Professionals

Professionals To contribute to the world to make it better

24/04/2020

Hello Friends

31/10/2018
کڑوا سچ
26/09/2018

کڑوا سچ

25/03/2018

میری ماں میری منتظر ہے ( مریم صفدر )
عدالت نے باپ بیٹی کو سات روز کا استثنی دینے سے انکا ر کر دیا تو پٹواریوں اور دردِدل رکھنے والے حضرات کے دلوں میں درد اُٹھنے لگا، حالانکہ اس استثنٰی مانگنے کی کوئی ضرورت نہ تھی کیونکہ باپ بیٹی کا نام ای سی ایل میں نہیں ہے اور یہ دونوں لندن جا کر پانچ چھ دن کے اندر پیشی سے پہلے واپس آ سکتے تھے،،،،استثنیٰ کا ڈرامہ محض جاہل عوام کی ہمدردیاں سمیٹنے کے لئے رچایا گیاہے۔
واضح رہے کہ اس سے پہلے جب عدلیہ نے انہیں ایک ڈیڑھ ماہ کا استثنی دیا تھا تو انہیں اپنے رشتوں سے زیادہ کرسی کی جنگ عزیز تھی اسوقت نہ شوہر کو بیوی کا خیال آیا اور نہ ہی بیٹی کے دل میں ماں کی محبت جاگی ۔ کلثوم نواز کوئی اچانک تو بیمار نہیں ہوئی آج سے ایک ماہ قبل بھی وہ اسی حالت میں تھی ۔
ماں تو بہرطور ماں ہوتی ہے، چاہے کسی امیر کی ہو یا غریب کی، بے نظیر کی بھی ماں تھی، اسے بھی ماں سے ملنے ے یہی نواز شریف روکتا تھا ۔زرداری کو جب جیل میں ڈالا گیا، اسکی ماں بھی اسکی منتظر رہی ۔ شیخ رشید کی ماں کا کیا قصور تھا کہ اسے ماں کا جنازہ چھوڑ کر جانا پڑا ۔ کیا شرمیلا فاروقی کی ماں ماں نہیں تھی ۔
اتفاق فاؤنڈیز میں زندہ جلا دینے والوں کی بھی مائیں تھیں، ملک میں کرپشن، لوٹ مار ہونے اور محدود وسائل ہونے کی وجہ سے لاکھوں بیٹوں کو مجبوراً بیرونِ ملک کمائی کے لیے جانا پڑتا ہے انکی ماؤں کی تڑپ کا حساب کون رکھے گا، اُن کے تو بیٹے بھی عموماً انکا آخری دیدار نہیں کر سکتے ۔
مریم کی ماں تو لندن میں بہترین ڈاکٹرز کی زیرِ نگرانی ہے، اُسے تو ڈاکٹر پل پل چیک کر رہے ہیں، وی وی آئی پی سہولیات میں اُس کا علاج ہو رہا ہے۔ پاکستان میں کتنی مائیں دوا دارو نہ ہونے کی وجہ سے مر رہی ہیں، ہسپتالوں میں بیڈ نہ ہونے کی وجہ سے فرشوں یا فٹ پاتھوں پر جان دے رہی ہیں اور علاج کی سہولیات نہ ہونے کے سبب اپنے بچوں کو مرتا دیکھ رہی ہیں۔
نوازشریف کے قافلے کی گاڑی تلے جو بچہ کچلا گیا اس بد نصیب کی بھی ماں تھی، جس کو غشی کے دورے پڑ رہے ہیں۔
ماڈل ٹاؤن میں قتل ہونے والے درختوں پر نہیں اُگے تھے، انکی بھی مائیں تھیں اور مرنے والیاں بھی کسی کی مائیں تھیں جنکے بچے آج بھی پوچھ رہے ہیں ہماری ماں کا کیا جرم تھا۔
عابد باکسر اور راؤ انوار کے ہاتھوں جعلی پولیس مقابلہ میں مرنے والوں کی مائیں آج بھی اپنی بد قسمتی پر زار زار روتی ہیں
جن ماؤں کی عصمت دری کی گئی اور جنہوں نے بھوک کی وجہ سے اپنے بچوں سمیت خودکشی کر لی ، کیا انہیں زندگی جینے کا حق نہیں تھا ؟
مصطفیٰ کانجو کے ہاتھوں جو بے گُناہ مارا گیا وہ بھی ایک بیوہ ماں کا اکلوتا بیٹا تھا، اُس ماں کی دُہائیوں سے تو آپ کا دل نہ پسیجا۔
قصور میں زیادتی کا شکار ہونے والے دو ڈھائی سو بچے بھی خود رو پودے نہیں تھے، انکی ماؤں کی تڑپ کا اندازہ صرف انسان ہی لگا سکتے ہیں، افسوس کہ نونیوں اور نام نہاد لبرلز میں یہ خصوصیت نہیں پائی جاتی ۔
کیا زینب اور اس جیسی بچیاں اس ملک کی بیٹیاں نہیں تھیں، جنہیں انسانیت سوز ظلم کے بعد قتل کر دیا گیا، کیا ان بیٹیوں کی مائیں دل سے زندہ ہیں ؟
اور پھر اس دھرتی پر قربان ہونے والے بیٹے، اس ملک کی آبرو پر جان لٹانے والے شہیدوں کی ماؤں کا کیا قصور ہے، جن کے لختِ جگر آپ کے باپ کی غلط پلاننگ اور اقتدار پر ڈٹے رہنے کی ہوسِ اور ضد کی بھینٹ چڑھ گئے۔
وہ ملک جہاں کا وزیر اعظم، وزیر خزانہ اور وزیرخارجہ کسی دوسرے ملک میں تنخواہ دار ملازم ہوں ۔
کیا یہ ظلم نہیں کہ یہ لوگ کھائیں اور لُوٹیں تو اس ملک سے اور جب پکڑ ہو جائے تو اپنے پاکستانی ہونے سے ہی انکار کر دیں۔
مریم نواز تمہیں جلسوں میں ٹسوے بہا کر ہمدردی کا ووٹ لینے کی عادت پڑ چکی ہے، تمہاری ماں کو تمہاری ضرورت پچھلے ماہ بھی تھی جب تم نے ماں کی خدمت کرنے کی بجائے جلسوں میں زہر اگلنے کوتر جیح دی، تُمہیں ماں کی بیماری یا تیمارداری سے زیادہ مُسلم لیگ کی صدر بننے اور وزارتِ عُظمیٰ کی کُرسی پر براجمان ہونے میں دلچسپی تھی۔ اقتدار کی ہوسِ نے تُمہارا خون سفید کر دیا ہے، تُمہیں اگر اپنی والدہ سے ذرا بھی ہمدردی ہوتی تو تُم جلسے جلوسوں کی بجائے لندن ماں کے سرہانے بیٹھی ہوتی۔
صرف ایک سوال کا جواب چاہوں گا کہ والدہ کی بیماری اہم ہے یا جلسے جلوس؟

مریم نواز یہ مکافاتِ عمل ہے ۔۔۔لیکن اپنی ماں کو رونے سے پہلے ملک کی ان لاکھوں ماؤں کو رو لینا جو تمہارے حکمران خاندان کیوجہ سے تڑپ رہی ہیں ۔

