ValueDigitalhd

ValueDigitalhd Positive Pakistan

https://www.facebook.com/share/p/183YcSMkcZ/?mibextid=wwXIfr
05/03/2026

https://www.facebook.com/share/p/183YcSMkcZ/?mibextid=wwXIfr

*پنجاب میں بیواؤں اور یتیم بچوں کی مالی کفالت کے لیے رحمت کارڈ پروگرام کا آغاز*
*تحریر: میاں شاہد اسلام*
معاشروں کی اصل پہچان ان کی بلند عمارتوں، شاہراہوں یا معاشی اشاریوں سے نہیں ہوتی بلکہ اس بات سے ہوتی ہے کہ وہ اپنے کمزور ترین افراد کے ساتھ کیسا سلوک کرتے ہیں۔ وہ بیوہ عورت جو زندگی کے طوفان میں اپنے شریکِ حیات کا سہارا کھو بیٹھتی ہے اور وہ بچے جو والدین کی شفقت سے محروم ہو جاتے ہیں، دراصل کسی بھی معاشرے کے لیے سب سے بڑا امتحان ہوتے ہیں۔ اگر ریاست ان کے سروں پر دستِ شفقت رکھ دے تو محرومی کی اندھیری رات امید کی سحر میں بدل سکتی ہے۔ پنجاب میں بیواؤں اور یتیم بچوں کی کفالت کے لیے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی جانب سے متعارف کرایا جانے والا “رحمت کارڈ” اسی احساسِ ذمہ داری کا اظہار ہے، جو فلاحی ریاست کے تصور کو عملی شکل دینے کی ایک اہم کوشش قرار دیا جا سکتا ہے۔پاکستان جیسے معاشرے میں بیوہ خواتین کی زندگی اکثر معاشی اور سماجی مشکلات سے بھری ہوتی ہے۔ بہت سی خواتین ایسی ہیں جو اچانک اپنے خاندان کی واحد کفیل بن جاتی ہیں، مگر ان کے پاس نہ وسائل ہوتے ہیں اور نہ مواقع۔ یتیم بچوں کی صورتحال بھی کم کٹھن نہیں ہوتی۔ تعلیم، صحت اور بنیادی ضروریات تک رسائی ان کے لیے ایک مستقل چیلنج بن جاتی ہے۔ یہی وہ خلا ہے جسے پر کرنے کے لیے حکومتیں مختلف فلاحی پروگرام متعارف کراتی رہی ہیں، مگر اکثر یہ منصوبے بیوروکریسی، شفافیت کے فقدان یا سیاسی مداخلت کی وجہ سے اپنی اصل روح کھو دیتے ہیں۔
ایسے ماحول میں پنجاب حکومت کا “رحمت کارڈ” پروگرام کئی حوالوں سے منفرد دکھائی دیتا ہے۔ سب سے نمایاں پہلو اس کا ڈیجیٹل اور شفاف نظام ہے۔ پاکستان میں فلاحی منصوبوں کو اکثر اس تنقید کا سامنا رہا ہے کہ مستحق افراد تک امداد مکمل طور پر نہیں پہنچ پاتی۔ لیکن اگر اس منصوبے کے تحت موبائل ایپلی کیشن، ویب پورٹل، کال سینٹر اور زکوٰۃ آفسز کے ذریعے درخواست دینے کا نظام مؤثر انداز میں نافذ کیا جاتا ہے تو یہ نہ صرف شفافیت کو بہتر بنا سکتا ہے بلکہ بدعنوانی اور اقربا پروری کے امکانات بھی کم کر سکتا ہے۔پروگرام کے ابتدائی مرحلے میں پچاس ہزار سے زائد بے آسرا گھرانوں کو شامل کرنے کا اعلان بھی اہم ہے۔ یہ تعداد بظاہر محدود محسوس ہو سکتی ہے، مگر کسی بھی سماجی منصوبے کی کامیابی کا راز اس کے مرحلہ وار اور منظم نفاذ میں ہوتا ہے۔ اگر اس پروگرام کو درست طریقے سے چلایا گیا تو مستقبل میں اس کا دائرہ مزید وسیع کیا جا سکتا ہے اور لاکھوں خاندان اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔اس منصوبے کا ایک اور قابلِ توجہ پہلو یہ ہے کہ بیوہ خواتین کو ایک لاکھ روپے تک مالی امداد فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ یتیم بچوں کو بھی پچیس پچیس ہزار روپے دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔ یہ امداد بظاہر ایک وقتی مالی سہارا ہے، مگر اگر اسے درست حکمت عملی کے ساتھ استعمال کیا جائے تو یہ کسی خاندان کے لیے معاشی بحالی کی پہلی سیڑھی بن سکتی ہے۔ خاص طور پر اگر اس امداد کو چھوٹے کاروبار، ہنر سیکھنے یا گھریلو صنعتوں کے آغاز کے لیے استعمال کیا جائے تو اس کے اثرات کہیں زیادہ دیرپا ثابت ہو سکتے ہیں۔
یہاں ایک اہم سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا صرف مالی امداد کسی بیوہ یا یتیم کے مسائل حل کر سکتی ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ غربت صرف پیسے کی کمی کا نام نہیں بلکہ مواقع کی کمی کا بھی نام ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ “رحمت کارڈ” جیسے منصوبوں کو صرف امدادی پروگرام کے طور پر نہیں بلکہ سماجی بااختیاری کے منصوبے کے طور پر دیکھا جائے۔ اگر اس کے ساتھ ہنر مندی کی تربیت، مائیکرو فنانس اور چھوٹے کاروبار کے مواقع بھی فراہم کیے جائیں تو یہ پروگرام حقیقی معنوں میں بیوہ خواتین کو خود کفیل بنا سکتا ہے۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کا یہ کہنا کہ بیوہ کو خیرات نہیں بلکہ باوقار حق ملنا چاہیے، دراصل فلاحی ریاست کے بنیادی فلسفے کی ترجمانی کرتا ہے۔ اسلامی تعلیمات بھی یہی درس دیتی ہیں کہ معاشرے کے کمزور طبقات کی کفالت ریاست اور سماج دونوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ تاریخِ اسلام میں خلفائے راشدین کے دور میں ایسے متعدد واقعات ملتے ہیں جہاں بیت المال سے بیواؤں اور یتیموں کی کفالت کو ریاستی ذمہ داری سمجھا گیا۔
پاکستان کے آئین میں بھی فلاحی ریاست کا تصور موجود ہے۔ آئین کے آرٹیکل 38 کے تحت ریاست پر لازم ہے کہ وہ شہریوں کی سماجی اور معاشی فلاح کے لیے اقدامات کرے۔ لیکن بدقسمتی سے عملی سطح پر اس تصور کو مکمل طور پر نافذ نہیں کیا جا سکا۔ ایسے میں اگر پنجاب حکومت اس سمت میں عملی اقدامات کرتی ہے تو یہ نہ صرف ایک مثبت پیش رفت ہو سکتی ہے بلکہ دیگر صوبوں کے لیے بھی ایک مثال بن سکتی ہے۔
تاہم ہر بڑے منصوبے کی طرح اس پروگرام کو بھی کئی چیلنجز کا سامنا ہو سکتا ہے۔ سب سے بڑا چیلنج مستحق افراد کی درست نشاندہی ہے۔ پاکستان میں غربت کے مستند اعداد و شمار جمع کرنا ہمیشہ مشکل رہا ہے۔ اگر اس پروگرام میں شفاف ڈیٹا بیس اور مؤثر جانچ پڑتال کا نظام قائم کیا گیا تو یہ مسئلہ بڑی حد تک حل ہو سکتا ہے۔ اسی طرح اس بات کو بھی یقینی بنانا ہوگا کہ یہ پروگرام سیاسی وابستگی یا اثر و رسوخ سے بالاتر ہو کر صرف حقیقی مستحقین تک محدود رہے۔دوسرا اہم پہلو مالی پائیداری کا ہے۔ فلاحی پروگرام اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتے جب تک ان کے لیے مستقل مالی وسائل موجود نہ ہوں۔ اگر حکومت اس منصوبے کے لیے مستقل فنڈنگ کا انتظام کرتی ہے اور اسے زکوٰۃ، صدقات اور سرکاری وسائل کے مؤثر امتزاج کے ساتھ چلایا جاتا ہے تو یہ طویل مدت تک جاری رہ سکتا ہے۔
اس کے باوجود یہ حقیقت اپنی جگہ اہم ہے کہ کسی بھی معاشرے میں مثبت تبدیلی ہمیشہ کسی ایک قدم سے شروع ہوتی ہے۔ “رحمت کارڈ” کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ صرف ایک مالی امداد کا پروگرام نہیں بلکہ اس سوچ کی عکاسی ہے کہ ریاست اپنے کمزور شہریوں کو تنہا نہیں چھوڑ سکتی۔
اگر یہ منصوبہ شفافیت، دیانت داری اور مؤثر انتظام کے ساتھ آگے بڑھتا ہے تو یہ نہ صرف ہزاروں خاندانوں کے لیے امید کی کرن بن سکتا ہے بلکہ پاکستان میں فلاحی ریاست کے تصور کو بھی تقویت دے سکتا ہے۔ بیواؤں کے چہروں پر خود اعتمادی کی مسکراہٹ اور یتیم بچوں کی آنکھوں میں روشن مستقبل کے خواب دراصل کسی بھی حکومت کی اصل کامیابی ہوتے ہیں۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ معاشروں کی ترقی کا حقیقی معیار یہی ہے کہ وہاں کمزور افراد کو کس قدر تحفظ اور احترام حاصل ہے۔ اگر “رحمت کارڈ” واقعی بیوہ خواتین کو باوقار زندگی اور یتیم بچوں کو محفوظ مستقبل فراہم کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ صرف ایک سرکاری منصوبہ نہیں رہے گا بلکہ انسانی ہمدردی اور ریاستی ذمہ داری کی ایک زندہ مثال بن جائے گا۔














