Ahmar Graphic Designer

Ahmar Graphic Designer اپنے کاروبار / بزنس کے لیے پروفیشنل پوسٹ ، لوگو ، اور اشتہار بنوانے کے لیے رابطہ فرمائیں۔

07/08/2026

*زندگی کی نمائش ۔۔۔۔!! سوشل میڈیا اور ہماری زندگی ۔۔۔!!*

*✍🏻 احمر عارف عطاری*
*7 اگست 2026ء*
*جمعۃ المبارک*

دورِ حاضر کو اگر "ڈیجیٹل دور" یا "سوشل میڈیا کا دور" کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ آج کی تیز رفتار اور ٹیکنالوجی سے بھر پور دنیا نے جہاں انسانی رابطوں کو آسان تر بنا دیا ہے، وہیں اس نے زندگی کے ہر نجی معاملے کو سرِ عام بازار میں لا کھڑا کیا ہے۔ صبح بیدار ہونے سے لے کر رات سونے تک، انسان کی ہر سرگرمی اب اس کے اپنے کمرے کی چار دیواری تک محدود نہیں رہی بلکہ وہ فیس بک کی نیوز فیڈ، انسٹاگرام کی (Stories)، اور واٹس ایپ (Status) کی نذر ہو چکی ہے۔۔۔!!

کہیں سفر پر روانہ ہوئے تو ائیرپورٹ سے لائیو اپ ڈیٹ، کسی اچھے ریسٹورنٹ میں کھانا کھایا تو میز پر سجے کھانوں کی دلکش تصاویر، کسی معروف شخصیت سے ملاقات ہوئی تو فخر سے کھینچی گئی سیلفی، اور کوئی خوشخبری یا کامیابی ملی تو اس کا ڈھنڈورا پیٹنا آج کے انسان کا سب سے پہلا اور اہم فریضہ بن چکا ہے۔۔۔!!

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ہم اپنی خوشیوں، کامیابیوں اور روزمرہ کے معمولات کو اس انداز میں دوسروں کے سامنے پیش کرنے پر کیوں مجبور ہیں؟ کیا یہ محض خوشی کا اظہار ہے یا اس کے پیچھے کوئی گہرا نفسیاتی روگ اور معاشرتی بگاڑ چھپا ہے....؟؟؟
آئیے کچھ چیزوں کو جانتے ہیں کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے پھر مزید آگے چلیں گے:

☚ آج کے اس پرفریب دور میں انسان اندر سے اکیلا اور تنہائی کا شکار ہو چکا ہے۔ جسمانی طور پر تو وہ سینکڑوں ، ہزاروں لوگوں کے درمیان میں ہے، لیکن روحانی اور جذباتی طور پر وہ ایک گہرے خلاء میں مبتلا ہے۔ اس خلاء کو پر کرنے کے لیے اسے مسلسل "توجہ" (Attention) کی ضرورت رہتی ہے۔۔۔!!

☚ جب کوئی انسان اپنی خوشی یا سفر کی تصویر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرتا ہے اور اس پر آنے والے "لائکس" (Likes)، "ہارٹس" (Hearts) اور تعریف بھرے تبصرے دیکھتا ہے، تو اس کے دماغ میں عارضی طور پر ڈوپامین (Dopamine) خارج ہوتا ہے جو اسے ایک مصنوعی خوشی اور تسکین کا احساس دلاتا ہے۔۔۔!! یہی ڈوپامین انسان کو اپنی زندگی کے معاملات سوشل میڈیا پر شیئر کرنے پر مجبور کرتا ہے۔۔!!

☚ معاشرے میں اپنی دھاک بٹھانے، دوسروں پر یہ ظاہر کرنے کہ "ہم کتنے خوشحال اور کامیاب ہیں"، اور مادی آسائشوں کی نمائش کرنے کی نفسیات نے لوگوں کو اندر سے کھوکھلا کر دیا ہے۔۔۔!!

☚ بہت سے لوگ اندرونی طور پر احساسِ کمتری کا شکار ہوتے ہیں، اس لیے وہ اپنی زندگی کی صرف چمکدار اور خوبصورت تصویریں دنیا کو دکھاتے ہیں تاکہ ان کے اندر کے اداسی اور محرومی کے اندھیرے چھپ جائیں۔۔۔!!

