Information Technology Experts

Information Technology Experts انفارمیشن ٹکنالوجی ، موبائل فونز ، کمپیوٹر کے بارے میں جاننے کے لیے ایس پیج کو لائیک کریں۔

اس کیلکولیٹر پر موجود ان خاص بٹنوں کے استعمال اور فوائد کو تفصیل سے سمجھاتے ہیں:1. GT (Grand Total) بٹنیہ بٹن ان تمام نت...
04/04/2025

اس کیلکولیٹر پر موجود ان خاص بٹنوں کے استعمال اور فوائد کو تفصیل سے سمجھاتے ہیں:

1. GT (Grand Total) بٹن

یہ بٹن ان تمام نتائج (totals) کو جمع کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے جو آپ نے کیلکولیٹر پر کیے ہوں۔ مثال کے طور پر، اگر آپ نے کئی الگ الگ حسابات کیے اور ان سب کا مجموعہ ایک ساتھ دیکھنا چاہتے ہیں، تو GT بٹن دبانے سے تمام حسابات کا گرینڈ ٹوٹل نظر آئے گا۔

2. M+ (Memory Plus) بٹن

یہ بٹن کسی بھی نمبر کو میموری میں جمع (add) کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
استعمال: اگر آپ نے "50" لکھا اور پھر M+ دبایا، تو یہ نمبر کیلکولیٹر کی میموری میں محفوظ ہو جائے گا۔ اگر آپ بعد میں "30" لکھ کر دوبارہ M+ دبائیں، تو اب میموری میں "80" محفوظ ہوگا (50+30=80)۔

3. M- (Memory Minus) بٹن

یہ بٹن میموری میں موجود نمبر میں سے کوئی بھی نیا نمبر منفی (subtract) کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
استعمال: اگر میموری میں پہلے سے "80" موجود ہے اور آپ "20" لکھ کر M- دبائیں تو میموری میں "60" باقی رہ جائے گا (80-20=60)۔

4. MRC (Memory Recall & Clear) بٹن

یہ بٹن دو کام کرتا ہے:

پہلی بار دبانے سے میموری میں محفوظ کردہ نمبر دکھاتا ہے (Recall)۔

دوبارہ دبانے سے میموری صاف کر دیتا ہے (Clear)۔

5. +/- (Plus Minus) بٹن

یہ بٹن کسی بھی نمبر کی علامت (sign) کو تبدیل کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
استعمال: اگر آپ نے "25" لکھا ہے اور +/- دبائیں، تو یہ "-25" میں بدل جائے گا، اور دوبارہ دبانے سے پھر "+25" ہو جائے گا۔

6. MU (Mark-Up) بٹن

یہ بٹن زیادہ تر بزنس میں منافع (profit margin) نکالنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
استعمال: اگر کسی چیز کی قیمت 500 روپے ہے اور آپ اسے 20% منافع کے ساتھ بیچنا چاہتے ہیں تو یوں کریں:

1. 500 لکھیں

2. MU دبائیں

3. 20 لکھ کر % دبائیں

4. کیلکولیٹر خود بخود وہ قیمت دکھائے گا جس پر آپ کو وہ چیز بیچنی ہے

✔ دکانداروں اور کاروباری حضرات کے لیے MU بٹن بہت کارآمد ہے۔
✔ M+, M-, اور MRC ان لوگوں کے لیے مفید ہیں جو بڑے حسابات کو میموری میں محفوظ رکھ کر بعد میں استعمال کرنا چاہتے ہیں۔
✔ GT ان لوگوں کے لیے فائدہ مند ہے جو مختلف حسابات کا گرینڈ ٹوٹل نکالنا چاہتے ہیں۔

یہ بٹن کیلکولیٹر کو مزید طاقتور اور کارآمد بناتے ہیں، خاص طور پر کاروباری حضرات اور طلبہ کے لیے۔ شکریہ 🥰

۔LDI کمپنیوں کے لائسنسوں کی عدم تجدید سے ٹیلی کام بلیک آؤٹ کا خدشہآج کا اخباراہم خبریں24 اگست ، 2024۔LDI کمپنیوں کے ل...
24/08/2024

۔LDI کمپنیوں کے لائسنسوں کی عدم تجدید سے ٹیلی کام بلیک آؤٹ کا خدشہ
آج کا اخباراہم خبریں24 اگست ، 2024

۔LDI کمپنیوں کے لائسنسوں کی عدم تجدید سے ٹیلی کام بلیک آؤٹ کا خدشہ
اسلام آباد (ساجد چوہدری )پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے لانگ ڈسٹنس انٹرنیشنل (ایل ڈی آئی) کے لائسنسوں کی ممکنہ تجدید نہ ہونے کی وجہ سے بڑے پیمانے پر ٹیلی کام بلیک آؤٹ کا خدشہ ظاہر کردیاہے ،ٹیلی کام سیکٹر میں بڑھتے ہوئے بحران سےپارلیمنٹ کو بھی خبر دار کر دیا .