News HDXcellent NewsValueDigitalhdtalhdMian Shahid IslamGovt of PunjabWomen Development Department Punjab

روزنامہ ویلیو نیوز کا پلیٹ فارم حقائق پر مبنی اور مستند خبروں کی ترسیل کا معتبر ذریعہ ہےValueDigitalhdValue News HDMian ...
02/02/2026

روزنامہ ویلیو نیوز کا پلیٹ فارم حقائق پر مبنی اور مستند خبروں کی ترسیل کا معتبر ذریعہ ہے
ValueDigitalhdValue News HDMian Shahid Islam

روزنامہ ویلیو نیوز کا پلیٹ فارم حقائق پر مبنی اور مستند خبروں کی ترسیل کا معتبر ذریعہ ہےValueDigitalhdValue News HDMian ...
23/01/2026

روزنامہ ویلیو نیوز کا پلیٹ فارم حقائق پر مبنی اور مستند خبروں کی ترسیل کا معتبر ذریعہ ہے
ValueDigitalhdValue News HDMian Shahid Islam@

22/01/2026
*پاکستان سمیت75 ممالک پر امریکی امیگریشن پابندیاں: بھارت پر کیوں نہیں؟**تحریر: شعیب نبی*دنیا کے نقشے پر امریکہ ہمیشہ ایک...
17/01/2026