09/03/2018

جنُوبی پنجاب کی آنکھوں دیکھی ایک کہانی۔ رضوان خالد چوھدری
میرے بعض قارئین قُرآن کی ریسرچ کے حوالے سے میری تحریریں پڑھ کر مُجھے دائیں بازو کا حمایتی سمجھتے ہیں اور بعض قارئین جرنیلوں کی مُلکی اور خارجہ پالیسی میں مُداخلت کے بارے میں لکھنے پر مُجھے لیفٹسٹ یعنی بائیں بازُو میں گردانتے ہیں البتّہ میں ان دونوں بازوؤں کو مُعاشرتی بگاڑ میں برابر کا حصّہ دار سمجھتا ہوں۔
میں اور میرے جیسے لوگ بس دائیں بائیں بازوؤں کے چکر میں پھنسے رہتے ہیں لیکن ہمارے مُعاشرتی رویّوں ، سیاستدانوں کے طریقۂ انتقام ، پولیس اور میڈیا کی سیاستدانوں کے دلّال جیسی حیثیّت اور خصوصاََ عدلیہ کے مکروہ چہرے پر پڑے پردے کوئی نہیں اُٹھاتا۔
ایک لمحے کے لیے فرض کریں آرمی خارجہ اور داخلہ پالیسی پر کنٹرول ختم کر دے تو سپیس کون فِل کرے گا۔
ہماری اسمبلیوں میں ستّر فیصد نُمائندے دیہی علاقوں سے جاتے ہیں۔ ان میں ہر ایک اپنی سلطنت کا سفّاک فرعون ہے اسنے اپنے باپ دادے سے مخصوص طرز عمل سیکھا اور وہ ہےاپنے شیطانی ہتھکنڈوں سے اقتدار پر جمے رہنا۔
آئیے آپکو اس دیگ سے ایک چاول کا ذائقہ چکھاتا ہوں۔
آج آپکو ایک ایسے واقعے کا آنکھوں دیکھا حال سُناتا ہوں جس میں آپ ہمارے دیہی مُعاشرتی نظام کی تصویر دیکھیں گے۔ گو کے یہ واقعہ مُظفرگڑھ کی تحصیل کوٹ ادّو کے قصبہ گُورمانی کا ہے لیکن کم و بیش ستّر فیصد پاکستان بالکل ایسا ہے ۔ تیس فیصد پاکستان جو شہری ہے میں سیاستدانوں، پولیس اور عدلیہ کا چہرہ نسبتاََ کم غلیظ ہے۔
جن صاحب کی یہ کہانی ہے اُنہوں نے ستّر کی دہائی میں ایم ایس سی فزکس کیا۔ اُنکے والد ایماندارایس ڈی او ہونےکی وجہ سے ہمیشہ سائکل سوار رہے اور تبھی بیٹے کو سرکاری نوکری نہ کرنے کا مشورہ دیا اور ریٹائرمنٹ پر اپنے بیٹے ملک خالد کو اپنی پنشن کی رقم سے کُچھ زرعی زمین گورمانی شہر میں خرید دی۔
ملک خالد صاحب نے اُسی زمین پر کام کر کے اپنے بھائیوں اور بچوں کو تعلیم دلوائی اور کافی عزّت کمائی۔ پچھلے کُچھ عرصے میں اُنکی زمین کمرشل ہو گئی۔ اُنکی زمین کے ایک حصے پر ایک کمپنی نے ایک ایگریمنٹ کے تحت پٹرول پمپ بھی لگایا جس میں اُنہیں شراکت دی گئی۔ اُنکے حالات بچوں اور بھائیوں کے پڑھ جانے کے بعد کافی بہتر تھے۔ تین نسلوں سے حلال کھایا تھا اللہ نے برکت دی۔
ایک بھائی سی اے ، بیٹا اینجینر ایک بیٹی ڈاکٹر دوسری بینک مینیجر بن گئی۔ ملک خالد صاحب چونکہ عوامی آدمی تھے اور ترقّی کر رہے تھے لہٰذا اپنے ہمسائے میں موجود گورمانی اور کھر جاگیرداروں کو ایک آنکھ نہ بھاتے تھے۔
اسی دوران ہم لوگوں نے جمشید دستی کو ربّانی کھر کے مُقابلے میں الیکشن لڑنے کے لیے تیّار کیا تو یہ فیصلہ ہوا کہ اُنکا افتتاحی جلسہ جاگیرداروں کے گڑھ یعنی گورمانی میں کیا جائے۔
ہم نے اس مقصد کے لیےملک خالد صاحب سے درخواست کی کہ گُورمانی میں آپکے علاوہ اور کوئی دستی کا جلسہ کروانے کی جُرّأت نہیں کرے گا آپ آگے آکر لوگوں کے دل سے جاگیرداروں کا خوف نکالیں۔
ملک خالد صاحب نے میرے سامنے جمشید دستی سے کہا کہ میں آپکی بات مان کر جلسہ کرواتا ہوں لیکن مُجھے علم ہے یہ جاگیردار کل سے ہی میرے خلاف کئی جھوٹے مُقدمات درج کروانا شروع کر دیں گے آپ وعدہ کریں مُجھے اکیلا نہیں چھوڑیں گے۔
جمشید دستی صاحب نے وعدہ کیا اور اگلے ہی ہفتے اُنکے پیٹرول پمپ سے مُلحقّہ زمین پر ملک خالد صاحب نے جمشید دستی کا پہلا جلسہ کروایا اور دستی کو اُس جلسے سے مومینٹم ملا۔ بالآخر وہ الیکشن جیت گئے۔ تاریخ میں پہلی بار ربّانی کھر جیسا ظالم اور سفّاک وڈیرہ ایم این اے کا الیکشن ہار گیا اور ایک دوسرا وڈیرہ طارق گُورمانی دستی کی وجہ سے ایم پی اے کا ایکشن ہار گیا۔
دستی صاحب چونکہ دو سیٹوں سے الیکشن جیتے تھے لہٰذا وہ تو ہماری ایم این اے کی سیٹ دوبارہ وڈیروں کی جھولی میں ڈال کر نکل لیے ملک خالد صاحب جیسے اُن تمام لوگوں کی پگڑی وڈیروں کے ہاتھ بیچ گئے جنھوں نے دستی کو حلقے میں مُتعارف کروایا تھا۔
ملک خالد صاحب کی زرعی زمین کے نیچے سے پی ایس او کے فرنس آئل کی لائن گُزرتی تھی۔
وڈیروں کے کارندوں نے ایک رات اُس پائپ لائن میں کٹ لگا دیا۔ تیل کھیتوں میں پھیل گیا
ایک کرپٹ اور راشی پُولیس آفیسر چوھدری جاوید جسے کھر ہمیشہ اپنے حلقے میں رکھنا پسند کرتے ہیں اس سارے ڈرامے کا خالق تھا۔
ملک خالد صاحب کے سارے خاندان پر پرچہ ہو گیا۔
یہ رات ایک بجے کا واقعہ ہے لیکن مقامی صحافی جو وڈیروں کے راکھویں ہیں پہلے سے سٹوری لکھ کر بیٹھے تھے جو صبح کے سب اخباروں میں مرچ مسالے کے ساتھ چھپی۔
ملک خالد صاحب کے بھائیوں کو چند گھنٹے میں پُولیس نے اُٹھا لیا۔
ملک خالد صاحب میرے ساتھ اسلام آباد میں تھے لہٰذا فوری گرفتار نہ ہوئے۔ دستی نے کوئی مدد نہ کی۔
پُورا علاقہ جانتا تھا کے پائپ لائن کو کس نے کس وڈیرے کے حُکم پر کٹ لگایا ہے لیکن کسی نے گواہی نہ دی بلکہ چوھدری جاوید نے جھوٹے گواہ تیّار کر لیے جنہوں نے یہ بیان دیا کہ اُنہوں نے خُود ملک خالد صاحب کو کٹ لگاتے دیکھا ہے۔
ایک مین گواہ سے جو سیّد تھے میں ملنے گیا اُنسے میرے والد کا قریبی تعلُق تھا۔
جب میں نےاُنسے جھوٹی گواہی کی وجہ پُوچھی تو اُنہوں نے کہا کہ اُنہیں وہاں کے ایک وڈیرے نے گواہ لکھوایا ہے۔ اور وہ پیچھے ہٹے تو اُنکے خلاف کاروائی ہوگی۔
اس دوران ایک مُصطفیٰ کمال نامی ایک نیا ایس ایچ او تھانے میں آگیا۔
وہ بھی وڈیروں کے راکھویں کی شُہرت رکھتا تھا۔ اس تھانے میں اکثر و بیشتر یہ دونوں ایس ایچ اوز بدل بدل کر آتے جاتے رہتے ہیں۔
میں نے گواہ کی گُفتگُو ریکارڈ کر لی اور ایس ایچ او کو سُنوائی۔ ایس ایچ او سیّد تھا اُس نے مُجھے کہا بیٹا آپ سیاست میں دلچسپی نہ لو اور واپس کینیڈا جا کر پڑھائی کرو۔