دستاویز کے مطابق قائمہ کمیٹی آئی ٹی کے حالیہ اجلاس میں پیش کردہ تفصیلات کے مطابق ایل ڈی آئی لائسنسوں کی عدم تجدید سے 50 فیصد موبائل ٹریفک متاثر ہوگی، کئی موبائل ٹاورز آؤٹ آف سروس ہوجائیں گے، پی ٹی اے دستاویز کے مطابق دس فیصد انٹرنیٹ ٹریفک متاثر ہوگی.

ملک میں 40 فیصد اے ٹی ایم کام کرنا چھوڑ دیں گے، لائسنسوں کی تجدید نہ ہونے سے پاکستان کی طرف آنیوالی عالمی ٹریفک متاثر ہوگی ، سروس دیگر آپریٹرز پر شفٹ کرنے سے عالمی کمیونیکیشن متاثر ہوسکتی ہے،ٹیلی کام کمپنیوں اور وزارت آئی ٹی کے درمیان بقایا جات کے معاملے پر تنازعہ ہے،وزارت آئی ٹی کی اسٹیئرنگ کمیٹی بھی بقایا جات کی وصولی کا فارمولا طے نہیں کرسکی

پی ٹی اے نے لائسنس کی تجدید کیلئے بقایا جات کی ادائیگی کی شرط رکھی ہے، تین سے چار ایل ڈی آئی کمپنیوں کے لائسنس کی میعادد ختم ہوچکی ہے ، کچھ ایل ڈی آئی کمپنیوں کے لائسنس کی میعاد آنیوالے مہینوں میں ختم ہوگی ۔

اپنے بجلی کے میٹر سے اپنے یونٹ خود چیک کریں اور ذائد بل سے بچیں۔اسلام علیکم ورحمتہ اللّٰہ وبرکاتہ۔آجکل تقریباً ہر بندہ ب...
05/08/2024