یہ وہ چند ایک وجوہات ہیں جو انسان کو اپنی زندگی کے معاملات سوشل میڈیا پر شیئر کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔

اب ایک ایسی حقیقت کی طرف چلتے ہیں جس کی طرف اکثر لوگوں کی توجہ نہیں ہوتی بلکہ پتا بھی نہیں ہوتا۔۔!!

یاد رکھیے کہ دکھاوے اور نمائش کی اس دوڑ میں انسان اس بات سے بالکل غافل ہو جاتا ہے کہ وہ جانے انجانے میں کس خطرناک آفت کو دعوت دے رہا ہے۔ اسلامی تعلیمات میں نظرِ بد (Evil Eye) کو ایک برحق حقیقت تسلیم کیا گیا ہے۔ نظرِ بد صرف توہم پرستی نہیں ہے بلکہ یہ ایک حقیقت ہے جو انسانی جسم، مال، اولاد اور خوشیوں پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔۔۔!!

جب انسان اپنی زندگی کی ہر چھوٹی بڑی نعمت، اپنی مسکراتی ہوئی فیملی، اپنے بچوں کی کامیابی، اپنے نئے گھر، گاڑی یا مہنگے ریسٹورنٹ کے کھانوں کی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کرتا ہے، تو وہ حاسدین، بدخواہوں اور عام لوگوں کی نگاہوں کا نشانہ بن جاتا ہے۔ ہر دیکھنے والا ایک جیسا پاک نیت اور خوش دل نہیں ہوتا۔۔۔!!

کچھ لوگ حسد کی آگ میں جلتے ہیں، کچھ تعجب سے دیکھتے ہیں، اور کچھ کی نگاہ میں زہر ہوتا ہے۔۔۔!!

پیارے مصطفیٰ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آج سے چودہ سو سال پہلے ہی اس حقیقت سے امت کو خبردار کر دیا تھا کہ نظرِ بد انسان کو نقصان پہنچاتی ہے اور اسے قبر تک اور اونٹ کو ہنڈیا تک پہنچا سکتی ہے۔۔۔!

چنانچہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:

نظر حق ہے اور اگر کوئی چیز تقدیر سے سبقت لے جاتی تو وہ نظر ہوتی۔

(مسلم، کتاب السلام، باب الطب والمرض والرقی، ص864، حدیث: 2188)

ایک اور حدیث پاک میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

بے شک نظر (کا اثر یہاں تک ہو جاتا ہے کہ وہ) آدمی کو قبر میں داخل کر دیتی ہے اور اونٹ کو ہنڈیا میں ڈال دیتی ہے۔

(مسند شہاب، 687-ان العین لتدخل الرجل القبر، 2 /140، حدیث:1057، موسسۃ الرسالہ، بیروت)

اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

استعینوا علی قضاء حوائجکم بالکتمان فان کل ذی نعمۃ محسود

(مفہومی ترجمہ) یعنی اپنی نعمتوں کو چھپا کر ان کی حفاظت کرو (آفات سے محفوظ رہو) کیونکہ ہر نعمت والے سے حسد کیا جاتا ہے۔

(مجمع الزوائد، جلد 8 ، حدیث: 13737)

قرآن پاک کی سورۃ یوسف میں حضرت یعقوب علیہ السلام کی اپنے بیٹوں کو نصیحت کا خوبصورت ذکر ملتا ہے جب وہ مصر روانہ ہو رہے تھے۔ تو آپ علیہ السلام نے اپنے بیٹوں کو ایک ہی دروازے سے داخل ہونے سے منع فرمایا اور کہا:

وَ قَالَ یٰبَنِیَّ لَا تَدْخُلُوْا مِنْۢ بَابٍ وَّاحِدٍ وَّ ادْخُلُوْا مِنْ اَبْوَابٍ مُّتَفَرِّقَةٍؕ

مفہومی ترجمہ : اور فرمایا: اے میرے بیٹو! ایک دروازے سے داخل نہ ہونا بلکہ جدا جدا دروازوں سے داخل ہونا۔۔

(پارہ 13 سورۃ یوسف: آیت 67)

مفسرین کے مطابق حضرت یعقوب علیہ السلام کو اندیشہ تھا کہ ان کے اتنے خوبصورت، نوجوان اور توانا بیٹوں کو ایک ساتھ دیکھ کر کہیں کسی کی نظر نہ لگ جائے۔۔۔

(حوالے کے لیے ملاحظہ فرمائیں: تفسیر ابن عباس رضی اللہ عنہ، تفسیر ابن کثیر، تفسیر بغوی، تفسیر قرطبی، تفسیر مدارک التنزیل، تفسیر خزائن العرفان اور تفسیر صراط الجنان وغیرہ)

یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ عقلمند انسان اپنی نعمتوں اور خوبصورت پہلوؤں کو بچا کر رکھتا ہے، ہر جگہ ان کی نمائش نہیں کرتا۔۔۔!!