*پاکستان سمیت75 ممالک پر امریکی امیگریشن پابندیاں: بھارت پر کیوں نہیں؟*

*تحریر: شعیب نبی*

دنیا کے نقشے پر امریکہ ہمیشہ ایک ایسا ملک رہا ہے جو لوگو ں کے لیے مواقع اور خوشحالی کا نشان سمجھا جاتا ہے۔ ہر سال لاکھوں لوگ یہاں تعلیم، روزگار یا بہتر زندگی کی تلاش میں امیگریشن کی درخواستیں دیتے ہیں۔ لیکن حال ہی میں امریکی صدر ٹرمپ کی حکومت نے 75 ممالک کے شہریوں پر امیگریشن پابندیاں عائد کر دی ہیں، جس میں پاکستان سمیت 22 مسلم ممالک بھی شامل ہیں۔ یہ خبر سن کر ہر شہری کے ذہن میں یہ سوال آتا ہے: آخر یہ پابندیاں کیوں لگائی گئی ہیں اور ان کا جواز کیا ہے؟
امریکی انتظامیہ نے پابندیوں کا جواز یہ پیش کیا ہے کہ بعض ممالک کے افراد جب امریکہ آتے ہیں تو وہاں کے ہیلتھ سسٹم اور ویلفیئر نظام پر بوجھ ڈال دیتے ہیں۔ کہا گیا ہے کہ امریکی اسپانسرز اپنے رشتہ داروں اور دیگر افراد کو اسپانسر کر دیتے ہیں، جو بعد میں امریکہ میں رہتے ہوئے مختلف فوائد حاصل کر کے امریکی مالی نظام پر اضافی دباؤ ڈال دیتے ہیں۔ یہ ایک تشویشناک مسئلہ ہے، اور بظاہر یہ جواز بامعنی لگتا ہے۔
لیکن اگر اس جواز کو غور سے دیکھا جائے تو سوال یہ اٹھتا ہے کہ اگر یہی وجہ ہے، تو پھر یہ پابندیاں دنیا کے تمام ممالک پر یکساں اصول کے تحت کیوں نہیں لگائی گئیں؟ امریکہ میں آنے والے افراد ہر ملک سے مختلف ہو سکتے ہیں، لیکن مالی یا ویلفیئر بوجھ پیدا کرنے کا رجحان کسی ایک ملک تک محدود نہیں ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بھارت، جو دنیا کا سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے اور جس سے لاکھوں لوگ امریکہ جانے کی خواہش رکھتے ہیں، اس پابندی کی فہرست میں شامل نہیں۔ صدر ٹرمپ نے بھارت کی حکومت پر کئی مرتبہ تنقید بھی کی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ بھارتی لابی اور وہاں کے امریکہ کے خیرخواہ عناصر کافی مضبوط ہیں، جس کی وجہ سے بھارت پر پابندی نہیں آئی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر امریکی حکومت اپنے امیگریشن سسٹم کے اعداد و شمار واضح طور پر سامنے رکھے، تو دنیا کے لوگ سمجھ سکتے ہیں کہ واقعی 75 ممالک پر پابندیاں لگانا ضروری تھیں یا نہیں۔ اس سے یہ بھی واضح ہو سکتا ہے کہ پابندیاں صرف اصولی یا قانونی وجوہات کی بنیاد پر ہیں یا سیاسی اور معاشی مفادات بھی اس میں شامل ہیں۔
پاکستان سمیت دیگر مسلم ممالک کے شہریوں کے لیے یہ پابندیاں نہ صرف مشکلات پیدا کرتی ہیں بلکہ ان کے خوابوں اور مستقبل کی منصوبہ بندی پر بھی اثر ڈالتی ہیں۔ مگر اس کے باوجود، حقیقت یہ ہے کہ یہ پابندیاں عالمی سطح پر امریکی امیگریشن پالیسی کے اصولوں اور ترجیحات کو ظاہر کرتی ہیں۔
آخر میں کہا جا سکتا ہے کہ یہ پابندیاں صرف 75 ممالک تک محدود ہیں، مگر اصل مسئلہ اصولوں کی یکسانیت کا ہے۔ اگر امریکہ واقعی اس مسئلے کو حل کرنا چاہتا ہے تو اسے ہر ملک کے اعداد و شمار کی بنیاد پر یکساں اصول اپنانے ہوں گے۔ تب ہی دنیا میں اس فیصلے کو منصفانہ اور جواز کے قابل سمجھا جا سکتا ہے۔


#پاکستان



#بھارت










ValueDigitalhd

https://www.facebook.com/share/p/1G3EdP19q4
03/01/2026

https://www.facebook.com/share/p/1G3EdP19q4

*قومی اتحاد کے ساتھ 2026 کو کامیاب سال بنائیں*

*تحریر: شعیب نبی*

نیا سال ہر انسان کے دل میں امید کی ایک نئی کرن لے کر آتا ہے۔ 2026 کا آغاز بھی پاکستان کے لیے اسی امید کے ساتھ ہوا ہے کہ یہ سال قوم کے لیے خوشحالی، ترقی اور اتحاد کا پیامبر ثابت ہوگا۔ گذشتہ سالوں کی مشکلات، معاشی چیلنجز اور سکیورٹی کے مسائل ہمارے حوصلے کو کم نہ کر سکے، بلکہ ہمیں یہ سبق دیا کہ مضبوط ارادے، قومی یکجہتی اور مثبت حکمرانی سے کوئی بھی مشکل دور کی جا سکتی ہے۔
پاکستان ایک تاریخی موڑ پر کھڑا ہے۔ ملک کی جغرافیائی اہمیت، نوجوان آبادی کی صلاحیت اور قدرتی وسائل کی دولت اسے ترقی کی راہوں پر لے جانے کی مکمل قابلیت فراہم کرتی ہیں۔ 2026 میں یہ وقت ہے کہ ہم اپنے وسائل کو صحیح معنوں میں استعمال کریں، تعلیم اور صحت جیسے بنیادی شعبوں میں اصلاحات کو ترجیح دیں اور معاشی استحکام کے لیے جامع پالیسیاں اپنائیں۔ صرف انہی اقدامات سے ملک میں حقیقی ترقی کے دروازے کھلیں گے۔
امن اور سکیورٹی کا قیام ہر ترقی کی بنیاد ہے۔ ملک کے مختلف حصوں میں امن و امان کی صورتحال میں بہتری پاکستان کی ترقی کی راہ ہموار کرے گی۔ یہ وقت ہے کہ ہم داخلی دہشت گردی، فرقہ وارانہ فسادات اور دیگر سکیورٹی کے خطرات کو مؤثر انداز میں ختم کریں تاکہ ہر شہری اپنی زندگی سکون اور تحفظ کے ساتھ گزار سکے۔ حکومت، سول سوسائٹی اور عوام کی مشترکہ کوششیں اس مقصد کو حقیقت میں بدل سکتی ہیں۔
اقتصادی ترقی بھی اس سال کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ عالمی معاشی بحران، مہنگائی اور روزگار کے مسائل نے ہمارے معاشرے پر دباؤ ڈالا ہے۔ مگر پاکستان کی نوجوان آبادی، ٹیکنالوجی میں پیش رفت، اور برآمدات میں بڑھتی ہوئی استعداد ہمیں یہ یقین دلاتی ہے کہ ہم اپنی معیشت کو مضبوط بنا سکتے ہیں۔ 2026 میں سرمایہ کاری کے مواقع، کاروباری ماحول کی بہتری اور چھوٹے اور درمیانے کاروباروں کی ترقی کے لیے عملی اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔
تعلیم اور ہنر کی ترقی بھی قوم کی طاقت ہے۔ پاکستان کے نوجوان، اگر انہیں صحیح رہنمائی اور وسائل فراہم کیے جائیں، تو وہ ملک کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔ 2026 میں یہ عزم کرنا ہوگا کہ ہر بچے کو معیاری تعلیم ملے، خواتین کو برابری کے مواقع فراہم کیے جائیں اور ہنر مند نوجوانوں کو عالمی منڈی میں اپنا مقام بنانے کے مواقع فراہم کیے جائیں۔
آخر میں، 2026 کا ہر لمحہ قوم کے لیے امید، حوصلہ اور اتحاد کا پیغام لائے۔ ہمیں اپنے اختلافات کو بھلا کر مشترکہ قومی ترقی کے لیے کام کرنا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ پاکستان کو امن و سکون، استحکام اور خوشحالی کی راہوں پر گامزن کرے، ہر شہری کی محنت کا پھل دے اور ملک کو عالمی سطح پر عزت اور مقام عطا فرمائے۔
یہ نیا سال پاکستان کے لیے محنت، قربانی، اور مثبت سوچ کے ذریعے ایک روشن اور ترقی یافتہ مستقبل کی بنیاد بن سکتا ہے۔ وقت ہے کہ ہم سب مل کر 2026 کو وہ سال بنائیں جس کا ہر پاکستانی خواب دیکھتا ہے امن، خوشحالی اور ترقی کا سال۔