اپنے بجلی کے میٹر سے اپنے یونٹ خود چیک کریں اور ذائد بل سے بچیں۔
اسلام علیکم ورحمتہ اللّٰہ وبرکاتہ۔
آجکل تقریباً ہر بندہ بجلی کے بل کے حوالے سے پریشان ہے۔ اگر یونٹ 200 سے اوپر ہو جائیں تو بل دو سے تین گنا بڑھ جاتا ہے اور پھر اگلے چھ ماہ کے لیے یونٹ کا ریٹ ذیادہ چارج ہوتا ہے۔ ایک عام بندے کو بجلی کے میٹر سے اندازہ نہیں ہوتا کہ کتنے یونٹ چل چکے ہیں اور کتنے باقی ہیں۔
آج کی پوسٹ میں میں بہت ہی آسان طریقے سے یہ سمجھاؤں گا کہ آپ خود سے کیسے اپنے بجلی کے میٹر سے اپنے یونٹ چیک کر سکتے اور کیسے یہ حساب کر سکتے ہیں کہ اس ماہ آپ کے ٹوٹل یونٹ کہیں 200 سے اوپر تو نہیں جائیں گے۔
بجلی کے یونٹ چیک کرنے کے لیے آپ اپنے بجلی کے میٹر کو دیکھیں گے تو سکرین پر کچھ نمبر بار بار بدل رہے ہوتے ہیں۔یہ نمبر 1 سے 5 تک ہوتے ہیں جو باری باری تبدیل ہو رہے ہوتے ہیں۔ ان نمبر میں صرف آپ کو ایک نمبر ہی نوٹ کرنا ہے جو کہ Energy kWh ہے جو سکرین پر عموماً 2 نمبر پر آتا ہے۔ آپ تصویر 1 میں ایک میٹر کی تصویر دیکھ سکتے ہیں جس میں 13265 لکھا ہے۔ آپ نے ایشاریہ . سے پہلے پہلے کا نمبر ہی نوٹ کرنا ہے۔ یہ 13265 آج تک کے ٹوٹل یونٹ ہیں یعنی جب سے یہ میٹر لگا ہے اب تک 13265 یونٹ چلے ہیں لیکن ہمیں تو صرف اسی ماہ کے یونٹ درکار ہیں تو اس کے لیے ہم یہ دیکھیں گے کہ جب آخری بار میٹر ریڈر نے ریڈنگ لی تھی وہ کیا تھی۔ یہ ریڈنگ آپ کو اپنے بل پر ملے گی۔ تصویر 2 میں آپ اس میٹر کا بل دیکھ سکتے ہیں اس بل میں موجودہ ریڈنگ(Present Reading)کو دیکھیں جو کہ 13183 ہے۔ تو ہم آج کی ریڈنگ سے یہ بل والی موجودہ ریڈنگ کو منفی کریں گے۔
13265 - 13183 = 82
تو یہ 82 کا مطلب یہ ہے کہ اب تک آپ کے نئے بل کے 82 یونٹ چل چکے ہیں۔
اب آپ کو یہ دیکھنا ہے کہ آپ کے میٹر کی ریڈنگ کس تاریخ کو ہونی ہے جیسا کہ آپ تصویر 2 میں دیکھ سکتے ہیں کہ اس بل کی ریڈنگ 19 تاریخ کو ہوتی ہے۔ آج کے دن 4 تاریخ ہے تو مطلب آدھا ماہ گزر چکا ہے اور 82 یونٹ ہیں تو اگر آپ نے جیسے گزشتہ 15 دن بجلی کا استعمال کیا ہے اگلے 15 دن بھی ایسا استعمال کیا تو آپ کے اس ماہ کے یونٹ 164 تک ہو سکتے ہیں جو کہ 200 سے کم ہیں۔ لیکن اگر آپ کے 15 دن کے یونٹ 100 یا 110 تک ہوتے تو پھر اگلے 15 دن بہت احتیاط کی ضرورت تھی تاکہ آپ کے یونٹ 200 سے اوپر نہ جائیں۔

امید ہے اس پوسٹ کو پڑھنے کے بعد ہر کوئی اس قابل ہو سکے گا کہ وہ خود اپنے بجلی کے یونٹ دیکھ سکے گا اور ذیادہ بل سے بچ سکے گا۔ بجلی کے یونٹ دیکھنے کے لیے آپ کو میٹر یا کسی تار کو ہاتھ لگانے کی ضرورت نہیں ہے آپ دور کھڑے ہو کر آسانی سے دیکھ سکتے ہیں۔ میٹر یا کسی تار کو ہاتھ لگانا خطرناک ہو سکتا ہے اس لیے احتیاط کریں۔
میری اس سے اگلی پوسٹ اس بارے میں ہو گی کہ آپ کیسے چیک کر سکتے ہیں کہ کہیں آپ کے میٹر سے بجلی چوری تو نہیں ہو رہی۔ ایسی معلوماتی اور کارآمد پوسٹس کے لیے فالو کر سکتے ہیں اور کوئی سوال ہو تو کمنٹ میں پوچھ سکتے ہیں۔

تحریر: محمد رضوان کمبوہ

Here are some of the most secure browsers of 2024 ¹:- Firefox: The only mainstream open-source browser with a thorough c...
22/07/2024

Here are some of the most secure browsers of 2024 ¹:
- Firefox: The only mainstream open-source browser with a thorough community research and scrutiny
- Epic: Has every privacy setting turned on by default
- Tor Browser: Prevents unauthorized snooping with the help of its built-in hidden relay servers
- Brave: A Chromium-based privacy browser with a built-in ad-blocker and password manager
- Waterfox: An alternative browser based on the open-source Firefox code
- Vivaldi: A Chromium-based browser with a highly flexible interface and numerous privacy features
- FreeNet: A peer-to-peer platform designed by computer scientist Ian Clarke
- Puffin: A cloud-based browser that renders webpages in Puffin’s cloud space
- Safari: Has many useful features like a password generator and anti-fingerprinting tools
- Opera: Runs on the Chromium system with fraud and malware protection
- Microsoft Edge: Has basic features that allow you to block pop-ups and send “Do Not Track” requests

