SMZ mobile zone easy paisa and courier sevice point

01/02/2024
22/08/2022

"بجلی بند رہے گی"
سب ڈویژن چوبارہ واپڈا
کل بروز منگل پنڈی بھاگو فیڈر سے صبح 9 تا 3/4 بجے تک سپلائی بند رہے گی ۔پرمٹ کینسل کی صورت میں سپلائی معمول کے مطابق۔

22/08/2022
واپڈا آفس کے سامنے ایک شخص کیلے بیچ رہا تھاواپڈا کے ایک بڑے افسر نے پوچھا کیلے کیسے دیتے ہو؟ *کیلے کس کے لئے خرید رہے ہو...
19/08/2022

واپڈا آفس کے سامنے ایک شخص کیلے بیچ رہا تھا
واپڈا کے ایک بڑے افسر نے پوچھا کیلے کیسے دیتے ہو؟
*کیلے کس کے لئے خرید رہے ہو صاحب؟*

افسر۔ کیا مطلب ؟

*کیلے والا :*
مطلب یہ کہ
یتیم خانے کے لئے لے رہے ہو تو *40 روپیہ درجن*
اولڈ ہوم کے لئے لے رہے ہو تو *50 روپیہ درجن*
بچوں کے ٹفن کے لئے *60 روپیہ درجن*
گھر کھانے کے لئے لے رہے ہو تو *70 روپیہ درجن*
اگر پکنک کے لئے خریدنے ہوں تو *80 روپیہ درجن*

*افسر یہ کیا بیوقوفی ہے؟*
ارے بھائی جب سب کیلے ایک جیسے ہیں تو ریٹ الگ الگ کیوں؟
*کیلے والا:*
پیسے کی وصولی کا اسٹائل تو آپ لوگوں والا ہی ہے
جیسے
*1 سے 100 یونٹ کا الگ ریٹ*
*100 سے 200 کا الگ*
*200 سے 300 کا الگ*
*300 سے 400 کا الگ*

*بجلی تو آپ ایک ہی کھمبے سے دیتے ہو ؟*
تو پھر گھر کے لئے الگ ریٹ
دکان کے لئے الگ ریٹ
کارخانے کا الگ ریٹ

*اور ایک بات۔۔*
میٹر کی قیمت ہم سے لیکر پھر میٹر کا کرایہ الگ لیتے ہو۔۔۔
انکم واپڈا کو ہوتی ہے اور انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس ہم سے الگ لیتے ہو
سرچارج اور ایکسٹرا سرچارج کیا بلا ہے جو ہم سے لیتے ہو؟

میٹر کیا امریکہ سے امپورٹ کیا ہے 25 سال سے میٹر خرید کر بھی اس کا کرایہ بھر رہا ہوں ۔۔۔
آخر میٹر کی قیمت کتنی ہے؟ آپ بتا دو مجھے ایک ہی بار
*کڑوا سچ*

16/10/2021

بہن کی شادی کو 6 سال ہو گئے ہیں
میں کبھی اس کے گھر نہیں گیا عید شب رات کبھی بھی ابو یا امی جاتے ہیں

میری بیوی ایک دن مجھے کہنے لگی
آپ کی بہن جب بھی آتی ہے
اس کے بچے گھر کا حال بگاڑ کر رکھ دیتے ہیں خرچ ڈبل ہو جاتا ہے

اور تمہاری ماں ہم سے چھپ چھپا کر کبھی اس کو صابن کی پیٹی دیتی ہے کبھی کپڑے کبھی سرف کے ڈبے
اور کبھی کبھی تو چاول کا تھیلا بھر دیتی ہے
اپنی ماں کو بولو یہ ہمارا گھر ہے کوئی خیرات سینٹر نہیں



مجھے بہت غصہ آیا میں مشکل سے خرچ پورا کر رہا ہوں اور ماں سب کچھ بہن کو دے دیتی ہے

بہن ایک دن گھر آئی ہوئی تھی اس کے بیٹے نے ٹی وی کا ریموٹ توڑ دیا میں ماں سے غصے میں کہہ رہا تھا
ماں بہن کو بولو یہاں عید پہ آیا کرے بس

اور یہ جو آپ صابن سرف اور چاول کا تھیلا بھر کر دیتی ہیں نا اس کو
بند کریں سب
ماں چپ رہی لیکن بہن نے ساری باتیں سن لی تھیں میری


بہن کچھ نہ بولی



4 بج رہے تھے اپنے بچوں کو تیار کیا اور کہنے لگی بھائی مجھے بس سٹاپ تک چھوڑ او
میں نے جھوٹے منہ کہا رہ لیتی کچھ دن
لیکن وہ مسکرائی نہیں بھائی بچوں کی چھٹیاں ختم ہونے والی ہیں

پھر جب ہم دونوں بھائیوں میں زمین کا بٹوارا ہو رہا تھا تو
میں نے صاف انکار کیا بھائی میں اپنی زمیں سے بہن کو حصہ نہیں دوں گا

بہن سامنے بیٹھی تھی
وہ خاموش تھی کچھ نہ بولی ماں نے کہا بیٹی کا بھی حق بنتا ہے لیکن میں نے گالی دے کر کہا کچھ بھی ہو جائے میں بہن کو حصہ نہیں دوں گا