پھر ایک دن مُجھے اپنے ایک پُرانے کلاس فیلو دوست کی کال آئی جو تھانہ محمودکوٹ میں سپاہی تھا۔
اُس نے مُجھے بتایا کہ ملک خالد صاحب گرفتار ہو گئے ہیں اور وڈیرہ خالد کھر بھی آیا بیٹھا ہے اور تفتیشی سے کہا گیا ہے کہ ملک خالد صاحب کو جتنے لتّر لگیں گے پانچ ہزار سے ضرب دے کر پیسے لے لینا۔
ملک خالد صاحب کی عمر ساٹھ سال سے زیادہ ہے۔ جب میں تھانے پُہنچا ملک صاحب کو گیارہ لتّر لگ چُکے تھے۔
مُیری موجُودگی سے لتّر رُک گئے۔ میں نے وہیں بیٹھ کرجمشید دستی سمیت بہت لوگوں کو فون کیے لیکن سبھی نے بہانے کیے۔ میرے ایک عزیزانسپیکٹر جو کسی اور تھانے میں تھے اُنسے بات ہوئی تو اُنہوں نے ایس ایچ او محمودکوٹ سے بات کرنے کے بعد کہا یہ بڑی گیم ہے تم فوراََ تھانے سے چلے جاؤ میں یہ وعدہ کر سکتا ہوں کہ اب ملک خالد صاحب کو ایس ایچ او محمودکوٹ مزید نہیں مارے گا۔
اُس کے چار دن تک ملک خالد صاحب کی بندی نہیں ڈالی گئی۔
میری ایس ایچ او محمودکوٹ سے جتنی بار بھی بات ہوئی میں نے اُسکی ریکارڈنگ کی تھی۔ ملک خالد صاحب کی بھی میں حوالات میں روزانہ وڈیو بنواتا رہا۔ میں سارے ثبوت لے کر ایک ایس پی سے ملا ۔۔ ڈرامہ ہوا لیکن بندی نہیں ڈلی۔ ایس ایچ او نے البتّہ مُجھے آخری وارننگ دے ڈالی۔
بالآخر میں لاہور جا کر ایئر فورس کے ایک ایئر وائس مارشل سے ملا جوایک حسّاس ادارے میں تھے۔
اُنہوں نے میرے پاس موجود سارے ثبوت دیکھے اور ایک ایڈیشنل سیشن جج کو کال کی۔ اُسے کہا بندہ بھیج رہا ہوں تین دن میں کام ہونا چاہیے۔
میں ایڈیشنل سیشن جج کے پاس آیا اُسے ساری بات بتائی۔ ایڈیشنل سیشن جج نے اپنے ریڈر کے ذریعے ایس ایچ او کو خبر لیک کی کہ ملک صاحب کی حبس بیجا کے خلاف بیلف آنے والا ہے۔ ایس ایچ اونے فوراََ بندی ڈال دی۔
ایڈیشنل سیشن جج نے میرے سامنے کوٹ ادوکے ایک جج بٹ صاحب کو کال کی کہ بندہ بھیج رہا ہوں اسکے مُلزمین کو کسی بھی طرح نکالو چاہے کُچھ بھی کرنا پڑے وردی والوں کا بہت اوپر سے پیغام آیا ہے۔
میں جج بٹ کے پاس آیا اُسنے ساری ریکاڈنگز سُن کر کہا مُجھے بات سمجھ آگئی ہے لیکن ریکاڈنگز عدالت میں ثبوت کے طور پر پیش نہیں ہو سکتیں۔ پہلے تُمہارے بندے کو پُولیس کے چُنگل سے نکال لیں پھر تم گواہ کو پنچائت میں ننگا کر کے اُسے گواہی سے ہٹاؤ پھر ہی میں پکّی ضمانت لے سکوں گا۔ جج صاحب نے کہا جیسے میں کہوں کرتے جاؤ۔
پھراُس نے کہا تحصیل ہیڈ کواٹر ہسپتال میں ڈاکٹر شفیق سے مل لو وہ جتنے پیسے مانگے دےدینا۔ میں اُسے فُون کر کے سمجھا دیتا ہوں کیا کرنا ہے۔ ڈاکٹر نے بیس ہزار لیے۔
پُولیس نے جیسے ہی ملک خالد صاحب کو ریمانڈ کے لیے پیش کیا جج بٹ صاحب نے کہا مُلزم کی حالت خراب لگتی ہے اسے فوراََ تحصیل ہیڈ کواٹر ہسپتال لے جاؤ۔ آگے ڈاکٹر شفیق تیار بیٹھا تھا اُس نے مُلزم کی حالت تشویشناک لکھ کر نشتر ریفر کر دیا۔ نشتر میں ڈاکٹر پہلے ہی فون کر کے بات کر چُکا تھا۔ نشتر والوں نے مریض اپنے پاس رکھ لیا۔ پُولیس کو لینے کے دینے پڑ گئے۔
اُدھر دوسری طرف مُجھے پتا چلا کہ پُولیس کے جھو ٹے گواہ کا چچا سنانواں کے ملک رفیق کھرکا خاص آدمی تھا۔ میں ملک رفیق کھر سے ملا جو ربّانی کھر کے مُخالف اور سابق تحصیل ناظم تھے جن سے ہمارا دو نسلوں کا گھریلو تعلُق تھا۔ میں نے اُنہیں گواہ سے اپنی بات کی ریکارڈنگ سُنوا کر مدد مانگی۔
ملک رفیق کھر صاحب نے مُجھے کافی باتیں سُنائیں کہ تُم جس کے وکیل بنے پھرتے ہو یہ ہماری مُخالفت میں دستی کو حلقے میں لایا تھا اب اسے کہو اپنے دستی کو آواز دے۔ میں نے کہا سر آپ دستی پر لعنت بھیجیں میں آج پہلی بار کسی کام کے لیے آپکے پاس آیا ہوں آج میری عزّت کریں ہم احسان فراموش نہیں۔
بہرحال ملک رفیق صاحب نے میری بات مان لی۔ ملک رفیق نے میری موجودگی میں ایس ایچ او محمودکوٹ کو کال کر کے کہا آئندہ سیّد پر جھوٹی گواہی کے لیے دباؤ ڈالنے کی کوشش مت کرنا یہ مُعاملہ میں اب خُود دیکھ رہا ہوں۔ ایس ایچ او کیس سے پیچھے ہٹ گیا۔
پھر ملک رفیق کے کہنے پر پرگواہ سیّد صاحب نے عدالت میں پُولیس کا کچا چٹھا کھول دیا تو جج نے ملک خالد صاحب کی ضمانت لے لی۔
میں تو ملک صاحب کی ضمانت کے بعد کینیڈا آگیا۔ جج کے ریڈر نے ملک خالد صاحب کو بُلوایا اور کہا کہ ضمانت تو ہو گئی ہے البتّہ کیس دس سال تک چلے گا کیونکہ بہرحال بنام سرکار کیس ہے سرکاری وکیل اور پی ایس او کے افسران کو راضی کرنا پڑے گا اس کیس میں گیارہ مُلزمان ہیں اگر آپ ہر مُلزم سے ایک لاکھ اکٹھا کر کے دے سکیں تو میں چند پیشیوں میں کیس ختم کروا دیتا ہوں۔ پھر ایسا ہی ہوا۔
آخر میں جج بھی یہ پتہ ہونے کے باوجُود کہ کیس جھوٹا ہے گیارہ لاکھ لے گیا۔
یہ ایک واقعہ نہیں میرے مُعاشرے کی تصویرہے۔ یہ گواہ۔ یہ وڈیرہ یہ ایس ایچ او یہ غلیظ جج یہ لفافے صحافی یہ راشی ڈاکٹر یہ ناجائز مُعزّز میرے یہ جعلی عوامی نُمائندے ، عوام نامی یہ بیس کروڑ زندہ لاشیں یہ مظلوم ملک خالد میرے ہر شہر میں ہیں۔
میں آرمی کی مُلکی اور خارجہ پالیسی میں مُداخلت کا بہت بڑا ناقد ہونے کے باوجود اللہ کا شُکر ادا کرتا ہوں کہ کم از کم ایک ادارہ تو ایسا موجود ہے جو ان لاشوں کو اپنی کمر پر لادے انکی تدفین کی فکر میں ہے۔ آرمی کو بیرک میں بھیجیں تو کیا یہ کھر گورمانی، قُریشی، دستی ، ٹوانے ، لغاری، مزاری، مداری اور ان جیسی سیکڑوں جدی پُشتی گدھیں مُلک سمبھالیں گی؟
میں اور میرے جیسے دیگر چُغد جمہوریت جمہوریت الاپتے نہیں تھکتے حالانکہ ہم بخُوبی جانتے ہیں یہ جمہوریت نہیں ہماری عزت کا جنازا ہے۔ اب یہ کھر گورمانی، قُریشی، دستی ، ٹوانے ، لغاری، مزاری اور ان جیسے باقی گدھ عمرانی ٹوپی پہن کر نیا پاکستان بنائیں گے۔ اب ساٹھ سالہ ملک خالد کہاں جائے۔ رضوان خالد چوھدری