پوری دنیا کا نظام ایک سافٹوئیر نے جکڑ دیادو دن سے آپ Windows OS استعمال کرنے والے کمپیوٹرز کے ایک مخصوص مسئلہ کے بارے می...
21/07/2024

پوری دنیا کا نظام ایک سافٹوئیر نے جکڑ دیا
دو دن سے آپ Windows OS استعمال کرنے والے کمپیوٹرز کے ایک مخصوص مسئلہ کے بارے میں پڑھ اور سن رہے ہوں گے۔ اس مسئلہ کی وجہ سے دنیا بھر میں بہت ساری سروسز میں تعطل پیدا ہوا جو ابھی تک مکمل طور پر حل نہیں ہوا ہے۔ پہلی بار یہ مسئلہ آسٹریلیا میں رپورٹ ہوا اور پھر دنیا بھر سے خبریں موصول ہونے لگیں۔
دنیا بھر میں 5 ہزار سے زیادہ پروازیں کینسل ہوئیں، ٹرینیں تاخیر کا شکار ہوئیں، ہسپتالوں میں سروس کی فراہمی متاثر ہوئی، بنکوں، بزنس کمپنیوں کے کام میں خلل پیدا ہوا، الغرض زندگی کے تقریباً ہر شعبہ میں جہاں جہاں مائیکروسافٹ کا آپریٹنگ سسٹم اور ساتھ ایک مخصوص سافٹوئیر انسٹال تھا وہاں کی سروس میں خرابی پیدا ہوئی۔
آخر مسئلہ کیا ہوا؟
ایک سائیبر سکیورٹی کمپنی CrowdStrike کے نام سے ہے اور اس کا ایک سافٹوئیر Falcon Sensor کے نام سے ہے جو دنیا میں بڑے بڑے کاروباری ادارے اپنی کمپنی کے کمپیوٹر (End Point) کو محفوظ بنانے کے لیے استعمال کرتے ہیں جن میں ائیر لائن کمپنیاں، بنک، ہسپتال، ٹرانسپورٹ کمپنیاں شامل ہیں۔ اس سافٹوئیر کی سکیورٹی اپڈیٹ میں خرابی کی وجہ سے جہاں جہاں سے انسٹال تھا وہاں پر کمپیوٹرز میں نیلی سکرین والا مسئلہ شروع ہوگیا۔ اس کو Blue Screen of Death کہا جاتا ہے جس میں کمپیوٹر ایک Restart Loop میں چلا جاتا ہے یعنی بار بار ری سٹارٹ ہوتا رہتا ہے۔
»یہ کسی بھی قسم کا سائیبر حملہ نہیں ہے «
کراؤڈ سٹرائیک کمپنی کا سٹک مارکیٹ شئیر بھی 18 فی صد تک گر گیا۔
یہ یاد رہے کہ یہ مسئلہ مائکروسافٹ کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ اس سافٹوئیر کی اپڈیٹ کی وجہ سے ہے جو ونڈوز پر انسٹال تھا، حالانکہ یہ سافٹوئیر Mac OS اور Linux کے لیے بھی دستیاب ہے۔
اس کا حل کیا ہوگا؟
اس سافٹوئیر کمپنی نے اس کی اپڈیٹ جاری کردی ہے لیکن اس اپڈیٹ کے بعد بھی زیادہ تر کمپیوٹر ریکور نہیں ہورہے جس کا حل Manual Update ہے یعنی کسی بھی کمپنی کے سسٹم ایڈمن کی یہ ذمہ داری ہوگی کہ کمپنی نیٹورک میں اس اپڈیٹ کو مینوئل اپڈیٹ کرے کیونکہ اس اپڈیٹ کو رول بیک کرنے سے بھی ذیادہ تر کمپیوٹرز کا مسئلہ حل نہیں ہوا۔ اس بات سے آپ اس وقت اس جدید دنیا کے نظام میں آئی ٹی کی اہمیت ک اندازہ لگا سکتے ہیں۔
تحریر : ثاقب علی

ایلکس شدید درد میں ہے۔۔۔۔۔ یہ ایک 12 سالہ بچہ ہے جس کی نشوونما ٹھیک نہیں ہورہی اور پھر وہ اپنے جسم کا توازن کھو دیتا ہے۔...
12/07/2024