میری بیوی بھی بہن کو برا بھلا کہنے لگی
وہ بیچاری خاموش تھی

بڑابھای علیحدہ ہوگیا کچھ وقت کے بعد
میرے بڑے بیٹے کو ٹی بی ہو گئی
میرے پاس اس کا علاج کروانے کے پیسے نہیں تھا
بہت پریشان تھا میں
قرض بھی لے لیا تھا لاکھ روپیہ

بھوک سر پہ تھی میں بہت پریشان تھا کمرے میں اکیلا بیٹھا تھا شاید رو رہا تھا حالات پہ اس وقت وہی بہن گھر آگئی
میں نے غصے سے بولا اب یہ آ گئی ہے منحوس
میں نے بیوی کو کہا کچھ تیار کرو بہن کےلیے
بیوی میرے پاس آئی
کوئی ضرورت نہیں گوشت یا بریانی پکانے کی اس کے لیئے

پھر ایک گھنٹے بعد وہ میرے پاس آئی
بھائی پریشان ہو
بہن نے میرے سر پہ ہاتھ پھیرا بڑی بہن ہوں تمہاری
گود میں کھیلتے رہے ہو
اب دیکھو مجھ سے بھی بڑے لگتے ہو

پھر میرے قریب ہوئی
اپنے پرس سے سونے کے کنگن نکالے میرے ہاتھ میں رکھے
آہستہ سے بولی
پاگل توں اویں پریشان ہوتا ہے
بچے سکول تھے میں سوچا دوڑتے دوڑتے بھائی سے مل آؤں۔

یہ کنگن بیچ کر اپنا خرچہ کر
بیٹے کا علاج کروا
شکل تو دیکھ ذرا کیا حالت بنا رکھی تم۔نے
میں خاموش تھا بہن کی طرف دیکھے جا رہا تھا


وہ آہستہ سے بولی کسی کو نہ بتانا کنگن کے بارے میں تم۔کو میری قسم ہے
میرے ماتھے پہ بوسہ کیا

اور ایک ہزار روپیہ مجھے دیا جو سو پچاس کے نوٹ تھے
شاید اس کی جمع پونجی تھی

میری جیب میں ڈال۔کر بولی بچوں کو گوشت لا دینا
پریشان نہ ہوا کر

جلدی سے اپنا ہاتھ میرے سر پہ رکھا دیکھ ا تنے بال سفید ہو گئے

وہ جلدی سے جانے لگی
اس کے پیروں کی طرف میں دیکھا ٹوٹی ہوئی جوتی پہنی تھی
پرانا سا دوپٹہ اوڑھا ہوا تھا جب بھی آتی تھی وہی دوپٹہ اوڑھ کر آتی-



بہن کی اس محبت میں مر گیا تھا
ہم بھائی کتنے مطلب پرست ہوتے ہیں بہنوں کو پل بھر میں بیگانہ کر دیتے ہیں