https://www.facebook.com/share/p/1NyPGQon99
31/12/2025

https://www.facebook.com/share/p/1NyPGQon99

*2026: خطرات بھی، مواقع بھی*

*تحریر:میاں شاہد اسلام*

دنیا کی معیشت اس وقت ایک ایسے چوراہے پر کھڑی ہے جہاں ہر سمت امکانات بھی ہیں اور خطرات بھی۔ ایک طرف ٹیکنالوجی کی برق رفتار ترقی، مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل معیشت اور نئے خطوں میں سرمایہ کاری کے دروازے کھل رہے ہیں، تو دوسری طرف تجارتی جنگیں، مہنگائی، قرضوں کا بوجھ اور جیوپولیٹیکل کشیدگیاں عالمی نظام کو مسلسل آزمائش میں ڈال رہی ہیں۔ 2026 کو ماہرین اسی لیے محض ایک اور سال نہیں بلکہ فیصلہ کن موڑ قرار دے رہے ہیں، جہاں درست سمت میں اٹھایا گیا ایک قدم عالمی ترقی کی نئی راہیں کھول سکتا ہے، جبکہ غلط فیصلے دنیا کو ایک نئے معاشی بحران کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔
جرمن خبر رساں اداروں اور بروکنگز انسٹی ٹیوشن کی تازہ رپورٹس کے مطابق عالمی معیشت 2026 میں ایک نازک مگر غیر معمولی اہم مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔ اگرچہ 2025 میں دنیا نے شدید جیوپولیٹیکل دباؤ، تجارتی رکاوٹوں، بڑھتے قرضوں اور مہنگائی کے باوجود کسی حد تک مزاحمت دکھائی، مگر حقیقت یہ ہے کہ عالمی معیشت کی بنیادیں اب بھی کمزور ہیں اور ذرا سی لغزش بڑے عدم استحکام کا سبب بن سکتی ہے۔
عالمی ترقی کی رفتار سست
تشویش میں اضافہ
اقتصادی تعاون و ترقی کی تنظیم (OECD) کے مطابق 2026 میں عالمی معیشت کی شرح نمو کم ہو کر 2.9 فیصد رہنے کا امکان ہے، جبکہ 2025 میں یہ شرح 3.2 فیصد رہی تھی۔ بظاہر یہ فرق معمولی محسوس ہوتا ہے، مگر عالمی سطح پر اس سست روی کے اثرات نہایت گہرے ہو سکتے ہیں، خاص طور پر ترقی پذیر اور قرضوں میں جکڑے ہوئے ممالک کے لیے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی ترقی میں یہ کمی صرف ایک عددی مسئلہ نہیں، بلکہ اس کے پیچھے کئی پیچیدہ عوامل کارفرما ہیں۔ عالمی تجارت میں سست روی، سرمایہ کاری کے کم ہوتے رجحانات، بلند شرح سود اور سیاسی عدم استحکام وہ عناصر ہیں جو مل کر ترقی کی رفتار کو تھام رہے ہیں۔
امریکا اور چین: کشمکش جو ختم
ہونے کا نام نہیں لیتی
عالمی معیشت کا سب سے بڑا سوال آج بھی امریکا اور چین کے درمیان جاری کشمکش ہے۔ یہ محض دو بڑی معیشتوں کا مقابلہ نہیں بلکہ اکیسویں صدی کی قیادت کا تعین کرنے والی جنگ ہے۔ دفاعی ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، کوانٹم کمپیوٹنگ، سیمی کنڈکٹرز اور روبوٹکس جیسے شعبے اب محض سائنسی میدان نہیں رہے بلکہ عالمی سیاست اور معیشت کے مرکز میں آ چکے ہیں۔
امریکا کی جانب سے عائد کیے گئے ٹیرف اس وقت گزشتہ 90 برس کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں، جس کا براہ راست اثر عالمی تجارت اور سپلائی چین پر پڑ رہا ہے۔ چین اور امریکا کے درمیان عدم اعتماد کی فضا نے عالمی منڈیوں کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے، جس کا خمیازہ دنیا کے دیگر ممالک بھی بھگت رہے ہیں۔
چین کی معیشت: ترقی کے
باوجود دباؤ برقرار
اگرچہ اندازہ ہے کہ چین کی معیشت 2026 میں تقریباً 5 فیصد تک ترقی کر سکتی ہے، مگر یہ تصویر کا صرف ایک رخ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ چین کو اس وقت کئی ساختی مسائل کا سامنا ہے۔ آبادی کا تیزی سے بڑھاپے کی طرف جانا، گھریلو طلب میں کمزوری، اور صنعتی شعبے میں زائد پیداوار ایسے چیلنجز ہیں جو طویل مدت میں چین کی معاشی رفتار کو متاثر کر سکتے ہیں۔
چینی معیشت کا ماڈل جو طویل عرصے تک برآمدات اور انفراسٹرکچر سرمایہ کاری پر انحصار کرتا رہا، اب تبدیلی کے مرحلے سے گزر رہا ہے۔ یہ تبدیلی نہ صرف چین بلکہ پوری دنیا کے لیے اہم ہے، کیونکہ چین عالمی سپلائی چین کا ایک مرکزی ستون ہے۔
مہنگائی: وہ مسئلہ جو قابو میں نہیں آ رہا
عالمی سطح پر مہنگائی اب بھی ایک بڑا دردِ سر بنی ہوئی ہے۔ اگرچہ کئی ممالک میں مہنگائی کی رفتار نسبتاً کم ہوئی ہے، مگر تجارتی رکاوٹیں، سپلائی چین میں خلل اور توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ نے مسئلے کو مکمل طور پر حل نہیں ہونے دیا۔
