Rana Saeed Ahmad

Rana Saeed Ahmad its channel is information platform

10/01/2026
پاکستان کی دفاعی اقتصادی حکمت عملی: جنگ یا معیشت؟تحریر: عمر فاروقپاکستان کی موجودہ دفاعی اور اقتصادی حکمت عملی نے ایک مر...
09/01/2026

پاکستان کی دفاعی اقتصادی حکمت عملی: جنگ یا معیشت؟

تحریر: عمر فاروق

پاکستان کی موجودہ دفاعی اور اقتصادی حکمت عملی نے ایک مرتبہ پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ جنگ صرف تباہی کا نام نہیں، بلکہ صحیح حکمت عملی کے تحت ملک کی معیشت اور دفاع کو بھی تقویت دی جا سکتی ہے۔ حال ہی میں عالمی خبر رساں ادارہ روئٹرز کی ایک رپورٹ نے بتایا کہ پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ چار ارب ڈالر کے دفاعی معاہدے پر دستخط کیے ہیں، جس میں جے ایف-17 تھنڈر طیارے سرِفہرست ہیں۔ دلچسپ پہلو یہ ہے کہ سعودی عرب کا پاکستان پر واجب الادا دو ارب ڈالر قرضہ بھی اسی معاہدے میں شامل کر لیا گیا، جس کے نتیجے میں کل ڈیل چھ ارب ڈالر کی ہو گئی ہے۔ پاکستان اب اس معاہدے کے تحت مزید طیارے اور اسلحہ فراہم کرے گا، جبکہ واجب الادا قرضہ بھی اس کے ذریعے کلیئر ہو جائے گا۔

یہ معاہدہ محض دفاعی طاقت میں اضافے کا ثبوت نہیں بلکہ پاکستان کی اقتصادی حکمت عملی کا بھی شاندار مظاہرہ ہے۔ خواجہ آصف نے درست کہا تھا کہ اگلے چھ مہینوں میں دفاعی معاہدوں اور اسلحہ کی فروخت سے ملک اتنی آمدنی حاصل کر لے گا کہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ ساتھ دوست ممالک کے قرضے بھی ختم ہو جائیں گے۔

حقیقت میں مئی 2025 کی سرحدی کشیدگی نے بھارت کو ہر محاذ پر شرمندگی کا سامنا کرنے پر مجبور کیا، جبکہ پاکستان نے نہ صرف دفاعی اعتبار سے مضبوطی حاصل کی بلکہ اس کے معاشی اثرات بھی واضح نظر آئے۔

یہاں ایک اور اہم نقطہ یہ ہے کہ اس مرتبہ فیصلہ سازی کے کردار میں وزیراعظم اور آرمی چیف نے انتہائی بصیرت کا مظاہرہ کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل نے درست انداز میں بھارت کے خطرے کا جواب دیا، جس میں اللہ تعالیٰ کی مدد کے ساتھ چین کی دفاعی حمایت بھی شامل رہی۔ ورنہ ماضی میں حکمران پارلمینٹ میں کھڑے ہوکر ایسے بیان دیتے جس سے پوری قوم کو سبکی کا سامنا ہوتا تھا، "کیا میں انڈیا پر حملہ کرلوں؟"

اس تجربے سے یہ سبق ملتا ہے کہ صرف زبانی جوش و خروش کافی نہیں، بلکہ حکمت عملی، منصوبہ بندی اور بین الاقوامی تعلقات کی سمجھ بوجھ ہی حقیقی کامیابی دلا سکتی ہے۔

لیکن دفاع صرف ایک پہلو ہے۔ پاکستان کے لیے اصل چیلنج یہ ہے کہ اس آمدنی اور قرضے کی کلیئرنس کے بعد عوام کی فلاح اور ملکی ترقی کے لیے معاشی پالیسیوں کو مضبوط کیا جائے۔ لوکل انڈسٹریز میں سرمایہ کاری کے راستے کھولنا، ٹیکس نظام کو شفاف اور آسان بنانا، اور روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا کرنا اب وقت کی اہم ضرورت ہے۔

جب ملک کے دفاع کے ساتھ معاشرتی ترقی بھی ہم آہنگ ہو جائے تو نہ صرف ملکی معیشت مستحکم ہوگی بلکہ عالمی سطح پر بھی پاکستان ایک قابلِ اعتماد ملک کے طور پر ابھرے گا، جہاں دنیا کے لوگ روزگار کی تلاش میں آئیں۔

یہ 1960 کی بات ہے. کہ ایک جرمن خاتون جوکہ تیس سال کی عمر کی تھیں. نوجوان اور حسین تھیں. اور پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر تھیں...
07/01/2026

یہ 1960 کی بات ہے. کہ ایک جرمن خاتون جوکہ تیس سال کی عمر کی تھیں. نوجوان اور حسین تھیں. اور پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر تھیں. پاکستان آنکر یہیں کی ہو گئیں.