اور بہنیں بھائیوں کا ذرا سا دکھ برداشت نہیں کر سکتیں

وہ ہاتھ میں کنگن پکڑے زور زور سے رو رہا تھا

اس کے ساتھ میری آنکھیں بھی نم تھیں

بہنیں اپنے گھر میں خدا جانے کتنے دکھ سہہ رہی ہوتی ہیں


کچھ لمحے بہنوں کے پاس بیٹھ کر حال پوچھ لیا کریں

شاید کے ان کے چہرے پہ کچھ لمحوں کے لیئے ایک سکون آ جائے-

بہنیں ماں کا روپ ہوتی ہیں😢😢

28/09/2021

*ایک قصہ پرانا* 👉
یونیورسٹی سے کلاس آف ہونے پر میں نے موٹر بائیک کو کِک لگائی اور گھر کی طرف روانہ ہوا..
کچی پکی سروس لین پر مقامی کالج کی ایک لڑکی تیز قدم اٹھاتی بس سٹاپ کی جانب بڑھ رہی تھی اس کے بلکل عقب میں ایک لڑکا بھی اسی چال میں چلا جا رہا تھا۔ اس لڑکے کے پیچھے کچھ فاصلے پر دو اور لڑکے قدرے آہستہ چلے جا رہے تھے.اچانک وہ لڑکا جو کالج کی لڑکی کے پیچھے چل رہا تھا اس نے تیزی سے اپنا ہاتھ اوپر کر کے لڑکی کے اڑتے آنچل کو پکڑ لیا۔ اور مستیاں کرنے لگ پڑا۔ لڑکے کے دوست بھی پہنچ گئے اور وہ بھی اس ذلیل حرکت پر اسے داد دینے لگ پڑے۔
وہ چاند چہرہ ستارا آنکھیں جیسے ایک لمحہ میں آنچل کے رنگ کی مانند زرد پڑ گئیں۔ اور سہم کے حیران ہو کر گم صم دیکھنے لگی کہ اس کے ساتھ ہوا کیا ہے۔پیشتر اس سے کہ وہ لڑکی چکرا کر گر پڑتی۔ میں نے بائیک کو سڑک پر کھڑا کیا اور لڑکی کی مدد کو پہنچنے تک اردگرد کے ماحول کا جائزہ لیا.
آنچل کو لڑکے کی گرفت سے آزاد کرواتے اور دو ایک تھپڑ رسید کرتے تک اس کے دونوں ساتھی میری طرف پہنچ چکے تھے
قصہ مختصر
ویٹ لفٹنگ ' باڈی بلڈنگ اور یونیورسٹی ایتھلیٹکس ٹیم کا ممبر ہونے کی وجہ سے میں تینوں لڑکوں پر مکمل طور پر حاوی ہو چکا تھا۔ مکے ٹھڈے ککس مارت مارتے اچانک کوئی تیز سی چیز میرے پہلو میں گھس گئی.
درد کی شدت سے لڑکوں کو چھوڑ کر دیکھا تو ایک طویل قامت شخص جو دکھنے میں چھٹا ہوا بدمعاش لگ رہا تھا ' ہاتھ میں چار انچ لمبا باریک چاقو تھامےدوسرے وار کے لۓ تیار کھڑا تھا
چونکہ اس کا دوسرا وار دائیں ہاتھ پر روکا جس سے رنگ فنگر بری طرح زخمی ہو گئ لیکن ہاتھ کی گرفت میں آنے کی وجہ سے میں نے اس سے چاقو چھین لیا. اور اسکی طرف متوجہ ہو کر دو چار اس سے گھونسے کھائے اور اتنے ہی اسے مارے بھی۔
اس دوران لوگوں کو جمع ہوتے اور چاقو میرے ہاتھ میں دیکھ کر ان چاروں نے راہ فرار اختیار کی۔ زیادہ خون بہنے کی وجہ سے نقاہت بڑھتی جا رہی تھی سو ایک بار پھر بائیک اسٹارٹ کی اور ہسپتال پہنچا.چند ہی گھنٹوں میں ایکسرے اور ضروری مرہم پٹی کے بعد ڈاکٹر نے مجھے اسپتال سے ڈسچارج کروا دیا.
خیر اس بات کی دلی خوشی تھی کہ کسی کے مزموم عزائم میری مداخلت سے خاک ہوۓ۔
(احباب مَن
بات اگر یہیں ختم ہو جاتی تو شائد یہ واقعہ کبھی گوش گزار نہ کرتا درحقیقت سبق آموز پہلو یہ ہے جو اب بیان کرنے جا رہا ہوں ذرا غور سے پڑھیے گا۔)
دو ہفتے بعد اسی چوک کو کراس کرنے کے فوراََ بعد کسی آواز نے بائیک رکنے پر مجبور کیا ایک باریش صاحب تھے موٹر بائیک پر جن کے ساتھ وہی زرد آنچل والی لڑکی بھی تھی۔ سلام و دعا ہوئی تو فرمانے لگے کہ بیٹا یہ مہری بیٹی ہے جسکو اس دن تم نے ان غنڈوں سے بچایا تھوڑا وقت چاہیے تمہارا کچھ گفتگو کرنا ہے۔
دل میں خیال آیا کہ شکریہ ادا کرنا چاہ رہے ہوں گے تو میں نے معذرت کرنا چاہی پر ان کا اصرار بڑھا تو قریب ہی فاسٹ فوڈ کا رخ کیا
چائے آگئ تو میں انتظار کرنے لگا کہ صاحب کیا فرماتے ہیں. چائے پیتے پیتے انہوں نے بات شروع کی
"میرا نام اشرف ہے اور میں اسلام آباد میں سرکاری ملازم ہوں.سپریٹنڈنٹ کے عہدہ پر کام کر رہا ہوں.."
ایسا لگ رہا تھا کہ وہ منتشر الفاظ کو سمیٹ کر کچھ کہنا چاہ رہے تھے لیکن الفاظ جیسے کسی جملے کا روپ دھارنے سے پہلے ہی بکھر جاتے تھے.
پھر گویا ہوے
"اس واقعہ کے بعد میں روز بیٹی کو خود کالج چھوڑتا اور لیتا ہوں صرف اس امید پر کہ کسی روز آپ سے ملاقات ہو جاۓ اور معافی مانگ سکوں.."اشرف صاحب نے بات بڑھاتے ہوۓ کہنا شروع کیا.
"مجھ سے معافی؟ کس بات کی؟
"سمجھا نہیں.." میں نے حیرانگی سے جواب دیا
"جس روز یہ واقعہ پیش آیا میری بیٹی گھر پہنچ کر بہت روئی اور سارا قصہ اپنی ماں کو سنایا. یہ بری طرح سہم گئ تھی.شام تک روتی اور ماں کو بھی رلاتی رہی رات میں کھانا دیتے ہوۓ اس کی ماں نے مجھے ساری بات بتائی مجھ سے کچھ بھی کھایا نہ گیا اور پھر فجر تک میں روتا رہا آنسو تھے کہ تھمنے کا نام نہ لیتے کرب و ازیت کی کیفیت تھی کہ دَم گھٹا جاتا تھا جاڑے کی رت کے باوجود پسینہ خشک ہونے کو نہ آتا تھا۔
اتنی طویل رات کہ کٹتی نہ تھی پشیمانی ندامت اور افسوس کی بھیانک رات آذان فجر پر اس طرح ختم ہوئی کہ نماز ادا کرکے میں نے بیٹی اور اس کی والدہ کو جگایا الله رب العزت اور ان دونوں سے معافی مانگی کہ تمھارا مجرم میں ہوں کہ جس نے آج سے بائیس سال پہلے سائیکل پر کالج جاتے ہوۓ ایک لڑکی کا دوپٹہ کھینچا تھا اور پھر شرمندگی محسوس کرتے ہوۓ چھوڑ کر بھاگ گیا تھا
الہی ! میری خطا یہیں تک تھی جو تو نے مجھے قانون قدرت کے تحت باور کروا دی سو میں تجھ سے معافی کا خواستگار ہوں میرے گناہ کی سزا اس سے بڑھ کر مجھے اور کیا ملے گی کہ اپنی بیٹی کے سامنے آپ سے بھی معافی مانگ رہا ہوں"
اشرف صاحب میرے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیر کر جا چکے تھے جبکہ میں چاۓ کے بھرے ہوۓ ڈسپوزیبل کپس کو دیکھ کر اس کھوئی ہوئی خوشی کو دوبارہ پانے کی کوشش کر رہا تھا جو پچھلے دو ہفتوں سے مجھے مخمور کیے ہوئے تھی۔
وہ رات میں نے بھی جاگ کر گزاری۔ اور سوچنے کی اب میری باری تھی کہ قدرت کس طرح ہمارے کئے ہمیں ہی لوٹا دیتی ہے...........!!۔
اللہ تعالی سے دعا ہے کہ اے پروردگارا اے سب کے پالنے والے ۔ بھول چوک میں سے بھی جو غلطیاں ہوئیں ہیں ہم سے ۔ جانے انجانے میں جو گناہ ہو گئے ان سب پر پردہ فرما اور ہمیں بخش دے۔ آمین

