تھے۔
شیخ نے کہا: "ناممکن، ناممکن۔
میں یقین نہیں کروں گا جب تک خود نہ دیکھ لوں،،"
لوگوں نے کہا: "آئیں اور خود دیکھ لیں۔"
انہوں نے امانی کو کپڑے سے ڈھانپ دیا اور شیخ اندر آئے۔

انہوں نے امانی کو ڈھانپ دیا جبکہ ان کی روح اپنے خالق کی طرف لوٹ گئی تھی۔
وہ زندگی میں پردے کی حفاظت کرتی رہیں، تو اللہ نے ان کی موت کے بعد بھی ان کے پردے کی حفاظت کی۔

جیسے ہی شیخ نے یہ منظر دیکھا وہ گھٹنوں کے بل گر کر رونے لگے۔
اللہ کی قسم! یہ بہت اچھا انجام ہے۔
اسے غسل دو، کفن پہناؤ، اور اس کے قرآن کے ساتھ ہی دفن کر دو۔
چنانچہ واقعی ایسا ہی کیا گیا۔ انہیں غسل دیا گیا، کفن پہنایا گیا، اور ان کے قرآن کے ساتھ ہی دفن کر دیا گیا۔

یہ تھیں امانی اپنی زندگی میں۔
اور یہ ہے ان کا انجام۔

ہم انہیں نیک لوگوں میں شمار کرتے ہیں، اور اللہ ہی ان کا فیصلہ کرنے والا ہے۔
یہ ہیں *امانی العنزی*
اللہ ان پر رحم فرمائے۔ اور ان کا درجہ *عِلِّیِّین* میں بلند فرمائے... آمین

تو اے میرے بھائیو اور بہنو! ہم قرآن کے ساتھ کیا کر رہے ہیں؟
ہمارا انجام کیسا ہوگا؟؟

ہم اپنے موبائل ہاتھ میں لے کر سوتے ہیں، اور آنکھ کھلتے ہی سب سے پہلا کام موبائل کھولنا ہوتا ہے۔
دنیا نے ہمیں مصروف کر رکھا ہے۔
لیکن کب تک؟

اسے دوسروں تک پہنچائیں۔
شاید یہ ان دلوں کو ہلا دے جو قرآن سے دور ہو گئے ہیں۔
شاید یہ مصروف روحوں کو ہدایت دے دے کہ وہ رحمان کے کلام پر غور کریں۔

ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں وہی عطا فرمائے جو اس نے انہیں عطا فرمایا۔ آمین

28/07/2026

اے اللہ! مجھے بھی یہ خاص نعمت عطا فرما دیجیے۔

بیان کیا گیا ہے کہ ایک شخص سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا: اللہ نے آپ کو سلطنت عطا کی ہے، مجھے بھی اس میں سے کوئی عہدہ عطا کریں۔

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کیا تم نے قرآن پڑھا ہے؟

اس نے نفی میں جواب دیا تو سیدنا عمر فاروق نے کہا:

"إِنَّا لَا نُوَلِّي مَنْ لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ"
"جو شخص قرآن نہیں جانتا ہم کچھ نہیں دیتے۔"

وہ شخص واپس لوٹا اور اس نے عہدہ لینے کی نیت سے قرآن سیکھنا شروع کیا اور پھر سیکھنے میں خوب محنت کی۔ لیکن جب اس نے قرآن سیکھ لیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس نہ آیا۔

ایک دن سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی اس شخص پر نظر پڑی تو پوچھا: کیوں بھئی! ہم سے دوری کیوں اختیار کر لی؟

اس نے جواب دیا:

"لستُ ممن يهجر، ولكنِّي تعلَّمتُ القرآن، فأغناني الله عن عمر وعن باب عمر."