یہاں آنے کی وجہ کیا تھی.؟؟؟

وجہ یہ تھی کہ ان خاتون نے پاکستان میں جذام( کوڑھ) کے مریضوں پر بننے والی ایک ڈاکو مینٹری فلم BBC لندن سے دیکھی. کہ پاکستان میں اس بیماری میں مبتلا مریضوں کی زندگی کس قدر عذاب ہوجاتی ہے.

اس بیماری میں مبتلا مریض کے جسم پر کسی بھی جگہ پھوڑے نکلتے ہیں. پھر ان میں سے پیپ نکلتی. اور اسکے بعد جسم کا وہ حصہ گلنے سںڑنے لگتا تھا. اور پھر گوشت ہڈیوں سے نکل کر گرنے لگتا.
اس بیماری کو جوکہ اُسوقت تک لاعلاج سمحھی جاتی تھی. "عذابِ الہی" کہا جاتا تھا. اور ایسے مریضوں کو معاشرے سے الگ کردیا جاتا تھا.

اُس زمانے میں کراچی میں آئ آئ چندریگر روڈ پر ایک جگہ بنائ گئ تھی. جہاں جذام کے مریضوں کو ڈال دیا حاتا تھا. اور کچھ دردمند افراد اس چار دیواری کے دوسری طرف سے ہی ان مریضوں کو روٹیاں پھینک کر چلے جاتے تھے.

سخت ترین بیماری، اور اُس پر لوگوں کا رویہ جذام کے مریضوں کیلیے دہرا عذاب تھا. انکے اپنے ان سے منھ موڑ لیتے تھے. اور پھر سسک سسک کر مرجانا ہی انکا مقدرتھا .

یہ جرمن خاتون......انکا نام "ڈاکٹر رُتھ فاؤ" تھا. 1960 میں کراچی تشریف لائیں. انکو ایک عیسائ مشنری تنظیم نے ہی پاکستان بھیجا تھا. آئ آئ چندریگر روڈ پر ایک جھونپڑی میں اُنھی جذام کے مریضوں کے درمیان ہی اپنا کلینک کھولا. اور ان مریضوں کا علاج کرنا شروع کیا.

ڈاکٹر صاحبہ کو صرف تین سال کی سخت محنت لوگوں کو یہ سمجھانے پر لگی. کہ جذام ایک بیماری ہے. جوکہ اللہ تعالی کی جانب سے ہے. اسکو عذاب الہی قرار دینا سراسر جہالت اور کم علمی کی نشانی ہے.

اور بالاآخر 1963 میں ڈاکٹر آئ کے گُل ، اور انکے اسٹاف نے ڈاکٹر صاحبہ کے ساتھ ملکر کام کرنا شروع کیا. اور کئ نرسیں بھی آپکے ساتھ اسٹاف میں شامل ہوئیں. اور یوں وہ کٹھن سفر جس پر یہ بہادر عورت اکیلے ہی چلی تھی. اب آہستہ آہستہ کارواں بننا شروع ہوگیا.

ڈاکٹر صاحبہ نے جذام کے مریضوں کا جس محنت، محبت اور شفیق انداذ میں علاج کیا. وہ انسان دوستی کی ایک زندہ ترین مثال ہے. آپ خود ان مریضوں کی، کہ جن سے انکے اپنے دور بھاگتے تھے. انکے زخموں کی صفائ کرتیں. انکی مرہم پٹی کرتیں . انکو تسلی اور دلاسہ دیتیں. اور اپنے شفیق لفظوں سے انکو زندہ رہنے کا حوصلہ عطا کرتیں.

جو مشن آپنے اٹھایا تھا. اس میں کئ لوگ اب آپکے ساتھ شامل تھے. سو ضرورت اس بات کی تھی. کہ ایک بڑا اسپتال یہ سینی ٹوریم ان مریضوں کیلیے بنایا جائے.