01/03/2018

غزوہ احد سن 3 ہجری کو پیش آیا۔ اس کا پس منظر کچھ یوں ہے کہ ایک سال قبل یعنی 2 ہجری کو غزوہ بدر کی شکل میں دنیا کی تاریخ کا ایک معجزہ رونما ہوا جس میں بے سروسامانی کے عالم میں 313 مسلمانوں کے لشکر نے قریش مکہ کے اپنے سے 3 گنا بڑے لشکر کو پچھاڑ ڈالا۔ مسلمانوں کے پاس صرف 70 اونٹ، 2 گھوڑے اور چند ایک تلواریں ہی تھیں لیکن اللہ تعالی کی مدد شامل حال تھی، چنانچہ قریش کے آہنی زرہ میں ملبوس دشمنوں کو بھی موم کی طرح کاٹ کر رکھ دیا۔

قریش کے مختلف گروہوں کے 70 کے قریب سربراہ اس معرکے میں قتل ہوئے اور وہ بڑی مشکل سے جان بچا کر بھاگے۔ لشکر کا سپہ سالار ابوجہل اسی غزوہ میں مارا گیا تھا۔

پھر ابوسفیان نے اس کا بدلہ لینے کا فیصلہ کیا اور پورے ایک سال تک جنگ کی تیاری کی۔ 3300 افراد کا لشکر تیار کیا، اسے ہر طرح کے اسلحہ و سامان سے لیس کیا اور مدینے کی طرف چڑھائی کردی۔

نبی ﷺ کو اطلاع ملی تو آپ ﷺ نے اپنے احباب کو مشورہ کیلئے بلایا۔ آپ ﷺ کی رائے تھی کہ مدینہ میں محصور ہو کر قریش کی فوج کا مقابلہ کیا جائے لیکن غزوہ بدر کے بعد بہت سے نوجوان مسلمانوں میں جوش و ولولہ پیدا ہوچکا تھا، چنانچہ انہوں نے اصرار کیا کہ مدینہ سے باہر نکل کر میدان میں مقابلہ کیا جائے۔ اکثریت کی رائے یہی تھی چنانچہ نبی ﷺ نے اس رائے کو فوقیت دی۔

مسلمانوں کے پاس کفار جتنا بڑا لشکر تو نہ تھا، تاہم 1000 کے قریب مسلمان لشکر میں شامل ہوگئے۔ جب میدان جنگ کی طرف روانگی ہوئی تو سب سے پہلے مسلمانوں کے لشکر میں سے عبداللہ نامی شخص جو مدینے کے ایک قبیلے کا سربراہ تھا، اسنے اپنے 300 فوجیوں کے ساتھ واپسی کا سفر شروع کردیا۔ اس کا کہنا تھا کہ جنگ کیلئے مدینے کے اندر رہ کر مقابلہ کرنے کی اس کی رائے کو فوقیت نہیں دی گئی اس لئے وہ شریک نہیں ہوگا۔

پیچھے رہ گئے 700 افراد۔ احد کی پہاڑی کے پاس پڑاؤ ڈالا اور نبی ﷺ نے سب دستوں کو ہدایات جاری فرمائیں۔ ان میں سے 50 نیزہ برداروں کو پہاڑ کی چوٹی پر مورچہ بند ہونے کا حکم دیا اور ان سے کہا کہ اپنا مورچہ مت چھوڑنا، چاھے میدان میں لڑنے والے مسلمان فوجیوں کی لاشوں کو چیل کوے ہی کیوں نہ کھانا شروع ہوجائیں۔

جنگ کا آغاز ہوا۔ مسلمانوں کا پلہ بھاری رہا اور ایک ایک کرکے کفار کی لاشیں گرتی گئیں اور تقریباً وہی منظر نظر آنے لگا جو غزوہ بدر میں تھا۔ چنانچہ کفار کے فوجی جان بچا کر وہاں سے بھاگنا شروع ہوگئے۔ انہیں بھاگتا دیکھ کر چوٹی پر مورچہ بند مسلمان سمجھے کہ شاید ہمیں فتح حاصل ہوگئی چنانچہ وہ مورچہ چھوڑ کر میدان کی طرف چلے گئے تاکہ مال غنیمت حاصل کیا جاسکے۔ ایسا کرتے وقت وہ نبی ﷺ کا فرمان بھول گئے اور یہیں سے خرابی کا آغاز ہوا۔

خالد بن ولید اس وقت قریش کی فوج کا حصہ تھے اور انہوں نے اسلام قبول نہیں کیا تھا۔ جب انہوں نے مورچہ خالی ہوتے دیکھا تو اپنے ساتھ چند فوجی لے کر وہاں سے حملہ کردیا۔ مسلمان اس اچانک حملے کیلئے تیار نہ تھے، افراتفری میں بہت سے صحابہ شہید ہوگئے اور نبی ﷺ کا دندان مبارک شہید ہوگیا اور وہ شاید کچھ دیر کیلئے بے ہوش بھی ہوگئے۔ اس دوران حضرت علی رضی اللہ عنہ ان کے گرد تلوار لے کر حفاظت کیلئے کھڑے رہے۔ نبی ﷺ کی بے ہوشی سے افواہ پھیل گئی کہ معاذ اللہ، نبی ﷺ شہید ہوگئے جس سے مسلمان فوجیوں کے حوصلے مزید پست ہوگئے اور وہ وہاں سے واپس بھاگنا شروع ہوگئے۔

اس دوران نبی ﷺ نے وہاں موجود اپنے ساتھیوں سے فرمایا کہ پہاڑ کے اوپر چڑھنا شروع کردو، چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔ کفار کی فوج نے ان کا پیچھا کرنے کی کوشش کی لیکن بھاری زرہ پہننے کی وجہ سے ان کیلئے چڑھائی چڑھنا ممکن نہ تھا، دوسری طرف ابوسفیان کو لگا کہ اگر اوپر سے مسلمانوں نے پتھراؤ شروع کردیا تو اس کی فوج کا نقصان ہوگا، چنانچہ اس نے فتح کا اعلان کرتے ہوئے وہاں سے واپسی کا راستہ اختیار کرلیا۔

مسلمان اس جنگ کی وجہ سے بہت دلبرداشتہ ہوئے لیکن اللہ تعالی نے بعد میں وحی کے ذریعے انہیں دلاسہ دیا اور بشارت دی کہ فتح حق والوں کو ہی ملے گی۔

خیر، مقصد یہ واقعہ سنانے کا یہ تھا کہ 50 صحابہ نے دانستہ طور پر نبی ﷺ کے فرمان کی حکم عدولی نہیں کی تھی، ان سے بس اندازے کی غلطی ہوئی لیکن چونکہ انہوں نے نبی ﷺ کے فرمان پر عمل نہیں کیا، اللہ تعالی نے ان سے اپنی مدد واپس لے لی۔

آج اگر آپ کشمیر سے لے کر شام تک مسلمانوں کی حالت زار پر ٹسوے بہا رہے ہیں اور ہر چند سیکنڈز بعد مجھے ان باکس میں شام کے بچوں کے متعلق پوسٹ کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں تو یہ جان لیں ہم اس وقت دانستہ اور ارادتاً نبی ﷺ کے احکامات کی کھلم کھلا خلاف ورزی کا مرتکب ہورہے ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ کشمیر سے لے کر فلسطین تک، مسلمانوں کو ہر جگہ جوتیاں پڑ رہی ہیں۔

ڈیڑھ کروڑ یہودیوں نے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کو اپنے جوتے کی نوک پر رکھا ہے اور دن رات ہمیں مزید زلیل و خوار کررہے ہیں۔

اگر آپ کو شام و فلسطین و برما و کشمیر کے حالات سے اتنی ہی ہمدردی ہے تو پہلے اپنے اعمال درست کریں۔ اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے جو جنگ چھیڑ رکھی ہے، اسے ختم کریں، گناہوں کی معافی مانگیں، دین کے احکامات کو نافذ کرنا شروع کریں، آپ کیلئے فتوحات کا سلسلہ پھر سے شروع ہوجائے گا، آپ کا ہر میدان، میدان بدر ہوگا اور ہر لڑائی غزوہ بدر۔

اپنے اعمال پر توجہ دیں، خود کو ٹھیک کریں، پھر اللہ کی مدد شامل حال ہوگی۔ اللہ نے صحابہ کو ایک معمولی غفلت کی وجہ سے فتح سے دور کردیا، ہماری تو کوئی اوقات ہی نہیں۔ اس لئے یہ سوشل میڈیا پر رونے دھونے کی منافقت چھوڑیں اور اپنی زندگی بدلنے پر دھیان دیں!!! بقلم خود باباکوڈا