"میں نے آپ کو چھوڑا نہیں، بلکہ میں نے جب قرآن سیکھ لیا تو اللہ نے مجھے عمر اور عمر کے دروازوں دونوں سے ہی بے نیاز کر دیا۔"

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کس آیت نے آپ کو مستغنی کر دیا؟

اس شخص نے کہا:

"وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا ۝ وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِب"
(سورۃ الطلاق: 2-3)

ترجمہ:
"اور جو اللہ سے ڈرتا ہے، اللہ اس کے لیے (ہر مشکل سے) نکلنے کا راستہ پیدا فرما دیتا ہے، اور اسے ایسی جگہ سے رزق عطا فرماتا ہے جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوتا۔"

الکشف والبیان للثعلبی، دار التفسیر، 6/565
المحرر الوجیز لابن عطیہ، 5/334

**🌿 باادب… اللہ تعالیٰ کے ادب سے بڑھ کر کوئی ادب نہیں! 🌿**آج ہم لوگوں کے سامنے ادب کا بڑا خیال رکھتے ہیں، مگر کیا کبھی س...
02/07/2026

**🌿 باادب… اللہ تعالیٰ کے ادب سے بڑھ کر کوئی ادب نہیں! 🌿**

آج ہم لوگوں کے سامنے ادب کا بڑا خیال رکھتے ہیں، مگر کیا کبھی سوچا کہ **اپنے رب کے ادب کا کتنا خیال رکھتے ہیں؟**

کبھی ہنسی مذاق میں، کبھی غصے میں، اور کبھی بے دھیانی میں ہم **"الحمدللہ"، "ما شاء اللہ" اور "ان شاء اللہ"** جیسے عظیم کلمات ایسے موقعوں پر استعمال کر جاتے ہیں جہاں ان کا استعمال مناسب نہیں ہوتا۔

یاد رکھیں!

یہ وہی **"الحمدللہ"** ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم کی پہلی سورت کا آغاز فرمایا:

**﴿الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾**
*"تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا رب ہے۔"*
(سورۃ الفاتحہ: 2)

اللہ تعالیٰ وہ ذات ہے جس نے پوری کائنات کو پیدا فرمایا، آسمانوں اور زمین کو قائم رکھا، اور پھر انسان کو عزت بخشی۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

**﴿وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ﴾**
*"اور بے شک ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی۔"*
(سورۃ الإسراء: 70)

جب رب نے ہمیں اتنی عزت دی ہے، تو کیا ہمارا فرض نہیں کہ ہم اس کے نام، اس کے ذکر اور اس کی عبادت کا پورا ادب کریں؟

🤲 دعا مانگتے وقت عاجزی اختیار کریں۔
🤲 اللہ تعالیٰ کے سامنے دل کو ہر قسم کے تکبر، طنز اور بغض سے پاک رکھیں۔
🤲 کسی مسلمان کو نشانہ بنانے کے لیے دعا کو ذریعہ نہ بنائیں۔
🤲 اللہ کے مقدس ناموں اور مبارک کلمات کو صرف احترام اور تعظیم کے ساتھ استعمال کریں۔

**جس دل میں اللہ کا ادب آ جاتا ہے، اسی دل میں ایمان کی مٹھاس بھی اترتی ہے۔**

اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے نام، اپنے کلام اور اپنی عبادت کا حقیقی ادب نصیب فرمائے، اور ہر قسم کی بے ادبی سے محفوظ رکھے۔

**آمین یا رب العالمین۔**

📖 **"اور جو اللہ کی نشانیوں کی تعظیم کرتا ہے، تو یہ دلوں کے تقویٰ میں سے ہے۔"**
*(سورۃ الحج: 32)*

سلطان فاتح

🌙 **محرم الحرام کے 10 اہم اور مستند تاریخی واقعات**محرم الحرام اسلامی سال کا پہلا مہینہ اور اللہ تعالیٰ کے چار حرمت والے...
01/07/2026

🌙 **محرم الحرام کے 10 اہم اور مستند تاریخی واقعات**

محرم الحرام اسلامی سال کا پہلا مہینہ اور اللہ تعالیٰ کے چار حرمت والے مہینوں میں سے ایک ہے۔ اس مبارک مہینے سے متعلق یہ اہم اور مستند تاریخی حقائق ہر مسلمان کو معلوم ہونے چاہییں:

**1️⃣ محرم حرمت والا مہینہ ہے**
اللہ تعالیٰ نے محرم کو ان چار مہینوں میں شامل فرمایا جنہیں حرمت والا قرار دیا گیا۔
📖 **حوالہ:** سورۃ التوبہ (9:36)

**2️⃣ حضرت موسیٰؑ اور بنی اسرائیل کی نجات**
10 محرم (یومِ عاشوراء) کے دن اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰؑ اور بنی اسرائیل کو فرعون کے ظلم سے نجات عطا فرمائی۔
📖 **حوالہ:** صحیح بخاری، صحیح مسلم

**3️⃣ عاشوراء کے روزے کی فضیلت**
رسول اللہ ﷺ نے عاشوراء کا روزہ رکھا اور فرمایا کہ مجھے امید ہے یہ گزشتہ ایک سال کے (صغیرہ) گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔
📖 **حوالہ:** صحیح مسلم

**4️⃣ رسول اللہ ﷺ نے نو اور دس محرم کے روزوں کی ترغیب دی**
آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر آئندہ سال زندہ رہا تو نویں محرم کا روزہ بھی رکھوں گا۔
📖 **حوالہ:** صحیح مسلم

**5️⃣ اسلامی ہجری سال کا آغاز**
اسلامی کیلنڈر کا آغاز محرم سے ہوتا ہے۔ یہ فیصلہ خلیفۂ دوم حضرت عمرؓ کے دورِ خلافت میں کیا گیا۔

**6️⃣ حضرت عمر بن خطابؓ کی شہادت**
حضرت عمرؓ یکم محرم 24 ہجری کو اپنے رب سے جا ملے۔ ان کی شہادت اسلامی تاریخ کا ایک عظیم سانحہ ہے۔

**7️⃣ واقعۂ کربلا**
10 محرم 61 ہجری کو امام حسین بن علی اور ان کے جانثار ساتھیوں نے حق اور انصاف کی خاطر عظیم قربانی پیش کی۔

**8️⃣ اہلِ بیت کی استقامت**
کربلا کے بعد اہلِ بیت نے صبر، عزیمت اور دین پر ثابت قدم رہنے کی روشن مثال قائم کی۔

**9️⃣ محرم عبادت کا مہینہ ہے**
رسول اللہ ﷺ نے رمضان کے بعد محرم کے نفلی روزوں کو بہت فضیلت والا قرار دیا۔
📖 **حوالہ:** صحیح مسلم

**🔟 غیر مستند روایات سے احتیاط**
عوام میں مشہور بعض باتیں، جیسے 10 محرم کو حضرت آدمؑ کی توبہ، حضرت نوحؑ کی کشتی کا ٹھہرنا یا دیگر انبیاءؑ کے بعض واقعات، صحیح احادیث سے ثابت نہیں۔ اس لیے دین کی بات ہمیشہ مستند دلائل کے ساتھ بیان کرنی چاہیے۔

✨ **محرم الحرام ہمیں صبر، تقویٰ، اللہ پر توکل اور حق پر ثابت قدم رہنے کا درس دیتا ہے۔**

📌 اگر آپ محرم الحرام، اسلامی تاریخ اور مستند اسلامی معلومات پر مبنی مزید پوسٹس دیکھنا چاہتے ہیں تو **Sultan Fateh** کو فالو کریں اور اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ صحیح علم دوسروں تک بھی پہنچے۔

#عاشوراء ٰ

26/06/2026

*72 شہدائے کربلا - 21 اہلِ بیت + 51 اصحاب رضی اللہ عنہم*

*21 اہلِ بیت - بنو ہاشم*

*9 صاحبزادے حضرت علیؓ کے:*
1. حضرت حسینؓ بن علیؓ - امام حسینؓ، سید الشہداء
2. حضرت عباس بن علیؓ - (ابوالفضل العباس، علمدار)
3. حضرت جعفر بن علیؓ
4. حضرت عبداللہ بن علیؓ
5. حضرت عثمان بن علیؓ
6. حضرت عمر بن علیؓ
7. حضرت ابوبکر بن علیؓ
8. حضرت عبیداللہ بن علیؓ
9. حضرت محمد اصغر بن علیؓ - (بعض روایات میں)