اس کام کا تخمینہ 1963 میں تقریباً نوے لاکھ روپے لگایا گیا۔ یوں آپ اس مقصد کیلیے دوبارہ جرمنی گئیں. اپنی عوام کو اس مقصد سے آگاہ کیا. اور انکے سامنے اپنی جھولی پھیلادی. اور مطلوبہ رقم کا بندوبست کرکے ہی آپ جرمنی سے لوٹیں.

اور آخرکار 1965 میں"میری ایڈ لیپریسی سینٹر" کا قیام عمل میں لایا گیا. اور یوں آپکو جذام کیخلاف اپنی تمام تر کوششیں کامیاب ہوتی نظر آنے لگیں.

ڈاکٹر صاحبہ نے پوری محنت اور وقت اس اسپتال اور اس میں آنے والے مریضوں کو دیا. اتنا بڑا اسٹاف ہونے کے باوجود بھی آپ پاکستان سے وآپس نہیں گئیں. بلکہ انتھک محنت اور جانفشانی سے جذام کے خلاف لڑائ لڑتی رہیں.اس دوران ملک کے دیگر حصوں میں بھی میری ایڈ لیپریسی سینٹر کی شاخیں کھلتی چلی گئیں. آپنے ملک کے گوشے گوشے میں اس مہلک بیماری کا پیچھا کیا.

آپ کی خدمات اپنی مثال آپ تھیں. اس ملک کی شہری نہ ہونے کے باوجود بھی جو لڑائ آپ لڑرہی تھیں، وہ اپنی مثال آپ تھی. لوگ خود آپکی خدمات کے معترف تھے. اس میں اپنے اور پرائے سب ہی شامل تھے. آپکو اپنی خدمات کے عوض کئ اعلی اعزازات مل چکے تھے.

اور آخرکار 1990 میں آپکو پاکستانی شہریت عطا کی گئ۔
اور آپنے بحیثیت اکیلی عورت ہونے کے باوجود اس جان لیوا مرض کیخلاف جو لڑائ لڑی. اس کا شاندار نتیجہ بھی آپکے سامنے آیا.

1996 میں عالمی ادارہِ صحت نے پاکستان کو جذام سے 100% فیصد پاک ملک قرار دے دیا. اس وقت پاکستان ہی ایشیاء کا پہلا ملک تھا. جوکہ اس مہلک مرض سے مکمل طور پر پاک ملک تسلیم کیا گیا.

آپ نے اپنی کوششوں کو بارآور ہوتے ہوئے اپنی آنکھوں سے دیکھا. لیکن آپ آرام سے نہیں بیٹھیں. بلکہ اُسی محنت،محبت اور تندہی سے مریضوں کی خدمت کرتی رہیں. اور آپنے اپنا مشن ہی اس بات کو قرار دیا. کہ پاکستان کے گوشے گوشے کو جذام کی بیماری سے پاک رکھا جائے گا. اور آپ اسی مشن پر تاحیات ڈٹی رہیں.

اور10 اگست وہ دن بھی آیا. کہ اس دن ڈاکٹر صاحبہ اس جہان فانی سے منھ موڑ گئیں. انکے عقیدتمندوں نے یہ روح فرساء خبر سنی کہ انکا انتقال ہوگیا ہے. اور ڈاکٹر صاحبہ کی تدفین اور آخری رسومات 19 اگست کو ادا کی جائینگی.

ڈاکٹر صاحبہ نے پوری زندگی اکیلے ہی گزاری. اپنے نفس کا گلا گھونٹ دیا. انھوں نے اپنے مشن کو ہر چیز اور ہر جذبے پر مقدم رکھا. آپنے پوری زندگی شادی نہیں کی تھی..

بالاآخر 19 اگست کا دن بھی آن پہنچا. ڈاکٹر صاحبہ کو انکی وصیت کے مطابق میری ایڈ لیپریسی سینٹر لایا گیا. اور جب آپکی میت لائ گئ. تو آپ سے وابستہ افراد اور آپکے عقیدتمند اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے. شدت جذبات کے مارے لوگ زار و قطار رو پڑے.