28/09/2021

📝 # اخبار میں اشتہار پڑھا:
🏡 # "مکان براۓ فروخت"
# میں نے پتہ نوٹ کر کےپہلے مکان کا بیرونی جائزہ لیا اور پھر ہمراہ ایک پارٹی کو لے کر گیا جو مطلوبہ مکان خریدنا چاہتی تھی جیسے ھی ہم لوگ اس گھر کے دروازے پر پہنچے ایک عمر رسیدہ بزرگ نے ہمیں اندر آنے کی دعوت دی اور ڈرائنگ روم میں بیٹھنے کا کہا۔۔۔ کچھ دیر بعد ایک عمر رسیدہ خاتون خانہ چاۓ کی ٹرالی سجاۓ ہوۓ ڈرائنگ روم میں آپہنچیں جس پر چاۓ کے علاوہ گاجر کا حلوہ ،نمکو ،بسکٹ اور کچھ مٹھائی بھی رکھی ہوئی تھی۔ اتنے زیادہ لوازمات دیکھ کرایسا لگتا تھا گویا ہم اجنبی نہیں بلکہ ان کے خاص مہمان ھوں۔
# وہ دونوں میاں بیوی ہمارے سامنے بیٹھ گئے اور ہمیں چاۓ نوش کرنے کی دعوت دی۔ مجھے احساس ہوا کہ شاید بزرگ میاں بیوی کو کچھ غلط فہمی ہوئی ہے۔
# میں نے ان سے کہا کہ ہم مکان کی بات چیت کرنے آئے ہیں اور ہماری آج پہلی ملاقات ہے پھرآپ نے اتنا تکلف کیوں کیا؟
# بابا جی نے دھیمے لہجے میں کہا ’’بیٹا آپ چاۓ نوش فرمائیں مکان کی بات بعد میں ہوتی رہے گی‘‘ ہم سب لوگ چاۓ سے لطف اندوز ہوتے رھے اور ساتھ کچھ گفتگو کرتے رھے۔ وہ دونوں کافی خوش مزاج لوگ تھے اور بہت اچھی گفتگو کرتے تھے۔ چائے کے بعد بھی جب کچھ دیر تک انہوں نے مکان کا تذکرہ نہ چھیڑا تو میں نے خود ہی بابا جی سے پوچھا ’’اب مکان کی بات کریں؟‘‘
# جی جی آئیے۔۔۔ تشریف لائیے آپ کو مکان اندر سے چیک کروادوں۔۔۔‘‘ انہوں نے تفصیل سے ہمیں پورا مکان دکھایا،
# ’’یہ مکان آپ کتنے میں دیں گے؟‘‘ میرے سوال پربابا جی نے کہا مکان کی قیمت پچاس لاکھ روپے ہے۔ میں حیران ہو کر بولا ’’بابا جی آپ کا مکان تو تیس لاکھ روپے کا بھی نہیں اور آپ پچاس لاکھ مانگ رہے ہیں؟ اس سے پہلے آپ نے ہماری پرتکلف مہمانداری کر کے ہم پراحسان کیا ہے اوراب مکان کی قیمت بھی مارکیٹ سے بہت زیادہ مانگی ہے۔ لہٰذا ہمارا سودا نہیں ہو سکتا‘‘ تو بابا جی نے کہا ’’کوئی بات نہیں بیٹا یہ کھانا پینا کچھ نہیں انسان اپنے نصیب کا کھاتا ہے۔‘‘ خیر ہم دو تین گھنٹے وہاں گزار کر خالی ہاتھ واپس لوٹ آئے۔
# دو مہینے بعد میں نے اخبار میں پھر سے اسی مکان کی فروخت کا اشتہار پڑھا اور تعجب ہوا کہ ابھی تک بابا جی کا مکان نہیں بِکا۔ دوبارہ فون پر ان سے رابطہ کرکے ایک دوسری پارٹی کو ساتھ لے کر بابا جی کا مکان دیکھنے چلا گیا۔
# جیسےہی دروازہ کھٹکھٹایا تو بابا جی نے ایک بار پھر پُر تپاک طریقے سے اندر آنے کی دعوت دی اور ہمیں ڈرائنگ روم میں بٹھایا اور کچھ دیر بعد وہی خاتون خانہ اسی طرح لوازمات سے بھری چاۓ کی ٹرالی لیے ہماری طرف آ رہی تھیں۔۔۔
# میں نے بے ساختہ کہا‘ ’’بابا جی آپ ہر آنے والے کے لیے اتنا تکلف کیوں کرتے ہیں؟ آپ مکان کتنے میں بیچنا چاھتے ہیں۔۔۔؟‘‘
# بابا جی نے وہی جواب دیا ’’آپ چاۓ نوش فرمائیں مکان کی بات بعد میں کرتے ہیں۔ پہلے کی طرح اس بار بھی چاۓ وغیرہ کے بعد کافی وقت ان سے گفتگو میں گزر گیا اور جب میں نے بابا جی سے مکان کی بات کرنا چاہی تو بابا جی نے پھر پچاس لاکھ کی ڈیمانڈ کر دی۔ مجھے کچھ غصہ بھی آیا اور حیرت بھی ہوئی کہ یہ بابا جی دماغی مریض لگتےہیں جو ہر آنے والے پر ہزار بارہ سو روپے لُٹا دیتے ہیں۔ خیر ہم نے اجازت طلب کی اور وہاں سے واپس آ گئے۔
# اس بات کو کافی ماہ گزر گئے کہ ایک دن میرے ایک دوست کا جو خود بھی پراپرٹی ڈیلر تھا‘ مجھے فون آیا کہ ایک مکان کافی اچھا مل رھا ہے، اگر ارادہ ہے اور تم رکھنا چاہو تو چلو ساتھ تمہیں مکان دکھا دوں۔۔۔
# جب میں اس کے ساتھ گیا تو وہ وہی بابا جی والا مکان تھا۔ میں نے اپنے دوست کو ہنستے ہوے بتایا یہ بابا جی کا مکان ہے اور وہ بابا جی پاگل ہیں شاید- پھر میں نے اپنے دوست کو پچھلے دونوں واقعات سناۓ تو اس نے کہا ’’اس بات میں کچھ نہ کچھ راز تو ضرور ہے چلو پتہ کرتےہیں‘‘
# دروازہ کھولتے ہی بابا جی کی نظر مجھ پر پڑی انہوں نے مجھے گلے سے لگایا اور پہلے کی طرح اس بار بھی ڈرائنگ روم میں لے گئے۔ کچھ دیر بعد وہی خاتون لوازمات سے لدی پھندی چاۓ کی ٹرالی ہماری طرف لاتی ہوئی دکھائی دیں جو شاید خصوصی طور پر پہلے سے تیار کر کے رکھے ہوئے تھے۔
# بابا جی نےہمیں چاۓ نوش کرنے کی دعوت دی تو میں نے کہا بابا جی آج ھم چاۓ تب تک نہیں پیئیں گے جب تک آپ ہمیں یہ نہیں بتاتے کہ آپ مکان کی فروخت کا اشتہار تو دیتے رہتے ہیں لیکن مکان فروخت نہیں کرتے اور جو بھی مکان دیکھنے آتا ہے اس کی خاص مہمانوں کی طرح تواضح کر کے واپس بھیجتے ہیں‘ آخر ماجرا کیا ہے ؟
# یہ سن کر بابا جی نے پہلے خاموش نگاہوں سے اپنی بیوی کی طرف دیکھا اور پھر اداس لہجے میں مجھ سے مخاطب ہوئے‘ ’’بیٹا یہ مکان میں نے عمر بھر کی جمع پونجی سے اپنے بچوں کے لیے بنایا ہے، ھم نے مکان نہیں بیچنا، ہم تنہائی کے مارے صرف یہ چاہتے ہیں کہ ہمارے گھر کوئی آتا جاتا رہے اور ہم بھی کسی سے ملیں، اس سے ہم باتیں کریں اور کوئی ھم سے باتیں کرے۔ہم بوڑھے ہیں لاچار ہیں ھمارے 3 بیٹے ہیں جنھیں ساری عمر محنت کر کے ہم نے اچھی تعلیم دلوائی اوراب وہ تینوں ملک سے باہر ہیں‘ لیکن ہمارے لیے نہ ہونے کے برابر ہیں۔
# ہم دو بوڑھے اپنے آپ کو اور اس گھر کی خالی دیواروں کو دیکھ دیکھ کر اکتا گئے ہیں اس لیے ہم نے سوچا کہ اپنی اس اداسی کو لوگوں کی تواضح سے ختم کریں، ۔ چلو کسی بہانے سہی، لوگ ہم سے ملتے تو رہیں گے۔
# ان کی باتیں سن کر میرا دل پسیج گیا اور میں نےسوچا بڑھاپا اور اکیلا پن ان دونوں چیزوں کے ساتھ زندگی کس قدر کٹھن ہے۔ اُدھر بابا جی کہہ رہے تھے ’’بیٹا دنیا کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئیے سب کچھ پاس ہے لیکن بڑھاپے میں اصل سہارا اولاد کا ساتھ ہی دیتا ہے-‘‘
# براہ کرم خیال کیجئے کہ بڑھاپے میں بوڑھے والدین کو آپکے پیسے کی نہیں بلکہ آپکی ضرورت زیادہ ہوتی ھے۔ لہذا والدین کو زیادہ سے زیادہ وقت دیں۔۔۔