*2 صاحبزادے حضرت حسینؓ کے:*
10. حضرت علی اکبر بن الحسینؓ
11. حضرت علی اصغر بن الحسینؓ - (عبداللہ الرضیع)

*3 صاحبزادے حضرت حسنؓ کے:*
12. حضرت قاسم بن الحسنؓ
13. حضرت ابوبکر بن الحسنؓ
14. حضرت عبداللہ بن الحسنؓ

*3 صاحبزادے مسلم بن عقیلؓ کے:*
15. حضرت محمد بن مسلم بن عقیلؓ
16. حضرت ابراہیم بن مسلم بن عقیلؓ
17. حضرت حمیدؓ بن مسلم بن عقیلؓ

*2 حضرت زینب بنت علیؓ کے بیٹے:*
18. حضرت عون بن عبداللہ بن جعفرؓ
19. حضرت محمد بن عبداللہ بن جعفرؓ

*2 دیگر ہاشمی:*
20. حضرت عبداللہ بن مسلم بن عقیلؓ - (بعض کتب میں)
21. حضرت محمد بن عبداللہ بن جعفر طیارؓ - (بعض روایات)

*51 اصحاب و انصار رضی اللہ عنہم*
1. حبیب بن مظاہر اسدی رضی اللہ عنہ
2. مسلم بن عوسجہ اسدی رضی اللہ عنہ
3. بریر بن خضیر ہمدانی رضی اللہ عنہ
4. حر بن یزید ریاحی رضی اللہ عنہ
5. زہیر بن قین بجلی رضی اللہ عنہ
6. وہب بن عبداللہ کلبی رضی اللہ عنہ
7. ام وہب رضی اللہ عنہا
8. عبداللہ بن یقطر رضی اللہ عنہ
9. سعد بن حارث انصاری رضی اللہ عنہ
10. ابوالحتوف بن حرث انصاری رضی اللہ عنہ
11. سلیمان بن عوف حضرمی رضی اللہ عنہ
12. قیس بن مسہر صیداوی رضی اللہ عنہ
13. عمرو بن قرظہ انصاری رضی اللہ عنہ
14. علی بن قرظہ انصاری رضی اللہ عنہ
15. حبیب بن عبداللہ نہشلی رضی اللہ عنہ
16. عبدالرحمن بن عبداللہ ارحبی رضی اللہ عنہ
17. جندب بن حجر خولانی رضی اللہ عنہ
18. حجاج بن مسروق جعفی رضی اللہ عنہ
19. نعیم بن عجلان انصاری رضی اللہ عنہ
20. سالم بن عمرو خثعمی رضی اللہ عنہ
21. جون بن حوی غفاری رضی اللہ عنہ
22. مجمع بن عبداللہ عائذی رضی اللہ عنہ
23. سوید بن عبداللہ عائذی رضی اللہ عنہ
24. نافع بن ہلال جملی رضی اللہ عنہ
25. سیف بن حارث جابری رضی اللہ عنہ
26. مالک بن عبداللہ جابری رضی اللہ عنہ
27. عامر بن مسلم عبدی رضی اللہ عنہ
28. سالم مولٰی عامر رضی اللہ عنہ
29. قاسم بن حبیب ازدی رضی اللہ عنہ
30. زاہر بن عمرو کندی رضی اللہ عنہ
31. بکر بن حی تیمی رضی اللہ عنہ
32. عمرو بن خالد صیداوی رضی اللہ عنہ
33. سعد مولٰی عمرو رضی اللہ عنہ
34. سعد بن عبداللہ حنفی رضی اللہ عنہ
35. جبلہ بن علی شیبانی رضی اللہ عنہ
36. مسعود بن حجاج تیمی رضی اللہ عنہ
37. عبدالرحمن بن مسعود تیمی رضی اللہ عنہ
38. عبداللہ بن بشر خثعمی رضی اللہ عنہ
39. یزید بن حصین ہمدانی رضی اللہ عنہ
40. عمیر بن عبداللہ ماذنی رضی اللہ عنہ
41. یزید بن زیاد کندی رضی اللہ عنہ
42. عابس بن شبیب شاکری رضی اللہ عنہ
43. شوزب بن عبداللہ ہمدانی رضی اللہ عنہ
44. شبیب بن عبداللہ نہشلی رضی اللہ عنہ
45. سلیمان بن کثیر خزاعی رضی اللہ عنہ
46. قارب بن عبداللہ ارحبی رضی اللہ عنہ
47. مقسط بن زہیر تغلبی رضی اللہ عنہ
48. کردوس بن زہیر تغلبی رضی اللہ عنہ
49. عمرو بن ضبیعہ ضبعی رضی اللہ عنہ
50. عبداللہ بن عمیر کلبی رضی اللہ عنہ
51. سوار بن ابی عمیر نہمی رضی اللہ عنہ