آپکی آخری رسومات و تدفین میں ملک کی تمام تر اعلی شخصیات نے شرکت کی. اور یوں وہ فرشتہ صفت عورت جس نے بلاء کسی معاوضہ کے، بلاء کسی غرض کے اس ملک کو اپنی زندگی کے 57 سال دئیے. جو جان لیوا بیماری کے مریضوں کیلیے اللہ تعالی کا پیغام شفاء بنی رہی۔ وہ خاتون 19 اگست 2017 کو آسودہِ خاک ہوئی۔ تاریخ دان

ڈاکٹر صاحبہ نے تمام زندگی ایک کمرے میں گزار دی. اس ایک کمرے میں ایک چارپائ ایک طرف پانی کا کولر اور انکے مطالعہ کیلیے چند کتابیں.....یہ تھی انکی کل جمع پونجی !
دوستو....!!! چلتے چلتے ایک آخری بات عرض کرتا چلوں کہ اگر کبھی کوئی ویڈیو، قول، واقعہ کہانی یا تحریر وغیره اچھی لگا کرئے تو مطالعہ کے بعد مزید تھوڑی سے زحمت فرما کر اپنے دوستوں سے بھی شئیر کر لیا کیجئے، یقین کیجئے کہ اس میں آپ کا بمشکل ایک لمحہ صرف ہو گا لیکن ہو سکتا ہے اس ایک لمحہ کی اٹھائی ہوئی تکلیف سے آپ کی شیئر کردا تحریر ہزاروں لوگوں کے لیے سبق آموز ثابت ہو دوستو ہماری سپورٹ کے لیے پوسٹ اچھی لگے تو فالو ضرور کیا کریں بہت شکریہ۔❤️
Golden pages of History
جزاک اللہ خیرا کثیرا۔
#پاکستان #خدمت #عزم #قربانی #کوڑھ #لپریسی #علاج #ہمت #محبت #انسانیت