یہ بات ذہن میں رکھیے کہ جب انسان اپنی خوشیوں کو سرِ عام نیلام کرتا ہے، تو وہ حاسدین کی گندی نظروں کو دعوت دیتا ہے۔ حسد ایک ایسی آگ ہے جو سب سے پہلے حسد کرنے والے کو جلاتی ہے، لیکن اس کے زہریلے اثرات اس شخص تک بھی پہنچتے ہیں جس پر حسد کیا جا رہا ہو۔۔۔!!

آپ نے دیکھا ہو گا کہ بعض اوقات گھر کی رونقیں اور ہنستے بستے خاندان اچانک بلاوجہ کے لڑائی جھگڑوں اور کشیدگی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ میاں بیوی کے تعلقات میں دراڑیں پڑ جاتی ہیں، بھائی بھائی سے بیگانہ ہو جاتا ہے۔
بظاہر تندرست و توانا انسان اچانک خطرناک بیماریوں میں مبتلا ہو جاتا ہے۔۔ چہرے کا نور غائب ہو جاتا ہے اور ڈپریشن، بے چینی ، خوف مستقل ڈیرے ڈال لیتے ہیں۔۔۔!!
اچانک ایسے مالی بحران آتے ہیں کہ انسان زمین پر آ جاتا ہے۔!!

ہم سمجھتے ہیں کہ پتا نہیں کیا ہو گیا ہے۔۔ سب کچھ بالکل ٹھیک تھا اچانک سے یہ کیوں ہو رہا ہے۔۔!! بعض اوقات پھر جنات، جادو کے وسوسے بھی ذہن میں لے آتے ہیں اور پھر کسی ایرے غیرے عامل کے ہتھے چڑھ کر جادو کا انکشاف کروا لیتے ہیں حالانکہ یہ سب نظر بد کی وجہ سے ہو رہا ہوتا ہے۔۔۔!! مگر ہم اس پہلو کو بالکل ایک طرف کر دیتے ہیں بلکہ اس طرف توجہ تک نہیں دیتے۔۔ کہ ہم نے جو سوشل میڈیا پر واٹس ایپ اسٹیٹس، فیس بک پوسٹس اور انسٹاگرام کی ریلز کے ذریعے اپنے گھر کے اندرونی ماحول، اپنے دسترخوان کی رونق اور اپنی محبتوں کو سرِ بازار رکھ دیا تھا ، اور اسے شیئر کیا تھا یہ اسی وجہ سے ہو رہا ہے۔۔۔۔۔!!

کوئی غریب، محروم، یا دل کا بیمار جب وہ مناظر دیکھتا ہے، تو اس کے دل سے اٹھنے والی حسرت بھری آہ یا حسد کی نظر اس خوشحال گھرانے کے سکون کو گھنٹوں میں برباد کر سکتی ہے۔۔۔!!

اور سب سے خطرناک نظر بد حاسد کی ہوتی ہے کیونکہ اس کی نظر سے جو زہر کی شعائیں نکلتی ہیں وہ بہت خطرناک ہوتی ہیں۔۔۔!

حوالے کے لیے امیر اہلسنت دامت برکاتہم العالیہ کا یہ کلپ ملاحظہ فرمائیں:

https://youtu.be/lxXuZwZrKqo?si=HzMxyk-Qj7QWf9OZ

اور مفتی محمد قاسم عطاری دامت برکاتہم العالیہ کا یہ کلپ بھی ملاحظہ فرمائیں:

https://youtu.be/HztPKQnVkxs?si=5FbPG2-rg9t3JPPk

(اگر کسی Technical Issue کی وجہ سے یہ لنک کام نہ کریں تو ان کو کاپی کر کے کسی بھی نمبر پر سینڈ کر دیجیے گا یہ چل جائیں گے ان شاءاللہ الکریم)

اور یہ بھی یاد رہے کہ نظر بد صرف انسان ہی کی نہیں لگتی، بلکہ جنات کی بھی لگتی ہے، اور جنات کی نظربد، انسان کی نظر بد سے زیادہ تاثیر والی ہوتی ہے، جیسا کہ حدیث پاک میں ہے کہ نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم انسانوں اور جنات کی بری نظر سے پناہ مانگتے تھے،