01/03/2018

صُوفی ازّم ۔ایک سوال۔۔۔رضوان خالد چوھدری
مُجھ سے سوال کیا گیا کہ کیا واقعی صُوفی ازّم اسلام سے مُتوازی ایک الگ دین ہے۔
میں نہیں جانتا کہ سوال کرنے والے کے نزدیک صُوفی ازّم کی کیا تعریف ہے البتّہ میرے نزدیک صُوفی ازّم دُنیا کے دیگر عُلوم کی طرح علم کی ایک ایسی شاخ ہے جِس میں ادراک کی بُنیاد مادے اور حواسِ خمسہ کی بجائے کائنات کے خُودکار فطری نظام کو چلانے والی نظر نہ آنے قُوّت ہے۔
جِس صُوفی ازّم کا مُجھے علم ہے وہ نہ تو اسلامی علم ہے نہ غیر اسلامی۔
علم کا کوئی مذہب ہو بھی کیسے سکتا ہے ۔
کوئی بھی علم یا تو انسانوں کو نفع دے گا یا نُقصان۔
نفع یا نُقصان کے پیمانے پر ہی کسی علم کی حیثیّت کو پرکھا جاتا ہے۔
ایک مثال شاید میری بات کو واضع کر دے۔
دیکھیے! فزکس کا علم ہی ایٹم اور ہائیڈروجن بم بننے کا باعث بھی بنتا ہے اور یہی علم میڈیکل سائسز کی مدد کرکے اب تک اربوں انسانوں کی زندگی بچانے کے کام بھی آیا۔
انسانیت کے لیے فائدہ مند ہونے کے پیمانے پر فزکس کو پرکھنے کے بعد ہم کہہ سکتے ہیں کہ فزکس دین کے ایک مقصد تک پہنچنے میں لوگوں کا مددگار ہو سکتا ہے،
کیونکہ بہرحال دین کا ایک بُنیادی مقصد انسانوں کا اجتماعی فائدہ ہے۔
ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ بارود کی دریافت سے ایٹم بم تک فزکس کا علم ہی آج تک کروڑوں لوگوں کے قتل کا باعث بنا ہے۔
فزکس کو اسلام کا مُتوازی یا مُتضاد علم نہیں کہا جا سکتا کیونکہ ایک نُکتہ تو واضع ہو چُکا کہ کسی بھی علم کا مثبت یا منفی استعمال انسانی اختیار ہے,
اور علوم کی بجائے ان عُلوم کے ماہرین میں سے بعض قابلِ ستائش اور بعض قابل مُذمّت ہونگے اور ستائش یا مُذمّت کے لیے پیمانہ انسانوں کا فائدہ یا نُقصان ہو گا۔
یہ تو ہم جانتے ہی ہیں کہ کائنات میں اور اس سے پرے ایسے حقائق موجُود ہیں جن کا ادراک حواسِ خمسہ یا مادی عُلوم کے پیمانوں پر مُمکن نہیں۔
صُوفی ازّم ایسے ہی حقائق کے ادراک کا علم ہے۔
سائنسی عُلوم اپنی بُنیاد حواسِ خمسہ کے مُشاہدے اور مادے کو قرار دیتے ہیں۔ صُوفی ازّم کی بُنیاد میں بھی مُشاہدہ ہے لیکن صُوفی ازّم کے مُشاہدے کا ذریعہ حواسِ خمسہ کی بجائے کائنات کی رُوح یا انرجی ہے۔
میرے نزدیک حقیقت تو وہی ہوگی جسکا ادراک مُجھے ہو پائے لیکن میرا اپنے محدُود ادراک کو مُکمل حقیقت قرار دیتے ہُوئے دُوسروں کے اپنی فہم اور صلاحیّت سے بالا ادراک کو غیر حقیقی قرار دینا کم فہمی اور تنگ نظری کہلائے گا۔
اپنے یقین سے مُتضاد یقین کے مُدّعی کے فہم پر شک کرنا ایک فطری مُعاملہ ہے لیکن اُسکی مذمّت میری کم فہمی کا مُنہہ بولتا ثبُوت ہوگی ,
کیونکہ عین مُمکن ہے مُتضاد یقین رکھنے والے کے ہاں مُشاہدے کا پیمانہ ہی اتنا الگ ہو جو اُسے مُتضاد حقیقت دکھا کر مُجھ سے الگ یقین دیتا ہو۔
مادیّت پرست عُلماء کا صُوفی ازّم سے مُتعلق عمُومی رویّہ اُنکی ایسی ہی کم فہمی اور تنگ نظری کو ہی ظاہر کرتا ہے۔
صُوفیا اور عُلماء کے ہاں مُشاہدے کا پیمانہ ہی مُتضاد ہے۔
دیگر عُلوم نے تو گُزشتہ چند ہزار سالوں میں اپنی اپنی حدُود و قیّود وضع کر لیے لیکن صُوفی ازّم ایک انفرادی علم ہوںے کے باعث اپنی حدُود و قیّود وضع نہ کر پایا. تبھی اسکی طرف جانے والے لوگوں کی اکثریّت دین کے مقصد سے مُتضاد منزل یعنی رہبانیت کی دلدل میں دھنس جاتی ہے.
لیکن یہ بالکُل ایسا ہی مُعاملہ ہے جیسے ماہرینِ فزکس کو زیادہ فائدہ بایو میڈیکل اینجینیرئنگ کی بجائے ایٹمی اسلحے کی صنعت میں نظر آتا ہے۔
اگر صُوفی قُرآن و سُنّت کا وسیع علم رکھتا ہو
اور شریعت کی حدُودوقیّود کوملحُوظِ خاطر رکھتے ہُوئے آنکھ اور کان کے بغیر کائنات کی توانائی یعنی اپنی رُوح کے سہارے دیکھنے اور سُننے کی جُستجُو کرے, تو کُچھ بعید نہیں وہ رہبانیت کے پڑاؤ پر رُکنا ہی نہ چاہے۔
ایسا صُوفی دین کے مقصد سے دور نہیں جا سکتا.
کیونکہ حواسِ خمسہ کی قید سے نکلتے ہی اسے دین کے مقصد کی اتنی وسیع شکل نظر آئے گی جو اس کی تنگ نظری کو وُسعتِ قلبی سے بدل دے۔
وُسعتِ قلبی اُسے انفرادی فائدہ دینے کے ساتھ ساتھ مُعاشرے کے لیے بھی فائدہ مند بنادے گی۔
یعنی حقیقی صُوفی بالکُل ویسے ہی دین کی مُعاشرتی رُوح کوپالینے والا ہوگا,
جسے پاکر کوئی سائنسدان کسی مُہلک بیماری کی دوا بنانے کی جُستجُو کرتا ہے۔ رضوان خالد