*(ان ناموں میں تاریخی کتب میں اختلاف ہے)*

*کل: 21 اہلِ بیت + 51 اصحاب = 72 شہداء رضی اللہ عنہم اجمعین*

*اہل سنت دیوبند عقیدہ:* تمام شہداء جنتی اور بلند مرتبہ والے ہیں۔ ہم ان سے محبت کرتے ہیں

25/06/2026

سن 11 ھجری جس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی عمر 7 سال تھی ،یعنی خالص بچپن کی عمر تھی ،

اس حساب سے سن 61 ھجری کو کربلا میں یزید کے مقابلے میں آکر شہید ہوتے وقت آپ کی عمر57 سال بنی ۔

گویا حضور کے وصال کے وقت سے کربلا کے معرکہ تک درمیان میں آپ کی عمر مبارک کے 50 سال کا طویل عرصہ گذرا ہے ۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آپ کی عمر کے یہ 50 قیمتی سال کہاں گذرے ؟

کیونکہ جب بھی حضرت حسین کا ذکر ہوتا ہے تو یا تو آپ کے بچپن کا ذکر ہوتا ہے مثلا ،

👈حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا نام خود حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے تجویز فرمایا۔

👈حضرت حسین رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ دوران نماز بحالت سجدہ حضور کے کاندھے پر سوار ہوئے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ طویل کردیا ۔

👈حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرات حسنین کو کاندھوں پر بٹھایاہوا ہے ، تو میں نے کہا واہ کیا خوب سوار ہے ، میری بات سن کر حضور نے فرمایا یہ بھی تو دیکھو کہ کیا خوب سواریاں ہیں ۔

👈حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار دوران خطبہ حضرات حسنین کو آتے دیکھا تو ممبر سے اتر کر دونوں نواسوں کو اپنی گود میں بٹھا لیا ۔

یاپھر

👈حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی عمر کے آخری ایام کا ذکر ہوتا ہے کہ جب آپ یزید کے مقابلے میں میدان میں آئے ۔

سوچنے کی بات تو ہے کہ باقی کی پوری عمر جو آپ کی حیات مبارکہ کا 87 فیصد حصہ بنتا ہے وہ آپ نے کہاں گذاری ؟

کس کے ساتھ گذاری ؟

کس کی ماتحتی میں گذاری ؟

کس خلیفہ کی خلافت کے تحت گذاری ؟

نمازیں کس مسجد میں پڑھیں ؟

کس کس امام کے پیچھے پڑھیں ؟

رشتہ کہاں کیا ؟

آپ کی بہن حضرت ام کلثوم کے لئے آپ کے گھر بارات کس کی آئی ؟

آپ کے دولہا بھائی کون بنے ؟

دوستی اگر کسی سے کی تو وہ کون کون تھے ۔

وظیفہ کس سے لیتے رہے ؟

وزیر مشیر کس کے بنے ؟

حضرت ابوبکر کی سوا 2سالہ مدت خلافت میں آپ کہاں تھے ؟

حضرت عمر کے پونے 11 سالہ مدت خلافت میں آپ کدھر تھے ؟

حضرت عثمان کے پونے 12 سالہ مدت خلافت میں آپ کہاں تھے ؟

حضرت علی کے پونے 5 سالہ دور خلافت میں کہاں مصروف رہے ؟

حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے سوا 19 سالہ دور حکومت میں آپ کہاں تھے ۔