27/09/2021

رونگھٹے کھڑے کر دینے والی تحریر ۔

میرا نام کلیم حیدر ہے میں فوج میں میجر تھا میرے والد صاحب نے میری ماں کو مار مار کر ان کے کندھے کی ہڈی توڑ دی تھی مناسب علاج نہ کروانے کی وجہ سے ہڈی نے خون سپلائی کرنے والی نالیوں کو نقصان پہنچایا تھا اور خون کی سپلائی بند ہونے کی وجہ سے میری ماں کا بازو بے جان ہو کر سوکھ گیا تھا پھر جب میری ماں کو فالج اٹیک آیا اور ان کا دوسرا بازو بھی مفلوج ہو گیا تو میں نے اپنی پوسٹ سے استعفیٰ دے کر ماں کی خدمت کا فیصلہ کیا بیوی کی لاکھ کوششوں کے بعد بھی میرا دل مطمئن نہ ہوا اور میں نے استعفیٰ دے دیا ۔۔۔۔۔

میرا تعلق ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ سے ہے میری ماں کی عمر تیرہ برس تھی جب میری نانو کا انتقال ہوا میری نانو کی وفات کے بعد میرے نانا نے میری ماں کی پرورش کا بیڑہ اٹھایا مگر انہیں جلد ہی یقین ہو گیا کہ وہ یا تو میری ماں کو کما کر کھلا سکتے ہیں یا پھر ان کے محافظ بن کر گھر بیٹھ سکتے ہیں لہذا جب میری ماں سولہ برس کی عمر کو پہنچی تو میری ماں کا نکاح میرے نانا نے اپنے بھتیجے ( میری ماں کے چچا زاد ) سے یہ سوچتے ہوئے کر دیا کہ گھر کا دیکھا بھالا لڑکا ہے میری بیٹی کو اچھی طرح سمجھتا ہے میرا بھتیجا بھی ہے اس لئیے خوش رکھے گا مگر یہ بات میرے نانا کی خام خیالی ہی ثابت ہوئی میرے نانا میری ماں کی شادی کے بعد ڈیڑھ برس زندہ رہے ان ڈیڑھ برسوں میں میری ماں تین بار روٹھ کر اپنے باپ کی دہلیز پر آئی ہر بار میرے نانا نے اپنے بھائی ( میرے دادا) کی منت سماجت کر کے میری ماں کو واپس بھجوا دیا ۔۔۔۔۔

ڈیڑھ برس بعد میرے نانا کا انتقال ہوا تو میری ماں بالکل لاوارث ہو گئی میرے دادھیال والوں کو کھلی چھٹی مل گئی اب میرے والد محترم کے ساتھ ساتھ میری دادو اور دونوں پھوپھیاں بھی میری ماں کو پیٹنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتیں یہاں تک کہ ایک بار میرے والد صاحب نے جمعہ کی نماز کے لیے جانا تھا اور میری ماں طبعیت خرابی کی وجہ سے ان کے کپڑے استری نہ کر کے رکھ پائی تو اس بات پر انہوں نے میری ماں کو کپڑے دھونے والے ڈنڈے سے مار مار کر ان کے کندھے کی ہڈی توڑ دی کندھے کی ہڈی توڑنے کے بعد کسی ڈاکٹر تک کو دکھانے کی زحمت نہ کی گئی بلکہ الٹا میری ماں درد سے کراہتی تو اسے اور پیٹا جاتا اور بہانے خور جیسے القابات سے نوازا جاتا یہاں تک مسلسل حرکت میں رہنے کی وجہ سے ٹوٹی ہوئی ہڈی نے انگلیوں اور بازو کو خون سپلائی کرنے والی نالیوں کو بھی کٹ کر دیا۔۔۔۔۔