28/02/2018

تصوُف کیا ہے۔۔۔ رضوان خالد چوھدری
مِرزا زید صاحب نے پُوچھا ہے۔ تصوُف کیا ہے۔ اس سوال کے جواب کے لیے اسلامی معاشرے کے ارتقاء اور علم کے مقصد سے بات شُروع کرنی ہوگی۔
انسان کی تخلیق کے مقاصِد میں سے ایک بڑا مقصد معرفتِ اِلٰہی ہے اور الگ الگ عُلوم اِس ضِمن میں الگ الگ راستے دیتے ہیں۔
گو کہ سائنسدان کا ظاہری مقصد اللہ کی نہیں اپنی ہی معرفت ہوتا ہے لیکن اپنی معرفت ہی خالِق کی معرفت کی سیڑھی کا پہلا زینہ ہے۔
اپنی پہچان کی کوئی حدُود ہوتیں تو تو سبھی عُلوم مُکمل ہو چُکے ہوتے۔ابھی تو انسان اپنی شناخت کے مراحِل میں ہے۔ تبھی سائنسی اور مُعاشرتی عُلُوم تیزی سے نِت نئی معلُومات دینے میں لگے ہیں۔
تصوُف دیگر عُلوم کے برعکس اپنی شناخت کی بجائے اپنی ہی معرفت کا عِلم ہے جسکی آخری سیڑھی معرفتِ الٰہی کا پتہ دے گی۔ یاد رہے کہ پہچان شناخت کے بعد کا مرحلہ ہے۔
سادہ سی بات تو یہ ہے تصوُّف اور سائنس سُنّتِ نبویﷺ کے خلاف نہیں بلکہ کئی نسلوں کے سُنّتِ رسُولﷺ پر عمل کے تسلسُل کا حاصل ہے۔
حالیہ دور میں تصُّوف یا صُوفی ازّم کو شرک سمجھنا نہ صرف عام مذہبی طبقے کے غیر رسمی اجماع جیسی شکل اختیار کر گیا,
بلکہ قُرآن کے جدید مُحقیقین کے زیرِاثر جدید تعلیم یافتہ افراد کا عمُومی بیانیہ بھی تصُّوف کو اسلام سے مُتوازی ایک الگ دین کہتا ہے۔
اگر میں نے رُوح کو جانا ہی نہیں تو اُسکی کُچھ پہچان کرلینے والے صُوفیوں کی ہر بات کا غیر شرعی لگنا میری کم علمی کا منطقی نتیجہ ہو گا۔
چُونکہ رُوح کے علم سے مُتعلّق مُجھے اپنی جہالت کا بھرپُور احساس ہے لہٰذا میں صُوفیوں کو مُشرک نہیں سمجھتا۔
میرا یہ ایمان ایک بالکُل الگ بات ہے کہ افضل ترین کام قُرآن کے اُصولوں کو مُعاشرے میں اُگانا ہے۔
کیونکہ اسلام کی رُوح فلاحی مُعاشرے کا قیام ہے۔
یہ کام مُحمدﷺ کی بطور رسُول سُنّت یعنی حکمتِ عملیوں کو عین اُسی ترتیب سے اختیار کر کے مُمکن ہوگا جو ترتیب مُحمدﷺ نے خُود اختیار کی۔
اہم بات یہ ہے کہ سبھی انسان چاہ کر بھی ایک طرح نہیں سوچ سکتے۔
دُوسری اہم بات یہ ہے کہ اسلامی تاریخ نے ایسے ادوار بھی دیکھے جب زکوٰۃ لینے والے بھی نہ ہونے کے برابر رہ گئے تھے۔
یعنی اُس دور کے اُس مُعاشرے کی حد تک نسلوں کی محنت نے دین کا نفاذ کر دیا تھا۔
ایسے میں بعض ذہین و فتین افراد کو لگا کہ مُسلمانوں کی نسل در نسل محنت سے اسلامی مُعاشرے کی بُنیاد رکھ دی گئی ہے۔
تب اُن ذہین لوگوں نے قُرآن میں موجُود اُن کُنجیوں کی طرف دھیان دینا شُرُوع کیا جو عظیم خزانوں کا پتہ دیتی تھیں۔ اللہ کی پہچان کی جُستجُو شُروع ہُوئی۔
یہی وہ دور تھا جب ان ذہین لوگوں میں سے بعض نے قُرآن سے سائنسی عُلُوم اور بعض نے علم تصوُّف اخذ کر کے ان دونوں عُلوم کو کھوجنا شُرُوع کیا۔
یعنی کُچھ سائنسدان کہلائے کُچھ صُوفی۔
نسلوں کے بعد یہ وقت آنا ہی تھا۔
ہر الہامی پیغام کے نفاذ کے ایک مخصُوص وقت بعد یہ وقت پہلے بھی بہت بار آیا تھا جب کُچھ ذہین لوگوں نے اپنی شناخت کر لینے کے بعد اپنے خالق کی پہچان کا سفر شُروع کیا تھا۔
یعنی صُوفی اور سائنسدان کم و بیش اُتنے ہی پُرانے ہیں جتنے الہامی مذاہب۔
اللہ کی پہچان کی کوئی حدُود ہوتیں تو صُوفی اور سائنسدان کی بھی لگامیں ہوتیں۔
وحدتُ الوجُود مُسلمان صُوفیوں کا دیا ہُوا ایک علمی نظریہ تھا,
جسکی بُنیاد قُرآن ہی کی ایک آیت تھی یعنی اللہ زمین اور آسمانوں کا نُورہے۔
اس نظریے میں شرک ڈھُونڈنا ہو تو میں اسکے شرک ہونے پر ایک کتاب لکھ دُوں۔
لیکن میرا ضمیر مُجھے ملامت کرے گا کہ میں نے اللہ کی پہچان کے انگنت راستوں میں سے سامنے نظر آنے والے ایک راستے کے دروازے پر لگے تالے کی کُنجی زنگ آلُود کردی۔
صُوفی کائنات کی ہر چیز میں اللہ کا نُور دیکھ کر ہی اپنی بات آگے بڑھاتا ہے
اور اُسے نُور ہی نُور نظر آئے گا تو وہ کسی سے نفرت کیسے کرے۔
تصوُّف اور سائنس سُنّتِ نبویﷺ کے خلاف نہیں بلکہ کئی نسلوں کے سُنّتِ رسُولﷺ پر عمل کے تسلسُل کا حاصل ہے۔
یعنی فلاحی اسلامی مُعاشرے کے قیام کے بعد مُعاشرے کے اعلٰی ترین دماغوں کا انفرادی راستہ ہے،
جسکی پیروی ہر مُسلمان پرواجب نہیں بس اُسی کا فرض ہے جسکی نسلیں اپنی شناخت کا ابتدائی امتحان پاس کر چُکی ہوں۔
انبیاء کی مُشترکہ سُنّت اور مُحمّدﷺ کی بطور رسُول سُنّت پر نسلوں تک عمل مُجھے میری شناخت دے گا۔
میری شناخت ہی درحقیقت خالق کی شناخت ہے
لیکن یہ خالق کی پہچان کا عشرِ عشیر بھی نہیں۔
انسان کا بُنیادی مقصد بس اپنی ہی شناخت ہے۔
لیکن انسان کے ثانوی مقاصد بھی ہیں جو ہر انسان کے لیے لازم نہیں۔
