02/12/2026
لاہور میں جنگلی کبوتروں کی بڑھتی ہوئی تعداد: ایک خاموش بم جو ہماری صحت کے لیے خطرہ بن چکا ہے
لاہور، جو اپنے تاریخی ورثے، باغات اور زندہ دل لوگوں کی وجہ سے جانا جاتا ہے، آج کل ایک نئے اور غیر معمولی مسئلے کا شکار ہے۔ یہ مسئلہ ٹریفک یا سموگ کا نہیں، بلکہ ان ہزاروں، لاکھوں "جنگلی کبوتروں" کا ہے جنہوں نے پورے شہر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔
اندرونِ لاہور (والڈ سٹی) کی تنگ گلیوں سے لے کر گلبرگ اور ڈیفنس کی اونچی عمارتوں تک، شاید ہی کوئی ایسی جگہ ہو جہاں ان پرندوں نے اپنا ڈیرہ نہ جمایا ہو۔ بظاہر معصوم نظر آنے والے یہ پرندے، جنہیں ہم ثواب کی نیت سے دانہ ڈالتے ہیں، درحقیقت ایک "ماحولیاتی اور طبی آفت" بنتے جا رہے ہیں۔
شہر میں کبوتروں کا موجودہ منظرنامہ
آج لاہور کا کوئی بھی گنجان آباد علاقہ دیکھیں، بجلی کی تاروں، کھڑکیوں کے چھجوں، اور اے سی (AC) کے آؤٹ ڈور یونٹس پر ان کبوتروں کا قبضہ نظر آتا ہے۔ خاص طور پر پرانی عمارتوں اور بڑی پلازوں میں ان کی بیٹھوں (Droppings) کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں۔ یہ پرندے اب جنگلی حیات کا حصہ کم اور شہری زندگی کا ایک "فیصلہ کن حصہ" زیادہ لگتے ہیں، لیکن ان کی یہ قربت انسانوں کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو رہی ہے۔
انسانی صحت کے لیے سنگین خطرات: یہ کتنے جان لیوا ہیں؟
عام لوگ شاید اس بات سے واقف نہیں کہ کبوتروں کو دنیا بھر میں "پروں والے چوہے" (Rats with wings) کہا جاتا ہے۔ اس کی وجہ ان کا گندگی پھیلانا اور بیماریاں منتقل کرنا ہے۔
سانس کی بیماریاں (Respiratory Issues):
کبوتروں کی بیٹ (Droppings) جب خشک ہو جاتی ہے تو وہ پاؤڈر بن کر ہوا میں شامل ہو جاتی ہے۔ جب ہم سانس لیتے ہیں تو یہ ذرات ہمارے پھیپھڑوں میں چلے جاتے ہیں۔ اس سے "ہسٹوپلاسموسس" (Histoplasmosis) نامی بیماری ہو سکتی ہے، جو ایک خطرناک فنگل انفیکشن ہے۔ اس کی علامات ٹی بی (TB) سے ملتی جلتی ہیں اور یہ پھیپھڑوں کو شدید نقصان پہنچاتی ہے۔
دمہ اور الرجی:
لاہور میں دمہ (Asthma) کے مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کی ایک بڑی وجہ ان کبوتروں کے پر اور ان کی بیٹ سے اٹھنے والا غبار ہے۔ یہ الرجی کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہیں۔
دیگر بیماریاں:
ان کے ذریعے "سیٹا کوسس" (Psittacosis) اور "کرپٹو کوکوسس" (Cryptococcosis) جیسے جراثیم بھی پھیلتے ہیں جو نہ صرف پھیپھڑوں بلکہ دماغی صحت اور اعصابی نظام کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔
آئندہ 5 سے 10 سالوں میں کیا ہوگا؟ (خطرناک پیشین گوئی)