جب خون سپلائی کرنے والی نالیاں کٹ ہو گئیں تو خوں کی سپلائی آہستہ آہستہ انگلیوں تک پہنچنا بند ہو گئی اور بازو بے جان ہونا شروع ہو گیا یہاں تک بازو بے جان ہو کر سوکھ گیا اور ساتھ ہی لٹک کر رہ گیا جب میرے دادھیال والوں کو یقین ہو گیا کہ میری ماں بالکل مفلوج ہو چکی ہے تو انہوں نے میری ماں پر بد کردار ہونے کا الزام لگا کر اسے طلاق دلوا کر گھر سے نکلوا دیا جب میری ماں کو طلاق دے کر گھر سے نکالا گیا اس وقت میں اپنی ماں کے پیٹ میں سات ماہ کا ہو چکا تھا دو ماہ تک میری ماں کو گاؤں کی دائی نے اپنے گھر پناہ دئیے رکھی دو ماہ بعد جب میری پیدائش ہوئی تو میرے دادھیال والوں کو خطرہ پیدا ہو گیا کہیں میں ان کی جائیداد نہ ہتھیا لوں اس لئیے انہوں نے میری ماں کو دائی کے گھر بلکہ گاؤں سے بھی نکلوا دیا گاؤں سے نکالے جانے کے بعد میری ماں کے پاس اور کوئی ٹھکانہ نہیں تھا اس لیے میری مجھے کپڑے کی ایک گانٹھ میں لپیٹ کر کبھی دانتوں کی مدد سے کبھی کندھے سے لٹکا کر ٹوبہ ٹیک سنگھ شہر پہنچی اور پہلی رات میری ماں نے مجھے لےکر ایک گوشت والے پھٹے کے نیچے گزاری اور ساری رات میری ماں مجھے گود میں رکھ کر جاگتی رہی تا کہ کوئی آوارہ کتا مجھے چبا نہ ڈالے ۔۔۔۔۔

وقت گزرتا ہے پہلے پہل میری ماں فروٹ والی ریڑھیوں کے آس پاس پڑا گندا فروٹ اٹھا کر اپنا پیٹ بھرتی ہے پھر اللہ تعالیٰ کے بنائے نظام کے ذریعے اس خوراک کو دودھ میں بدل کر میرے لئیے خوراک کا بندوبست کرتی ہے اور میرا پیٹ بھرتی جب میری ماں کو بازار میں رہتے کچھ عرصہ گزرتا ہے تو مقامی دوکاندار میری ماں پر اعتبار کرنے لگتے ہیں یوں انہیں دوکانوں میں صفائی کا کام مل جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔

دوکانوں میں مجھے اٹھا کر اپنے پیچھے جھولی نما کپڑے میں ڈال کر اپنے پیچھے لٹکانے کے بعد صرف ایک ہاتھ سے صفائی کرنا بہت مشکل ہو جاتا اس لئیے میری ماں کچھ پیسے جمع کر کے برش پالش اور ہتھوڑی کیل دھاگہ اور سوئے خریدنے کے بعد جوتے سلائی کرنے کا کام شروع کر دیتی ہے میری ماں مجھے گود میں لٹا کر ایک ہاتھ اور منہ کی مدد سے جوتے سلائی کرتی ہے کچھ خدا ترس لوگ میری ماں کو اجرت سے زیادہ پیسے دے جاتے ہیں جبکہ کچھ اوباش نوجوان جان بوجھ سیوریج کی نالی میں جوتا گندا کر کے میری ماں کو پالش کرنے کے لئے دیتے ہیں اور جب اس جوتے منہ اور کپڑے کی مدد سے میری ماں صاف کرتی ہے تو میری ماں کی بے بسی پر ہنستے ہیں ۔۔۔۔۔

خیر وقت گزرتا ہے میں سکول جانے کی عمر کو پہنچتا ہوں تو میری ماں مقامی امام مسجد اور چند معزز لوگوں کے ذریعے میرے والد صاحب اسے اس وعدے پر شناختی کارڈ کی کاپی لے لیتی ہے کہ میرا بیٹا بڑے ہو کر کبھی دادھیال کی جائیداد میں سے حصہ طلب نہیں کرے گا شناختی کارڈ کی کاپی مل جانے پر میری ماں مجھے سکول داخل کرواتی ہے میرے استاد محترم سید ظفر صاحب کو جب میرے حالات کا پتہ چلتا تو مجھے اور میری ماں کو بازار سے اٹھا کر اپنے گھر لاتے ہیں ہمیں ایک الگ کمرہ دیتے ہیں اور ہمارا سارا خرچ برداشت کرتے ہیں بدلے میں میری ماں سید ظفر شاہ کے انکار کے باوجود ان کے گھر کے کام کاج کا زمہ اٹھا لیتی ہے میں پڑھتا رہتا ہوں یہاں تک کہ استاد محترم میرے لئیے آرمی میں بطور سیکنڈ لیفٹیننٹ اپلائی کرتے ہیں میں سلیکٹ ہو جاتا ہوں اور میرا شمار ٹاپ ٹین کیڈٹس میں ہوتا ہے میں کورس مکمل کرتا ہوں اور میری شادی استاد محترم کی بیٹی سے کر دی جاتی ہے ۔۔۔۔۔