لیکن لیکن ثانوی مقاصد کا حُصُول بعضوں پر بعض حالات میں فرض ہے۔
انسان کے ثانوی مقصد کا تعلُق خالق کے مقصد سے ہے۔
خالق کا مقصد اپنی معرفت ہے۔
اپنی شناخت پاتے ہی کسی بھی ذہین اور ذمّہ دار انسان کا پہلا فطری عمل تخلیق اور خالق کی معرفت کی کوشش ہی ہو گا۔
یہی صُوفی اِزّم اور سائنس کا فطری جواز ہے۔
یعنی سائنس اورصُوفی اِزّم انسانی شعُور کے ارتقا کا فطری بہاؤ ہے۔
انسان کے ثانوی مقصد کی تکمیل کے طریقوں میں بھی ڈائیورسٹی یعنی تنُوع ہے۔
ایک طریقہ مادے اورانرجی کو بُنیاد بنا کر خالق کی پہچان کا راستہ بتائے گا جیسے سائنس۔
ایک اورطریقہ رُوح کو بُنیاد بنا کرخالق کی پہچان کا راستہ بتائے گا یہی تصوُّف ہے۔
قُرآن میں ڈھُونڈنے والوں کو دونوں راستوں کے بند دروازوں پر لگے تالوں کی کُنجیاں ملیں گی۔
جو بھی کُنجی چُن لیں راستوں کا جنکشن ایک ہی ہو گا۔
یہ دونوں راستے آخرکار خالق کی پہچان کی ابتدائی رُکاوٹ دُور کریں گے۔
تنگ نظر مذہبی طبقہ ہمیشہ سے ان دونوں راستوں یعنی سائنس اورتصُّوف کے سامنے سیسہ پلائی ہُوئی دیوار بن کر کھڑا ہے۔
یہ میرے نزدیک اللہ کی پہچان کو محدُود رکھنے کی کوشش ہے۔
کہنے کو تو میں کہہ دُوں کہ اللہ نے رُوح کے بارے میں کسی کو علم نہیں دیا لیکن اللہ کی آیات میں سیکڑوں بار غور و فکر کا حُکم تو دیا ہے۔
روح کا لفظ قُرآن میں اُنیس جگہ استعمال ہوا اور ہر جگہ یہ واحد ہی استعمال ہوا۔ اس میں غور کرنے والوں کے لیے نشانی ہے۔
یہ تو ہم جانتے ہی تھے کہ رُوح اللہ کا امر ہے۔
اب قُرآن میں رُوح کے لیے جمع کا لفظ استعمال نہ کرنا جبکہ لیے انسانوں اور نفس کے لیے جمع کا لفظ استعمال کرنا کیا یہ ظاہر نہیں کرتا کہ رُوح کا تعلُق چونکہ اللہ سے ہے۔اسی لیے یہ واحد ہے۔
اور کیا یہ ادراک ہوتے ہی یہ عقدہ نہیں کھُلتا کہ اللہ کیسے آسمانوں کا نُور ہے؟؟
پھر میں کیسے صُوفیوں کے وحدتُ الوجُود کے فلسفے کے خلاف کتاب لکھوں۔
رُوح سے زندگی ہے.
قُرآن یہ بھی بتاتا ہے کہ نیند کے وقت نفس کو قبض کر لیا جاتا ہے۔
یعنی اُس وقت جسم میں زندگی صرف رُوح کی مرحُون ِ منّت ہوتی ہے۔
اُس وقت ہم جو دیکھتے ہیں وہ آنکھ سے نہیں رُوح سے دکھتے چکھتے اور محسُوس کرتے ہیں۔
رُوح اللہ کا امر ہے یعنی اللہ کے امر سے اسباب کے بغیر دیکھنا، سُننا اور محسُوس کرنا مُمکن ہے۔
لیکن ہم اُس وقت شعُوری کیفیّت میں نہیں ہوتے۔
لیکن ایک سادہ اُصُول تو ہم نے جان ہی لیا کہ رُوح کے ذریعے بغیر اسباب سفر مُمکن ہے۔
صُوفی بس دو کام سیکھ لیتا ہے ۔۔
ایک تو وہ رُوح کو جان کر اس قابل ہو جاتا ہے کہ جب چاہے نیند کے بغیر ہی اپنی روح کو نفس کے اثر سے آزاد کر لیا کرے۔
دُوسرے یہ کہ کہ جب وہ رُوحانی سفر کرے تو اپنے شعُور کو سونے نہ دے۔
جب صُوفی اپنے شعُور کی نیند اورنفس کے رُوح پر اثرات پر قابُو پا لیتا ہے تورُوحانی سفر سے لُطف اندوز ہوتا ہے۔
رُوح چُونکہ واحد ہے لہٰذا صُوفی اپنے شعُور کی کپیسٹی کے مُطابق ہر اُس مخلُوق کے بارے میں کُچھ علم پا لیتا ہے جس میں وہی امر ہو۔
یاد رہے کہ اللہ کی ہر کائنات کا امر الگ ہے۔
تبھی صُوفی صرف اپنی دُنیا کے امر سے مُتعلِقہ حقائق کی بھی اُتنی ہی معلُومات جان سکے گا جتنی اُسکے شعُور کی حدُود ہوں۔
روح سے ہی نباتات، حیوان، چرند پرند، انسانوں اور کائنات کا نفس مُتحرّک ہے۔
اوررُوح اللہ کا امر ہے۔ اللہ ان سب کا خالق ہے۔
اب سوچیے اللہ کا مُجھ سے اور میرا ان سب سے اور ان سب کا آپس میں کا رشتہ بنتا ہے۔
اگر رشتہ بنتا ہے تو ذمّہ داری بھی بنتی ہے۔
جب ہر چیز سے میرا رشتہ ہے تو اس رشتے کو کھوجنے کے عُلوم یعنی تصوُّف اور سائنس حرام کیونکر ہُوئے۔
صُوفی، عالم اور سائنسدان مل کر کام کریں تو دین مُکمّل ہوتا ہے۔
سائنسدان کو کائنات کے سفر کے لیے وسائل چاہییں،
عالم کونسلوں کا سفر اور الہامی ہدایت کا نفاذ مُیسّر ہو تو ہی وہ شریّعت کے ثمرات کے ذریعے حقُّ الیقین پائے گا
لیکن صُوفی اسباب کے بغیرحقُّ الیقین ایسے پا لیتا ہے جیسے پانی میں تیرتی مچھلی لمحے بھر کو ہوا میں چھلانگ لگا کر سمندر کی بیرُونی سطح اور آسمان دیکھ لیتی ہے۔
کیا ہی خُوب ہو کسی ایسے کی امامت نصیب ہو جوان تینوں کا مُرکّب ہوکیونکہ سائنس اللہ کا قانُون سکھاتی ہے، عالم حدُودو قیّود سکھاتا ہے اور صُوفی رُوح کو نفس کی کثافت کو لطیف کر کے حواسِ خمسہ کے بغیر دیکھنا، سُننا، چکھنا، چھُونا اور بولنا سکھاتا ہے۔ رضوان خالد چوھدری
نوٹ: اس تحریر کا مُحرّک علم سیکھنا ہے کسی کے مذہبی عقائد کی تصدیق یا توثیق اور تنقید میرا مطمعٔ نظر نہیں۔