07/01/2026

پاکستانی قوم اور ریاست پاکستان کس کا شکریہ ادا کرے، عمران خان کا یا مودی کا یا دونوں کا؟
2021میں ملٹری مورال اور ملکی معیشت کی حالت یہ تھی کہ اس وقت کے آرمی چیف نے سینیئر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر انڈیا نے حملہ کردیا تو ہمارے پاس دو فوجی گاڑیوں میں ڈالنے کےلئے پٹرول بھی نہیں ہے۔ سیاسی قیادت کی جرات کی یہ حالت تھی کہ انڈین پائیلٹ کو 24گھنٹوں کے لیے بھی اپنے پاس نہ رکھ سکے ۔
فوج کو ایک ایسی جرات مند اور قابل قیادت کی ضرورت تھی، جو ہر چیز کو upsidedown تبدیل کردے۔
بھلا ہو ملک ریاض ، فرح گوگی، وسیم اکرم پلس، زلفی بخآری اور بشریٰ بی بی کا، جنہوں نے پنجاب میں کرپشن اور پیسوں کے بدلے تبادلوں کا بہت بڑا نیٹ ورک قائم کیا، جس کے ثبوت اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر نے وزیراعظم عمران خان کو دیکر شاباش کی توقع کی، لیکن خاتونِ اوّل روحانی طور پر خان صاحب کے دل میں بوساطت فیض حمید بہت بڑا مقام حاصل کر چکی تھیں۔ خان صاحب نے شدید غصے میں آرمی چیف جنرل باجوہ کو گستاخ عاصم منیر کو فوری طور پر نوکری سے برخاست کرنے کا حکم صادر فرما دیا ۔
وہ لمحہ اور وہ دن قدرت کی طرف سے پاکستان کے روشن مستقبل کا نقطئہ آغاز تھا، کرپشن کی اس کہانی ، اس ملاقات اور نوکری سے برخاست کے حکم نے پاکستان کے مستقبل میں کیا کردار ادا کرنا تھا، خدا کی ذات کے سوا کوئی نہیں جانتا تھا ۔
بھلا ہو جنرل باجوہ کا، جس نے دباؤ برداشت کرتے ہوئے نوکری سے برخاست کے حکم کو صرف ڈی جی آئی ایس آئی کے عہدے سے ہٹانے تک محدود کردیا ۔
عدم اعتماد کے ذریعے پی ٹی آئی کی حکومت کے خاتمے کے بعد خان صاحب کے اندر کا خوف کھل کر سامنے آ گیا اور انہوں نے سرعام جلسوں اور تقریروں میں عاصم منیر کو آرمی چیف بننے سے روکنے کی مہم شروع کر دی۔ خان صاحب اس حد تک آگے چلے گئے کہ کوئی سپاہی آرمی چیف بنتا ہے تو بن جائے ، عاصم منیر نہ بنے۔
خان صاحب کی چار سالہ بدترین کارکردگی کے باوجود اینٹی امریکہ اور اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانئے کو نوجوانوں میں ملنے والی زبردست پذیرائی، پی ڈی ایم جماعتوں کو اپنی سیاسی موت نظر آ رہی تھی۔
انہوں نے عمران خان کی کمزوری اور انکے اندر کا خوف بھانپ لیا تھا اور اسی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انہوں نے 29نومبر سے ایک دن پہلے ریٹائر ہونے والے لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر کو آرمی چیف نامزد کر دیا ۔
خان صاحب نے سوشل میڈیا کی اس وقت کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے اسٹبلشمنٹ اور فوج سے سرعام جنگ لڑنے کا اعلان کردیا۔
خان صاحب یہ حقیقت سمجھنے سے قاصر رہے کہ حکومتیں اور نظام بدلنے کے لیے سڑکوں پر لاکھوں کی تعداد میں عوام کی ضرورت ہوتی ہے نہ کہ سوشل میڈیا اور پولنگ سٹیشن پر ۔
خان صاحب اور ان کا سوشل میڈیا اس جنگ میں اتنا آگے نکل گئے کہ اپنی سیاسی جماعت کی حیثیت ختم کراکے ایک ریاست مخالف شدت پسند گروہ کی شکل اختیار کرلی، جسکو کچلنا ریاست کے لئے فرض ہو گیا،
لیکن انڈیا اسرائیل اور پی ٹی آئی سوشل میڈیا کے گٹھ جوڑ کے ذریعے بنایا گیا دباؤ برداشت کرنا ریاست پاکستان کے لیے مشکل نظر آرہا تھا ۔
افغانستان اور انڈیا کے تعاون سے کے پی کے اور بلوچستان میں جہنم کے کتے اپنی کاروائیاں اور اثرورسوخ شہری علاقوں تک بڑھا کر ریاست کی رٹ کو سرعام چیلنج کر رہے تھے ۔
ایسے حالات میں ریاست پاکستان کے دوسرے محسن، مودی جی کی انٹری ہوتی ہے، جس نے اگلا الیکشن جیتنے اور پاکستان کی اندرونی کمزوری سے فائد ہ اٹھانے کے لئے پہلگام کا فالس فلیگ آپریشن لانچ کیا ۔
افواجِ پاکستان نے آپریشن سندور کے جواب میں معرکہ حق اور آپریشن بنیان المرصوص میں اس جرات اور غیر معمولی مہارت سے انڈیا کی دس گنا بڑی فوج کو محض چند گھنٹوں میں اس طرح چاروں شانے چت کیا کہ دنیا آج تک دانتوں میں انگلیاں دبائے بیٹھی ہے کہ پاکستان نے کیا کیا ہے اور پاکستانی افواج کی عسکری مہارت کو پوری دنیا ایک نئی جنگی حکمت عملی اور مہارت کے طور پر سٹڈی کر رہی ہے ۔
یہی وہ رات تھی جب گمراہ ہونے والے
لاکھوں نوجوان ریاست پاکستان اور افواجِ پاکستان کی محبت کی طرف واپس لوٹ آئے ۔
پاکستان کو یہ عظیم فتح اور عالم گیر عزت فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جرات مند قیادت کی بدولت میسر آئی،
وہی عاصم منیر جسے نیازی صاحب نے نوکری سے برخاست کرنے کا حکم نامہ دیا تھا ۔
10 مئی کے بعد کوئی ایک ہفتہ ایسا نہیں گزرا جب کسی اسلامی ملک کا حکمران یا کسی فورس کا سربراہ پاکستان میں نہ ہو یا پاکستان کے حکمران یا فوجی جرنیل کسی اسلامی ملک میں نہ ہوں۔
عزت ذلت کا مالک اللّٰہ کی ذات ہے۔
شکریہ ملک ریاض کرپشن گروپ ، شکریہ وزیراعظم عمران خان ، شکریہ نریندر مودی ۔
پاکستان کی یہ موجودہ عزتیں اور اڑانیں سب آپ سب کی کاوشوں کا نتیجہ ہیں۔
پاکستان ہمیشہ زندہ باد 🇵🇰🇵🇰🇵🇰🇵🇰

