10/09/2025
کراچی واقعی کراچی ہے
گزشتہ رات کراچی کی طوفانی بارش میں ایک عجیب و غریب مگر یادگار تجربہ ہوا۔ رات سوا ایک بجے دفتر سے نکلنے کے بعد پارکنگ میں کھڑی موٹر سائیکل بارش میں نہا کر گویا ضد پر اتر آئی کہ اب اسٹارٹ نہیں ہوگی۔ مجبوراً بائیک کو دھکیلتے ہوئے بارش سے بھیگی سڑک پر چلنے کا فیصلہ کیا۔ شہر میں سناٹا تھا، نورس چورنگی سنسان پڑی تھی۔
ابھی زیادہ فاصلے پر نہ گیا تھا کہ ایک نیک دل بائیک سوار نے رک کر پاک کالونی کے پیٹرول پمپ تک ٹوچنگ کر کے پہنچایا۔ پیٹرول ڈلوایا کہ شاید بائیک کو غیرت آ جائے مگر وہ اپنی ضد پر قائم رہی۔ بسم اللہ مارکیٹ پار کی تو ایک اور اجنبی مددگار ملا جس نے گولیمار تک دھکیل کر ساتھ دیا۔
لیاری ایکسپریس وے کے قریب سیوریج زدہ پانی کا تالاب راستہ روک رہا تھا۔ ریکسر پل پر دو نوجوان ملے، جنہوں نے بائیک کو دھکا دے کر پل پار کرا دیا۔ گارڈن کے مرکزی دروازے تک پہنچنے کے بعد دو اور بھلے لوگ ساتھ ہوئے، جنہوں نے گزدرآباد کے ایک مکینک تک پہنچایا۔
مکینک نے دیر رات اور بارش کا فائدہ اٹھاتے ہوئے الٹی سیدھی باتیں شروع کر دیں کہ کوائل کھلے گا، کرنٹ لگے گا، یہ ہوگا وہ ہوگا۔ انداز سے ہی لگ گیا کہ سامنے والے کو ایڑا سمجھ کر پیڑہ کھانے کے چکر میں ہے۔ سو بغیر کچھ کروائے آگے بڑھ گیا۔
رنچھوڑ لائن کے قریب ایک اور شخص ملا، جس نے کرائسٹ چرچ تک ٹوچنگ کر کے ساتھ دیا۔ بھیم پورہ کے قریب ایک گورے چٹے میمن نوجوان نے آواز دی:
“کیا ہوا بھائی صاحب؟”
جب اسے بتایا کہ سائٹ ایریا سے اس حال میں آ رہا ہوں تو وہ حیران رہ گیا۔ مسکرا کر بولا: “میرے ساتھ بھی یہی ہوا تھا۔ بارش کے پانی نے سوئچ بند کر دیا تھا۔ فکر نہ کریں، ابھی ڈائرکٹ کر لیتے ہیں۔” پھر اپنے دوست کو آواز دی، تار نکالی اور چند لمحوں بعد موٹر سائیکل اسٹارٹ کر دی۔ ساتھ ہی یہ بھی سمجھا دیا کہ آئندہ ایسی صورتحال میں کیا کرنا ہے۔
اس نوجوان کا نام مبین تھا۔ وہ مبین، جو نہ صرف ایک اجنبی کی مشکل آسان کر گیا بلکہ یہ بھی ثابت کر گیا کہ کراچی کی اصل روح ابھی زندہ ہے۔
کراچی صرف بارش، سیوریج اور مسائل کا شہر نہیں۔ یہ ان بھلے لوگوں کا شہر بھی ہے جو اجنبی کو اپنوں کی طرح سہارا دیتے ہیں۔ جن کے رویے اس اندھیرے میں روشنی کی کرن ہیں۔
واقعی، ایسے نوجوان کراچی کی شان ہیں۔
ان سب اجنبی مددگاروں کو لال سلام
امجد بلیدی (10ستمبر2025)