05/03/2026
https://www.facebook.com/share/p/183YcSMkcZ/?mibextid=wwXIfr
*پنجاب میں بیواؤں اور یتیم بچوں کی مالی کفالت کے لیے رحمت کارڈ پروگرام کا آغاز*
*تحریر: میاں شاہد اسلام*
معاشروں کی اصل پہچان ان کی بلند عمارتوں، شاہراہوں یا معاشی اشاریوں سے نہیں ہوتی بلکہ اس بات سے ہوتی ہے کہ وہ اپنے کمزور ترین افراد کے ساتھ کیسا سلوک کرتے ہیں۔ وہ بیوہ عورت جو زندگی کے طوفان میں اپنے شریکِ حیات کا سہارا کھو بیٹھتی ہے اور وہ بچے جو والدین کی شفقت سے محروم ہو جاتے ہیں، دراصل کسی بھی معاشرے کے لیے سب سے بڑا امتحان ہوتے ہیں۔ اگر ریاست ان کے سروں پر دستِ شفقت رکھ دے تو محرومی کی اندھیری رات امید کی سحر میں بدل سکتی ہے۔ پنجاب میں بیواؤں اور یتیم بچوں کی کفالت کے لیے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی جانب سے متعارف کرایا جانے والا “رحمت کارڈ” اسی احساسِ ذمہ داری کا اظہار ہے، جو فلاحی ریاست کے تصور کو عملی شکل دینے کی ایک اہم کوشش قرار دیا جا سکتا ہے۔پاکستان جیسے معاشرے میں بیوہ خواتین کی زندگی اکثر معاشی اور سماجی مشکلات سے بھری ہوتی ہے۔ بہت سی خواتین ایسی ہیں جو اچانک اپنے خاندان کی واحد کفیل بن جاتی ہیں، مگر ان کے پاس نہ وسائل ہوتے ہیں اور نہ مواقع۔ یتیم بچوں کی صورتحال بھی کم کٹھن نہیں ہوتی۔ تعلیم، صحت اور بنیادی ضروریات تک رسائی ان کے لیے ایک مستقل چیلنج بن جاتی ہے۔ یہی وہ خلا ہے جسے پر کرنے کے لیے حکومتیں مختلف فلاحی پروگرام متعارف کراتی رہی ہیں، مگر اکثر یہ منصوبے بیوروکریسی، شفافیت کے فقدان یا سیاسی مداخلت کی وجہ سے اپنی اصل روح کھو دیتے ہیں۔
ایسے ماحول میں پنجاب حکومت کا “رحمت کارڈ” پروگرام کئی حوالوں سے منفرد دکھائی دیتا ہے۔ سب سے نمایاں پہلو اس کا ڈیجیٹل اور شفاف نظام ہے۔ پاکستان میں فلاحی منصوبوں کو اکثر اس تنقید کا سامنا رہا ہے کہ مستحق افراد تک امداد مکمل طور پر نہیں پہنچ پاتی۔ لیکن اگر اس منصوبے کے تحت موبائل ایپلی کیشن، ویب پورٹل، کال سینٹر اور زکوٰۃ آفسز کے ذریعے درخواست دینے کا نظام مؤثر انداز میں نافذ کیا جاتا ہے تو یہ نہ صرف شفافیت کو بہتر بنا سکتا ہے بلکہ بدعنوانی اور اقربا پروری کے امکانات بھی کم کر سکتا ہے۔پروگرام کے ابتدائی مرحلے میں پچاس ہزار سے زائد بے آسرا گھرانوں کو شامل کرنے کا اعلان بھی اہم ہے۔ یہ تعداد بظاہر محدود محسوس ہو سکتی ہے، مگر کسی بھی سماجی منصوبے کی کامیابی کا راز اس کے مرحلہ وار اور منظم نفاذ میں ہوتا ہے۔ اگر اس پروگرام کو درست طریقے سے چلایا گیا تو مستقبل میں اس کا دائرہ مزید وسیع کیا جا سکتا ہے اور لاکھوں خاندان اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔اس منصوبے کا ایک اور قابلِ توجہ پہلو یہ ہے کہ بیوہ خواتین کو ایک لاکھ روپے تک مالی امداد فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ یتیم بچوں کو بھی پچیس پچیس ہزار روپے دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔ یہ امداد بظاہر ایک وقتی مالی سہارا ہے، مگر اگر اسے درست حکمت عملی کے ساتھ استعمال کیا جائے تو یہ کسی خاندان کے لیے معاشی بحالی کی پہلی سیڑھی بن سکتی ہے۔ خاص طور پر اگر اس امداد کو چھوٹے کاروبار، ہنر سیکھنے یا گھریلو صنعتوں کے آغاز کے لیے استعمال کیا جائے تو اس کے اثرات کہیں زیادہ دیرپا ثابت ہو سکتے ہیں۔
