11/03/2024
I have seen many people on social media who share almost everything related to their lives.
We should keep some things private; our elders also advised us.
Such as:
1- What we eat:
If someone eats food from a good place outside and then sends snaps to everyone, yes, sharing with family, then there is no problem. But it should be publicly avoided.
2. How much money you are earning or have:
It means how much you charged for which project or how much money you have. Your wealth is also your secret; you can't keep it to yourself, so what do you expect from anyone?
3. Worship:
Whether you are a Muslim or a non-Muslim, if you make a mistake (sin or omission), many people will share it.
Brother and sister, this matter is between you and your Lord, why the fuss about it on social media??
We share it all to learn/teach. There are many more things to learn/teach, share the works like I posted this.
Note: Staying in literature, you can also express your opinion.
By: Ammar Zahoor
میں نے سوشل میڈیا پر بہت لوگوں کو دیکھا ہے کہ وہ اپنی زندگی سے جڑی تقریباً ہر شے شیئر کر دیتے ہیں
میرے نزدیک ہمیں کچھ چیزیں شیئر نہیں کرنی چاہیئں اور ہمارے بڑے بھی یہی نصیحت کر گئے۔
جیسے کہ
1۔ہم کیا کھاتے ہیں
جیسے کوئی باہر سے کسی اچھی جگہ سے کھانا کھاتا ہے تو اسنیپ بھیج رہا ہوتا ہے ہر کسی کو، ہاں فیملی کے ساتھ شیئر کر رہا ہو تو میری رائے میں اس میں کوئی حرج نہیں ۔ لیکن پبلکلی اوائڈ کرنا چاہیے۔
2۔ خزانہ/پیسہ
مطلب آپ نے کس پروجیکٹ کے کتنے چارج کیے یا آپ کے پاس ایگزیکٹلی کتنا پیسہ ہے۔ آپ کی دولت بھی آپ کا ایک راز ہے اس کو آپ نے اپنے تک نہیں رکھ سکتے ہیں تو کسی سے کیا توقع؟
3۔ عبادت
آپ مسلم ہیں یا نان مسلم آپ سے غلطی (گناہ یا بھول) ہو گئی تو اکثر لوگوں کو دیکھا ہے اس کو شیئر کرتے پھریں گے۔
ارے بھائی بہن وہ آپ کا ذاتی معلاملہ ہے آپ کے اور آپ کے رب کے درمیان، سوشل میڈیا پر اس کا واویلا کیوں؟؟
کچھ لوگ کہیں گے ہم تو یہ سب سیکھنے کے لیے شیئر کرتے ہیں۔ سیکھنے کے لیے اور بہت چیزیں ہیں، کام کی باتیں شیئر کریں جیسے میں نے یہ پوسٹ کی۔
نوٹ: ادب کے دائرے میں رہ کر اپ لوگ بھی اپنی رائے کا اظہار کر سکتے ہیں۔
بقلم : عمار ظہور