ایلکس شدید درد میں ہے۔۔۔۔۔ یہ ایک 12 سالہ بچہ ہے جس کی نشوونما ٹھیک نہیں ہورہی اور پھر وہ اپنے جسم کا توازن کھو دیتا ہے۔ اب وہ اپنے دوستوں کے ساتھ کھیل بھی نہیں سکتا۔ وہ اپنے پاؤں کو گھسیٹ کر چلنے لگا ہے۔ اس کی ماں 17 ڈاکٹروں کو چیک اپ کروا چکی ہے مگر اس کی بیماری کا پتہ نہیں چل سکا۔

ایک دن ایلکس کی ماں نے اس کی ساری رپورٹس ، بلڈ ٹیسٹ اور MRI وغیرہ وغیرہ Chat GPT پر اپ لوڈ کردئیے اور پوچھا کہ میرے بچے کو کیا بیماری ہے؟ Chat GPT نے جو نتیجہ دیا وہ حیران کن تھا اور اس سے میڈیکل کی دنیا میں نئے دور کا آغاز ہوگیا۔ چیٹ جی پی ٹی نے جواب دیا کہ بچے کو tethered cord syndrome ہے۔ یہ ایک ایسی بیماری ہے جس میں کچھ ٹشوز حرام مغز کے پاس جمع ہو کر انسانی جسم میں خرابی پیدا کرتے ہیں۔

17 ڈاکٹروں کے در سے مایوس ماں کو جب بیماری کا پتہ چلا تو اس نے فوراً متعلقہ ماہر ڈاکٹر سے رابطہ کیا۔ ماں نے جب ڈاکٹر کو چیٹ جی پی ٹی کا دیا گیا جواب بتایا تو اس نے تحقیق کے بعد تصدیق کی کہ بچے کو وہی بیماری ہے اور اس بیماری کا ڈاکٹرز جلد پتہ نہیں لگا سکتے تھے۔ مگر چیٹ جی پی ٹی نے چند لمحوں میں پتہ لگا لی تھی۔ اس بچے کا آپریشن کیا گیا اور حرام مغز کو ہٹا دیا گیا اور وہ بچہ بالکل ٹھیک ہوگیا۔

یہ خبر دنیا میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی تو ایک اور سوشل میڈیا صارف نے شئیر کیا کہ اس کے پالتو جانور کی بیماری بھی ڈاکٹرز تشخیص نہیں کر پارہے تھے تو Chat GPT 4 نے اس کی بیماری بالکل درست تشخیص کرلی تھی اور اب اس کا جانور بھی بالکل ٹھیک ہے۔

مائیکروسافٹ نے مفت Chat GPT 4 کے ساتھ اپنا Mobile Keyboard App لانچ کردیا۔جی جناب اب Google Mobile Keyboard کے مقابلے می...
07/06/2024

مائیکروسافٹ نے مفت Chat GPT 4 کے ساتھ اپنا Mobile Keyboard App لانچ کردیا۔

جی جناب اب Google Mobile Keyboard کے مقابلے میں Microsoft نے اپنا Ai mobile keyboard لانچ کردیا ہے۔

یہ موبائل کی بورڈ Microsoft Swiftkey Ai Keyboard کے نام سے ایک بالکل مفت موبائل ایپ ہے۔

نے مفت Chat GPT 4 کے ساتھ اپنا Mobile Keyboard App لانچ کردیا۔

جی جناب اب Google Mobile Keyboard کے مقابلے میں Microsoft نے اپنا Ai mobile keyboard لانچ کردیا ہے۔

یہ موبائل کی بورڈ Microsoft Swiftkey Ai Keyboard کے نام سے ایک بالکل مفت موبائل ایپ ہے۔

02/05/2024
05/04/2024

Hello

کسی بھی ہوٹل وغیرہ میں خفیہ کمیرہ کیسے ڈھونڈا جا سکتا ہے ؟وعلیکم السلام ۔اگر تو Night vision کیمرہ ہے تو وہ بہت آسانی سے...
30/03/2024