یہاں ایک اہم سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا صرف مالی امداد کسی بیوہ یا یتیم کے مسائل حل کر سکتی ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ غربت صرف پیسے کی کمی کا نام نہیں بلکہ مواقع کی کمی کا بھی نام ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ “رحمت کارڈ” جیسے منصوبوں کو صرف امدادی پروگرام کے طور پر نہیں بلکہ سماجی بااختیاری کے منصوبے کے طور پر دیکھا جائے۔ اگر اس کے ساتھ ہنر مندی کی تربیت، مائیکرو فنانس اور چھوٹے کاروبار کے مواقع بھی فراہم کیے جائیں تو یہ پروگرام حقیقی معنوں میں بیوہ خواتین کو خود کفیل بنا سکتا ہے۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کا یہ کہنا کہ بیوہ کو خیرات نہیں بلکہ باوقار حق ملنا چاہیے، دراصل فلاحی ریاست کے بنیادی فلسفے کی ترجمانی کرتا ہے۔ اسلامی تعلیمات بھی یہی درس دیتی ہیں کہ معاشرے کے کمزور طبقات کی کفالت ریاست اور سماج دونوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ تاریخِ اسلام میں خلفائے راشدین کے دور میں ایسے متعدد واقعات ملتے ہیں جہاں بیت المال سے بیواؤں اور یتیموں کی کفالت کو ریاستی ذمہ داری سمجھا گیا۔
پاکستان کے آئین میں بھی فلاحی ریاست کا تصور موجود ہے۔ آئین کے آرٹیکل 38 کے تحت ریاست پر لازم ہے کہ وہ شہریوں کی سماجی اور معاشی فلاح کے لیے اقدامات کرے۔ لیکن بدقسمتی سے عملی سطح پر اس تصور کو مکمل طور پر نافذ نہیں کیا جا سکا۔ ایسے میں اگر پنجاب حکومت اس سمت میں عملی اقدامات کرتی ہے تو یہ نہ صرف ایک مثبت پیش رفت ہو سکتی ہے بلکہ دیگر صوبوں کے لیے بھی ایک مثال بن سکتی ہے۔
تاہم ہر بڑے منصوبے کی طرح اس پروگرام کو بھی کئی چیلنجز کا سامنا ہو سکتا ہے۔ سب سے بڑا چیلنج مستحق افراد کی درست نشاندہی ہے۔ پاکستان میں غربت کے مستند اعداد و شمار جمع کرنا ہمیشہ مشکل رہا ہے۔ اگر اس پروگرام میں شفاف ڈیٹا بیس اور مؤثر جانچ پڑتال کا نظام قائم کیا گیا تو یہ مسئلہ بڑی حد تک حل ہو سکتا ہے۔ اسی طرح اس بات کو بھی یقینی بنانا ہوگا کہ یہ پروگرام سیاسی وابستگی یا اثر و رسوخ سے بالاتر ہو کر صرف حقیقی مستحقین تک محدود رہے۔دوسرا اہم پہلو مالی پائیداری کا ہے۔ فلاحی پروگرام اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتے جب تک ان کے لیے مستقل مالی وسائل موجود نہ ہوں۔ اگر حکومت اس منصوبے کے لیے مستقل فنڈنگ کا انتظام کرتی ہے اور اسے زکوٰۃ، صدقات اور سرکاری وسائل کے مؤثر امتزاج کے ساتھ چلایا جاتا ہے تو یہ طویل مدت تک جاری رہ سکتا ہے۔
اس کے باوجود یہ حقیقت اپنی جگہ اہم ہے کہ کسی بھی معاشرے میں مثبت تبدیلی ہمیشہ کسی ایک قدم سے شروع ہوتی ہے۔ “رحمت کارڈ” کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ صرف ایک مالی امداد کا پروگرام نہیں بلکہ اس سوچ کی عکاسی ہے کہ ریاست اپنے کمزور شہریوں کو تنہا نہیں چھوڑ سکتی۔
اگر یہ منصوبہ شفافیت، دیانت داری اور مؤثر انتظام کے ساتھ آگے بڑھتا ہے تو یہ نہ صرف ہزاروں خاندانوں کے لیے امید کی کرن بن سکتا ہے بلکہ پاکستان میں فلاحی ریاست کے تصور کو بھی تقویت دے سکتا ہے۔ بیواؤں کے چہروں پر خود اعتمادی کی مسکراہٹ اور یتیم بچوں کی آنکھوں میں روشن مستقبل کے خواب دراصل کسی بھی حکومت کی اصل کامیابی ہوتے ہیں۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ معاشروں کی ترقی کا حقیقی معیار یہی ہے کہ وہاں کمزور افراد کو کس قدر تحفظ اور احترام حاصل ہے۔ اگر “رحمت کارڈ” واقعی بیوہ خواتین کو باوقار زندگی اور یتیم بچوں کو محفوظ مستقبل فراہم کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ صرف ایک سرکاری منصوبہ نہیں رہے گا بلکہ انسانی ہمدردی اور ریاستی ذمہ داری کی ایک زندہ مثال بن جائے گا۔
News HDXcellent NewsValueDigitalhdtalhdMian Shahid IslamGovt of PunjabWomen Development Department Punjab