26/02/2018

یہ کائنات کِس نے بنائی؟ کہیں خُدا افسانہ تو نہیں۔رضوان خالد چوھدری
میری زندگی کا بیس سال سے زیادہ عرصہ اس گمان میں گزرا کہ خدا کی موجودگی پر ایمان بس ایمان بالغیب ہی ہے اور نہ تو خدا کے ہونے کا کوئی ثبوت ہے اور نہ ہی اُس کے نہ ہونے کا کوئی ثبوت ہے۔
سائنس کہتی ہے کے دُنیا ایک حادثے یعنی بگ بینگ کے نتیجے میں وجود میں آئی تھی۔
دنیا گھومنے کے ساتھ ساتھ مظاہر فطرت دیکھ کر یہ احساس تو ہونے لگا کہ اتنا پیچیدہ اور مربوط نظام حادثے کے نتیجے میں قائم نہیں ہو سکتا اور ہو بھی جائے تو برقرار نہیں رہ سکتا۔
سورۂ انفال کی بیالیسویں آیت میں اللہ کہتا ہے ’’جسے ہلاک ہونا ہے وہ دلیل روشن کے ساتھ ہلاک ہو اور جسے زندہ رہنا ہے وہ دلیل روشن کے ساتھ زندہ رہے، یقیناً خدا سُننے والا اور جاننے والا ہے‘‘
میں نے فیصلہ کیا کہ اللہ کے واقعی ہونے کا کوئی ثبوت ملے گا تو ہی مانوں گا بغیر دلیل روشن کے ماننے سے تو قُرآن خود منع کرتا ہے۔
ایک ہسٹورین کی نظر سے دیکھنے سے لگتا تھا کہ اکثر مذاہب میں عقائد اور عبادات کو مُختلف ادوار میں حالات کے تحت باربار تراشا اور سنوارا گیا ہے لیکن انسانی ذہن کی سیاق و سباق دیکھنے کی محدود طاقت ان مذاہب کو ہر دور کےآنے والے نئے ذہن کے لیے قابل عمل شکل میں نہیں تراش سکی۔
پھر قرآن بھی سمجھ کر پڑھنا شروع کیا اور ساتھ ساتھ میرا اپنے اردگرد موجود دہریے دوستوں سے مکالمہ بھی بڑھتا گیا۔
ہمارے مُباحثے لادینیت کے دلائل، منطق, سائنسی اور تاریخی بیانیے اورسائنس کے اس دعوے کو لے کر چلتے تھے کہ سب کچھ ایک دھماکے اورحادثے کے نتیجے میں وجود میں آیا تھا۔ اسے سائنس کی زبان میں بِگ بینگ تھیوری کہتے ہیں۔
سائنسی شواہد یہ بتاتے ہیں کہ لگ بھگ چودہ ارب سال پہلے ایک زوردار دھماکے سے یہ کائنات وجود میں آئی جس میں اتنے سیارے ہیں جن کا شمار گنتی میں ممکن نہیں۔ ابھی کچھ سال پہلے سائنس نے یہ بھی دریافت کیا کہ کائنات مزید پھیلتی جا رہی ہے۔
سائنس نے ابھی تک کی معلوم کائنات کی پیمائش بھی کر لی۔ کائنات اتنی وسیع ہے کہ دو سو بلین کہکشاؤں کے موجود ہونے کا ثبوت مل چکا ہے۔
ان دو سو بلین کہکشاؤں میں سے ایک ہماری کہکشاں ہے جس میں ایک ہمارا نظامِ شمسی ہے۔
ہماری زمین اور ہمارے نظام کے ستارے سیارے رقبے کے لحاظ سے تقریباً ڈیڑھ ہزار کھرب کلومیٹر میں پھیلے ہوئے ہیں ۔ سب سیارے ستارے اپنے محور کے گرد بھی گھوم رہے ہیں اور اپنے اپنے سورج کے گرد بھی۔
بِگ بینگ کے نظریے کو تو قُرآن اس نظریے کے بننے سے پہلے بھی سپورٹ کرتا ہے البتہ بِگ بینگ نظریے کا یہ کلیم مضحکہ خیز ہے کہ بگ بینگ ایک حادثہ تھا۔
اگر بِگ بینگ ایک حادثہ تھا تو کتنا پرفیکٹ حادثہ تھا کہ دیکھیے پہلے تو حادثے میں دھماکہ ہوا،
کھربوں سورج بنے، ہر سورج کے ساتھ بہت سی زمینیں بنی پھر ھادثے ہی کی بنیاد پر ہماری بھی ایک زمین بنی اور حادثاتی طور پر ہی سورج کے گرد اور اپنے محور کے گرد گھومنے لگی
اور گھومی بھی 23.5ڈگری جھکاؤ پر جو اگر آدھا ڈگری بھی کم یا زیادہ ہوتا تو زمین پر زندگی نہ ہوتی۔
یہ اس بات کا تو ثبوت ہے کہ اس مربوط اور مُنظم ترین دھماکے کے پیچھے کوئی بڑی طاقت موجود تھی جس نے کُچھ خاص قوانین کے زیر اثر یہ بگ بینگ ترتیب دیا۔
اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ یہ کس مذہبی کتاب میں بتایا گیا خُدا تھا۔ لیکن پہلے کُچھ اور شواہد اکٹھے کر لیں پھر ایک ہی بار جائزہ لیں گے۔
یہ زمین اپنے محور کے گرد چارسوساٹھ میٹر پر سیکنڈ کی رفتار سے گھومتی ہے اور سورج کے گردایک لاکھ دس ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گھومتی ہوئی تین سوساٹھ دنوں میں اپنا ایک چکر مُکمل کرتی ہے۔
اگر ان دونوں سپیڈز میں چند کلومیٹر فی گھنٹہ کا بھی فرق ہوتا تو زمین پر نہ کوئی درخت اُگ سکتا نہ کشش ثقل یعنی گریویٹی موجودہ تناسُب میں ہوتی۔
انسانی اور نباتاتی زندگی کو مُمکن بنانے کے لیے زمین کے گھومنے کی رفتار بالکُل یہی ہونی چاہیے تھی جو ہے۔
سورج کے گرد گھومتے ہوئے ہماری زمین ساڑھے تیئس ڈگری کے زاویے پر جھکی ہوئی ہوتی ہے۔
اگر زمین کے جھکاؤ کا زاویہ آدھا ڈگری بھی کم یا زیادہ ہوتا تو زمین پر موسم نہ بدلتا یعنی زندگی نہ ہوتی۔ کیسا کمال دھماکہ تھا کہ عقل دنگ ہے۔
پھر سورج دوسو کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سےاپنی کہکشاں کے مرکز کے گرد گھوم رہا ہے۔
دو سو بلین کے قریب کہکشائیں ابھی تک معلوم شدہ ہیں یعنی کئی ہزار بلین سورج اپنے گرد گھومتے ستاروں سیاروں کو لے کر اپنی اپنی کہکشاؤں کے گرد گھوم رہے ہیں لیکن کبھی دو سیارے ستارے آپس میں نہیں ٹکرائے
اس کا ذکر اللہ نے چودہ سو سال پہلے سورہ انبیا کی تیتیسویں آیت میں کر دیا تھا کہ چاند اور سورج اپنے لیے طے کردہ مداروں میں گھومتے ہیں
اور اسی آیت میں دن اور رات کا ذکر کر کے اس نظام کے باہمی تعلق کا ذکر کیا جبکہ آج سے دو سو سال پہلے تک بائبل اور دُنیا کے سب لوگ سورج کے ساکت ہونے کو یونیورسل ٹرُتھ مانتی تھی۔ ۔
جتنی کائنات ابھی تک معلوم ہو سکی ہے اسکا باہمی پھیلاؤ 914 روشنی کے سال(لائیٹ ایر) بنتا ہے۔
روشنی ایک سیکنڈ میں تین لاکھ کلومیٹر فاصلہ طے کرتی ہے ایک سال میں جتنا فاصلہ روشنی تین لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے طے کرے اسے ایک لائیٹ ایر کہتے ہیں۔
914 روشنی کے سال تک توصرف معلوم کائنات ہے۔
سائنس اب یہ کہتی ہے کہ کائنات مسلسل بڑھ رہی ہے اور سائنس اب یہ بھی بتا رہی ہے کہ کہکشاؤں کے درمیان فاصلہ بھی بڑھ رہا ہے۔
قرآن نے چودہ سو سال پہلے کہا تھا کہ ہم کائنات کو مسلسل پھیلا رہے ہیں۔
زمین کا سورج سے فاصلہ اُتنا ہی ہے جو زندگی کے لیے ضروری ہے۔
اگر یہ فاصلہ تھوڑا سا کم ہوتا تو سب سمندر بھاپ بن جاتے
تھوڑا زیادہ ہوتا تو زمین پر مائع پانی کی جگہ سخت برف ہوتی۔
زمین پر پانی اور خشکی کا تناسُب بالکل اُتنا ہے جو بارش اور برف باری کے نظام کے لیے ضروری ہے اگر اکہتر فیصد ذمین پانی سے نہ ڈھکی ہوتی تو سورج کی تپش سے چلنے والا واٹر سائکل ڈسٹرب ہو جاتا جو زندگی کے لیے بُنیادی اہمیت کا حامل ہے۔
اب میں آپ کو ایک ثبوت دیتا ہوں کہ قُرآن اُسی کا بھیجا ہوا کلام ہے جس نے زمین پر خُشکی اور پانی کا یہ تناسُب رکھا۔
قُرآن میں سمندر کا لفظ تینتیس بار جبکہ خُشکی کا ذکر بارہ بار آیا۔
یہ دونوں مل کر پینتالیس بنتے ہیں۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ اگرپینتالیس کے ٹوٹل میں سے سمندر کے تینتیس کا پرسنٹیج نکالیں تو یہ زمین پر پانی اور خُشکی کا موجُودہ تناسُب کے برابر بنتا ہے۔
سائنس نے یہ تناسُب اب دریافت کیا لیکن قرآن یہ حقیقت چودہ سو سال پہلے بتا چُکا تھا۔
قُرآن میں لفظ یوم تین سو پینسٹھ دفع آیا اب سائنس یہ کہتی ہے کہ اتنے ہی دنوں میں یہ زمین سورج کے گرد ایک چکر مُکمل کرتی ہے۔
لفظ شھر یعنی مہینہ قُرآن میں بارہ بار آیا۔ کوئی انسان آج سے چودہ سو سال پہلے اس سب تناسُب کا خیال رکھ کر قُرآن کیسے لکھ سکتا تھا یقینی طور پر یہ زمین بنانے والے کا ہی کلام ہے۔
جو کھربوں ٹن پانی سمندروں سے بھاپ بن کر روزانہ اڑتا ہے تو اوپر جا کر اُس میں وہ عناصر بادلوں میں بجلیاں کڑکنے سے شامل ہوتے ہیں جو زمین پر نباتات کی زندگی کے لیے ضروری ہیں۔
پھر بادلوں سے اتنا پانی اُتارا جاتا ہے کہ لوگوں کی ضرورت پوری ہونے کے بعد باقی زمین میں جذب ہو کر دو فیصد زیر زمین صاف پانی کا تناسُب برقرار رہ سکے جو زمین پر زندگی برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے۔
قرآن سورہ مُلک کی تیسویں آیت میں اسی حقیقت کو اللہ کی نشانی قرار دیتا ہے۔
جتنا پانی سمندروں سے صاف ہونے کے لیے اوپر جاتا ہے اگر وہ سارا بارش کے ذریعے خُشکی پر آ جائے تو سیلاب آ جائیں لہذا وہ برف باری کی صورت میں پہاڑوں پر اُتارا جاتا ہے جہاں وہ گلشیرز کی صورت میں محفوظ رہتا ہے اور اُتنا ہی پگھلتا ہے جس سے ہمارے دریا چلیں اور وہ علاقے سیراب ہوں جہاں بارش نہیں آتی۔
اگر اوزون کی تہیں سورج اور زمین کے درمیان نہ رکھی گئی ہوتی تو سارے گلیشیر پگھل جاتے اور سمندروں کا پانی کھولتی ہوئی جہنم بن جاتا۔
یہ کیسا بگ بینگ یا حادثہ تھا جس کے نتیجے میں جو بھی ہوا اُس کا ہر ہر نُکتہ زندگی کی حفاظت میں لگا ہے اور جو سب اتنی سائنسی ترقّی کے بعد اب پتہ چلا اُس کا پتہ چودہ سو سال پہلے کی ایک کتاب میں کیسے ملتا ہے جو ایک ایسے انسان پر اُتری جو ایک لفظ لکھنا یا پڑھنا نہ جانتا تھا۔
کیا یہ اس بات کا ثبوت نہیں کہ اس دھماکے کے پیچھے جو خالق تھا وہی قُرآن کا بھیجنے والا بھی ہے۔
یعنی قُرآن اللہ کا ثبوت ہے اور اللہ قُرآن کی سچائی کا۔
سورہ حٰم کی آیت ترپن میں اللہ کہتا ہے ُُ ُ اور عنقریب ہم اُنہیں اپنی نشانیاں اسی دُنیا میں دکھائیں گے اور اُنکے نفس میں یہاں تک کہ انپرواضع ہو جائے کہ وہی حق ہے۔‘‘
اس آیت میں ہمارے نفس میں بھی اللہ کی نشانیوں کا ذکر ہے جس پر اگلی نشست میں بات ہوگی لیکن کائنات کے نظام کے بارے قرآن میں ایسی سیکڑروں آیات ہیں جو اُن قوانین کی نشاندہی کرتی ہیں جنہیں سائنس نے اب جانا ہے۔
سورۂ المُلک کی تیسری آیت میں زمین سے اوپر سات تہوں کا ذکر ہے جو سائنس اب نہ صرف مانتی ہے بلکہ اُن لیرز کو انسانی زندگی کے لازمی خیال کرتی ہے۔۔۔۔۔ جاری ہے
نوٹ۔ یہ تحریر میری کتاب کے ایک باب (Atheist Argument and Quran ) کے چند صفحات کا اردو ترجمہ ہے۔ تحقیق ابھی جاری ہے اگر آپ کوئی مدد کر سکیں تو مُجھے خُوشی ہوگی۔۔۔۔ رضوان خالد

Address

Okara
56300

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Professionals posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Professionals:

Share