ان تمام سوالوں کا جواب یہ ہے کہ آپ اس تمام طویل دورانیہ میں انہی تمام مقدس ہستیوں کے مقتدی ، رشتہ دار ، معاون ، وزیر ، مشیر ، حامی ، اور دست و بازو بنے رہے ۔

حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے لیکر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ تک سب کے ہاتھوں پر بیعت کی ہے آپ نے ۔

ان کے پیچھے نمازیں پڑھی ہیں آپ نے ۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے اپنی بہن حضرت ام کلثوم کا نکاح کرکے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ اپنی غیرت، محبت ، شادی ، غمی ، دوستی ،دشمنی اور رشتہ داریاں سب سانجھی کرلی تھیں آپ نے ۔

حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے اپنی بیٹی حضرت سکینہ کا نکاح حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پوتے زید بن عمرو سے کرکے

اور اپنی بیٹی فاطمہ بنت حسین کا نکاح حضرت عثمان کے پوتے عبداللہ بن عمرو سے کرکے حضرت عثمان سے سارے رشتے جوڑ رکھے تھے ۔

اسی طرح جب باغیوں نےحضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے گھر کا محاصرہ کیا تو آپ نے حضرت عثمان کے گھر کی چوکیداریاں کیں ۔

یہ سب وہ حقائق ہیں جن سے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی پوری عمر کنایہ ہے مگر اہلسنت اس 50 سالہ دور حسینیت سے متعلق نہ سوال اٹھاتے ہیں کہ یہ امت سے مخفی کیوں ہیں اور نہ ہی جواب تلاشتے ہیں ۔

جبکہ اہل تشیع تو مرکربھی یہ حقائق قوم کے سامنے نہیں لائیں گے ، کیونکہ اس صورت میں ان کے مذہب کی عمارت کا دھڑن تختہ ہو جائے گا ۔

سچ یہ ہے کہ حسینیت صرف یزید کے مقابلے میں آکر امر ہونے کا نام نہیں بلکہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے عملا یہ بھی ثابت کیا ہے کہ

حضرت صدیق اکبر کی اقتداء کا نام بھی حسینیت ہے ۔

حضرت عمر ، عثمان ، امیرمعاویہ کی امامت کو تسلیم کرنے کا نام بھی حسینیت ہے ۔

حضرت عمر ، حضرت عثمان سے رشتے داریاں کرنے کا نام بھی حسینیت ہے ۔

حضرت عثمان کے گھر کے چوکیدارے کا نام بھی حسینیت ہے ۔

اور تمام حضرات صحابہ سے محبت کرنے کانام بھی حسینیت ہے ۔

حسینیت کو صرف کربلا تک محدود کرکے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی باقی 50 سالہ حیات مبارکہ کو چھپانے والا حضرت حسین کا دشمن تو ہوسکتا ہے دوست کبھی نہیں۔۔۔۔!

 # کربلا: وہ دن جب حق تنہا تھا، مگر جھکا نہیں (آخری حصہ)دو محرم اکسٹھ ہجری...امام حسینؓ کا قافلہ کربلا پہنچ چکا تھا۔یہ ا...
25/06/2026

# کربلا: وہ دن جب حق تنہا تھا، مگر جھکا نہیں (آخری حصہ)

دو محرم اکسٹھ ہجری...