مرکزی بینک اس وقت ایک مشکل مخمصے میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ایک طرف مہنگائی کو قابو میں رکھنے کے لیے شرح سود بڑھانے کا دباؤ ہے، تو دوسری طرف معاشی ترقی کو سہارا دینے کے لیے نرمی کی ضرورت۔ بلند شرح سود کا سب سے زیادہ بوجھ وہ ممالک اٹھا رہے ہیں جو پہلے ہی قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں، خصوصاً یوروزون کے بعض ممالک جہاں مالیاتی استحکام ایک سنجیدہ سوال بنتا جا رہا ہے۔
قرضوں کا بوجھ: خاموش
مگر خطرناک بحران
دنیا بھر میں سرکاری اور نجی قرضوں کی سطح خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔ ترقی پذیر ممالک کے لیے بلند شرح سود کا مطلب ہے زیادہ مہنگا قرض، اور اس کے نتیجے میں سماجی شعبوں پر کم اخراجات۔ تعلیم، صحت اور بنیادی سہولیات وہ شعبے ہیں جو سب سے پہلے متاثر ہوتے ہیں، اور یہی عوامل طویل مدت میں معاشی عدم استحکام کو جنم دیتے ہیں۔
ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر عالمی سطح پر قرضوں کے مسئلے کو منظم طریقے سے حل نہ کیا گیا تو 2026 ایک نئے قرض بحران کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔
مصنوعی ذہانت: نعمت یا خطرہ؟
مصنوعی ذہانت (AI) کو 2026 کی عالمی معیشت کا سب سے متنازع مگر طاقتور عنصر قرار دیا جا رہا ہے۔ ایک جانب اے آئی پیداوار میں اضافے، اخراجات میں کمی اور نئی صنعتوں کے قیام کا ذریعہ بن سکتی ہے، تو دوسری جانب اس سے وابستہ خطرات بھی کم نہیں۔
امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی غیر معمولی قدر بندی نے ایک ممکنہ ٹیکنالوجی ببل کا خدشہ پیدا کر دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ ببل پھٹ گیا تو اس کے اثرات صرف اسٹاک مارکیٹ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی معیشت کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے ماضی میں ڈاٹ کام ببل نے کیا تھا۔
عالمی نظام کی ازسرِنو تشکیل کی ضرورت
بروکنگز انسٹی ٹیوشن کے مطابق 2026 وہ سال ہو سکتا ہے جہاں دنیا کو اپنے معاشی اور سیاسی نظام پر سنجیدگی سے نظرِ ثانی کرنا ہو گی۔ رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ کثیرالجہتی تعاون، منصفانہ تجارت، اور عالمی اداروں کا مؤثر کردار اب محض نعروں سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کا متقاضی ہے۔
تعلیم، نوجوانوں کی مہارت سازی، اور امیگریشن کو مسئلہ نہیں بلکہ معاشی موقع سمجھنے کی سوچ کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت قرار دیا گیا ہے۔ وہ ممالک جو اپنی نوجوان آبادی کو جدید مہارتوں سے آراستہ کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے، مستقبل کی معیشت میں برتری حاصل کر سکیں گے۔
افریقہ: مستقبل کی عالمی
معیشت کا نیا مرکز؟
رپورٹ میں افریقہ کو مستقبل کی عالمی معیشت کا ایک اہم ستون قرار دیا گیا ہے۔ معدنی وسائل، تیزی سے بڑھتی نوجوان آبادی، اور قابلِ تجدید توانائی کے وسیع امکانات افریقہ کو عالمی سرمایہ کاری کے لیے ایک پرکشش خطہ بنا رہے ہیں۔
اگر درست پالیسیاں اپنائی گئیں، شفافیت کو فروغ دیا گیا اور بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کی گئی تو افریقہ نہ صرف اپنی تقدیر بدل سکتا ہے بلکہ عالمی معیشت کی سمت کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔
2026 کی عالمی معیشت نہ مکمل اندھیرے میں ہے اور نہ ہی مکمل روشنی میں۔ یہ ایک ایسا سال ہو سکتا ہے جہاں دنیا کو یہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ وہ تعاون، اصلاحات اور مشترکہ ترقی کا راستہ اختیار کرتی ہے یا تفرقہ، تحفظ پسندی اور قلیل المدتی مفادات کے پیچھے چلتی ہے۔
ماہرین متفق ہیں کہ درست پالیسی فیصلے، عالمی تعاون اور دور اندیش قیادت کے ذریعے 2026 کو بحران کا سال بننے سے روکا جا سکتا ہے، بلکہ اسے نئی عالمی معاشی ترتیب کی بنیاد بھی بنایا جا سکتا ہے۔ فیصلہ اب بھی انسانوں کے ہاتھ میں ہے، اور یہی فیصلہ آنے والی دہائیوں کی سمت متعین کرے گا۔