کسی بھی ہوٹل وغیرہ میں خفیہ کمیرہ کیسے ڈھونڈا جا سکتا ہے ؟

وعلیکم السلام ۔
اگر تو Night vision کیمرہ ہے تو وہ بہت آسانی سے مل جائے گا۔ اس کیمرہ سے روشنی خارج ہوتی ہے لیکن وہ ہم عام انکھ سے نہیں دیکھ سکتے۔
کیمرے کی سب لائٹ بجھا دیں اور کمرے میں فل اندھیرا کر دیں اور پھر اپنے موبائل کا کیمرہ آن کر کہ موبائل کے کیمرہ کو پورے کمرے میں چاروں طرف گھمائیں اگر کسی طرف سے آپ کو موبائل کی سکرین پر روشنی آتی نظر آئے تو وہیں پر کیمرہ لگا ہے۔
خفیہ کیمرہ کسی نہ کسی چیز میں فٹ ہوتا ہے تو کمرے کی ہر چیز کو غور سے دیکھیں کسی چیز میں گول سوارخ نظر آئے تو اس سوراخ کے اندر دیکھیں کہ کوئی شیشے کا اگر لینز نظر آرہا ہے تو وہ کیمرہ ہو سکتا ہے۔
کچھ خفیہ کیمرے وائے فائے ہوتے ہیں۔ اگر کمرے میں آپکو کوئی ایسا وائے فائے کا نام شو ہو رہا ہے جس کو آپ جانتے نہیں ہیں اور سگنل بھی فل ہیں تو وہ کیمرہ ہو سکتا ہے۔
اگر گھر کا کوئی بندہ کمرے میں رکھی چیز کبھی رکھتا اور کبھی اٹھا کر لے جاتا ہے تو اس میں بھی کیمرہ ہو سکتا ہے کیوں کہ کچھ کیمرہ میں میمری کارڈ ڈلتا ہے جس میں ریکارڈنگ سیوو ہوتی ہے۔
آجکل کچھ ایل ای ڈی بلب میں بھی کیمرہ لگا ہوتا ہے اگر کمرے میں کوئی ایل ای ڈی بلب ہے جس کے درمیان میں سوراخ جیسا کچھ ہے تو وہ بھی کیمرہ ہو سکتا ہے۔
یہ کچھ خفیہ کیمرہ کی تصویریں ہیں۔

السلام علیکم۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ کمپیوٹر کے ہر ایک فائل کے نام کے آخر میں (.) ڈاٹ کے بعد کچھ لکھا ہوتا ہے جسے mp4, mp3,...
11/03/2024

