01/03/2018
صُوفی ازّم ۔ایک سوال۔۔۔رضوان خالد چوھدری
مُجھ سے سوال کیا گیا کہ کیا واقعی صُوفی ازّم اسلام سے مُتوازی ایک الگ دین ہے۔
میں نہیں جانتا کہ سوال کرنے والے کے نزدیک صُوفی ازّم کی کیا تعریف ہے البتّہ میرے نزدیک صُوفی ازّم دُنیا کے دیگر عُلوم کی طرح علم کی ایک ایسی شاخ ہے جِس میں ادراک کی بُنیاد مادے اور حواسِ خمسہ کی بجائے کائنات کے خُودکار فطری نظام کو چلانے والی نظر نہ آنے قُوّت ہے۔
جِس صُوفی ازّم کا مُجھے علم ہے وہ نہ تو اسلامی علم ہے نہ غیر اسلامی۔
علم کا کوئی مذہب ہو بھی کیسے سکتا ہے ۔
کوئی بھی علم یا تو انسانوں کو نفع دے گا یا نُقصان۔
نفع یا نُقصان کے پیمانے پر ہی کسی علم کی حیثیّت کو پرکھا جاتا ہے۔
ایک مثال شاید میری بات کو واضع کر دے۔
دیکھیے! فزکس کا علم ہی ایٹم اور ہائیڈروجن بم بننے کا باعث بھی بنتا ہے اور یہی علم میڈیکل سائسز کی مدد کرکے اب تک اربوں انسانوں کی زندگی بچانے کے کام بھی آیا۔
انسانیت کے لیے فائدہ مند ہونے کے پیمانے پر فزکس کو پرکھنے کے بعد ہم کہہ سکتے ہیں کہ فزکس دین کے ایک مقصد تک پہنچنے میں لوگوں کا مددگار ہو سکتا ہے،
کیونکہ بہرحال دین کا ایک بُنیادی مقصد انسانوں کا اجتماعی فائدہ ہے۔
ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ بارود کی دریافت سے ایٹم بم تک فزکس کا علم ہی آج تک کروڑوں لوگوں کے قتل کا باعث بنا ہے۔
فزکس کو اسلام کا مُتوازی یا مُتضاد علم نہیں کہا جا سکتا کیونکہ ایک نُکتہ تو واضع ہو چُکا کہ کسی بھی علم کا مثبت یا منفی استعمال انسانی اختیار ہے,
اور علوم کی بجائے ان عُلوم کے ماہرین میں سے بعض قابلِ ستائش اور بعض قابل مُذمّت ہونگے اور ستائش یا مُذمّت کے لیے پیمانہ انسانوں کا فائدہ یا نُقصان ہو گا۔
یہ تو ہم جانتے ہی ہیں کہ کائنات میں اور اس سے پرے ایسے حقائق موجُود ہیں جن کا ادراک حواسِ خمسہ یا مادی عُلوم کے پیمانوں پر مُمکن نہیں۔
صُوفی ازّم ایسے ہی حقائق کے ادراک کا علم ہے۔
سائنسی عُلوم اپنی بُنیاد حواسِ خمسہ کے مُشاہدے اور مادے کو قرار دیتے ہیں۔ صُوفی ازّم کی بُنیاد میں بھی مُشاہدہ ہے لیکن صُوفی ازّم کے مُشاہدے کا ذریعہ حواسِ خمسہ کی بجائے کائنات کی رُوح یا انرجی ہے۔
میرے نزدیک حقیقت تو وہی ہوگی جسکا ادراک مُجھے ہو پائے لیکن میرا اپنے محدُود ادراک کو مُکمل حقیقت قرار دیتے ہُوئے دُوسروں کے اپنی فہم اور صلاحیّت سے بالا ادراک کو غیر حقیقی قرار دینا کم فہمی اور تنگ نظری کہلائے گا۔
اپنے یقین سے مُتضاد یقین کے مُدّعی کے فہم پر شک کرنا ایک فطری مُعاملہ ہے لیکن اُسکی مذمّت میری کم فہمی کا مُنہہ بولتا ثبُوت ہوگی ,
کیونکہ عین مُمکن ہے مُتضاد یقین رکھنے والے کے ہاں مُشاہدے کا پیمانہ ہی اتنا الگ ہو جو اُسے مُتضاد حقیقت دکھا کر مُجھ سے الگ یقین دیتا ہو۔
مادیّت پرست عُلماء کا صُوفی ازّم سے مُتعلق عمُومی رویّہ اُنکی ایسی ہی کم فہمی اور تنگ نظری کو ہی ظاہر کرتا ہے۔
صُوفیا اور عُلماء کے ہاں مُشاہدے کا پیمانہ ہی مُتضاد ہے۔
دیگر عُلوم نے تو گُزشتہ چند ہزار سالوں میں اپنی اپنی حدُود و قیّود وضع کر لیے لیکن صُوفی ازّم ایک انفرادی علم ہوںے کے باعث اپنی حدُود و قیّود وضع نہ کر پایا. تبھی اسکی طرف جانے والے لوگوں کی اکثریّت دین کے مقصد سے مُتضاد منزل یعنی رہبانیت کی دلدل میں دھنس جاتی ہے.
لیکن یہ بالکُل ایسا ہی مُعاملہ ہے جیسے ماہرینِ فزکس کو زیادہ فائدہ بایو میڈیکل اینجینیرئنگ کی بجائے ایٹمی اسلحے کی صنعت میں نظر آتا ہے۔
اگر صُوفی قُرآن و سُنّت کا وسیع علم رکھتا ہو
اور شریعت کی حدُودوقیّود کوملحُوظِ خاطر رکھتے ہُوئے آنکھ اور کان کے بغیر کائنات کی توانائی یعنی اپنی رُوح کے سہارے دیکھنے اور سُننے کی جُستجُو کرے, تو کُچھ بعید نہیں وہ رہبانیت کے پڑاؤ پر رُکنا ہی نہ چاہے۔
ایسا صُوفی دین کے مقصد سے دور نہیں جا سکتا.
کیونکہ حواسِ خمسہ کی قید سے نکلتے ہی اسے دین کے مقصد کی اتنی وسیع شکل نظر آئے گی جو اس کی تنگ نظری کو وُسعتِ قلبی سے بدل دے۔
وُسعتِ قلبی اُسے انفرادی فائدہ دینے کے ساتھ ساتھ مُعاشرے کے لیے بھی فائدہ مند بنادے گی۔
یعنی حقیقی صُوفی بالکُل ویسے ہی دین کی مُعاشرتی رُوح کوپالینے والا ہوگا,
جسے پاکر کوئی سائنسدان کسی مُہلک بیماری کی دوا بنانے کی جُستجُو کرتا ہے۔ رضوان خالد