#مہنگائی










Value News HD@top fansMian Shahid IslamDHA LahorePunjab Coperative Housing Spciety Defence, LahorePunjab Coperative Housing Society@Valuedigiltdhd

https://www.facebook.com/share/p/17vJkeFApo/?mibextid=wwXIfr
26/12/2025

https://www.facebook.com/share/p/17vJkeFApo/?mibextid=wwXIfr

*طلاق کیوں بڑھ رہی ہے؟ ہم نے شادی سے پہلے کیا نظرانداز کیا*

*تحریر: شعیب نبی*

مجھے حیرت بھی ہوتی ہے اور دل میں ایک گہرا دکھ بھی اتر آتا ہے، جب خاندانی عدالتوں کے ماحول، وکلا کے چیمبرز اور سماج کے بند کمروں میں بکھرتی ہوئی کہانیوں پر نظر پڑتی ہے۔ وہ کہانیاں جو کبھی خوشیوں، دعاؤں اور امیدوں کے سائے میں شروع ہوئیں، مگر انجام پر پہنچتے پہنچتے خاموش سسکیوں اور ٹوٹے رشتوں میں بدل گئیں۔
اکثر منظر کچھ یوں ہوتا ہے کہ ایک بیوی، بیٹی یا بہن اپنے ماں باپ کے ساتھ آتی ہے۔ ابتدا میں سب خاموش رہتے ہیں، نظریں جھکی ہوتی ہیں، باتیں تول تول کر کی جاتی ہیں۔ پھر جب یہ یقین ہوجاتا ہے کہ اب سامنے صرف قانونی عمل ہے، تب آہستہ آہستہ وہ جملہ ادا کیا جاتا ہے جو ایک پورے رشتے کا اختتام بن جاتا ہے’’ہمیں طلاق چاہیے۔‘‘
یہاں ٹھہر کر سوچنے کی ضرورت ہے۔ شادی تو اکثر بڑی دھوم دھام سے، خاندانوں کی رضامندی اور معاشرتی شان و شوکت کے ساتھ کر دی جاتی ہے، مگر ایک بنیادی سوال ش*ذ و نادر ہی پوچھا جاتا ہے: کیا یہ دو انسان ایک دوسرے کے ساتھ نباہ کر سکیں گے؟ کیا ان کے مزاج، سوچ، برداشت اور ترجیحات میں کوئی ہم آہنگی ہے؟ کیا وہ ایک دوسرے کو صرف قبول ہی نہیں بلکہ پسند بھی کرتے ہیں؟
ہماری معاشرتی ترتیب میں یہ سوالات اکثر غیر ضروری یا بے ادبی سمجھ لیے جاتے ہیں، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہی سوالات آنے والی زندگی کی سمت متعین کرتے ہیں۔ خاندان نسب، دولت اور سماجی حیثیت پر تو تفصیل سے تحقیق کر لیتے ہیں، مگر جن دو افراد کو ایک چھت کے نیچے پوری زندگی گزارنی ہوتی ہے، ان کی ذہنی ہم آہنگی پر کم ہی بات ہوتی ہے۔ اگر ابتدا میں یہ شعور شامل کر لیا جائے تو نہ صرف کئی تنازعات سے بچا جا سکتا ہے بلکہ بہت سی زندگیاں برباد ہونے سے محفوظ رہ سکتی ہیں۔
شادی کے بعد اگر مسائل جنم لیں تو والدین اور خاندان کا کردار بھی فیصلہ کن ہوتا ہے۔ اگر اختلافات معمولی ہوں تو سنجیدگی، مکالمے اور صبر سے معاملات سلجھائے جا سکتے ہیں۔ لیکن اگر صورتحال واقعی سنگین ہو، اذیت، خوف یا جان کے خطرے تک جا پہنچے، تو پھر علیحدگی کو گناہ یا ناکامی سمجھنے کے بجائے ایک حقیقت پسندانہ حل کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ قدرت نے جب یہ راستہ رکھا ہے تو اس کا مطلب یہی ہے کہ ہر بندھن ہر حال میں نبھانا لازم نہیں۔
ہمارے عدالتی نظام میں خاندانی عدالتیں اسی مقصد کے لیے قائم کی گئیں کہ نکاح، طلاق، خلع، نان و نفقہ، حق مہر، بچوں کی حوالگی اور دیگر گھریلو معاملات کو جلد اور باوقار انداز میں نمٹایا جا سکے۔ یہاں مقصد انتقام نہیں بلکہ قانونی تحفظ اور انسانی وقار کو برقرار رکھنا ہے۔ مگر افسوس یہ ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ یہ عمل بھی ایک مشینی سانچے میں ڈھلتا جا رہا ہے، جہاں رشتوں کی پیچیدگیوں کے بجائے کاغذی الزامات کا سہارا لیا جاتا ہے۔
اکثر مقدمات میں اصل وجوہات بیان ہی نہیں ہوتیں۔ ذہنی ہم آہنگی کا نہ ہونا، مزاج کا اختلاف، زبردستی یا ناپسند کی شادی، توقعات کا فرق یہ سب پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ سامنے وہی چند روایتی جملے آ جاتے ہیں جو برسوں سے دہرائے جا رہے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایک خوبصورت رشتہ محض چند صفحات کی فائل بن کر ختم ہو جاتا ہے۔
اس سارے عمل میں سب سے زیادہ قیمت اولاد چکاتی ہے۔ وہ بچے جو والدین کے درمیان کشمکش، الزامات اور نفرت کے ماحول میں پلتے ہیں، زندگی بھر اس کا بوجھ اٹھاتے ہیں۔ اسی لیے اگر میاں بیوی اس نتیجے پر پہنچ جائیں کہ اب ساتھ رہنا ممکن نہیں، تو بہتر ہے کہ عزت، وقار اور خاموشی کے ساتھ راستے جدا کر لیے جائیں، نہ کہ عدالتوں، گھروں اور سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کی کردار کشی کی جائے۔
ہمارا معاشرہ اب بھی طلاق اور خلع کو کردار پر داغ سمجھتا ہے، خاص طور پر عورت کے لیے۔ مگر شاید اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کو یہ سکھائیں کہ رشتے جبر سے نہیں، رضامندی اور سکون سے چلتے ہیں۔ اگر نباہ ممکن نہ رہے تو علیحدگی بھی ایک باوقار فیصلہ ہو سکتی ہے۔
Value News HDMian Shahid Islam