السلام علیکم۔
آپ نے دیکھا ہوگا کہ کمپیوٹر کے ہر ایک فائل کے نام کے آخر میں (.) ڈاٹ کے بعد کچھ لکھا ہوتا ہے جسے mp4, mp3, png, jpg, pdf وغیرہ۔ کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ یہ کیوں ہوتا ہے اور اسکا کام کیا ہوتا ہے؟
تو چلئے آج ہم اس کے بارے میں جانتے ہیں۔
اصل میں ہمارے پاس فائلز مختلف قسم کے ہوتے ہیں مثلا آڈیو، ویڈیو، فوٹوز، ڈوکیومینٹس، ایپلکشنز وغیرہ۔
تو کمپیوٹر میں جب ایک فائل بنتا ہے مثلا اپنے موبائل فون کا مثال لیجئے کیونکہ یہ بھی ایک کمپیوٹر ہے۔ اس میں جب آپ ویڈیو بنا رہے ہوتے ہیں تو ویڈیو کا جو ڈیٹا ہے وہ کیمرے سے خام صورت میں آتا ہے جسکو ہم RAW Data کہتے ہیں اس میں ویڈیو کے کلرز, برائٹنس وغیرہ کیمرے سے آتے ہیں، مائیکروفون سے آواز بھی Raw data کے صورت میں آتی ہے جسے آواز کی ایک جاری analog سگنل موبائل میموری کی طرف آرہی ہوتی ہے۔
اسی طرح دوسرا مثال Text فائلز کی لیجئے جب کی بورڈ سے یا کسی اور طریقے سے text files بن رہے ہوتے ہیں تو یہ بھی RAW Data کی صورت میں ہوتے ہیں اس میں نہ کوئی کلر ہوتا ہے نہ کوئی فونٹ سٹائل نہ کوئی ترتیب بس حروف تہجی کا ایک ڈھیر ہوتا ہے۔
اب اس کے ساتھ مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ RAW data ایک طرف تو unorganized/unstructured ہوتا ہے جسکو سمجھنا مشکل ہوتا ہے تو دوسری طرف بہت بھاری بھی ہوتا ہے جسکو سٹور کرنے کیلئے بہت زیادہ میموری چاہیے ہوتی ہے۔
تو یہاں پر Encoding کا عمل سٹارٹ ہو جاتا ہے۔ اینکوڈینک ایک ایسا پراسس ہے جو ڈیٹا کو ایک مخصوص فارمیٹ میں تبدیل کرتا ہے جو آسانی سے read بھی کیا جاسکتا ہو۔ محفوظ/کاپی/موو/اپلوڈ/ڈانلوڈ بھی کیا جاسکتا ہو۔
اینکوڈنگ کیلئے ہارڈ وئر کمپوننٹ بھی استعمال کیا جا تا ہے اور سافٹ وئیر کمپوننٹ بھی۔
اسکو Encoder کہا جاتا ہے۔
اینکوڈر مختلف فیلڈز میں استعمال ہوتے ہیں
جیسے۔
۔1 Multimedia Encoding (ویڈیو آڈیو کیلئے)
۔2 Telecommunications Encoding ( سگنلز کیلئے )
۔3 Data Compression ( ڈیٹا سائز کو کم کرنے کیلئے )
۔4 Text Encoding ( ٹکسٹ ڈیٹا کیلئے جیسے UNICODE, ASCII, UTF-8)
5۔ Image Encoding ( خام Raw پیکسل سے فوٹو)
جب ایک مرتبہ ایک فائل encode ہوجاتی ہے تو اس کے نام کے آخر میں (.) ڈاٹ کے بعد اسکا فارمیٹ ٹایپ ہوتا ہے تاکہ اوپن کرتے وقت کمپیوٹر کو پتا ہو کہ اس کو کس سافٹ وئیر میں کھولنا ہے۔
آپ نے دیکھا ہوگا کہ آپ اپنے موبائل یا لیپ ٹاپ میں ویڈیو پر کلیک کرتے ہیں تو وہ ویڈیو پلئر میں اوپن ہو جاتی ہے، یا آپ فوٹو پر کلیک کرتے ہیں تو وہ فوٹو ایپ میں اوپن ہوجاتی ہے۔ یا آڈیو فائل پر کلیک کرتے ہیں تو وہ کسی میوزک پلئر میں اوپن ہوتی ہے۔ کسی پی ڈی ایف پر کلیک کرنے سے وہ پی ڈی ایف ایپ میں اپن ہوجاتی ہے۔
یہ جو ویڈیو پلیرز، فوٹوز، میوزک پلیرز ہیں اصل میں یہ Decoders سوفٹ ویئرز ہیں جو ڈیکوڈنگ کا کام کرتے ہیں۔
ڈیکوڈینگ اینکوڈنگ کا الٹ پراسس ہے۔ جو اینکوڈڈ ڈیٹا کو واپس اپنے اصل حالت میں لاتی ہے۔
مطلب جو ڈیٹا اینکوڈر نے ایک مخصوص فارمیٹ میں سٹور کیا تھا تو اب ایک مخصوص ڈیکوڈر اس ڈیٹا کو کھول سکتا ہے اور واپس آپ کو وہ ویڈیو یا فوٹو دیکھاتا ہے۔
جسے ویڈیو پلیر ویڈیو کے فارمیٹ کھول کے دیکھاتا ہے۔ آڈیو پلیر آڈیوفائل کو۔ پی ڈی ایف ریڈر کسی پی ڈی ایف فائل کو۔ وغیرہ۔
مندرجہ ذیل کچھ عام فارمیٹس ہے جو پوری دنیا میں استعمال ہوتے ہیں۔
1. Documents and Text Files:
.docx (Microsoft Word)
.pdf (Portable Document Format)
.txt (Plain Text)
2. Images:
.jpg or .jpeg (JPEG Image)
.png (Portable Network Graphics)
.gif (Graphics Interchange Format)
3. Audio:
.mp3 (MPEG-1 Audio Layer III)
.wav (Waveform Audio File Format)
.flac (Free Lossless Audio Codec)
4. Video:
.mp4 (MPEG-4 Part 14)
.avi (Audio Video Interleave)
.mkv (Matroska Multimedia Container)
5. Programming and Code:
.cpp (C++ source code)
.py (Python script)
.html (Hypertext Markup Language)
6. Compressed Files:
.zip (ZIP archive)
.rar (RAR archive)
.tar.gz (Tarball compressed with gzip)
تحریر: سی ایم Cee Emm

Address

Lahore

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Information Technology Experts posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share