اور علامہ بدر الدین عینی حنفی علیہ الرحمۃ نے ایک صحابی رسول (صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم) حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالی عنہ کے حوالے سے لکھا ہے کہ ان کو جنات کی بری نظر لگی اور یہی ان کے انتقال کا سبب بنا۔۔

(حوالہ: فتویٰ دارالافتاء اہلسنت دعوت اسلامی، فتویٰ نمبر: WAT-4635)

لوگ ریسٹورنٹ میں جا کر کھانا کھانے سے زیادہ توجہ اس بات پر دیتے ہیں کہ اس کی تصویر کیسے بہترین انداز میں آئے تاکہ لوگ واہ واہ کریں۔۔۔
میاں بیوی کے درمیان جھگڑے چل رہے ہوتے ہیں لیکن واٹس ایپ اسٹیٹس پر "خوشیوں" کی تصویریں اور محبت بھرے اقوال شیئر کیے جا رہے ہوتے ہیں۔۔۔

یہ دکھاوا اور وقتی تسکین کا ایک ایسا جال ہے جو انسان کو اندر سے کھوکھلا کر رہا ہے۔
جب ہم اپنی خوشیوں کو لوگوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتے ہیں، تو ہم اپنی خوشی کا ریموٹ کنٹرول دوسروں کے ہاتھ میں دے دیتے ہیں۔ اگر کسی نے تعریف کر دی تو ہم پھولے نہیں سماتے، اور اگر کسی نے عجیب نظر ڈال دی یا حسد بھرا تبصرہ کر دیا تو ہمارے اوقات اداسی میں بدل جاتے ہیں۔

لھٰذا اپنی خوشی، اپنی آمدنی، اور اپنے بچوں کی صلاحیتوں کو لوگوں کی نگاہوں سے بچا کر رکھیں ۔۔ جو لوگ اپنی زندگی کو کھلی کتاب بنا دیتے ہیں، ان کا شیرازہ پھر جلد ہی بکھرنے کی طرف چلا جاتا ہے۔۔۔!!
اس تباہ کن روش سے بچنے اور اپنی زندگی کو پرسکون بنانے کے لیے ہمیں سنجیدگی سے درج ذیل امور پر غور کرنا ہوگا اور اپنی عادات میں تبدیلی لانی ہوگی:

☚ خاموشی اختیار کریں تاکہ محفوظ رہیں۔ اپنے معاملات کو پوشیدہ رکھیں تا کہ وہ انجام تک پہنچ پائیں، کیونکہ ہر صاحبِ نعمت پر حسد کیا جاتا ہے۔۔۔ ہمیں اپنی زندگی کو جتنا ممکن ہو سکے سادہ اور نظروں سے اوجھل رکھنا چاہیے۔۔۔۔

☚ سوشل میڈیا کو تفریح یا ضرورت کی حد تک رکھیں، نہ کہ اسے اپنی ذاتی زندگی کا ڈائری یا نمائش گاہ بنائیں۔ ہر سفر، ہر کھانا، ہر ملاقات اور ہر خوشخبری دنیا کو نہ بتائیں۔۔!!

زندگی کی خوبصورتی اس وقت تک برقرار رہتی ہے جب وہ آپ اور آپ کے اپنوں تک محدود ہو۔

☚ روزانہ صبح و شام کے اذکار کا اہتمام کریں۔ سورۃ الفلق اور سورۃ الناس (معوذتین) کو اپنے معمول کا حصہ بنائیں، کیونکہ یہ اللہ کی پناہ کے وہ مضبوط قلعے ہیں جو نظرِ بد، جادو اور حاسدین کے شر سے انسان کو محفوظ رکھتے ہیں۔۔۔!!
رات کو سونے سے پہلے حصار پڑھنے کی عادت بھی بنائیں۔۔۔!!
پىارے آقا ﷺ بھى حِصار فرماتے تھے۔ اس کا طرىقہ یہ ہے کہ سونے سے پہلے بیٹھ کر دعا کى طرح ہاتھ پھیلا لىں ، پھر بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ کے ساتھ سورۂ اخلاص ، سورۂ فلق اور سورۂ ناس شرىف پڑھ کر اپنى ہتھیلیوں پر دم کریں اور سارے اگلے حصے پر ہاتھ پھیرىں، پھر دائىں بائیں، جہاں جہاں ہاتھ پہنچتا ہے وہاں ہاتھ پھیریں۔