امام حسینؓ کا قافلہ کربلا پہنچ چکا تھا۔

یہ ایک سنسان میدان تھا، لیکن چند دن بعد یہی زمین تاریخ کے سب سے دردناک واقعات کی گواہ بننے والی تھی۔

ادھر دشمن کی فوج بڑھتی جا رہی تھی۔

ہزاروں سپاہی جمع ہوچکے تھے۔

اور ادھر امام حسینؓ کے ساتھ صرف چند درجن وفادار جانثار تھے۔

پھر وہ وقت آیا جب فرات کا پانی بند کردیا گیا۔

خیموں میں بچے تھے۔

ننھی بچیاں تھیں۔

بیمار افراد تھے۔

شدید گرمی تھی۔

اور پیاس ہر گزرتے لمحے کے ساتھ بڑھ رہی تھی۔

نو محرم کی رات آئی۔

امام حسینؓ نے اپنے تمام ساتھیوں کو جمع کیا۔

فضا خاموش تھی۔

دل بوجھل تھے۔

آپؓ نے فرمایا:

"جو جانا چاہتا ہے چلا جائے۔ دشمن صرف مجھے چاہتا ہے۔ میں کسی کو اپنے لیے جان دینے پر مجبور نہیں کرتا۔"

یہ سن کر ہر طرف سے وفاداری کی صدائیں بلند ہوئیں۔

کسی نے ساتھ چھوڑنے کا سوچا تک نہیں۔

وہ رات عبادت، دعا، قرآن اور استغفار میں گزری۔

سب جانتے تھے کہ شاید یہ زندگی کی آخری رات ہے۔

پھر عاشورہ کی صبح طلوع ہوئی۔

فجر ادا کی گئی۔

صفیں ترتیب دی گئیں۔

امام حسینؓ نے آخری مرتبہ دشمن کو سمجھانے کی کوشش کی۔

آپؓ نے فرمایا:

"سوچو میں کون ہوں۔ کیا میں رسول اللہ ﷺ کا نواسہ نہیں؟"

لیکن جن دلوں پر دنیا غالب آ جائے، وہاں نصیحت اثر نہیں کرتی۔

پھر جنگ شروع ہوگئی۔

امام حسینؓ کے ساتھی ایک ایک کرکے میدان میں اترتے گئے۔

ہر شخص جانتا تھا کہ واپسی نہیں ہوگی۔

مگر کسی نے پیٹھ نہیں پھیری۔

حضرت حبیب بن مظاہرؓ شہید ہوگئے۔

حضرت زہیر بن قینؓ شہید ہوگئے۔

پھر اہلِ بیت کے نوجوان میدان میں اترنے لگے۔

حضرت علی اکبرؓ...

حضرت قاسمؓ...

اور دوسرے عزیز...

ایک ایک کرکے قربان ہوتے گئے۔

خیموں میں صبر تھا۔

آنکھوں میں آنسو تھے۔

اور دلوں میں اللہ پر بھروسہ تھا۔

پھر حضرت عباسؓ بچوں کے لیے پانی لانے نکلے۔

مگر واپس نہ آسکے۔

ان کی شہادت نے خیموں کو ہلا کر رکھ دیا۔

آخرکار وہ لمحہ بھی آگیا جب امام حسینؓ تنہا رہ گئے۔

چاروں طرف دشمن تھا۔

مگر چہرے پر خوف نہ تھا۔

زبان پر شکوہ نہ تھا۔

دل میں صرف اللہ کی رضا تھی۔

پھر نواسۂ رسول ﷺ نے جامِ شہادت نوش فرمایا۔

دشمن سمجھ رہا تھا کہ وہ جیت گیا ہے...

مگر حقیقت یہ تھی کہ اسی دن حق ہمیشہ کے لیے زندہ ہوگیا۔

سلطنتیں مٹ گئیں۔

بادشاہ ختم ہوگئے۔

لشکر بکھر گئے۔

لیکن کربلا آج بھی زندہ ہے۔

کیونکہ کربلا ہمیں سکھاتی ہے کہ حق کی خاطر کھڑا ہونے والا کبھی ہارتا نہیں، چاہے وہ تنہا ہی کیوں نہ رہ جائے۔

Address

Main City
Kahror Pakka
59340

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sultan Fateh posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share