‏🌒 رات گہری تھی، فیصلے خاموش تھے۔اسلام آباد کی فضاء میں عجیب سی سنسناہٹ تھی!کاغذوں پر دستخط ہو رہے تھے، فون لائنیں مصروف...
05/01/2026

‏🌒 رات گہری تھی، فیصلے خاموش تھے۔
اسلام آباد کی فضاء میں عجیب سی سنسناہٹ تھی!
کاغذوں پر دستخط ہو رہے تھے، فون لائنیں مصروف تھیں، اور خطے کی قسمت بند کمروں میں لکھی جا رہی تھی۔
دنیا کو بتایا گیا کہ پاکستان یمن کے معاملے پر نیوٹرل ہے۔
مگر جو لوگ طاقت کی زبان سمجھتے ہیں، وہ جانتے تھے کہ یہ خاموشی…
طوفان سے پہلے کی خاموشی ہے۔
ریاض اور ابوظہبی—دونوں جانتے تھے
کہ یمن میں کوئی بھی بڑا قدم اٹھانے سے پہلے
ایک سوال کا جواب ضروری ہے:
پاکستان کس طرف کھڑا ہے؟
یو اے ای کے شیخوں نے جلدی میں ایک فیصلہ کیا۔
ہنگامی دورہ، مختصر مسکراہٹیں، اور میز پر رکھا ایک جملہ:
“ہمیں اپنے تین ارب ڈالر واپس چاہئیں۔”
انہیں لگا کہ پاکستان گھبرا جائے گا۔
انہیں لگا کہ پرانے دن لوٹ آئیں گے—
ترلے، تاخیر، کمزوری۔
مگر وہ یہ بھول گئے تھے کہ
یہ نیا پاکستان ہے۔
پاکستان کو پہلے ہی معلوم تھا
کہ مانگ آنے والی ہے۔
اور جب مانگ آئی…
تو جواب بھی تیار تھا۔
ایک ارب ڈالر کے شیئرز میز پر رکھے گئے۔
بغیر آواز، بغیر شور۔
اور باقی دو ارب کا وعدہ ایسے اعتماد سے کیا گیا
جیسے یہ رقم نہیں…
پیغام ہو۔
اسی لمحے خطے میں ایک اور حرکت ہوئی۔
میزائل فضاء میں گونجا،
اور پیغام واضح تھا:
طاقت اب بھی بولتی ہے۔
ابوظہبی میں خاموشی چھا گئی۔
کیونکہ وہاں سب سمجھ چکے تھے
کہ اگر سعودی عرب نے پاکستان کو بلا لیا…
تو کہانی کسی اور موڑ پر جا سکتی ہے۔
یہی وہ لمحہ تھا
جہاں پسپائی نے عقل مندی کا لبادہ اوڑھا۔
دنیا نے کہا:
“پاکستان نے ثالثی کی ہے۔”
اور پاکستان مسکرایا…
کیونکہ اصل طاقت
نظر آنے میں نہیں
محسوس ہونے میں ہوتی ہے۔
آج پاکستان غریب ہو سکتا ہے،
مگر کمزور نہیں۔
آج فیصلے واشنگٹن یا دہلی میں نہیں،
اسلام آباد کو دیکھ کر کیے جاتے ہیں۔
یہ مقام تحفے میں نہیں ملا۔
یہ مقام
سرحدوں پر کھڑے ہو کر،
اندرونی سازشوں کو کچل کر،
اور دشمن کی برسوں کی انویسٹمنٹ
راکھ بنا کر حاصل کیا گیا ہے۔
اندھیرے میں کھیلی جانے والی یہ گیم
اب سب کو سمجھ آ چکی ہے:
پاکستان کو نظرانداز کرنے کی قیمت بہت بھاری ہے۔
🌑 کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی…
بس کردار بدل گئے ہیں!!