اسی طرح دوسری بار کریں اور تیسری بار بھی یعنی تین بار کرنا ہے یہ عمل ۔۔

اس طرح کریں گے تو یہ حصار ہو جائے گا پھر اس سے برے خواب ، جن ، جادو ، آسیب وغیرہ کوئى بھی چیز اِنْ شَآءَاللہ اثر انداز نہیں ہو گى۔

مگر یہ عمل مستقل یعنی بلا ناغہ روزانہ کریں، تلفظ کی ادائیگی اور مخارج بھی درست ہونے چاہئیں۔۔

(نوٹ: اگر کوئی اسلامی بہن یہ حصار پڑھنے کی عادت بناتی ہے تو وہ اس کو حالت حیض میں نہیں پڑھ سکتی۔۔ حالت حیض میں سونے سے پہلے اول و آخر ایک بار درود شریف کے ساتھ 21 بار یَا مُتَکَبِّرُ پڑھ لیا کریں)

☚ خوشی ملنے پر واٹس ایپ اسٹیٹس لگانے کے بجائے سجدۂ شکر ادا کریں، اللہ کا شکر ادا کریں اور غریبوں اور محتاجوں میں صدقہ و خیرات کریں تاکہ آپ کی نعمتوں پر اللہ کی رحمت کا سایہ مزید گہرا ہو۔۔۔!!

زندگی اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ ایک قیمتی نعمت ہے۔ اس کی رونقیں اور خوشیاں اس لیے نہیں ہیں کہ انہیں چند لمحوں کے "لائکس" اور واہ واہ کی بھینٹ چڑھا دیا جائے۔
آئیے آج یہ نیت کریں کہ ہم اپنی زندگی کے نجی لمحات، اپنی خوشیوں، اپنے سفروں اور اپنے گھریلو سکون کو سوشل میڈیا کی نظروں سے بچائیں گے۔ ایک پرسکون، پردہ دار اور شکر گزار زندگی گزاریں گے، تاکہ ہم حاسدین کی نظروں، نظرِ بد کی ہلاکتوں اور معاشرتی فسادات سے محفوظ رہ سکیں۔

یاد رکھیے۔۔۔!! جو پھول اپنی شاخ پر چھپا رہتا ہے، اس کی خوشبو دیر تک باقی رہتی ہے، لیکن جو پھول توڑ کر سڑک پر سرِ عام پھینک دیا جائے، وہ بہت جلد روند دیا جاتا ہے۔
اپنی خوشیوں کو اپنی شاخ پر محفوظ رکھیے، انہیں دنیا کی نظروں کا نشانہ مت بنائیے۔۔۔!!

اللّٰہ پاک ہمیں، ہمارے گھر والوں کو اور ہمارے مال کو نظرِ بد اور حاسدوں کے حسد سے محفوظ فرمائے۔ آمین اللھم آمین ثم آمین یا رب العالمین

*✍🏻 احمر عارف عطاری*
*7 اگست 2026ء*
*جمعۃ المبارک*

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

𝑨𝒉𝒎𝒂𝒓 𝑨𝒓𝒊𝒇 𝑨𝒕𝒕𝒂𝒓𝒊
𝑯𝒆𝒂𝒅 𝑶𝒇 𝑲𝒉𝒖𝒔𝒉𝒃𝒐 𝑬 𝑨𝒕𝒕𝒂𝒓 𝑰𝒏𝒕𝒆𝒓𝒏𝒂𝒕𝒊𝒐𝒏𝒂𝒍 𝑶𝒏𝒍𝒊𝒏𝒆 𝑸𝒖𝒓’𝒂𝒏 𝑨𝒄𝒂𝒅𝒆𝒎𝒚

28/12/2025
Contact Us Now..
25/12/2025

Contact Us Now..

Secret | Relationship
23/12/2025

Secret | Relationship



22/12/2025




21/12/2025

Ahmar Graphics Designer| Online Post Master



Address

Punjab
Mandi Bahauddin

Opening Hours

Monday 13:00 - 22:00
Tuesday 13:00 - 22:00
Wednesday 13:00 - 22:00
Thursday 14:00 - 23:00
Friday 15:00 - 23:00
Saturday 13:00 - 22:00
Sunday 09:00 - 19:00

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ahmar Graphic Designer posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share