https://www.facebook.com/share/p/1W8Yj97YnE/?mibextid=wwXIfr
24/12/2025

https://www.facebook.com/share/p/1W8Yj97YnE/?mibextid=wwXIfr

*قائداعظمؒ کا دیا ہوا نسخۂ نجات*

*تحریر: میاں شاہد اسلام*

تاریخِ اقوام میں کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو صرف ایک عہد کی نہیں بلکہ نسلوں کی رہنمائی کا استعارہ بن جاتی ہیں۔ قائداعظم محمد علی جناحؒ بھی اُنہی نابغۂ روزگار شخصیات میں سے ایک تھے جن کی بصیرت، دیانت، اصول پسندی اور فکری گہرائی آج بھی پاکستان کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ افسوس یہ نہیں کہ ہم بحرانوں میں گھرے ہوئے ہیں، اصل المیہ یہ ہے کہ ہمارے پاس وہ رہنما افکار موجود ہیں مگر ہم نے اُن پر عمل ترک کر دیا ہے۔ اگر آج ہم خلوصِ نیت سے قائداعظمؒ کے اقوال و فرمودات کو محض تقریبات کی زینت بنانے کے بجائے قومی پالیسی کا حصہ بنا لیں تو پاکستان کے بیشتر بحران خود بخود دم توڑ سکتے ہیں۔
قائداعظمؒ کا سب سے بنیادی اور واضح پیغام آئین، قانون اور انصاف کے گرد گھومتا ہے۔ اُن کا فرمان تھا:’’کوئی قوم اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتی جب تک وہاں انصاف نہ ہو۔‘‘
آج پاکستان کا سب سے بڑا بحران یہی ہے کہ قانون کمزور اور طاقتور مضبوط ہے۔ انصاف عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ اگر ہم واقعی جناحؒ کے پاکستان کے خواہاں ہیں تو سب سے پہلے قانون کی بالادستی کو تسلیم کرنا ہو گا، چاہے اس کی زد میں کوئی بھی آئے۔ یہی وہ راستہ ہے جو معاشرتی انتشار، بداعتمادی اور افراتفری کو ختم کر سکتا ہے۔
معاشی بحران ہماری قومی زندگی کا دوسرا بڑا زخم ہے۔ قرضوں، مہنگائی اور بے روزگاری نے عوام کی کمر توڑ دی ہے۔ قائداعظمؒ نے معیشت کے حوالے سے بھی واضح اصول دیے تھے۔ وہ بار بار دیانت داری، محنت اور خود انحصاری پر زور دیتے تھے۔ اُن کا کہنا تھا:’’ہمیں سادہ زندگی اور بلند خیالات کو اپنانا ہو گا۔‘‘
آج ہماری اشرافیہ کی شاہانہ طرزِ زندگی اور قومی وسائل کی بے دریغ لوٹ مار دراصل اسی اصول سے انحراف کا نتیجہ ہے۔ اگر ہم قومی وسائل کو امانت سمجھ کر استعمال کریں، ٹیکس نظام کو منصفانہ بنائیں اور کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس اپنائیں تو معاشی استحکام کوئی خواب نہیں رہے گا۔
قائداعظمؒ کا وژن صرف ریاستی نظام تک محدود نہیں تھا بلکہ وہ کردار سازی کو قوموں کی بقا کی بنیاد سمجھتے تھے۔ اُن کا مشہور قول ہے:
آج ہمارا تعلیمی نظام ڈگریاں تو دے رہا ہے مگر کردار نہیں۔ جھوٹ، سفارش، اقربا پروری اور خود غرضی نے معاشرتی اقدار کو کھوکھلا کر دیا ہے۔ اگر ہم نئی نسل کو سچائی، امانت، برداشت اور ذمہ داری کا سبق دے دیں تو یہی نوجوان پاکستان کو بحرانوں سے نکالنے کی طاقت بن سکتے ہیں۔
سیاسی عدم استحکام بھی ہمارے مسائل کی جڑ ہے۔ قائداعظمؒ جمہوریت پر یقین رکھتے تھے مگر وہ جمہوریت کو انتشار نہیں بلکہ نظم و ضبط سے جوڑتے تھے۔ اُن کا فرمان تھا’’بدقسمتی سے آج سیاست خدمت کے بجائے ذاتی مفادات کی جنگ بن چکی ہے‘‘۔ اگر سیاسی جماعتیں قائداعظمؒ کے اصولوں کے مطابق برداشت، مکالمہ اور آئینی حدود میں رہتے ہوئے کام کریں تو سیاسی بحران خود حل ہونا شروع ہو جائے۔
اقلیتوں کے حقوق کے حوالے سے قائداعظمؒ کا موقف دنیا کے لیے ایک مثال ہے۔ اُنہوں نے واضح اعلان کیا تھا کہ مذہب ہر فرد کا ذاتی معاملہ ہے اور ریاست سب کے ساتھ یکساں سلوک کرے گی۔ آج معاشرتی تقسیم اور عدم برداشت کے خاتمے کے لیے اس اصول پر عمل ناگزیر ہے۔ ایک مضبوط پاکستان وہی ہو سکتا ہے جہاں ہر شہری خود کو محفوظ اور برابر سمجھے۔
قائداعظمؒ نے نوجوانوں کو ہمیشہ امید کی کرن قرار دیا۔ وہ کہتے تھے کہ نوجوان ہی قوموں کا مستقبل ہوتے ہیں۔ آج اگر نوجوان مایوسی، بے روزگاری اور بے یقینی کا شکار ہیں تو اس کی وجہ قیادت کی ناکامی ہے، نہ کہ نوجوانوں کی صلاحیت کی کمی۔ ہمیں جناحؒ کے اعتماد کو لوٹانا ہو گا اور نوجوانوں کو بااختیار بنانا ہو گا۔
آخر میں یہ حقیقت تسلیم کرنا ہو گی کہ پاکستان کو کسی نئے فلسفے یا نظریے کی ضرورت نہیں، بلکہ قائداعظم محمد علی جناحؒ کے دیے ہوئے راستے پر سچے دل سے چلنے کی ضرورت ہے۔ دیانت دار قیادت، قانون کی حکمرانی، معاشی انصاف، کردار سازی اور قومی اتحاد—یہ سب قائداعظمؒ کے پیغام کا خلاصہ ہیں۔
آج اگر ہم واقعی قائداعظمؒ کو خراجِ تحسین پیش کرنا چاہتے ہیں تو صرف تقریریں اور قراردادیں کافی نہیں۔ اصل خراجِ تحسین یہ ہے کہ ہم اُن کے اقوال کو اپنی قومی زندگی کا آئینہ بنا لیں۔ یہی راستہ پاکستان کو بحرانوں سے نکال کر ایک مضبوط، باوقار اور خوشحال ریاست بنا سکتا ہے—وہی پاکستان جس کا خواب قائداعظم محمد علی جناحؒ نے دیکھا تھا۔
#قائداعظم
#پاکستان
#انصاف



















fansValue News HDMian Shahid IslamDHA LahoreGovt of PunjabChattogram WASALahore Development AuthorityLahore Grammar School (LGS)