جب میں بطور کیپٹن انٹیلیجنس کے ایک مشن پر ہوتا ہوں تو ہرٹ اٹیک سے میرے استاد محترم ،سسر سید ظفر صاحب انتقال کر جاتے ہیں میں ان کے جنازے میں شامل نہیں ہو سکتا اور مشن مکمل کرنے کے بعد میں پورا ہفتہ پورا پورا دن ان کی قبر پر بیٹھ کر ان کے جنازے کو کندھا نہ دے سکنے پر معذرت کرتا رہتا ہوں جب دل کا غم ہلکا ہوتا تو واپس ڈیوٹی جائن کرتا ہوں میں اپنے پورے بیج میں واحد اور منفرد آفیسر تھا جو پہلے خود جاسوس بن کر دشمن کا سراغ لگاتا پھر اپنی ٹیم تیار کر کے دشمن کا قلع قمع کرتا میں بلوچستان میں ایک مشن پر تھا جب مجھے پتہ چلا کہ میری ماں کو فالج کا اٹیک آیا ہے میں نے اپنے سینئرز بیج میٹس یہاں تک اپنی شریک حیات کے روکنے کے باوجود فوج سے استعفیٰ دیا اور اپنی ماں کی خدمت میں مصروف ہو گیا مجھے یاد ہے کرنل لطیف اور برگیڈئیر امتیاز نے مجھے کہا تھا اس فیصلے کے بعد تم پچھتاؤ گے میری بیگم نے مجھے قسم دی تھی کہ وہ میری ماں کی خدمت میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گی میں اپنے عہدے پر قائم رہوں مگر میرا دل نہیں مانا ۔۔۔۔۔

میرے دل میں کہیں نہ کہیں خلش رہتی تھی کہ میری ماں جو کچھ مجھ سے کہہ سکتی ہے وہ میری بیوی سے نہیں کہہ سکتی لہذا میں نے استعفیٰ دے دیا اور خود اپنی ماں کی خدمت کرنے لگا میری ماں جب تک زندہ رہی میں نے شاید ہی کوئی رات گھر سے باہر گزاری ہو نہیں تو میں چوبیس میں سے اٹھارہ گھنٹے ماں کے ساتھ گزارتا تھا میں نے چھوٹا سا گاڑیوں کا شو روم بنایا تھا جس پر ملازم بیٹھتا تھا میں سارا دن ماں کے ساتھ گزارتا تھا اللہ تعالیٰ نے مجھے ماں کی خدمت کے صدقے میں اتنی برکت دی کہ میرے پاس آج بیرون ملک ناروے میں سات شو روم ہیں آج پاکستان میں میری اپنی انڈسٹری ہے آج میری ماں فوت ہو چکی ہے میرے بچے جوان ہو چکے ہیں میری بیٹی امریکہ میں زیر تعلیم ہے دونوں بیٹوں نے تعلیم مکمل کرنے کے بعد ناروے میں بزنس سنبھال رکھا ہے میری اولاد منتظر رہتی ہے کہ کب ان کے والدین کوئی حکم دیں اور وہ بجا لائیں کچھ عرصہ قبل میں اپنی بیوی کے ہمراہ امریکہ میں اپنی بیٹی کو ملنے گیا تو بیٹی کے کہنے پر ہم اولڈ ہوم چلے گئے وہاں پر مقیم ایک پاکستانی جسے شکل دیکھتے ہی میں نے پہچان لیا تھا کہ وہ برگیڈئیر امتیاز ہے کو دیکھ کر میں حیران رہ گیا پاکستان میں اس کا رعب دبدبہ اس کی شان و شوکت سب کچھ امریکہ میں ختم ہو چکا وہ بالکل ہڈیوں کا ڈھانچہ تھا میرے لاکھ یاد دلانے پر بھی وہ مجھے نہیں پہچان پایا تھا انتظامیہ سے پوچھنے پر پتہ چلا اس کا بیٹا اسے یہاں چھوڑ گیا تھا اور اس کی موت پر مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنے کی نصیحت کر گیا تھا اولڈ ہوم سے واپسی پر میں تھک کر اپنی رہائش پر پہنچا تو میری بیٹی اور بیوی نے مجھے دبانا اور میرا میساج کرنا شروع کر دیا تھا میی بنا کسی قسم کی ناگواری کا اظہار کئیے پاؤں کی مالش کرتی بیٹی کو دیکھ کر سوچ رہا تھا کہ واقعی ہی ماں باپ سے حسن سلوک ایک ایسا عمل ہے جسے آج آپ لکھیں گے کل آپ کی اولاد آپ کو پڑھ کر سنائے گی اور برگیڈئیر امتیاز کی حالت نے میری اس سوچ پر مہر ثبت کر دی تھی ۔

26/09/2021

اہم اطلاع

‏سسٹم اپگریڈیشن کے بعد آج صبح 6:50 سے تمام ⁦‪نادرا سروسز بشمول آن لائن PakIdentity، کووڈسرٹیفکیٹ کا (آن لائن) اجراء اور24/7 میگا سینٹرز پر سہولیات بحال ہو چکی ہیں۔

‏⁦‪نادرا‬⁩ کی آن لائن اور میگا سینٹرز پر خدمات اب تمام شہریوں بشمول سمندر پار پاکستانیوں کے لئے دستیاب ہیں۔

Address

Mein Lari Ada Chobara Near CFC
Sialkot
51450

Opening Hours

Monday 08:30 - 19:00
Tuesday 08:30 - 19:00
Wednesday 08:30 - 19:00
Thursday 08:30 - 19:00
Friday 08:30 - 19:00
Saturday 08:30 - 19:00
Sunday 08:30 - 19:00

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when SMZ posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share