26/12/2025

ایس 400 کیسے تباہ کیا ؟۔ اظہر سید
آپریشن سیندور کے دوران بھارت کے ناقابل شکست سمجھے جانے والے ایس 400 کی تباہی کی مزید تفصیلات سامنے آئی ہیں ۔یہ ناقابل یقین کارنامہ پاکستانی شاہینوں نے انجام دیا تھا ۔
دفاعی نظام تین سو کلو میٹر دور سے دشمن کی نشاندہی کر سکتا ہے اور بیک وقت ایک سو سے زیادہ لڑاکا جیٹ طیاروں کو انگیج کر سکتا ہے ۔
پاکستانی ائر فورس نے جس جرات،بہادری سائنس اور ٹیکنالوجی کے جس تال میل سے اس دفاعی نظام کو تباہ کیا روسی دفاعی مارکیٹ کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔ترکی اور برازیل نے روس سے ایس 400 دفاعی نظام کی خریداری کے معاہدوں پر بات چیت معطل کر دی جبکہ فلپائن،ایران سمیت متعدد ممالک جو یہ نظام خریدنا چاہتے تھے وہ بھی پیچھے ہٹ گئے ۔
روسی دفاعی نظام کی ایک خصوصیت اسکا الیکٹرانک نظام جام ہونے کے بعد خودکار طریقے سے بحال ہونا ہے ۔جیمنگ کے بعد خودکار بحالی دس سے پندرہ منٹ میں ہوتی ہے۔پاکستانی شاہینوں نے انہی دس سے پندرہ منٹ میں خودکش مشن کیا جو کامیاب ہوا۔
اس آپریشن کیلئے درجنوں پائلٹس نے رضاکارانہ پیشکش کی تھی اور فیصلہ قرعہ اندازی سے کیا گیا تھا۔
پائلٹس کو پتہ تھا اس مشن کی کامیابی کے امکانات بہت کم ہیں اور واپسی کے امکانات اس سے بھی کم ۔
بہت احتیاط اور ایک ایک سیکنڈ کی کیلکولیشن سے تیار کردہ مشن میں روسی دفاعی نظام کو جام کیا گیا ۔ دفاعی نظام کے اندھا ہونے کے ساتھ ہی خودکش مشن پر شاہین روانہ ہو گیا اور اگلے گیارہ منٹ میں پاکستانی فائٹر ایس 400 پر پہنچ چکا تھا ۔
پائلٹ نے دفاعی نظام کی بیٹریوں کو میزائل سے نشانہ بنایا اور اپنے سارے میزائل استعمال کر لئے۔
دفاعی نظام اصل میں اسکی بیٹریاں ہی ہیں وہ تباہ ہو جائیں پیچھے صرف لوہے کے پائپ بچتے ہیں جو سو سالہ بوڑھے کی طرح کھڑے نہیں ہو سکتے اور اسی وجہ سے کچھ پھینک بھی نہیں سکتے۔
دفاعی نظام کی جیمنگ ختم کرنے کے خودکار نظام کی بحالی سے دو منٹ پہلے اسکی بیٹریاں تباہ کر دی گئیں اور پاکستانی پائلٹ بھارتی فضاؤں میں قلابازیاں لگاتا واپس اگیا۔
پائلٹ کے استقبال کیلئے ائر چیف خود موجود تھے ۔ارمی چیف اور وزیراعظم کو بھی فوری اس شاندار کامیابی سے آگاہ کر دیا گیا۔
اس ناممکن مشن کی کامیابی میں کچھ ہاتھ آپریشن سیندور کے اگلے ہی روز چار رافال ،ایک مگ اور ایک سخوئی جیت کی تباہی کا بھی تھا۔
بھارتی فضائیہ نے اپنے قیمتی طیارے تباہ ہونے کے بعد اپنی طیارے گراؤنڈ کر دئے تھے اور دور دراز کے فضائی مستقر منتقل کر دیے تھے ۔
پاکستانی جیٹ صرف نو منٹ تک بھارتی فضاؤں میں رہا۔جب تک بھارتی پاکستانی جیٹ کو چیلنج کرنے کیلئے جوابی اقدام کرتے وہ روسی دفاعی نظام تباہ کر کے واپس بھی آگیا تھا۔
بھارتی طیارہ بردار جہاز وکرانت بھی پاکستان کی سمندری حدود سے ابھی بہت دور ہی تھا لاک کر لیا گیا تھا ۔بھارتی فوجی منصوبہ سازوں نے عقلمندانہ فیصلہ کرتے ہوئے وکرانت کو لاک ہونے کا سگنل ملتے ہی واپس بلا لیا تھا۔
وکرانت کو واپس نہ بلایا جاتا جنگ پھیل جاتی اور لامحدود تباہی خطہ کا مقدر بن جاتی۔
پاکستان کے پاس کھونے کیلئے کچھ نہیں تھا جبکہ بھارتیوں کے پاس کھونے کیلئے بہت کچھ تھا۔
وکرانت کی ممکنہ تباہی کی کوکھ سے ایٹمی جنگ کے خدشات پیدا ہو سکتے تھے بھارتیوں نے اسی جنگ سے بچنے کیلئے وکرانت واپس بلا لیا۔
بھارتیوں کی اس برتری کی سوچ اور غلط فہمی کہ پاکستان ان کے سامنے کچھ بھی نہیں تبدیل کرنے کا سارا کریڈٹ آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور انکے کمانڈ سٹرکچر کا تھا۔
فیصلہ یہی ہوا تھا بھارتیوں کو تمام تر موجود وسائل کے ساتھ پوری طاقت سے اس طرح جواب دیا جائے کہ بھارتی طویل مدتی جنگ کی شیطانی سوچ سے باہر نکل آئیں ۔
جنگ کی طوالت پاکستان کیلئے ایک ڈراؤنا خواب تھی ۔جوابی حملہ میں بھارتیوں کے چار ہزار کلو میٹر کے فوجی اہداف کو گویا اس طرح میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا جیسے لائیو نظر آرہے ہوں ۔
سائبر وار فئیر سے پورے بھارت کے بجلی کی ترسیل کے نظام پر کنٹرول،ایس 400 کی تباہی ،اکتیس سے زیادہ فوجی تنصیبات پر کامیاب میزائل باری سے بھارتی سچ مچ بوکھلا گئے ،گھبرا گئے ۔
"گھس کر ماریں گے"
کا نعرہ لگا کر سرجیکل سٹرائیک کرنے والے بھارتی جنگ بندی کیلئے جلدی جلدی امریکی صدر کا دروازہ کھٹکھٹانے لگے ۔
جنگ بندی تو ہو گئی لیکن بھارتیوں کے عزت خاک میں مل گئی ۔روایتی ہتھیاروں میں سبقت کا جو دعویٰ بھارتی گزشتہ پچاس سال سے کرتے آرہے ہیں وہ تین دن میں پاکستانیوں نے بلف ثابت کر دیا ۔
بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی عزت اور وقار میں بے پناہ اضافہ ہوا ۔یہ عزت اور وقار ایک نوسر باز اور ایک جنرل باجوہ نے بھارتی پائلٹ واپس کر کے خاک میں ملا دیا تھا۔