https://www.facebook.com/share/p/17YedkopbQ
22/12/2025

https://www.facebook.com/share/p/17YedkopbQ

*دنیا کے سب سے امیر ملحد نے خدا کے وجود کو تسلیم کر لیا*

*تحریر: میاں محب حسن پیرزادہ*

کبھی کبھی تاریخ کے دھارے میں ایک جملہ ایسا آ جاتا ہے جو صرف خبر نہیں رہتا بلکہ پورے فکری نظام کو ہلا کر رکھ دیتا ہے۔ جب دنیا کے امیر ترین افراد میں شمار ہونے والا، جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور خلائی تسخیر کا علمبردار ایلون مسک یہ کہے کہ ’’میں اب خدا کے وجود پر یقین رکھتا ہوں‘‘تو یہ محض ایک ذاتی اعتراف نہیں، بلکہ الحاد، مادیت اور خود کفیل انسان کے دعوؤں پر ایک گہرا سوالیہ نشان بن جاتا ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جہاں سائنس غرور سے نہیں، حیرت سے خاموش ہو جاتی ہے اور عقل اپنے خالق کی تلاش میں سر جھکا لیتی ہے۔
ایلون مسک کا یہ بیان کسی مذہبی اجتماع میں نہیں بلکہ ایک پوڈکاسٹ میں سامنے آیا، جہاں ان سے براہِ راست خدا کے وجود پر سوال کیا گیا۔ وہی ایلون مسک جو برسوں تک خود کو ملحد قرار دیتے رہے، جو یہ کہتے تھے کہ کائنات کسی مافوق الفطرت ہستی کی محتاج نہیں، آج یہ ماننے پر مجبور نظر آئے کہ یہ حیرت انگیز نظام خود بخود وجود میں نہیں آ سکتا۔ ان کا یہ اعتراف اس بات کی علامت ہے کہ جتنا انسان کائنات کے رازوں میں جھانکتا ہے، اتنا ہی وہ اپنے علم کی حدوں کو پہچاننے لگتا ہے۔
یہاں یہ سوال اہم ہو جاتا ہے کہ آخر الحاد ہے کیا، اور اس کی تاریخ کس قدر مستند اور مضبوط رہی ہے؟ الحاد کوئی نئی فکر نہیں۔ قدیم یونان میں ڈیموکریٹس اور ایپی کیورس نے مادہ پرستی کی بنیاد رکھی، جہاں کائنات کو محض ایٹمز کا کھیل قرار دیا گیا۔ بعد ازاں روشن خیالی کے دور میں یورپ نے کلیسا کے جبر کے ردعمل میں خدا ہی کے انکار کو ترقی کا زینہ سمجھ لیا۔
مگر تاریخ کا المیہ یہ ہے کہ جن نظریات کو حتمی سچ سمجھا گیا، وہ خود وقت کی کسوٹی پر پورا نہ اتر سکے۔ کمیونزم، جو خدا کے انکار پر کھڑا تھا، کروڑوں انسانوں کی جانیں لے کر خود ملبے کا ڈھیر بن گیا۔ جدید مغرب، جو سائنسی ترقی کی معراج پر پہنچا، آج اخلاقی بحران، ذہنی بیماریوں اور روحانی خلا کا شکار ہے۔ یہی وہ پس منظر ہے جس میں ایلون مسک جیسے شخص کا خدا کے وجود کو تسلیم کرنا محض ذاتی تبدیلی نہیں بلکہ ایک فکری زلزلہ ہے۔
خاص طور پر ’’نیو ایتھی ازم‘‘کے علمبرداروں کے لیے یہ لمحہ شدید دھچکے کا باعث ہے۔ وہ لوگ جو یہ دعویٰ کرتے تھے کہ جوں جوں سائنس ترقی کرے گی، خدا کا تصور مٹتا جائے گا، آج دیکھ رہے ہیں کہ سائنس کی انتہا پر کھڑا انسان خود اس نتیجے پر پہنچ رہا ہے کہ اس کائنات کے پیچھے کوئی عظیم ذہن ضرور ہے۔ بگ بینگ تھیوری ہو یا فائن ٹیوننگ آف دی یونیورس، کوانٹم فزکس ہو یا ڈی این اے کی پیچیدگی ہر نئی دریافت خدا کے انکار کو نہیں بلکہ اس کی موجودگی کو مزید معنی خیز بنا رہی ہے۔
ایلون مسک کا یہ کہنا کہ ’’یہ سب خود بخود نہیں ہوا ہوگا‘‘ دراصل اسی فطری دلیل کا اظہار ہے جسے فلسفے میں ’’دلیلِ نظم‘‘ کہا جاتا ہے۔ ایک منظم کائنات، باقاعدہ قوانین، حیران کن توازن یہ سب کسی اندھے اتفاق کا نتیجہ نہیں ہو سکتے۔ یہی وہ دلیل ہے جس نے تاریخ میں بڑے بڑے مفکرین کو جھکنے پر مجبور کیا۔ آئن اسٹائن نے بھی کہا تھا کہ کائنات کا قابلِ فہم ہونا ہی سب سے بڑا معجزہ ہے۔
یہ بھی محض اتفاق نہیں کہ ایلون مسک کی سوچ میں یہ تبدیلی اُس وقت آئی جب وہ خلا کی وسعتوں میں جھانک رہے ہیں، نئی ٹیکنالوجیز کے ذریعے کائنات کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جتنا انسان آسمانوں کے قریب ہوا، اتنا ہی اس کا دل خدا کے قریب ہوا۔ خلا کی خاموشی، ستاروں کی وسعت اور زمین کی نازک حیثیت انسان کو اس کی اوقات یاد دلا دیتی ہے۔یہ اعترافِ خدا ملحدین کی فکری دنیا کے لیے ایک سخت سوال ہے: اگر سائنس کا سب سے بڑا علمبردار، ٹیکنالوجی کا سب سے طاقتور ذہن، اور سرمایہ دار دنیا کا سب سے بااثر شخص آخرکار خدا کو ماننے پر آمادہ ہو سکتا ہے، تو پھر الحاد کو ’’عقل کی آخری منزل‘‘کہنا کہاں تک درست ہے؟ یہ واقعہ نوجوان نسل کے لیے بھی ایک پیغام ہے کہ عقل اور ایمان ایک دوسرے کی ضد نہیں، بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل ہیں۔
ایلون مسک کا یہ بیان ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ سچائی انسان سے اس وقت بھی خود کو منوا لیتی ہے جب وہ دنیا کی طاقت، دولت اور علم کی چوٹی پر کھڑا ہو۔ خدا کو ماننا کمزوری نہیں، بلکہ شعور کی بلندی ہے۔ ممکن ہے آج یہ اعتراف ایک فرد کا ہو، مگر تاریخ بتاتی ہے کہ ایسے اعترافات ہی آنے والے وقتوں کے فکری دھاروں کا رخ بدلتے ہیں۔شاید یہی وجہ ہے کہ آج، ستاروں کو مسخر کرنے والا انسان بھی یہ ماننے پر مجبور ہے کہ وہ خود کسی عظیم تر ہستی کے قبضۂ قدرت میں ہے۔ اور یہی احساس انسان کو انسان بناتا ہے۔

#الحاد
#فلسفہ #کائنات
#روحانیت
#ملحد #ایمان #حقیقت










fansValue News HDMohib Hassan92hdnewsMian Shahid Islam

Address

DHA Phase 3
Lahore

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when ValueDigitalhd posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share