15/04/2023
پچھلے سال سرگودھا سے ایک بہن میرے ہاں آئیں - ان کی آمد کا مقصد اپنی چھوٹی بہن کو بی - اے کی انگلش کے پیپر میں پاس کروانا تھا - انہوں نے مجھے بتایا کہ ہم چھ بہنیں ہیں سب سے بڑی میں ہوں میری عمر 40 سال کے قریب ہے
کافی سال پہلے ہمارے ماں باپ فوت ہوچکے ہیں - اگر میری بہن بی - اے پاس کر لے تو اسے کیسی پرائیویٹ سکول میں ملازمت بھی مل جائے گی اور ہوسکتا ہے کوئی مناسب جگہ اسکی شادی ہوجائے یہ الفاظ اس نے بہت دکھ بھرے لہجے میں کہے اور اسکی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے
میں نے ان کا کام کردیا تو وہ دعائیں دیتے ہوئے رخصت ہونے لگیں- میں نے کہا آپ کیوں رو رہی ہیں کیا آپ کو مجھ سے کوئی شکایت ہے ؟
تو بہن نے کہا کہ نہیں سر دراصل ہم چھ کی چھ بہنیں ابھی تک کنواری بیٹھی ہیں شادی کے انتظار میں ہماری عمریں گزر رہی ہیں
میری تو عمر گزر چکی ہے میں بس یہ چاہتی ہوں کہ مجھے سے چھوٹی بہنوں کے رشتے ہوجائیں
ماں باپ کے جانے کے بعد رشتہ داروں نے ہم سے تعلق ختم کردیا
لوگ ہمیں یتیم لاوارث غریب سمجھ کر ہم سے شادی نہیں کرتے چند رشتے آتے بھی ہیں تو جہیز کی بہت زیادہ ڈیمانڈ ہوتی ہے جو ہم پورا نہیں کرسکتے
ہم ساری بہنیں پرائیویٹ سکولز میں پڑھا کر اور سلائی کڑھائی سے گھر چلا رہی ہیں
مجھے یہ سب سن کر بہت دکھ ہوا میں سوچنے پر مجبور ہوگیا کہ ہمارا معاشرہ نکاح جیسے مقدس رشتے کے لیے پیسے کو کیوں ترجیح دیتا ہے ؟
میری نوجوانوں سے گزارش ہے خدارا غریب اور یتیم لڑکیوں سے نکاح کریں خدا کی قسم یہ آپ کے گھروں کو جنت بنادیں گی اور خدا بھی راضی ہوگا کسی بے سہارا کو سہارا دینا اجر عظیم ہے
اے خدا میرا سینہ اور بھی کشادہ کر
میری بیٹیاں مجھ کو آسماں سمجھتی ہیں !