کبوتروں کی افزائشِ نسل (Breeding) کی رفتار حیران کن حد تک تیز ہے۔ ایک جوڑا سال میں 4 سے 6 بار انڈے دے سکتا ہے اور ہر بار 2 بچے نکلتے ہیں۔ لاہور میں خوراک کی فراوانی (لوگوں کا دانہ ڈالنا) اور شکاری پرندوں کی کمی کی وجہ سے ان کی آبادی "جیومیٹرک پروگریشن" کے تحت بڑھ رہی ہے۔
آبادی کا دھماکہ: اگر موجودہ رفتار جاری رہی تو اگلے 5 سالوں میں لاہور میں کبوتروں کی تعداد دگنی سے بھی زیادہ ہو جائے گی۔
صحت کا بحران: 10 سالوں بعد، سانس کی بیماریوں میں 30 سے 40 فیصد اضافہ متوقع ہے۔ ہسپتالوں میں پھیپھڑوں کے انفیکشن کے کیسز کی بھرمار ہوگی، جن میں زیادہ تر بچے اور بزرگ شامل ہوں گے۔
عمارتی نقصان: ان کی بیٹ میں تیزابیت (Acidic) ہوتی ہے جو تاریخی عمارتوں اور جدید سٹرکچرز کو بھی کھوکھلا کر دے گی۔
حل کیا ہے؟ کیا انہیں شہر سے نکالنا ممکن ہے؟
یہ مسئلہ اب انفرادی سطح سے نکل کر حکومتی توجہ کا طالب ہے۔ اس کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے:
شہری علاقوں میں دانہ ڈالنے پر پابندی:
سب سے اہم اور فوری حل یہ ہے کہ رہائشی علاقوں، چوراہوں اور سڑکوں پر کبوتروں کو دانہ ڈالنے (Feeding) کو محدود کیا جائے۔ جب انہیں شہر میں مفت کھانا نہیں ملے گا، تو وہ قدرتی طور پر کھلے مقامات یا جنگلوں کا رخ کریں گے۔
متبادل مقامات پر شفٹنگ (Relocation):
حکومت کو چاہیے کہ شہر سے باہر، دریائے راوی کے کنارے یا چھانگا مانگا جیسے جنگلی علاقوں میں "برڈ زونز" (Bird Zones) بنائے۔ وہاں ان کے لیے خوراک کا انتظام کیا جائے تاکہ یہ پرندے آہستہ آہستہ وہاں منتقل ہو جائیں۔ یہ ایک انسانی ہمدردی والا طریقہ ہے جس سے پرندے بھی محفوظ رہیں گے اور شہری بھی۔
عمارتوں کی حفاظت:
بڑی عمارتوں اور گھروں میں جالیاں (Nets) اور اسپائیکس (Spikes) کا استعمال لازمی قرار دیا جائے تاکہ یہ وہاں گھونسلے نہ بنا سکیں۔
صفائی اور آگاہی:
کبوتروں کی بیٹ کو صاف کرتے وقت ماسک کا استعمال لازمی کریں۔ شہریوں کو آگاہ کیا جائے کہ یہ ثواب کا کام سمجھ کر اپنی اور اپنے بچوں کی صحت کو داؤ پر نہ لگائیں۔
نتیجہ
کبوتر بلاشبہ قدرت کا حسن ہیں، لیکن ہر جاندار کا ایک قدرتی مسکن ہوتا ہے۔ کنکریٹ کے جنگل (شہر) ان کا مسکن نہیں ہیں۔ اگر ہم نے آج اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہ لیا، تو آنے والے چند سالوں میں لاہور کی فضا نہ صرف سموگ بلکہ "کبوتروں کی پھیلائی ہوئی آلودگی" سے بھی زہریلی ہو جائے گی۔ یہ وقت ہے کہ ہم جذبات کی بجائے شعور سے کام لیں اور ان پرندوں کو ان کے اصل گھر (جنگل/کھلے مقامات) کی طرف لوٹنے پر مجبور کریں۔
Story By: Umar Zabih