25/12/2025
24/12/2025
24/12/2025

کسانوں کو اسپرے دینے والے کاروں پرچڑھ گے
اور اب کھاد دینے والے سیدھے جہازوں پر
کسان بچارا آج بھی ایک بوری یوریا لینے سے قاصر ہے

راجن پور. واپڈا راجن پور نے ریلوے فیڈر شکارپور کو غیر قانونی D.set. لگا کر عوام کا جینا حرام کردیا ہے. تفصیلات کے مطابق ...
23/12/2025

راجن پور. واپڈا راجن پور نے ریلوے فیڈر شکارپور کو غیر قانونی D.set. لگا کر عوام کا جینا حرام کردیا ہے. تفصیلات کے مطابق ایک عرصہ سے راجن پور واپڈا کے اعلی حکام کے حکم پر شکارپور فیڈر کو مکمل طور ڈی سٹ لگا کر جام کیا ہوا ہے. صبح 8/9بجے D.set. سے ڈیاں اترا کر سو جاتے ہیں اور 5/6بجے شام کو ڈیاں لگا دی جاتی ہیں. عوام بےبس ہیں. ڈپٹی کمشنر راجن پور سے اپیل ہے کہ اس غیر قانونی فعل سے نجات دلائی جاے. اگر شکارپور کوٹلہ عیسن فیڈر بند کرناہے تو مکمل طور پر گرڈ سے بند کردیا جاے. گرڈ راجنپور سے بند کرنا انکے بس کی بات نہیں ہے کیونکہ کاٹن فیکڑز. پیڑول پمپس. برف کے کارخانے فلور ملز کو بجلی دینی ہوتی ہے.

Address

Rajanpur

Telephone

+923333991857

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Rana Saeed Ahmad posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Rana Saeed Ahmad:

Share